Baaghi TV

Tag: حریت کانفرنس

  • بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری   کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    بھارتی فوج کےہاتھوں کشمیریوں کاقتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:حریت کانفرنس

    سرینگر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام:عالمی برادری کی خاموشی:ایٹمی جنگ کا سبب بنےگی:،اطلاعات کے مطابق کشمیرعوام کی نمائندہ اور ترجمان تحریک آزادی کشمیر کی روح روں‌ جماعت حریت کانفرنس نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالم افواج کی طرف سے کشمیریوں کا قتل عام جاری ہےاور دوسری طرف عالمی برادری کو پرواہ تک نہیں ، حریت کانفرنس کا کہنا ہےکہ اگریہ بے حسی رہی تو پریہ یقینی نظرآرہا ہے کہ بہت جلد جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم ہوگا پھرکوئی بھی بچ نہیں سکے گا ،

    اس حوالے سے مزید حریت کانفرنس قیادت کا کہنا تھا کہ اپنا ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت مانگنے پرآزادی پسند کشمیری عوام کے خلاف سفاک بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری وحشیانہ فوجی کارروائیاں کسی بڑے تصادم کے طرف جارہےہیں جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے توپھراس کا خاتمہ بھی اسی زورسے ہوتا ہے ، ۔ کشمیریوں کو ان کے اس حق کی ضمانت اقوام متحدہ نے فراہم کر رکھی ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی قابض فوجیوں کی طرف سے جاری کشمیریوں کے قتل عام نے پورے جنوبی ایشیا کو جوہری تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف اعلان جنگ کرنے پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شوپیان اور سرینگر کے علاقوں لاوے پورہ، بمنہ، حیدر پورہ، رام باغ اور رنگریٹ میں کشمیریوںکے حالیہ دن دیہاڑے دوران حراست قتل سے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی منظم ریاستی دہشت گردی کاپتہ چلتا ہے ۔

    حریت ترجمان نے تحریک آزادی کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں بھارتی فوج کے گھنائونے جنگی جرائم کے باوجود نڈر کشمیری عوام کبھی بھی بھارتی فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی جدوجہد آزادی بھارت کی اجازت سے نہیں شروع کی ہے اور نہ ہی ہم نے اس سے کسی رعایت کی درخواست کی ہے ۔

    حریت ترجمان نے شہدائے کشمیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اپنااہم کردار ادا کریں ۔

    ادھربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع پونچھ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی شروع کی ۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے پیرا ملٹری اور اسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں کے ہمراہ ضلع میں سرنکوٹ کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی پر تشدد کارروائیاں شروع کیں۔ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوزیں بھی سنی گئی ہیں۔

    ادھر بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران سرینگر کے علاقے زیون پنتھہ چوک میں ایک نوجوان کو گولی مار کر زخمی کر دیا ۔

  • حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش

    سری نگر: حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کشمیری نظربندمتعدد امراض کا شکارہوچکے ہیں۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جابرانہ پالیسیوں کا مقصد کشمیر ی عوام کے آزادی کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہے جو علاقے پر غیر قانونی قبضے کے بعد فسطائی بھارتی حکومت کا خواب رہاہے۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ، محمد یوسف فلاحی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شکیل یوسف، ظہور وٹالی، طارق احمد ڈار، نذیر احمد ڈار، ظہور بٹ، رفیق گنائی، مقصود بٹ، ایوب میر، ایوب ڈار، نذیر پٹھان، غضنفر اقبال، عاقب نجار، عارف وانی، بشیر احمد، فاروق شیخ، ممتاز احمد، مظفر احمد ڈار، طارق پنڈت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، عبدالرشید لون، ہلال احمد پیر، عابد زرگر، آصف سلطان، مولوی ناصر، مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی استقامت اور بہادری کو سراہا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان نظربندوں نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تمام ”ضمیر کے قیدیوں‘ ‘کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طبی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے بغیربھارت اور مقبوضہ علاقے کی تمام جیلوں میں ڈیتھ سیلوں میں نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ترجمان نے علاقائی اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اظہار تشویش ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیریوں کی اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال پر نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے بعد سے ہماری تحریک آزادی کا عنوان شہداکے خون سے لکھا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اس تحریک کو فوجی طاقت کے بہیمانہ استعمال سے کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے سیاست دانوں، تاجروں، وکلائ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلباءاور علمائے دین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل تحقیقاتی ایجنسی کے مسلسل چھاپوں میں اضافے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جابرانہ ہتھکنڈے ماضی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی انکاکشمیریوں کی مضبوط اور پرامن مزاحمتی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    ترجمان نے تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور ہم غیر قانونی بھارتی قبضے سے مکمل آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں نسل کشی، بلا جواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو روکنے اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے تنازعہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بار پھر سرینگر کی تاریخی مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آج صبح ایک بار پھر قابض انتظامیہ اور بھارتی پولیس نے جامع مسجد کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا اور وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کو مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

