Baaghi TV

Tag: حجاب

  • معروف شاپنگ مال نے ملازمہ کو حجاب پہننے پر نوکری سے نکال دیا

    معروف شاپنگ مال نے ملازمہ کو حجاب پہننے پر نوکری سے نکال دیا

    لبنان کے دارالحکومت بیروت میں معروف شاپنگ مال سے خاتون ملازم کو حجاب کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق بیروت کے مشرق میں اشرفیہ کے ایک مشہور شاپنگ کمپلیکس میں کام کرنے والی ایک خاتون ملازم کو حجاب کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کیے جانے کے بعد گذشتہ چند دنوں میں لبنانیوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔


    سوشل میڈیا پر لبنانی شاپنگ مال کے اس اقدام پر سخت رد عمل آ رہا ہے شہریوں نے نوکری سے نکالی گئی لڑکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوے شاپنگ مال کے اقدام کی مذمت کی ہے سوشل میڈیا پر’ ABC‘ نامی اس شاپنگ مال کے خلاف اور اس کے بائیکاٹ کے کئی ٹرینڈ چل رہے ہیں۔

    ABC کی درخواست پر لوگوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یہ کہا کہ مال حجاب پہننے والی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہےABC کی درخواست پر لوگوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یہ کہا کہ مال حجاب پہننے والی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے –

    ایک سوشل میڈیا صارف کے براہ راست پیغام کا جواب دیتے ہوئے ABC نے لکھا کہ "یہ ایک غیر فرقہ وارانہ ادارہ ہے جو مال میں تمام مذاہب کا خیرمقدم اور احترام کرتا ہے! پابندی کسی بھی مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتی ہے اور ہماری پالیسی تمام کرایہ داروں کو ان کے مذہبی عقائد سے قطع نظر قبول کرتی ہے ماری داخلی پالیسی، جو تمام مذہبی عوامی نمائشوں اور علامتی اشیاء/لوازمات کو منع کرتی ہے، بہت واضح طور پر بتائی جاتی ہے اور اسے ABC کے تمام ملازمین، کرایہ داروں اور پاپ اپ شاپس نے قبول کیا ہے۔

    العربیہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دوسری طرف’اے بی سی‘ کی مارکیٹنگ ڈائریکٹر ریٹا سالمن نے النہار اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام فرقوں اور مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتےہماری تاریخ اس کی گواہ ہے۔


    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف حقیقت جانے بغیر مہم چلائی گئی شاپنگ مال کی طرف سے ملازمین کے کنٹریکٹ کی یہ شرط ہے کہ وہ ملازمت کے دوران کسی مخصوص مذہبی علامت کی نمائش نہیں کریں گے ملازمہ کے خلاف انفرادی یا مذہبی وابستگی کی بنیا پر کارروائی نہیں کی گئی۔بلکہ یہ اس معاہدے کی شرائط میں سے ایک ہے جسے کاروباری مرکز نے منظور کیا تھا۔

    جبکہ کیفے "فُل ہاؤس” کی اہلکار عنود شحادہ نے کہا کہ ملازمہ دو سال سے زیادہ عرصے سے کمپنی کے ساتھ کام کر رہی تھی اور وہ اپنی قابلیت اور کام کے لیے پوری وابستگی کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اس نے کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز رویے کا ارتکاب نہیں کیا ہے جو ABC انتظامیہ سے اسی طرح کے اقدام کا مطالبہ کرتا ہے لیکن جو کچھ ہوا اسے تجارتی مرکز کی انتظامیہ نے برسوں سے جاری اپنے اصولوں کے ذریعے جائز قرار دیا جس میں پردہ دار خواتین کو ملازمت نہ دینا شامل ہے۔

    ABC گروپ کا ایک مبینہ مالک سابق ایم پی رابرٹ فیڈل ہے، جو نیشنل بلاک پارٹی کا رکن ہے، جس کے پالیسی پلیٹ فارم میں لبنان میں صنفی مساوات پیدا کرنے کے لیے وقف ایک سیکشن شامل ہے۔ جمعرات کی رات، Fadel نے ٹویٹر کے ذریعے کہا، "میں دہراتا ہوں اور یاد دلاتا ہوں کہ میں نے 2017 سے کمپنی میں اپنی انتظامی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں بغیر کسی امتیاز کے برابری اور آزادی کے اصولوں پر اپنے مکمل یقین کی تصدیق کرتا ہوں۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ اب بھی اے بی سی گروپ میں اپنی شیئر ہولڈنگ کو برقرار رکھتا ہے۔

