Baaghi TV

Tag: حجاب

  • کرناٹک میں ایک اورکالج نے باحجاب طالبات پر پابندی لگا دی گئی

    کرناٹک میں ایک اورکالج نے باحجاب طالبات پر پابندی لگا دی گئی

    نئی دہلی: کرناٹک میں ایک اورکالج نے طالبات کوحجاب کے ساتھ کالج کے اندرداخل نہیں ہونے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کی حجاب کیخلاف مہم کے تحت کرناٹک کے ایک اورکالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے سے روک دیا گیا کالج پرنسپل نے خود کالج کے گیٹ پرکھڑے ہوکرباحجاب طالبات کوروکا اورانہیں حجاب اتارکرکالج آنے کی ہدایت کی-

    کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    طالبات کے شدید احتجاج پرکالج پرنسپل کا کہنا تھا کہ طالبات حجاب اوربرقع اتارکرکلاسز میں شرکت کرسکتی ہیں۔ اس قبل اسی کالج کے پرنسپل کوباحجاب طالبات کو کالج میں کلاسز لینے کی اجازت دینے پرہندوانتہاپسندوں کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    تعلیمی اداروں میں حجاب کرنے پرپابندی کے خلاف مسلمان طالبات کی درخواست کرناٹک ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے کرناٹک ہائیکورٹ نے بھی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے درخواست پرفیصلے تک حجاب پرپابندی کا عبوری حکم جاری کیا ہے۔

    بھارتی خاتون صحافی کو بی جے پی کارندوں کیجانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں

    واضح رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی انتہا پسندی عروج پر ہے، مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کی جارہی ہے، اس بار انتہا پسند ہندووں نے لڑکیوں کے حجاب کو نشانہ بنایا ہے کرناٹک کے تمام اسکولوں میں باحجاب اوربرقع پہننے والی طالبات کوکلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ریاست میں باحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی گئی ہے جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہےکرناٹک کے علاوہ مدھیہ پردیش اوردیگرعلاقوں میں بھی تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کوروکنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

    بھارت میں مسلم خواتین کو سرعام بے عزت کیا جا رہا ہے،بھارتی صحافی

    بھارتی ریاست اترپردیش سے بی جے پی کے رکن اسمبلی رگویندر سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوبارہ منتخب ہوا تو مسلمانوں کو ماتھے پر تلک کا نشان بنانے پر مجبور کردوں گا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اپنے اس متعصب اقدام کے جواز میں روایتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

  • کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    کرناٹک:حجاب کے ساتھ امتحان میں بیٹھنے پر پابندی،طالبات کا احتجاجاً بائیکاٹ

    نئی دہلی: حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت نہ ملنے پرکرناٹک کے سرکاری اسکول کی طالبات نے امتحانات کا بائیکاٹ کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک کے ضلع شیوا موگا کے سرکاری اسکول میں انتظامیہ نے امتحانات میں بیٹھنے کے لئے طالبات سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا اسکول کی 13 طالبات نے حجاب اتارنے کے بجائے احتجاجاً امتحانات کا بائیکاٹ کردیا۔

    او آئی سی کا بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

    طالبات کا کہنا تھا کہ اسکول پرنسپل اورانتظامیہ سے حجاب کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت دینے کے لئے متعدد باردرخواست کی لیکن انہوں نے درخواست پرکوئی توجہ نہیں دی طالبات کے والدین نے اپنی بچیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بغیرحجاب کے وہ اپنی بچیوں کوکلاسزاٹینڈ نہیں کرنے دیں گے۔


    کرناٹک کے تمام اسکولوں میں باحجاب اوربرقع پہننے والی طالبات کوکلاسز اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ریاست میں باحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی گئی ہے جبکہ مسلم خواتین اساتذہ کو بھی اسکول میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر ہی برقع اتارنے پر مجبور کیا جاتا ہے-

    بھارت میں مزید 54 چینی ایپس پرپابندی

    کرناٹک ہائیکورٹ حجاب پرپابندی کیخلاف مسلمان طالبات کی درخواست کی سماعت کررہی ہے۔ کرناٹک ہائیکورٹ نے کیس کا فیصلہ آنے تک تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی کا حکم دیا ہے حجاب پرپابندی کیخلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے-

    دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ کرناٹک میں مسلم لڑکیوں پر حجاب پر پابندی اوراتراکھنڈ میں مسلمانوں کی نسل کشی کے اکسانے کے واقعات پر سخت تشویش ہے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ ان واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے، سیکرٹری جنرل او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مسلمانوں کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنائے، مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والوں کو سزا دلوائے.

