ویڈیو: حریم شاہ عدالت پہنچ گئیں،ساتھ عمران خان بارے بھی بڑا دعویٰ کر دیا
ٹک ٹاکر حریم شاہ کے خلاف ایف آئی اے تحقئقات کا معاملہ ،حریم شاہ نے سندھ ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کے مچلکے جمع کروا دیئے
عدالت نے گزشتہ روز حریم شاہ کی سات روز کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی ،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست گزار حریم شاہ کو 25 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی اور واضح کیا تھاکہ اگر وہ مقررہ وقت میں انکوائری افسر کے سامنے پیش نہ ہوئیں تو ضمانت ضبط کر لی جائے گی
سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے جنوری میں انہیں نوٹس بھیجا تھا اور فروری میں سندھ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو ان کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کرنے جبکہ درخواست گزار کو انکوائری میں شامل ہونے کی ہدایت کی تھی لیکن وہ پاکستان پہنچ کر انکوائری میں شامل نہیں ہو سکیں حریم شاہ نے اپنے وکیل کے ذریعے اسی طرح کے ریلیف کے لیے گزشتہ ہفتے دوبارہ سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن ان کی درخواست خارج کردی گئی اب درخواست گزار ملک واپس آچکی ہیں کمرہ عدالت میں بھی حاضر ہیں اور انکوائری میں شامل ہونے کو تیار ہیںانہوں نے انکوائری میں شامل ہونے کے لیے محدود مدت کے لیے قانونی تحفظ کی استدعا کی۔
سندھ ہائیکورٹ کے بینچ نے حریم شاہ کی ایک ہفتے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرلی تھی، رواں برس ماہ جنوری میں حریم شاہ نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ برطانوی پاؤنڈز کی دو ڈھیریوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں اور ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے بہت زیادہ رقم کے ساتھ پاکستان سے برطانیہ کا سفر کیا ،ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حریم شاہ کے خلاف ایف آئی اے نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی انکوائری شروع کی تھی
واضح رہے کہ حریم شاہ کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے حریم شاہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے لیے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائز کو خط لکھے تھے۔
عدالت پیشی کے موقع پرحریم شاہ نے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کردیا ، کہا عمران خان دوبارہ وزیر اعظم بنیں گے، عمران خان پاکستانی ہیں، عدالت سے بری ہوئے ہیں، میں سیاست میں نہیں آ رہی، عمران خان ہمارے قائد ہیں، میرے اچھے تعلقات ہیں
سندھ ہائیکورٹ نے معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ کو پاکستان واپسی پر گرفتاری سے روکنے کی درخواست خارج کر دی۔
باغی ٹی وی: حریم شاہ کو پاکستان واپسی پر گرفتاری سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حریم شاہ چاہے تو وطن پہنچ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔
جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے حریم شاہ کو پہلے بھی تحفظ دیا تھا لیکن درخواست گزار حریم شاہ نے عدالتی حکم نامے کا غلط فائدہ لیا۔
جسٹس کے کے آغا نے مزید کہا کہ یہ وہی خاتون ہیں ناں جس نے بیرون ملک رقم ظاہر کی اور منی لانڈرنگ کا دعویٰ کیا تھا؟ عدالت سے کھیل کھیلنا بند کیا جائے۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ ایف آئی اے کو تحقیقات سے نہیں روکا جا سکتا۔
