Baaghi TV

Tag: حدیث

  • صدر زرداری کا اُرومچی میں سنکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ کا دورہ

    صدر زرداری کا اُرومچی میں سنکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ کا دورہ

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے شہر اُرومچی میں واقع سنکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا، جہاں انسٹیٹیوٹ کے صدر مختیری سیفو نے ان کا استقبال کیا۔

    صدر مملکت نے انسٹیٹیوٹ میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا اور وہاں دی جانے والی خدمات کو سراہا۔ انہیں بتایا گیا کہ انسٹیٹیوٹ میں قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر عصری مضامین پڑھائے جاتے ہیں جبکہ اسلامی کتب کے تراجم، اشاعت اور حج انتظامات میں بھی ادارہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔انسٹیٹیوٹ میں قرآن، حدیث، اسلامی قوانین، عربی، تھیولوجی، تاریخ، کمپیوٹر کی تعلیم، اخلاقیات اور سائنسی مضامین سمیت جنرل کورسز بھی کرائے جاتے ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے خطے کے مسلمانوں کے لیے ادارے کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان وسیع افہام و تفہیم کے لیے علمی اور ثقافتی تبادلے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔

    قطر کی عالمی عدالت کی صدر سے ملاقات، اسرائیلی حملے پر قانونی کارروائی کی کوشش

    پاک افغان بارڈر پرٹیکسی اسٹینڈ میں دھماکا، 5 افراد جاں بحق

  • انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے – محمد نعیم شہزاد

    انکار حدیث در اصل انکار دین ہے
    محمد نعیم شہزاد

    اسلام ایک الہامی مذہب ہے جس کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت پر ہے۔ روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور اپنا اکثر وقت غار حرا میں گزارتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ جو نیند میں بصورت خواب دیکھتے دن کی روشنی میں بعینہ واقع ہو جاتا۔ پھر ایک دن غار حرا میں جبرائیل علیہ السلام آئے اور وحی الٰہی کا آغاز ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو مشرکین مکہ آپ کے خلاف ہو گئے۔ سمجھنے کے لحاظ سے یہ ایک مرکزی نکتہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت اپنی زبان سے کیا جسے عرف کے مطابق حدیث کہا جائے گا۔ پیغمبر علیہ السلام نے ہی بتلایا کہ یوں مجھ پر وحی کا نزول ہوا اور مجھے نبوت سے سرفراز کیا گیا ہے اور یہ بات پیغمبر علیہ السلام نے ہمیں براہ راست نہیں بتلائی اور نہ ہمیں ایسا کوئی الہام ہوا اور نہ خواب آیا بلکہ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ بات بیان کی اور محدثین نے اس بات کو نقل کیا ہے۔ اسی بیان روایت اور اسناد حدیث پر دین کی بنیاد ہے۔ تو جو شخص بظاہر احادیث نبوی پر بے اعتباری اور شک کا اظہار کرتا ہے درحقیقت وہ دین کا انکار کرنے کی راہ تلاش کرتا ہے۔

    بالفرض ایسے معترضین کی بات کو مان بھی لیا جائے تو قرآن مجید کے کون سے معنی معتبر ہوں گے۔ زبان و ادب کا ہر طالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بہت سے الفاظ کثیر المعنی ہوتے ہیں جن کے کئی مطالب و مفاہیم نکلتے ہیں۔ کس عبارت میں کسی لفظ سے کیا مراد لی جائے گی اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر ہر شخص کو اپنا اپنا معنی و مطلب اخذ کرنے کی آزادی دے دی جائے تو دین ایک کھیل بن کر رہ جائے جو ان معترضین کا اصل ہدف ہے۔

    ایسے بے علم فقیہان سے چند بنیادی سوال کیے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ہی بات کچھ آگے بڑھ سکے گی۔

    حدیث کو چھوڑ قرآن کو کافی سمجھنے والوں سے چند بنیادی سوالات

    1. قرآن مجید الہامی کتاب ہے، کلام اللہ ہے اس کی کیا دلیل ہے؟
    2. قرآن مجید میں نازل کردہ احکام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں، اس کا کیا ثبوت ہے؟
    3. قرآن مجید میں ہے کہ کفار و مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا کہ یہ کلام آپ نے خود بنایا ہے اس کا رد؟
    4. قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ وہ کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب و حکمت سے کیا مراد ہے؟
    5. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے تو قرآن مجید اور وحی الٰہی کو ماننے کی دلیل کیا ہو گی۔

    موسیٰ علیہ کی قوم بنی اسرائیل کا احوال اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ وہ عجیب و غریب مطالبات کرتے تھے ۔ انھوں نے مطالبہ کر دیا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ کسی نے یہ مطالبہ کیا کہ آسمان پر ایک سیڑھی لگا دیجیے جس پر ہم چڑھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق و مالک ہے اس کے احکام کی تعمیل کے لیے من پسند سوالات اور فرمائشیں کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔ اور دین میں بے اصل اور بے عقل سوال کرنے والے دین نہیں سیکھتے بلکہ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دین اسلام کے لیے ہمارے سینوں کو کھول دے اور ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کر لے۔

  • دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    دین کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں ۔۔۔ سعدیہ بنتِ خورشید احمد