  • اکھنڈبھارت کےچاہنےوالوں پرہندوانتہاپسندوں کا ایک اور   طمانچہ:ایک اورکالج میں باحجاب طالبات کوروک دیا گیا

    اکھنڈبھارت کےچاہنےوالوں پرہندوانتہاپسندوں کا ایک اور طمانچہ:ایک اورکالج میں باحجاب طالبات کوروک دیا گیا

    نئی دہلی: بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوانتہاپسند حجاب کیخلاف باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں۔ ریاست کرناٹک کے ایک اورکالج میں حجاب کرنے والی طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

    باحجاب طالبات نے کالج کے پرنسپل سے درخواست کی کہ امتحانات نزدیک ہیں انہیں کلاس لینی کی اجازت دی جائے لیکن پرنسپل نے طالبات کی درخواست کا کوئی نوٹس نہیں لیا اورانہیں حجاب کے ساتھ کالج میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔

     

     

    کرناٹک میں باحجاب طالبات کوکالج میں داخل ہونے سے روکنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل ایک اورسرکاری کالج میں مسلمان طالبات کو کلاسز اٹینڈ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ حجاب پرپابندی کیخلاف ایک طالبہ نے عدالت میں درخواست دائرکررکھی ہے۔

     

     

    اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکہ میں سری رام سینا کے سربراہ پرمود متھالک کے اسلام مخالف بیان کہ مسلم طالبات کے کلاس روم میں حجاب پہننے کے اپنے حق کیلئے جدوجہد سے ان کی دہشت گردانہ ذہنیت ظاہر ہوتی ہے اور انہیں اسکولوں سے لات مار کر نکال دینا چاہیے پرتنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    پرمود متھالک اپنے بیان میں کہاتھا کہ طالبات کی طرف سے حجاب لگانے پر مصر رہنا انہیں دہشت گردی تک لے جائے گا۔انہوں نے اپنے اسلام مخالف بیان مزیدکہاتھا کہ حجاب کا مطالبہ کرنے والی طالبات بعدازاں برقع اور اس کے بعد نماز اور مسجد کا بھی مطالبہ کریں گے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ یہ سکول ہے یا کہ تمہارا اسلامی مرکز ؟پرمود متھالک کے اسلام مخالف بیان سے ریاست کرناٹکہ میں تنازعہ پیدا ہو گیا ہے ۔

    اڈوپی پری یونیورسٹی کالج میں کلاس میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف احتجا ج کرنے والی طالبات نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔اگرچہ حکومت نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کرتے ہوئے طالبات کو مزید کسی فیصلے تک کلاسوںمیں حجاب نہ پہننے کا حکم دیا ہے۔ تاہم طالبات نے اس حکم کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا ے کہ حجاب پہننا ان کا آئینی حق ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت میں مسلمان طالبہ نے کالج میں حجاب کرنے پرعائد پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک کے ایک کالج میں مسلمان طالبات پرحجاب کرنے پرپابندی عائد کی گئی تھی۔ پابندی کے خلاف مسلمان طالبہ نے کرناٹک ہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی۔

    طالبہ نے درخواست میں موقف اختیارکیا کہ حجاب کرنا طالبات کے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے جس کی ضمانت بھارتی آئین میں دی گئی ہے۔
    درخواست میں دیگرطالبات کوبھی حجاب کے ساتھ کلاسز اٹینڈ کرنے اورکالج انتظامیہ کواس معاملے میں مداخلت نہ کرنے دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

    کرناٹک کے کالج میں 8 مسلمان طالبات پرحجاب کرنے کے باعث کلاسوں میں بیٹھنے پرپابندی لگائی گئی تھی۔

    ہندوانتہاپسند رکن اسمبلی اورکالج کی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر کے رگھوپتی کا کہنا ہے کہ طالبات کو کسی صورت حجاب کے ساتھ کلاس رومز میں آنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

  • حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    بھارت میں حجاب پہنے ہوئے مسلم طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک میں پیش آیا جہاں ضلع اوڈپی میں حجاب پہنے مسلم طالبات کو سرکاری کالج میں داخلے سے منع کر دیا گیا ، کچھ مسلم طالبات حجاب پہنے کالج آئیں تو انہیں کلاس میں یہ کہہ کر جانے سے روک دیا گیا کہ کلاس لینی ہے تو حجاب اتارنا ہو گا، واقعہ پر بھارت کی مسلمان تنظیموں نے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے

    کالج کی ایک طالبہ جس کو حجاب پہننے کی وجہ سے کالج جانے سے روکا گیا کا کہنا تھا کہ ہم میں سے جو حجاب پہنے ہوئے تھے انہیں کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ، واقعہ کے خلاف جب طالبات کے والدین کالج پہنچے تو انہیں بھی کالج جانے سے روکا گیا اور چار گھنٹے تک انتظار کروایا گیا ، طالبات کے وفد نے ضلع کلکٹر کورم راؤ سے بھی رابطہ کیا اور بتایا کہ پانچ طالبات جو حجاب پہن کر آتی ہیں انکو کلاس میں شامل نہیں ہونے دیا جا رہا، کلکٹر نے پرنسپل سے بات کی، ،طالبات کا کہنا ہے کہ حجاب پہننے سے پہلے سب ٹھیک تھا، جس دن سے ہم حجاب پہن کر کالج آئیں ہمیں کلاس میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا اور ہمارا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے،

    واقعہ کے خلاف طالبات نے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ کالج کی پرنسپل نے ہمارے والدین سے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے، اب ہم کس کے پاس جائیں ؟ کالج باقاعدگی سے آنے والی ان مسلم طالبات کی حاضری بھی نہیں لگائی جا رہی اور نہ ہی کلاس میں جانے دیا جا رہا ، کالج کے پرنسپل رودرا گوڑا کا کہنا ہے کہ طالبات کیمپس میں حجاب پہن سکتی ہیں لیکن کلاس کے اندر اس کی اجازت نہیں ہے

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

  • عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    عالمی یوم حجاب کشمیریوں کے نام : علی چاند

    آج پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب منایا جا رہا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کی عزت و عظمت کا حق اسے مکمل طور پر دیا جاٸے ۔ عورت کو محض ایک اشتہار نا سمجھا جاٸے بلکہ عورت جس کا نام ہی پردہ ہے اسے مکمل عزت س نوازا جاٸے اس کی آبرو کا خیال رکھا جاٸے ۔ عالمی یوم حجاب منانے کا مقصد یہی ہے کہ جن ممالک میں مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی ہے وہاں عورت کو اس کے حجاب کا حق دیا جاٸے ۔ اور جو عورتیں پردے کو بوجھ سمجھتی ہیں ان میں یہ شعور اجاگر کیا جاٸے کہ حجاب ان پر کوٸی مصیبت نہیں بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

    پاکستانی خواتین نے یہ عالمی یوم حجاب کشمیری خواتین کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی توجہ اس طرف دلاٸی جاٸے کہ انڈین آرمی کشمیری نے مظلوم خواتین کی عصمت دھری بند کرے اور کشمیری خواتین کے پردے کا خیال رکھا جاٸے اور ان کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیا جاٸے ۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ایک کم ظرف اور گھٹیا قوم جب دوسری کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو پھر وہ دیگر لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اس مقبوضہ قوم کی خواتین کی عزتیں لوٹنا قابل فخر کام سمجھتی ہیں ۔ ایسی کم ظرف قوموں میں سے ایک قوم بھارت بھی ہے ۔ جس نے زبردستی مسلمان کشمیریوں پر قبضہ کر کے وہاں کی مجبور و بے بس خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عالمی یوم حجاب کو کشمیریوں کے نام کرنے کا مقصد یہی ہے کہ دنیا کشمیری خواتین کو تحفظ دینے کی کوشش کرے اور بھارت پر دباٶ ڈالے کے وہ کشمیری خواتین کی عزت و آبرو کا خیال رکھیں ۔

    اس دن کامقصد یہ بھی ہے کہ کشمیر کی جو بہادر خواتین پردے میں رہتے ہوٸے اپنی آزادی کا حق لینے کے لیے دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں انہیں ان کا حق دیا جاٸے ۔ کشمیر کی جو خواتین بھارتی کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں ان میں ایک اہم نام محترمہ آسیہ اندرابی ہیں ۔