خیال رہے کہ حریم شاہ نے رواں برس لندن پہنچ کرغیرملکی کرنسی کے بنڈلز کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی تھی، ویڈیو میں حریم شاہ کے پاس بھاری غیرملکی کرنسی دیکھی گئی تھی۔
ویڈیو میں حریم شاہ نے کہا کہ تھا کہ وہ یہ رقم پاکستان سے لیکر بیرون ملک گئی ہیں، ویڈیو میں پاکستانی اداروں کا تمسخر بھی اڑایا گیا تھا کہا تھا کہ شہری ذرا احتیاط کریں، کیوں کہ پاکستانی قانون غریب کو زیادہ پکڑتا ہے۔
بعد ازاں ایف آئی اے نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے منی لانڈرنگ قانون کےتحت انکوائری شروع کرنے کا اعلان کر دیا تھا ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ عمران ریاض نے کہا تھا کہ ویڈیوز سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے حکومت پاکستان کےساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی تضحیک، خلل ڈالنے اور بدنام کرنے کا عمل ہیں، ان کا یہ عمل منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
تاہم اسی روز حریم شاہ نے اس ویڈیو کو ایک مذاق قرار دیا تھا اور ایف آئی اے کی کارروائی کے خلاف وکیل کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا-
حریم شاہ نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر ملکی کرنسی کے خلاف میری ویڈیو وائرل ہوئی تھی، کرنسی کے حوالے سے وضاحتی ویڈیو جاری کرچکی ہوں وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے حریم شاہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کیلئے بینکوں سے رجوع کیا ہے، وہ ایف آئی اے سے انکوائری میں تعاون کرنا چاہتی ہیں اور برطانیہ سے واپسی پر گرفتاری کا خدشہ ہے لہٰذا ایف آئی اے کو کارروائی سے روکا جائے۔
عدالت نے منی لانڈرنگ انکوائری میں ایف آئی اے کو حریم شاہ کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیا تھا
معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ کو ترکی ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا.
پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ اور ان کے شوہر بلال شاہ کو ترکی کے ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا، زرائع کے مطابق حریم شاہ کے شوہر بلال شاہ سے ایئرپورٹ پر چیکنگ کے دوران بھاری مقدار میں سونا اور غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی ہے.
معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ اپنے شوہر بلال شاہ کے ہمراہ ترکی سے مسقط جارہی تھیں،ایئرپورٹ پر چیکنگ کی گئی تو حریم شاہ اور ان کے شوہر بلال شاہ سے بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی اور سونا برآمد ہوا. ترک حکام نے دونوں میاں بیوی کو حراست میں لے لیا ہے ،زرائع کے مطابق حریم شاہ اور ان کے شوہر بلال شاہ سے تفتیش جاری ہے.
خیال رہے کہ قوانین کے مطابق ایئرپورٹ پر کسی بھی ملک کے سفر کے دوران محدود مقدار میں سونا اور غیر ملکی کرنسی ساتھ لے جانے کی اجازت ہوتی ہے اور اگر اس مخصوص تعداد سے ذائد غیر ملکی کرنسی یا سونا ساتھ لیجایا جائے تو قوانین کے مطابق سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے
بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن سے میں نے سیریز شروع کی ہے کرپشن کے پروگراموں پر، پہلے بشریٰ بی بی، انکے سابق شوہر، بیٹے بھائی، بزدار کی کرپشن دکھائی، لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ لوگ آپریٹ کیسے کرتے تھے ؟ تو مین انکو بتاتا ہوں کہ انکے گینگ تھے،زمینوں کا کام ہوتا تو کوئی اور گینگ ہوتا، پیسوں کا کام ہوتا تو دوسرا کوئی اور ہوتا، قبضہ کرنے کا کام ہو تو کوئی اور سامنے ہوتا، پھر ڈی سی، ڈی پی او سارے استعمال ہوتے، کسی کو چپ یا شرمندہ کروانے کا کام ہوتا تو اسکے لئے کچھ خواتین رکھی گئی تھیں، حریم شاہ اور صندل خٹک کو دیکھیں ،وہ آئیں اور ایک دم انکی فیم، کبھی فارن آفس، کبھی پرائم منسٹر آفس، اور ایسی ایسی جگہوں پرجہاں عام آدمی تو کیا خاص آدمی بھی بغیر اجازت اور سیکورٹی کلیئرنس کے بغیر نہیں جا سکتا، فارن آفس میں وہ گئیں، سب یاد ہو گا کہ کیسے دروازے کھولے گئے تھے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپکو یاد ہو گا کہ ایئر پورٹ پر میرا جہاز تھا، یہ دونوں آئیں اورجہاز کو کھلوا بھی لیا اور اسکے اندر آ کر چیزیں اوپر نیچے کیں،غایب کیں، اسکی ویڈیو سامنے آئی تو پتہ چل گیا کون ہے، میں نے پولیس میں رپورٹ کی تو الٹا رپورٹ میرے گلے پڑ گئی، میرے اس زمانے میں پی ٹی آئی سے بہت اچھے تعلقات تھے ،نہ پی ٹی آئی میرے خلاف تھی نہ میں پی ٹی آئی کے خلاف تھا، صرف ایک کام میں کر رہا تھا، عمران خان کو ملکر ذاتی طور پر عثمان بزدار کی کرپشن بتاتا تھا کہ یہ کرپشن کر رہا ہے،عثمان بزدار ایک بار میرے پاس ملنے آئے ، اور انہوں نے کہا کہ غلط فہمی، ساری باتیں ہو گئیں، پھر میں نے ایک لمبا چوڑا میسج کیا عمران خان کو، وہ میسج عمران خان نے آگے بزدار کو فارورڈ کر دیا،بزدار نے دیکھا تو وہ ڈر گیا اور سوچا کہ یہ بندہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے اور ہٹا کر چھوڑے گیا،انہوں نے پھر فیاض الحسن چوہان کے تھرو کام کیا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حریم شاہ اور صندل ایئر پورٹ پر وزیر کی گاڑی میں آئیں، پاکستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر آنا ہے تو یا تو ٹکٹ ہو گا یا دوسرے سیکشن میں ہوں تو آرام سے انٹر کر سکتے ہیں اور وہ سیکشن جہاں جہاز کھڑے ہون، انکی مرمت کا علاقہ ہو، وہان سے یہ انٹر ہوتے ہیں، تین ناکے ہیں وہاں پر وہ کراس کئے جاتے ہیں، ویڈیو بنائی جاتی ہین اور چلی جاتی ہیں، میں نے تین رپورٹ پولیس میں کی، پولیس والے مسلسل بہانے بناتے رہے، کہ ہم مختلف ایشوز میں ہیں ،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں زندگی مین کبھی ان دونوں سے نہیں ملا کبھی کوئی ملاقات نہین ہوئی، میری کوئی تصویر انکے ساتھ نہیں، میں نے پولیس میں دو بار درخواست دی ، پھر ان دونوں نے رابطہ کرنا شروع کر دیا کہ ملنا ہے، میں نے کہا کہ نہیں ملنا، پھر فیاض الحسن چوہان سامنے آیا ،پولیس والے نے کہا کہ وزیر کا دباؤ ہے، محکمے کے لوگ ہیں، غلط فہمی ہو رہی ہے، تو پھر پتہ چلا کہ اسکے پیچھے چیف منسٹر بزدار ہے، پنجاب پولیس میں کچھ نہ ہوا تو ایف آئی اے میں گیا ، وہاں فون پر آنےوالے میسجز دیئے، ویڈیو اپلوڈ ہونے کا ریکارڈ کیا، سائبر کرائم والوں نے کہا کہ ہم کر رہے ہیں لیکن کچھ نہ ہوا، تیسرا میں عدالت میں گیا تو حریم شاہ کے لئے 26 وکیل عدالت میں آ گئے، 26 وکیلوں کی فیس کون دے سکتا ہے، پتہ چلا وہ بزدار کو خوش کرنے والے وکیل تھے، پھر پتہ چلا کہ یہ تو بڑی اندر کی گیم ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے روکنے کے لئے یہ کیا گیا کہ یہ باز آ جائے یا لوگ سمجھیں کہ یہ خود صحیح آدمی نہیں بزدار کی برائی کر رہا، پی ٹی آئی کے لوگ بھی کہتے تھے کہ کچھ ضرور