     

     

    انجمن جامع مسجد سے متعلق قابض انتظامیہ کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ قابض انتظامیہ نے مرکزی جامع مسجد کی جبری بندش کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور طاقت کے بل پر مذہبی حقو ق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔

    انجمن اوقاف نے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی 5اگست2019سے مسلسل گھر میں غیر قانونی نظربندی کی بھی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے مذہبی اور پر امن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انجمن نے جامع مسجد کو نماز جمعہ کیلئے بھی کھولنے کا مطالبہ کیا ۔

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بی بی سی کے دفتر کے باہر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے عالمی شہرت یافتہ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے بی بی سی کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سرینگر میں قائم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر خرم پرویز کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالے۔

     

     

     

    انہوں نے نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ پر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کہاکہ این آئی اے نے 22نومبر کو خرم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں نئی دلی منتقل کردیاگیا۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کے جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ، خواجہ محمد سلیمان ، ٹرید کونسل برمنگھم کے صد ر Ian Scott ،سٹاپ دی وار کولیشن برمنگھم کے سیکریٹری جنرل سٹورٹ رچرڈسن ،رانا رب نواز، چوہدری اکرام الحق اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

     

     

  • کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

    کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

    نئی دہلی:کل جماعتی حریت کانفرنس پر پابندی:بھارت نے خطرناک منصوبہ بنا لیا،اطلاعات کے مطابق تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کےلیے خطرناک منصوبہ بنا لیا ہے ، اس حوالے سے بھارت نے اسرائیل ، امریکہ کی مدد سے تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ جماعت حریت کانفرنس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے سازشیں جاری ہیں

    وادی کشمیر اور نئی دہلی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کل جماعتی حریت کانفرنس پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد کر سکتی ہے۔

    اس سازش پر سے پردہ ہٹاتے ہوئے کشمیرمیڈیاسروس کا کہنا ہے کہ بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ بھارتی وزارت داخلہ آنے والے دنوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور تحریک حریت جموں کے تمام دھڑوں کو حق خود ارادیت کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی جدوجہد پرکالعدم قرار دینے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

    ذرائع نے ٹائم آف انڈیا کو بتایا کہ مودی حکومت اور بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے قبل ازیں وزارت داخلہ کو کل جماعتی حریت کانفرنس کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر درج کرنے کا مقدمہ بنانے کے لیے رپورٹیں پیش کی تھیں۔ پابندی کے بعد کل جماعتی حریت کانفرنس حریت کانفرنس کو اپنے دفاتر اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا پڑے گا۔

    قبل ازیں مقبوضہ علاقے میں جموںوکشمیر لبریشن اور جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔حریت کانفرنس کی بنیاد 1993 میں کئی سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ رکھی گئی تھی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے سیاسی حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

    دوسری طرف تحریک آزادی کشمیر نے بھارت کی اس سازش کے خلاف عالمی برادری کو آگاہ کردیا ہے اورپاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ جلد از جلد بھارتی سازش کو ناکام بناتے ہوئے کشمیریوں کی نمائندہ جماعت حریت کانفرنس پربھارتی پابندیوں کا خواب چکنا چور کردے

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم بٹ کی طرف سے مکمل ہڑتال کی اپیل پروادی میں سناٹا چھا گیا

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم بٹ کی طرف سے مکمل ہڑتال کی اپیل پروادی میں سناٹا چھا گیا

    سرینگر:چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم بٹ کی طرف سے مکمل ہڑتال کی اپیل پروادی میں سناٹا چھا گیا ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آج کشمیریوں کی طرف سے بھارتی مظالم کےخلاف ہڑتال جاری ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ وادی میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا ہے اورسڑکوں پر بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں‌

    ادھر وادی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جعلی مقابلوں میں معصوم شہریوں کے قتل کے خلاف آج مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے کل نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ شہریوں کے قتل کے واقعات کے خلاف کل مکمل ہڑتال کریں۔

    ادھربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل شام سرینگر کے علاقے رام باغ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک اورجعلی مقابلے میں مزیدتین کشمیری نوجوانوں کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوانوںکے قتل کے خلاف علاقے میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوان بے گناہ شہری تھے اور انہیں فوجیوں نے ایک جعلی مقابلے میں شہیدکیا۔عینی شاہدین نے صحافیوںکو بتایا کہ فوجیوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے نوجوانوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور سڑک پر گولی مار کر شہید کر دیا۔

    انہوں نے کہا کہ فوجیوں نے تینوں کو گاڑی سے گھسیٹ کرباہرنکالا گیا اور پانچ چھ فوجی اہلکاروں نے ان پر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

     

     

  • ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی   تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی گیلانی تحریر: غنی محمود قصوری

    ہمت و جرآت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوا اس 90 سالہ بزرگ کا بچپن ،جوانی اور اب بڑھاپا بھی ہندو کے ظلم و جبر میں گزرا اور اب بھی اتنی بزرگی میں ہونے کے باوجود اپنی ہی وادی کشمیر جنت نظیر میں اپنے ہے گھر میں ہندو کی نظر بندی میں زندگی بسر کر رہے ہیں
    5 اگست 2019 کو انڈیا کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے بعد پوری حریت قیادت کی طرح سید علی گیلانی صاحب بھی اپنے گھر سوپور میں نظر بند ہیں مسلسل 7 ماہ سے زائد کی نظر بندی کی بدولت ان کی صحت انتہائی متاثر ہوئی ہے جس سے ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بن جانے سے انہیں تکلیف کا سامنا ہے سید صاحب کی صحت انتہائی تشویشناک ہے جس پر پوری کشمیری قوم کیساتھ پوری پاکستانی قوم بھی ان کی صحت و تندرستی کیلئے دعا گو ہے
    سید علی گیلانی صاحب الحاق پاکستان کے حامی ہیں ان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فوجوں کے خلاف پاکستان اپنی فوجیں مقبوضہ وادی کشمیر میں داخل کرے اور انڈیا کی طرف سے اقوام متحدہ کی نا مانی جانے والی قرار دادوں پر طاقت کے بل بوتے پر عمل درآمد کروا کر تنازعہ کشمیر کو حل کروایا جائے
    سید علی گیلانی صاحب کی 90 سالہ عمر کا زیادہ حصہ انڈین جیلوں اور نظر بندیوں میں گزرا ہے
    جب انڈیا نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاءون کرنے کیساتھ انٹرنیٹ و موبائل سروس بند کرکے کرفیو لگایا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تھا تب گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا تھا کہ کشمیر کیلئے تب کچھ کرو گے جب ہم مٹ جائینگے
    سید صاحب نے شروع سے ہی اس نظریے کے حامی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراد دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے اور اپنی فوجیں کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق استصواب رائے دے جس کی بدولت سید صاحب کو ہمیشہ سے پابندیوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ سید صاحب 90 سال سے زائد العمر ایک معمر اور ضعیف شحض ہیں مگر پھر بھی ان کی ایک آواز پر ان کی تحریک حریت و آل پارٹیز حریت کانفرنس کے علاوہ پوری وادی جموں و کشمیر کے لوگ سر پر کفن باندھ کر لبیک کہتے ہیں جس کے خوف سے انڈیا نے اس عظیم حریت لیڈر کو نظر بند کیا ہوا ہے جو کہ انٹرنیشنل لاء کے سخت خلاف ہے مگر افسوس کے انڈیا کو کوئی پوچھنے والا نہیں مگر اب پوری دنیا کو سید علی گیلانی صاحب کے موقف کا احساس ہو چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر طاقت کے استعمال کے بغیر حل نہیں ہو گا جس کی تازہ مثال 5 اگست 2019 سے اب تک پوری وادی کشمیر کا لاک ڈاءون، انٹرنیٹ و موبائل سروس کی بندش کے علاوہ سخت ترین کرفیو میں مظلوم کشمیریوں کی انڈین قابض فوج کے ہاتھوں شہادتیں و کشمیری ماءوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دریوں پر پوری دنیا کے دباؤ پر بھی انڈیا کا کان نا دھرنا اور کشمیریوں کے مصائب میں مذید اضافہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بموقف عظیم کشمیری حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کشمیر بزور شمشیر ہی آزاد ہوگا
    دعا ہے کہ اللہ تعالی اس عظیم حریت قائد سید علی گیلانی صاحب کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی عطا فرما کر انہیں طلوع آزادی کشمیر دیکھنا نصیب فرمائے آمین