    روسی حملے کا خدشہ،یوکرین میں امریکی سفارت خانہ بند،سفارتی عمل شہر لفیف میں منتقل

  • یاد رکھنا ! ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی، اسد الدین اویسی

    یاد رکھنا ! ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیراعظم بنے گی، اسد الدین اویسی

    کانپور: بھارت میں مسلم سیاست دان اور رکن اسمبلی اسد الدین اویسی نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری بات یاد رکھنا کہ ایک نہ ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیر اعظم بنے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو ان شااللہ، اگر وہ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ابا امی میں حجاب پہنوں گی، تو ابا امی پہلے بولیں گے بیٹا پہن، تجھے کون روکتا ہے، ہم دیکھیں گے۔

    اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ حجاب پہنیں گے، نقاب پہنیں گے، کالج بھی جائیں گے۔ ساتھ ہی کلکٹر بھی بنیں گے، ڈاکٹر بھی بنیں گے اور بزنس مین بھی کانپور کے عوام تم یاد رکھنا میں زندہ رہوں یا نہ رہوں، دیکھنا ایک دن اس ملک میں ایک بچی حجاب پہن کر وزیر اعظم بھی بنے گی۔

     

     

    حجاب پر پابندی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی پاداش میں پولیس نے اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کئی عہدیداران کو حراست میں لے لیا ہے۔

    پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے عہدیداران کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی پابندی کے خلاف گجرات کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج کی ایک باحجاب طلبہ نے ہندو انتہا پسند طلبا کے جتھوں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا جس پر دنیا بھر میں مسکان کو سراہا جا رہا ہے۔

  • حجاب پابندی معاملے پر بھارت کا امریکا کو جواب

    حجاب پابندی معاملے پر بھارت کا امریکا کو جواب

    حجاب کے تنازع پر بیان پر بھارت نے امریکا کو خبردار کیا کہ بھارت کے اندرونی مسائل پر اشتعال انگیز تبصرے خوش آئند نہیں ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ریاست کرناٹک کے کچھ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ سے متعلق معاملہ کرناٹک کی ہائی کورٹ کے میں زیر سماعت ہے

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    ترجمان نے کہا کہ ہمارے آئینی ڈھانچے، جمہوری اخلاقیات اور سیاست میں جو مسائل بھی ہوئے انہیں درست کر لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ ارندم باغچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب باحجاب طالبہ کی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی اور اس معاملے پر کچھ ممالک نے بھارت سے سوال کیا تھا کہ حجاب پر پابندی کیسی شخصی آزادی ہے؟-

    خیال رہے کہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کیخلاف دنیا میں آوازیں اٹھنے لگیں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے حجاب میں ملبوس مسلم لڑکیوں اور خواتین کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے خلاف جہاں کئی مشہور شخصیات نے آواز اٹھائی ہے وہیں امریکا نے بھی حجاب پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے-

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

    امریکا کے مذہبی آزادی سے متعلق ادارے کے اعلیٰ عہدیدار راشد حسین نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے مذہبی آزادی میں لباس کے انتخاب کی آزادی بھی شامل ہے-

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

  • حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

    نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار کے جھنڈے تلے ہندوانتہاپسندی عروج پر کرناٹک کے بعد اب اترپردیش کے ایک کالج سے بھی حجاب پہننے والی طالبہ کونکال دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے شہرجون پورکے ایک کالج میں مسلمان طالبہ کوحجاب کرکے کالج آنے پرکلاس سے نکال دیا گیا۔پرنسپل اوراساتذہ نے بھی طالبہ کی مدد کرنے کے بجائے یونیفارم کے اصولوں کی پابندی کرنے کو کہا۔