ہے کیونکہ مبشر لقمان پی ٹی آئی کے ساتھ ہے اور جب وہ کہتا ہے کرپٹ ہے تو کچھ نہ کچھ ہے، اگر میں نے اسلام آباد میں بھی کمپلین کی، تو پتہ چلا کہ اوپر سے آرڈر آ رہے ہیں کہ ان بچیوں کا کچھ نہیں ہونا، مجھے کہا گیا کہ مبشر صاحب عزت اسی میں ہے کہ چپ کر جائیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حریم اور صندل ہی بتا سکتی ہیں کہ انکے ہینڈلر عثمان بزدار اور چوہان یا اسلام آباد سے کوئی تھا، مجھے دکھ ہوا ،میرے بھی بچے ہیں، حریم شاہ کے باپ کا میسج آیا، اسکے باپ نے مجھے میسج دلوایا، پھر اسکے باپ کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ رو رہا تھا، اسکے بعد میں نے کوئی بات نہیں کی حالانکہ مختلف ویڈیوز انکی آتی رہیں، بعد میں پتہ چلا کہ کئی وزیروں کے انکے ساتھ گہرے روابط ہیں، پوری دنیا میں ٹریولنگ، ٹک ٹاکس، رقم سامنے پڑی ہے ایف آئی اے کو دھمکیاں پھر مذاق کہہ دینا، یہ سب آپ کے سامنے ہے، یہ نیکسیس کرپشن کا ہے، جو انکی کرپشن کو بے نقاب کرے اسکو کسی نہ کسی طرح بے نقاب کرو، کوئی حریم یا خٹک، چوہان ، انکو چھوڑا ہوتا ہے کہ وہ آ کر گالم گلوچ کرتے ہیں، ہر آدمی کہتا ہے پھر کہ اپنی عزت بچاو اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ، میں چپ نہین بیٹھوں گا میں نے عمران خان کو یہ بات کہی تھی کہ اگر اس نے خود یا اسکی پارٹی نے کرپشن کی تو میرا کام ہے اسکو دینا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ منسٹر نہیں بنایا تو اسلئے اب میں پی ٹی آئی کے خلاف ہو گیا، وہ سن لیں میں تو پی ٹی آئی کا ڈونر تھا، میں تو ڈونیشن دیتا رہا ہوں، خدا کا خوف کرو، جو اصل لوگ تھے پی ٹی آئی کو انکو وزارت نہین ملی، مجھے تو چاہئے بھی نہیں، میں تو پیسے دیتا تھا، پی ٹی آئی کے وزیروں کو انتخابی مہم میں گاڑیاں اور پٹرول کے پیسے میں دے رہا تھا، تم نے مجھے کیا دینا، اگر کسی کو عزت نہیں دے سکتے تو کم از کم جھوٹ تو نہ بولو، کرپشن بے نقاب کروں گا اور ان سب کے نام سامنے لے کر آؤں گا
سندھ ہائیکورٹ نے مسلسل غیرحاضری پرمتنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایف آئی اے کیخلاف درخواست مسترد کردی ہے
سندھ ہائی کورٹ میں ایف آئی اے کی کارروائی کے خلاف حریم شاہ کی درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے حریم شاہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزارکیوں پیش نہیں ہوئیں تو وکیل نے جواب دیا کہ حریم شاہ عمرے کی ادائیگی کے لئے گئی ہوئی ہیں
حریم شاہ کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ان کے بینک اکاوٹس اورسوشل میڈیا اکاونٹس منجمد کردئیے گئے ہیں ایف آئی اے نے حریم شاہ کی غیرموجودگی میں کارروائی کی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے نے متعدد نوٹس بھیجے مگر حریم شاہ پیش نہیں ہوئیں . سندھ ہائیکورٹ نے مسلسل غیرحاضری پرحریم شاہ کی درخواست مسترد کردی عدالت نے کہا کہ حریم شاہ واپس آئیں تو نئی درخواست دائرکرسکتی ہیں
واضح رہے کہ حریم شاہ کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے نے چند روز قبل حریم شاہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے لیے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائز کو خط لکھے تھے۔