    اس کے علاوہ کشمیری خواتین چاہے ان کا تعلق سٹوڈینٹس سے ہو یا عام گھریلو خواتین سے وہ اپنے پردے میں رہتے ہوٸے بھارتی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ پردے میں رہتے ہوٸے انڈین فوج کی گولی کا جواب پتھر سے دے رہی ہیں ۔ یہ دن کشمیری خواتین کے نام کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تمام مسلمان حکمرانوں کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اپنی مسلم بیٹیوں کے تحفظ کے لیے آگے بڑھیں اور ملی غیرت کا ثبوت دیں ۔
    اللہ پاک ہماری مسلمان بہنوں کے پردے سلامت رکھے ۔ آمین

  • حجاب اپناؤ، دین و دنیا بچاؤ ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    حجاب اپناؤ، دین و دنیا بچاؤ ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے مطابق مت پھرو۔
    اس حکم کا منشا یہ ہے کہ عورت اپنی زینت اور محاسن کو اس طرح ظاہر نہ کرے کہ اس سے دیکھنے والوں کے دلوں میں میلان اور شہوت پیدا ہو۔
    عورتوں اور مردوں کو حکم دیا گیا کہ
    غض بصر کرو عموماً ان الفاظ کا ترجمہ
    نظریں نیچی رکھو
    یا
    نظریں پست رکھو کیا جاتا ہے مگر اسکا مدعا دراصل یہ ہے کہ اس چیز سے پرہیز کیا جاۓ جس کو حدیث میں آنکھوں کا زنا کہا گیا ہے۔
    اجنبی عورتوں کے حسن اور ان کی زینت کی دید سے لذت اندوز ہونا مردوں کے لیے اور اجنبی مردوں کو مطمع نظر بنانا عورتوں کے لیے فتنے کا موجب ہے۔
    فساد اور خرابی کی ابتداء طبعاً وعادتاً یہیں سے ہوتی ہے اسی لیے اس دروازے کو بند کرنے کو کہا گیا ہے۔ فسادِ زمانہ کی بنا پر اسباب فتنہ کی روک تھام کے لیے عورتوں کا با پردہ ہونا ضروری ہے۔

    خواتین کے لباس کی چند حدود و قیود

    پردہ پورے بدن کو چھپانے کا نام ہے۔
    ایسا حجاب استعمال نہ کیا جاۓ جو بذاتِ خود زینت بن جاۓ۔
    لباس باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے بدن چھلکے۔
    کشادہ لباس ہو، تنگ نہ ہو۔
    خوشبو میں بسا ہوا نہ ہو۔
    مرد کے مشابہ نہ ہو۔
    کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔
    شہرت کا لباس نہ ہو۔
    حجاب کرنے اور باپردہ ہونے کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی مثال ہمارے سامنے ہے اور ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ انہوں نے اس بات کو بھی ناپسند کیا کہ مرنے کے بعد عورت کو ایسے کپڑے میں لپیٹا جاۓ جس سے اس عورت کا ہونا ظاہر ہو۔
    حیا مومنوں کی خاص صفت ہے حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں یا تو دونوں رہیں گے یا دونوں رخصت ہو جائیں گے۔
    بے پردگی اور اس کے لوازم اور دواعی سب کے سب اہل کفر کی دیکھا دیکھی مسلم معاشرے میں رواج پاگئے ہیں۔ جو لوگ بے پردگی کو رواج دینے کی کوشش میں ہیں اور اپنی بہو، بیٹیوں کو یورپین عورتوں کی طرح بے حیا اور بے شرم بنا چکے ہیں۔
    مادر پدر آزاد خیال اور آزاد لباس ان میں بہت سے تو ایسے ہیں جو محض نام کے مسلمان ہیں اور شرم وحیاء کے ساتھ ایمان کی دولت بھی کھو چکے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جنھیں کسی درجے یورپ کا مزاج اور بے حیائی اور بے شرمی کی طبیعت آہستہ آہستہ اسلام سے ہٹاۓ جارہی ہے۔
    مسلمانوں پر فرض ہے کہ اسلامی قوانین کی پابندی کریں اور اسلام کے روشن اصولوں پر چل کر اپنی دنیا اور آخرت سنواریں۔
    دعا گو ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سے راضی ہوجاۓ۔