    کالج پرنسپل کا کہنا ہے کہ کالج میں سب کویکساں نظرآنے کے لئے اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    قبل ازیں انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے اسکولوں میں بھی طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار نے کہا تھا کہ ریاستی طور پرجلد حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی جائے گی کیونکہ یہ یونیفارم کا حصہ نہیں ہے ہر اسکول کا اپنا ڈریس ہے، اسکول کا ڈریس پہن کر بچے اسکول آئیں تو ہی ان کی پہچان ہوتا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ حجاب پہننے پر ملک میں کوئی پابندی نہیں ہے لیکن جنہوں نے حجاب پہننا ہے وہ اپنے گھروں میں پہنیں، بازار میں پہنیں اور یا پھر دیگر مقامات پہ پہنیں کوئی پابندی نہیں ہے مگر اسکول میں آنے کے لیے یونیفارم ہی پہننا پڑے گا۔

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    ریاست مدھیہ پردیشن کے وزیر تعلیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کو اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے افسوسناک قرار دیا گیا جب کہ مسلمان تنظیموں کی جانب سے بھی واضح طور پر سخت برہمی ظاہر کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔حجاب پرپابندی کیخلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا جارہا ہے طالبات کے احتجاج کوروکنے کے لئے کرناٹک کے تعلیمی ادارے 16 فروری تک بند کردئیےگئے ہیں۔

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

  • ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا حجاب پر لگی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا حجاب پر لگی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

    قصور
    ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا کرناٹک میں حجاب پر پابندی پر اظہار افسوس اور ظالموں کے سامنے کلمہ حق کہنے والی مسکان خان کو داد تحسین

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے بانی سردار شریف سوہڈل،ڈاکٹر فضل رحیم،ڈسٹرکٹ پریذیڈنٹ ظفر اقبال چوہدری،فنانس سیکریٹری سید عابد حسین شاہ بخاری،سیکریٹری جنرل سید تنویر حسین شاہ،ڈسٹرکٹ وائس پریزیڈنٹ رانا عدنان خان بوبی،کونسل ممبران غنی محمود قصوری،سردار سعید سوہڈل،محمد غلام رسول،ڈاکٹر ظفر اقبال،ڈاکٹر آصف حنیف،عامر تقوی،ماجد فاروق انجم،عبدالرحمن وہابی،فیض ملک,عرفان سندھو،حافظ شریف اشرف،عمران نجفی،حسن نظامی،اکرم شہکی،کامران اشرف و ڈسٹرکٹ پریس کلب کے 500 ممبران نے اپنا مشترکہ مذمتی بیان جاری کرتے ہوا کہا کہ انڈین کرناٹک گورنمنٹ کی طرف سے حجاب پر پابندی لگانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے
    ممبران نے مطالبہ کیا کہ انٹرنیشنل لیول پر اس مسئلہ کو اٹھایا جائے اور حجاب پر لگائی گئی اس پابندی کو ختم کروایا جائے کیونکہ حجاب نا صرف مسلمانوں کی ایک رسم ہے بلکہ ایک عبادت بھی ہے
    نیز ہندو انتہاہ پسندوں کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے والی مسلم طالبہ مسکان خان کو داد تحسین پیش کی گئی

  • امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    واشنگٹن: امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردے دیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق بھارت کے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کیخلاف دنیا میں آوازیں اٹھنے لگیں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے حجاب میں ملبوس مسلم لڑکیوں اور خواتین کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے خلاف جہاں کئی مشہور شخصیات نے آواز اٹھائی ہے وہیں امریکا نے بھی حجاب پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے-

    بھارتی سپریم کورٹ کا حجاب کیس میں مداخلت سے انکار

    امریکا کے مذہبی آزادی سے متعلق ادارے کے اعلی عہدیدار راشد حسین نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پرپابندی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے مذہبی آزادی میں لباس کے انتخاب کی آزادی بھی شامل ہے۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ


    انہوں نے مزید کہا کہ حجاب پرپابندی مذہبی آزادی پرکلنگ اورخواتین اورلڑکیوں کوزبردستی لباس کے انتخاب پرمجبورکرنے اورانہیں پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

    واضح رہے کہ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی کے بعد بھارت کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کئے جارہے ہیں چند روز قبل بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج کی طالبہ مسکان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہندو انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرتی ہے۔ مسکان کی اس بہادری پر دنیا بھر سے اس کی ہمت و جرات کو سراہا جارہا ہے۔

    مودی سرکار پر تنقید کی سزا ،خاتون صحافی رعنا ایوب کی 1 کروڑ روپے سے زائد رقم ضبط

  • بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی بنت اسلام”مسکان” کیلئے اسکالر شپ کا اعلان

    بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی بنت اسلام”مسکان” کیلئے اسکالر شپ کا اعلان

    لاہور :بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی بنت اسلام”مسکان” کیلئے اسکالر شپ کا اعلان ،اطلاعات کےمطابق آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن نے بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی لڑکی مسکان کیلئے اسکالر شپ کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتہا پسندوں کے سامنے آواز بلند کرنیوالی لڑکی کیلئے اسکالرشپ کا اعلان کردیا گیا ، آل پاکستان پرائیویٹ اسکولزفیڈریشن کے صدر نے مسکان کیلئے تعلیمی کفالت اسکالرشپ کا اعلان کیا۔

    صدرکاشف مرزا نے کہا مسلم طالبات کوحجاب کی آڑ میں تعلیم سےمحروم کرناجرم ہے، مسلم طالبات کوپسماندہ رکھنےکی یہ کوشش روکی جانی چاہیے۔

    یاد رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی جس پر ایک مسلم لڑکی مسکان حجاب پہنے موٹر سائیکل پر کالج پہنچی اور ہندو انتہا پسندوں کے سامنے اللہ اکبر کے نعرے لگا ئے تھے۔

    مشتعل ہجوم کے آگے نعرہ تکبیر کی صدا بلند کرنے والی مسکان کی دیدہ دلیری نے انہیں دنیا بھر میں ایک نئی پہنچان دے دی ہے اور دنیا کے ہر گوشے میں جہاں مسلمان بستے ہیں دل کھول کے مسکان کی ہمت کی داد دے رہے ہیں۔

  • "باپ” کی وزیراعظم کو چھوڑنے کی دھمکی،اپوزیشن نے بھی "باپ” سے امیدیں لگا لیں

    "باپ” کی وزیراعظم کو چھوڑنے کی دھمکی،اپوزیشن نے بھی "باپ” سے امیدیں لگا لیں

    "باپ” کی وزیراعظم کو چھوڑنے کی دھمکی،اپوزیشن نے بھی "باپ” سے امیدیں لگا لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا

    سینیٹ اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعت کے اراکین نے بائیکاٹ کیا اور حکومت کے ساتھ گلے شکوے کئے، حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین سینیٹر نے حکومت کو کھری کھری سنائیں ،،سینیٹر احمد عمر نے کہا کہ بلوچستان میں پوچھا جاتا ہے کہ مرکز میں آپ لوگوں کو کیا حصہ ملا ہے؟ مرکزی حکومت میں مناسب حصہ نہ ملنے پر ایوان میں بیٹھنا بے کار ہے،

    حکومتی اتحادی جماعت باپ سینیٹ میں پھٹ پڑی۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور کاکڑ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو پھر ہم بھی جواب دینگے۔ بلوچستان عوامی پارٹی حکومت سے ناراض ہو کے سینیٹ سے واک آوٹ کر گئی اور کابینہ میں نمائندگی مانگ لی کہا اگر باپ پارٹی کو وفاقی کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی تو آج کے بعد پارٹی ممبران کسی اجلاس کا حصہ نہیں ہونگے۔

    سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعت کی جانب سے حکومت پر ناراضگی اور شکووں کے بعد اپوزیشن کو موقع مل گیا،اپوزیشن جماعے پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اپوزیشن بینچز پر آجائے،اپوزیشن ان کے مسائل اورمحرومیوں کا خاتمہ کرے گی، ہندوستان میں باحجاب خاتون کے خلاف رویے کی مذمت کرتے ہیں،اس وقت ملک مشکل و بحرانی کیفیت میں ہے،وزیراعظم نے گزشتہ روزامریکہ کے بارے میں پالیسی بیان دیا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کچھ اوربیان دیا ہے،لگتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کنفیوژن کا شکار ہے وزیراعظم کو اس طرح کے متنازعہ بیانات نہیں دینا چاہیے،وضاحت کی جائے کہ خارجہ پالیسی کونسی ہے،وزیراعظم یا وزیرخارجہ والی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    شہزاد وسیم نے کہا کہ بھارت میں مزاحمت کی نئی آوازیں اٹھ رہی ہیں باحجاب طالبہ کے ساتھ انتہا پسندی کی گونج دنیا میں سنی جا رہی ہے،بھارت میں مذہبی منافرت اور انتہا پسندی اپنے جنون پر ہے،کہاں ہیں وہ تنظیمیں جو ہاتھی کی تنہائی پر شور کرتی ہیں ؟انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے واقعات پر خاموش ہو جاتی ہیں اسلام و فوبیا کی لہر پوری دنیا میں چل رہی ہے قائد محمد علی جناح کے شکر گزارہیں ، جنھوں نے اس دن کو پہلے بھانپ لیا تھا

    سینیٹ اجلاس وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کاکردگی میں بھی بارہویں نمبر پر آیا ہوں، ویسے بھی بارہواں کھلاڑی ہو،جس سوال کا بھی جواب دوں، بارہواں کھلاڑی بارہواں ہی رہے گا

    سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سنتے آئے ہیں کراچی ٹیکس دینے والا بڑا شہر اور سندھ اہم صوبہ ہے؟ کراچی کی ٹیکس کلیکشن فقط 6 فیصد ہے اس کے کیا وجوہات ہیں؟ وزیر خزانہ شوکت ترین سوال کو کمیٹی میں بھیج دیں چیئرمین صادق سنجرانی نے سوال سینیٹ خزانہ کمیٹی کو بھیج دیا، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ سیلز سروسز ٹیکسز صوبے ہی وصول کرتے ہیں،سندھ حکومت پہلے6 بلین ٹیکس کلیکٹ کرتی تھی جو اب 15 بلین ہوچکا ہے،انکم ٹیکس سروسز پر سیلز ٹیکس اور دیگر سندھ خود کلیکٹ کرنا چاہتا ہے اجازت دیں گے ؟ وزیر خزانہ نے کہا کہ ساتویں این ایف سی میں نے ہی یہ چیز رکھی تھی کہ سیلز پر ٹیکس کلیکشن صوبے ہی کریں

    سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان پر سیر حاصل بحث ہونا ضروری ہے،بلوچستان کا مسئلہ صرف سیکیورٹی یا ترقیاتی منصوبے نہیں،بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں عوام کے حقوق کا ہے،لاپتہ افراد کا مسئلہ خاندانوں کے ملاقات سے یہ حل نہیں ہوگا،وزیر خزانہ نے سینڈک پروجیکٹ لیز کی دوبارہ منظوری دیکر غیر آئینی کام کیا،فیصلہ کیا گیا تھا سیڈک منصوبہ کی لیز ختم ہونے کے بعد منصوبہ بلوچستان حکومت کو دیا جائے گا گزشتہ حکومتوں نے دو بار سینڈک کی لیز کو رینیو کیا جو خلاف ورزی ہے خارجہ پالیسی پر حکومتی تضادات کا معاملہ بھی ہے،وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے مختلف بیانات اخبارات میں چھپے ہیں وزیراعظم کا بیان الیکشن مہم کے علاوہ کچھ نہیں ریاست کا پہلے دن سے جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا ہے، ڈرونز کے استعمال کیلئے شمسی بیس امریکہ کو دی گئی،شمسی بیس امریکہ کو دینے کا ریکارڈ کسی کے پاس نہیں تھا، پاکستان کا ا سٹریٹیجک مفاد چین اور روس کے ساتھ ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ ڈاکومنٹ آف سرنڈر سائن کیا گیا،

    وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایوان بالا میں تحریری جواب جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں61 فیصد پانی پینے کے غیرمحفوظ ہے، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسزنے یہ انکشاف کیا ہے ملک کے 3شہروں میں پانی 100 فیصد پینے کیلئے غیرمحفوظ ہے میرپورخاص، بےنظیرآباد اورگلگت بلتستان کا پانی غیرمحفوظ ہے کراچی میں 93 فیصد پانی پینے کیلئے غیرمحفوظ ہے بدین 92 اورحیدرآباد میں80 غیرمحفوظ ہے ملتان 94 اورسرگودھا 83 فیصد پانی غیرمحفوظ ہے مظفرآباد 70 اورفیصل آباد میں 59 فیصد پانی غیرمحفوظ ہے 29شہروں میں قصورکا پانی سب سے زیادہ محفوظ ہے قصور میں 10 فیصد پینے کا پانی غیرمحفوظ ہے ،

    حکومتی قومی بچت بینک ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا

    دوسری جانب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2022 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا بل وزیر ریلوے اعظم سواتی کی جانب سے پیش کیا گیا،متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا

    سینیٹ کا اجلاس پیر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا، سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا،وزیراعظم عمران خان ان کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے،یہ چاہتے ہیں عمران خان مفاہمت کے ڈاکومنٹ پر دستخط کر یں،تحریک عدم اعتماد ایک ڈرامہ ہے،اگر یہ کامیاب ہو بھی گئے تو عمران خان حکومت سے باہر زیادہ خطرناک ہے،

    قبل ازیں پاکستان کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کی مذمت کی ہے، ہندوستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذکورہ اقدام پر حکومت پاکستان کی شدید تشویش اور مذمت سے بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا، چارج ڈی افیئرز پر زور دیا گیا وہ بھارتی حکومت کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں آگاہ کریں، معاملہ خارجی اور اکثریتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر انسانی اور شیطانی کرنا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے حجاب معاملہ پر جلد سماعت سے ا نکار کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ مناسب وقت پرکیس کی سماعت کی جائےگی کرناٹک ہائی کورٹ کےعبوری فیصلہ کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ،ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پرعبوری پابندی لگائی تھی ، کرناٹک کی طالبات نے حجاب معاملہ پر ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

    کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی کیخلاف کولکتہ میں سینکڑوں طلباء نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ حیدرآباد میں سینکڑوں باحجاب خواتین نے بھی حجاب پر پابندی کیخلاف ریلی نکالی اور احتجاجی نعرے لگائے۔ کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ بھارت میں مذہبی لباس پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں ہے۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

     مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں

    :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی 

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا میں پیش آنے والے واقعات نے اقلیتی برادری میں خوف پیدا کردیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔

    گرلز اسلامک آرگنائزیشن کرناٹکا کے صدر سمعیہ روشن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فطری طور پر امتیازی سلوک ہے اور حقوق کے بھی خلاف ہے جو بھارت کے آئین نے طالبات دیے ہیں پابندی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے جو طالبات کا حق ہے اور اس سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

     بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

  • یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے:مودی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتی ہوں :پرینکا گاندھی

    یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے:مودی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتی ہوں :پرینکا گاندھی

    نئی دہلی:یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے:مودی ڈاکٹرائن کی مذمت کرتی ہوں :اطلاعات کے مطابق انڈین نیشنل کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پرینکا گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ چاہے وہ بکنی ہو، ‘گھونگھٹ’ ہو، جینز کا جوڑا ہو یا حجاب یہ فیصلہ کرنا عورت کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس حق کی ضمانت بھارت کے آئین نے دی ہے۔انہوں نے لکھا کہ خواتین کو ہراساں کرنا بند کریں۔