حریم شاہ کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے اکاؤنٹس منجمد ہونے سے متعلق خبروں کا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا ایف آئی اے کو کیا حق ہے کہ میرے ذاتی دستاویزات میڈیا کو دے نی لانڈرنگ سے متعلق ویڈیو مذاق میں بنائی تھی، غلطی تسلیم کرتی ہوں اگر میرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں تو ثبوت بھی دینے ہوں گے پاکستان جا کر ہر ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں میں خطروں کی کھلاڑی ہوں، خائف ہونے والی نہیں ہوں، میری تمام آمدنی قانونی اور میراسارا ریکارڈ شفاف ہے اداروں کا کام ہماری حفاظت کرنا ہے نا کہ تنگ کرنا۔
یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی نے نہیں روکا اور نہ روک سکتا ہے۔ ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون صرف غریب کے لیے ہے ٹک ٹاکر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا بعد ازاں حریم شاہ بھاری رقم کی لندن منتقلی سے ہی مکر گئیں اور کہا کہ میں نے وہ ویڈیو مذاق میں بنائی تھی-
فواد چودھری کی مطیع اللہ جان سے تلخ کلامی،صحافیوں نے کیا میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس اس دوران سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور صحافیوں کے مابین تلخ کلامی ہوئی ہے
پریس کانفرنس کے دوران اسلام آباد سے صحافی مطیع اللہ جان اور فواد چوھدری میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، فواد چوھدری کی پریس کانفرنس کے دوران مطیع اللہ جان نے سوال پوچھا تو فواد چودھری نے جواب دیا کہ تم صحافی ہو ہی نہیں تم صرف ایک یوٹیوبر ہو، کرائے کے صحافی ہو
فواد چودھری کی جانب سے مطیع اللہ جان کے بارے میں سکٹ ریمارکس کے بعد صحافیوں نے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی،صحافیوں کی جانب سے فواد چودھری کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ اگر وہ معذرت کر لیں تو پریس کانفرنس بحال کر دی جائے گی لیکن فواد چودھری نے معذرت نہیں کی جس پر صحافیوں نےمائیک اٹھا لئے اور احتجاج کیا، اس دوران فواد چودھری اور مطیع اللہ جان کے مابین تلخ کلامی میں کافی شدت آئی فواد چودھری مطیع اللہ جان کو جانے کا کہتے رہے لیکن مطیع اللہ جان نہ گئے اور فواد چودھری کو جواب دیتے رہے
سپریم کورٹ کے باہر فواد چودھری کی صحافی مطیع اللہ جان سے تلخ کلامی صحافیوں کا فواد چوہدری سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ فواد چوہدری نے معافی مانگنے سے انکار کردیا، صحافیوں کا بائیکاٹ اور نعرے بازی pic.twitter.com/2cZCaRJbQd
— JOURNALISTS PANEL (@JournlistsPanel) April 6, 2022
اطلاعات کے مطابق فواد چوھدری سے مطیع اللہ جان نے فرح خان کے بارے میں سوال پوچھا تھا جس کا جواب دینے کی بجائے فواد چودھری نے اسے یوٹیوبر کہا اور صحافی تسلیم کرنے سے انکار کیا،
صحافیوں نے فواد چودھری سے معافی منگوانا چاہی لیکن فواد چودھری نے معافی نہیں مانگی
واقعہ پر ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب میدان میں آئیں، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فوادچودھری کی صحافیوں سے متعلق الفاظ کی مذمت کرتی ہوں ان سے سوال پوچھیں توصحافیوں کوگالیاں دیتے ہیں 22کروڑعوام کی نظراس وقت سپریم کورٹ پر ہے، آئین پرحملہ کرنیوالوں کوپتہ ہےان کے دن گنے جا چکے،پورے ملک نے دیکھا کوئی خط تھا ہی نہیں،عمران خان کو7مارچ کوپتہ چلا تو3اپریل تک انتظارکیوں کیا؟ سازش کا پتہ چل گیاتواسپیکرنے 8مارچ کوتحریک کیوں لی
پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا ہوتا ہے سب مجھے پتہ ہے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم عمران خان کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، چند روز قبل پارلیمنٹ لاجز میں انصارالاسلام کے رضاکاروں کی گرفتاریوں پر مولانا فضل الرحمان شدید برہم تھے، مبشر لقمان نے جب مولانا فضل الرحمان سے ان گرفتاریوں بارے سوال کیا تو مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ حکومت جھوٹ بول رہی تھی،مرضا کار پاس لے کر آئے تھے جن کے پاس اجازت نامہ نہیں تھا وہ واپس چلے گئے، ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے،وو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی ،
ترکی میں موجود معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ کی طبیعت ناساز ہوگئی۔
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ٹک ٹاکر نے ایک ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو اپنی طبیعت کی اطلاع دی تاہم ٹک ٹاکر نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کیا ہوا ہے اور وہ کس بیماری میں مبتلا ہیں-
حریم شاہ نے اپنی ویڈیو میں پشاور دھماکے سمیت فرقہ واریت پر بات کی جب کہ ٹک ٹاکر نے فرقہ واریت پھیلانے والوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان دنوں فرقہ واریت میں تقسیم ہوئے لوگوں کی ویڈیوز زیرگردش ہیں جنہیں دیکھ کر خود کو کہنے سے نہیں روک پائی کیوںکہ ایسے لوگ جو خود کو درست اور دوسروں کو غلط قرار دیں انہیں ضرور ان کی اوقات یاد دلانی چاہیے۔
دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں حریم شاہ کے کیس سے متعلق سماعت ہوئی جس میں ان کے وکیل نے عدالت میں ان کی رپورٹ پیش کی تھی جو ترک میں زبان تھی ٹک ٹاکر کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکلہ ترکی میں بیمار ہیں –
جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ انہیں کیا بیمار ی لاحق ہے اور کس چیز کا علاج کرارہی ہیں؟ اس پر حریم کے وکیل نے بتایا کہ حریم شاہ ترکی میں لیو اسکوپی کا علاج کرارہی ہیں، ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ماضی میں ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ سے کی گئی ملاقات اتفاقی تھی اور وہ انہیں پہلے سے نہیں جانتے تھے۔
باغی ٹی وی : ایک معروف ویب شو’ٹو بی آنیسٹ‘ میں ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ سے کی گئی ملاقات اتفاقی تھی اور وہ انہیں پہلے سے نہیں جانتے تھے وہ ایک سماجی تقریب میں گئے تھے، جہاں انہیں بتایا گیا کہ تقریب کی ایک کارکن ان سے ملنا چاہتی ہیں جو کہ ان کی فین ہیں۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے سے حریم شاہ کی ٹک ٹاک ویڈیوز نہیں دیکھی تھیں اور وہ انہیں نہیں جانتے تھے اور ان کے اصرار پر ہی انہوں نے ان کے ساتھ تصاویر بنوائی تھیں۔
زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے فاروق ستار نے بتایا کہ جب وہ سندھ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب لڑکیاں انہیں تنگ کرتی تھیں اور ان سے ملاقات کا وقت بھی مانگتی رہتی تھیں مگر ان کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔
ان کے مطابق وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ہاؤس جاب کرنے لگے، تب ہی انہیں لوکل الیکشن میں کھڑا کیا گیا اور وہ کونسلر بنے، بعد ازاں وہ جلد ہی 28 سال کی عمر میں کراچی کے میئر منتخب ہوئےمیئر بننے کے بعد کراچی کے کچھ ہسپتال ان کے ماتحت ہوگئے تھے،جن میں ان کی کلاس فیلو لڑکیاں بھی ملازمت کرتی تھیں اور وہ وہی لڑکیاں تھیں جو انہیں یونیورسٹی میں تنگ کرتی تھیں۔