    210 ہجری کا ذکر ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے 16 سال کی عمر میں حصولِ علم کے لیے خراسان، عراق، مصر، شام اور دوسرے علاقوں کا سفر کیا۔ امام ابو الحسین مسلم رحمہ اللہ نے بغداد، بُصرہ اور دیگر اسلامی شہروں کے لمبے سفر کیے۔ اسی طرح دیگر آئمہ حدیث نے ایک ایک حدیث کو حاصل کرنے کے لیے انتہائی لمبے سفر کیے۔ اور ہمارے لیے حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا۔
    ایک طرف ہمارے اسلاف کا علمِ حدیث کے لیے پوری زندگی پر محیط لمبا اور تھکا دینے والا سفر۔
    دوسری طرف ہم جس جدید دور میں زندگی گزار رہے ہیں کتابیں عام ہو رہی ہیں۔ حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں نئی تزئین و تدوین کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ کمپیوٹر نے اس جدید دور میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا ہے۔ جو لوگ کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کی آسانی کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتابیں موجود ہیں، مکتبہ الشاملہ جیسی کتب کی وسیع آن لائن لائبریری موجود ہے۔
    کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اتنی آسانیوں کے دور میں ہمارا ہر جوان قرآن کا مفسر ہوتا، حدیث کا عالم ہوتا۔
    لیکن ہم تو اتنے بے فیض لوگ ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی زندگی سے ہی فرصت نہیں۔ دنیاوی علوم میں تو ہم نے بڑی بڑی ڈگریاں لے لیں۔ آج المیہ یہ ہے کے انگلش اتنی سیکھ لی کہ انگریز کو پڑھا سکتے ہیں اور قرآن اتنا نہیں سیکھا کے ہم اللہ کے احکام کو جان سکیں کہ رب العالمین کہہ کیا رہے ہیں۔ کبھی قرآن کے معنی ومفاہیم پر غور و فکر نہیں کیا یا احادیث رسول ﷺ کو سمجھ کر اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی۔
    اگر کبھی قرآن کریم کو کھولا بھی جاتا ہے تو صرف ثواب یا تبرک کے لیے۔ احادیث کا ذوقی انتخاب کر لیا جاتا ہے اور صرف چند ابواب پر مبنی احادیث کو ہی پڑھا جاتا ہے۔
    اُصولِ حدیث اور شرعی اصطلاحات سے ہماری نوجوان نسل کو کوئی خاص رغبت نہیں رہی ہے۔ حدیث کی سند اور راویان حدیث کے حالات زندگی کو معلوم کرنا ہمارے نزدیک کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔
    بلکہ سنی سنائی باتوں کی نسبت فوری طور پر رسول کریم ﷺ کی طرف کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ((اطلب العلم ولو بالصّین)) علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جیسی بے اصل روایات ہماری نصابی کتب میں شامل ہیں۔ سکولوں، کالجوں میں بورڈز پر آویزاں ہیں۔
    علم حدیث سے بالکل بے خبر ارسطو اور افلاطون جیسوں کے اقوال کو ہمارے دانشور حضرات حدیث شریف کا درجہ دے دیتے ہیں۔
    اگر شروع سے ہی بچے بے اصل اور من گھڑت روایات کو حدیثِ صحیح سمجھ کر پڑھنے لگیں گے تو وہ بڑے ہو کر کس طرح صحیح اور موضوع روایت میں فرق کا ذوق رکھیں گے۔
    سستی شہرت حاصل کرنے والے علماء نے ایسی ایسی باتوں کو حدیث کا درجہ دے دیا ہے جس کا حدیث نبوی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ عوام بھی اندھا دھند تقلید کرتے ہوئے اس کو من و عن تسلیم کرنے لگتے ہیں۔ جب ان سے کہا جائے کہ یہ فعل تو نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی میں نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا ہے تو اگے سے وہی گھسے پِٹے جواب کہ کم از کم برائی کا کام تو نہیں کر رہے نہ، نیکی ہی کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
    باشعور اور پڑھی لکھی عوام سے ایسے جوابات سن کر حیرت ہونے لگتی ہے۔
    ان حالات کو دیکھ کر انتہائی افسوس ہونے لگتا ہے کہ کثیر تعداد میں وسائل ہونے کے باوجود ہم احادیثِ رسول ﷺ سے اتنے بے خبر ہیں کہ نماز کا نبوی طریقہ نہیں معلوم، حج و عمرہ کے فرائض صحیح سے ادا کرنے نہیں آتے، سب سے بڑھ کر غسل کا طریقہ تک نہیں معلوم۔
    ہمارے اسلاف نے احادیث کو سیکھنے کے لیے زندگیاں وقف کردی تھیں۔ آج وہی احادیث، اسناد، راویانِ حدیث کے حالات زندگی، اسماء الرجال کے ساتھ انٹرنیٹ پر ایک کلک کے فاصلے پر موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس قرآن و حدیث کو سیکھنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے محبت و عشق کے دعوے کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں لیکن عملی زندگی پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسی نبی کی حیاتِ مبارکہ کے حالات اور ان کے بتلائے ہوئے طریقے ہمیں معلوم نہیں ہیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں صحیح معنوں میں نبی کریم ﷺ کا امتی بنائے ۔ قرآن و حدیث کو کماحقّہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روزِ قیامت ہم بارگاہ ایزدی میں سرخرو ٹھہریں۔ آمین