    یاد رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کا تنازعہ پہلی بار جنوری میں ضلع اڈوپی کے ایک سرکاری پی یو کالج میں شروع ہوا جہاں ہیڈ اسکارف پہن کر کلاسز میں شرکت کرنے والی چھ طالبات کو کیمپس چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ بعد ازاں ریاست کے دیگر کالجوں نے بھی لڑکیوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی ۔

     

    بھارتی اداکارائیں بھی مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر خاموش نہ رہ سکیں،اطلاعات ہیں کہ حجاب کی آڑ میں مسلمان طالبات کی حمایت میں بھارتی معروف اداکارائیں بھی میدان میں آگئی ہیں ، بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی بھارتی مسلم طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے جہاں شیرنی قرار دیا وہیں طالبہ کے حق میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی آواز بلند کررہی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے پر بھارتی اداکارائیں بھی خاموش نہ رہ سکیں۔اس حوالے سے بھارت کی معروف اور چوٹی کی اداکارہ پوجا بھٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروپ نے عورت کو ڈرانے کی کوشش کی۔

    پوجا بھٹ نے اس واقعے کو انسانیت کے لیے خوفزدہ قرار دیا اور کہا کہ شالوں کو ہتھیار بنانا اپنی کمزوری کو ظلم کے ذریعے چھپانے کے مترادف ہے۔

     

    ایسے ہی بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی اس واقعے کو بھارت کے لیے شرمناک قرار دیا۔

     

    واضح رہےکہ کرناٹک میں کالج آنے والی باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا، انتہا پسندوں نے طالبہ کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے جس کا جواب طالبہ نے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے دیا۔

     

     

    اس سے پہلے آج اور کل مسکان کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہندو انتہاپسندوں کے جتھے کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونیوالی طالبہ کو سوشل میڈیا صارفین نے شیرنی قرار دے دیا۔

    بھارتی ریاست کرناٹک میں زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے بعد مسلمان طالبہ مسکان ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں۔

    مسکان نامی بھارتی طالبہ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ مسکان اور ہیش ٹیگ اللہ اکبر سے ٹرینڈ کررہی ہیں جس میں مختلف ٹوئٹس کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین مسکان کے حق میں اور مسلم مخالف واقعات پر آواز بلند کررہے ہیں۔

    جہاں مسکان کو سوشل میڈیا صارفین شاندار خراج تحسین پیش کررہے ہیں وہیں پاکستان کی سیاسی شخصیات اور وزرا نے بھی ان کی دلیری کو سراہا۔

     

    وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی ایک ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہی وہ صورتحال ہے جس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے مغرب کو خبردار کیا تھا۔زرتاج گل نے اپنی ٹوئٹ میں بھارت کو اقلیتوں اور خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ملک بھی قرار دیا۔

     

    https://twitter.com/AliHassan__92/status/1491231738118684675?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491231738118684675%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    علی حسن نامی صارف نے مسکان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 100 کے مقابلے میں ایک شیرنی، آپ کسی ہیرو سے بڑھ کر ہو۔

     

    https://twitter.com/SufianAyub3/status/1491265958568394755?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1491265958568394755%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.geo.tv%2Flatest%2F277069-

    ایک صارف نے مسکان اور باحجاب خواتین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے لکھا کہ حجاب صرف ہماری مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ ہمارا وقار ہے ، یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے ۔

     

    حلیمہ نامی صارف نے مسکان سمیت فلسطین سے باہمت خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری خواتین ہی تمہارے لیے کافی ہیں۔

     

    ایک صارف نے مسکان کی تصویر شیئر کی اور ٹوئٹ کی کہ وہ آئی ، دیکھا اور فتح کرلیا ۔

     

    وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنی ٹوئٹ میں مسکان کی بہادری کو سراہتے ہوئے سلام پیش کیا۔

     

     

    بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔ دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دیا۔