فاروق ستار نے بتایا کہ یونیورسٹی میں تنگ کرنے والی لڑکیوں سے متعلق انہوں نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا لیکن جب تک وہ میئر بنے تب تک وہ لڑکیاں مائیں بن چکی تھیں اور وہ ان کے بچوں کو دیکھ کر خاموش رہ گئے اور ان کے ارمان دل کے دل میں ہی رہے۔
ٹک ٹاکر حریم شاہ کے شوہر بلال شاہ نے پولیس کی جانب سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے-
باغی ٹی وی : ٹک ٹاکر حریم شاہ کے شوہر بلال شاہ نے نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا اس وقت پولیس سمیت کسی سرکاری محکمے سے تعلق نہیں ہے شوق کے لیے پولیس میں بھرتی ہو گیا تھا لیکن جاتا نہیں تھا ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی نوکریاں پیسے دے کر خریدی جاسکتی ہیں لیکن میں میرٹ پر بھرتی ہوا تھا-
بلال شاہ نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی بلاول ہاؤس میں نوکری نہیں کی اور میرے پاس ویگو نہیں، اس سے بہت اچھی اچھی گاڑیاں ہیں، کرائے کے گھر پر نہیں رہتا بلکہ گھروں کو کرائے پر دیا ہوا ہے۔
ذریعہ معاش سے متعلق سوال کے جواب پر بلال شاہ کا کہنا تھا کہ جم انسٹرکٹر ہوں، ڈیفنس میں اپنا جم ہے، جو 3 سال سے چلا رہا ہوں اور یہی ذریعہ معاش ہے، حکومتِ پاکستان کو ٹیکس دیتا ہوں لیکن یاد نہیں کتنا ٹیکس دیتا ہوں۔
حریم شاہ سے شادی سے متعلق سوال پر بلال شاہ کا کہنا تھا کہ حریم شاہ سے 4 ماہ قبل شادی ہوئی، تاریخ یاد نہیں بلال شاہ کا کہنا تھا کہ بھائی حاضر سروس پولیس اہلکار ہے، گرفتاری سے متعلق معلوم نہیں اور یہ جھوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حریم شاہ سے شادی اور سندھ ہائی کورٹ سے ایف آئی اے کے خلاف اپنی بیوی کے لیے حکمِ امتناع لینے کے بعد میرے خلاف انتقامی کارروائی شروع کی گئی اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے، رپورٹ بنانے اور بنوانے والوں کے خلاف قانونی جنگ لڑوں گا۔
واضح رہے کہ پولیس رپورٹ میں حریم شاہ کے شوہر بلال شاہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہیں سندھ پولیس سے جرائم پیشہ سرگرمیوں پر برطرف کیا گیا ذرائع کے مطابق بلال شاہ پر بھتہ جمع کرنے، منیشات فروشی، مساج سینٹر سے بھتہ وصول کرنے کا الزام ہے ٹک ٹاکر حریم شاہ کے شوہر بلال شاہ سندھ پولیس کے برطرف سپاہی ہیں، بلال شاہ کو جرائم پیشہ سرگرمیوں پر پولیس سے یکم اکتوبر 2021ء کو برطرف کیا گیا تھا اسپیشل برانچ نے اپنی رپورٹ میں بلال شاہ پر منشیات فروشی اور مساج سینٹر سے بھتہ وصول کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق فون لوکیشن اور انٹیلی جنس رپورٹ میں بلال شاہ کا جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا ثابت ہوا ہے 21 ستمبر 2021ء کو ایس ایس پی ہیڈکوارٹر ساؤتھ عرفان زمان نے بلال شاہ کے خلاف انکوائری شروع کی اور انہیں 3 شوکاز نوٹس بھیجے گئے، کسی نوٹس کا جواب نہ دینے پر بلال کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
بلال شاہ قیوم آباد کی کچی آبادی کے رہائشی ہیں، کچھ ماہ قبل ہی انہوں نے ڈیفنس میں رہائش اختیار کی بلال شاہ بطور کانسٹیبل بلاول ہاؤس میں رہے جس پر انہوں نے اپنی تصاویر کئی اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ بنوائیں سپاہی بلال شاہ کے پاس ویگو گاڑی کہاں سے آئی؟ اتنی مہنگی گھڑی اور شاہانہ اخراجات پر پولیس افسران بھی حیران ہیں۔