Baaghi TV

Tag: حسینہ واجد

  • شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر

    شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر

    بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کے الزامات پر انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    یہ درخواست پیر کے روز سابق جوبو دل رہنما مشیر رحمان مامون نے چیف پراسیکیوٹر امین الاسلام کے پاس جمع کروائی ملزمان میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کےسابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شیخ مامون خالد بھی شامل ہیں، تاہم تمام ملزمان کی مکمل فہرست تاحال جاری نہیں کی گئی۔

    درخواست گزار کے مطابق انہیں 23 فروری 2015 کو ڈھاکا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بنکاک جاتے ہوئے مبینہ طور پر سادہ لباس اہلکاروں نے حراست میں لیا، جنہوں نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والا ظاہر کیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں 6 ماہ تک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، جہاں وہ آنکھوں پر پٹی اور ہتھکڑیوں میں رہے۔

    اسحاق ڈار کا پرتگال کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ

    مامون کے مطابق 23 اگست 2015 کو انہیں ڈیٹیکٹو برانچ کے حوالے کیا گیا، جہاں مختصر ریمانڈ کے بعد انہیں ڈھاکا سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا وہ تقریباً 2 سا ل جیل میں رہے اور بعد ازاں ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی ملی-

    نیتن یاہو کا چیف آف اسٹاف عہدے سے مستعفیٰ

  • سابق پولیس سربراہ کاانسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    سابق پولیس سربراہ کاانسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    ڈھاکا:بنگلا دیش کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللہ مامون نے گزشتہ سال ہونے والے مظاہروں کے خلاف کارروائی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف کرلیا ہے،اس کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (آئی سی ٹی) میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق آئی جی پی نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہےمامون جولائی اور اگست 2024 میں ہونے والی بغاوت کے دوران کیے گئے جرائم کے بارے میں اپنی تمام معلومات فراہم کریں گے عدالت نے ان کی حفاظت کے لیے علیحدہ رہائش کی بھی منظوری دے دی ہے۔

    ٹریبونل نے جمعرات کو شیخ حسینہ اور ان کے سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کے خلاف الزامات ختم کرنے کی وکلا کی درخواست مسترد کر دی، دونوں شخصیات پر اس مقدمے میں باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کی گئی ہے حسینہ واجد کے سرکاری وکیل عامر حسین نے کہا کہ مقدمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں کئی قانونی کارروائیاں باقی ہیں۔

    ایئر انڈیا طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے اگست کے دوران شیخ حسینہ حکومت کے خلاف ہونے والے طلبا کے مظاہروں کو کچلنے کی کوششوں میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے آئی سی ٹی اب حسینہ کی معزول حکومت اور ان کی کالعدم جماعت عوامی لیگ سے وابستہ سابق اعلیٰ حکام کے خلاف مقدمات چلا رہی ہے۔

    اس سے قبل 2 جولائی کو شیخ حسینہ کو ایک الگ مقدمے میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فرار وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کے بارے بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھارت میں موجود ہیں استغاثہ کا موقف ہے کہ مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کی تمام تر ذمے داری براہ راست شیخ حسینہ پر عائد ہوتی ہے۔

    وزیراعظم کی آرمی چیف کے صدارتی عزائم کی خبروں کی سختی سے تردید

    واضح رہے کہ 77 سالہ حسینہ واجد مظاہروں کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہوگئی تھیں، جس کے ساتھ ہی ان کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا انہوں نے ڈھاکا واپس آنے کے لیے جاری کیے گئے حوالگی کے حکم کو نظر انداز کیا اور یکم جون سے ان کی غیر حاضری میں مقدمہ چل رہا ہےان پر قتل عام کی روک تھام میں ناکامی، سازش، معاونت، اشتعال اور شریک جرم ہونے سمیت کم از کم پانچ سنگین الزامات عائد ہیں۔

  • مودی اور حسینہ خطے میں بے امنی اور انتشار کا بڑا سبب

    مودی اور حسینہ خطے میں بے امنی اور انتشار کا بڑا سبب

    بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی کٹھ پتلی سابق بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد کا خطے میں بے امنی اور انتشار کے لیے گٹھ جوڑعیاں کر دیا۔

    وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ہم خیال بنگلادیش سے فرار ہوکر بھارت میں پناہ لینے والی سابق وزیراعظم حسینہ واجد ہی خطے میں انتشار کا بڑا سبب ہیں گزشتہ سال بنگلا دیش کے سیاسی بحران میں مودی نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ بنگلا دیش میں امن کے بجا ئے کشیدگی کو ہوا دیتے دکھائی دیے جب کہ مودی کے اس سوچے سمجھے ایجنڈے کو ان کی کٹھ پتلی حسینہ واجد نے سر انجام دیا ۔

    بنگلا دیش کے حالیہ بحران میں مودی کا اشتعال انگیز اور غیر ذمے دارانہ رویہ خطے میں بے امنی پیدا کرنے کی واضح مثال ہے بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مودی اور شیخ حسینہ گٹھ جوڑ پر سخت تنقید کی ہے انہوں نے مودی کی سازشی حکمت عملی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    محمد یونس نے کہا کہ میں نےمودی سے درخواست کی کہ شیخ حسینہ کو بنگلا دیش میں آن لائن نفرت انگیز تقاریر سے روکنے میں مدد کریں مودی نے خاموش تماشائی بنتے ہوئے جواب دیا کہ یہ سوشل میڈیا ہے، ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکتےمودی کا غیر سنجیدہ جواب ایک دھماکا خیز صورتحال سے جان چھڑانے کی کوشش تھی مودی کا رویہ نہ صرف بنگلا دیش بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے بنگلا دیش میں ظلم و ستم کئی مہینوں تک جاری رہا، مگر بھارت خاموش رہا۔

    محمد یونس نے کہا کہ سوشل میڈیا کو بہانہ بنا کر مودی حکومت نے اس انسانی بحران سے آنکھیں چرائیں جب بنگلا دیش ایک مشکل وقت سے گزر رہا تھا، بھارت کی جانب سے کوئی سنجیدہ سفارتی کوشش سامنے نہیں آئی مودی کی انتشاری سوچ اور لاتعلقی جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

  • انسانیت کیخلاف جرائم کا مقدمہ ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    انسانیت کیخلاف جرائم کا مقدمہ ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق حسینہ واجد پر انسانیت کیخلاف جرائم کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ، سابق وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس کو شریک مجرم قرار دیا گیا،بنگلہ دیشی عدالت نے جولائی اور اگست میں ہونے والی ہلاکتوں کے سلسلے میں دائر مقدمے میں حسینہ واجد کو مرکزی منصوبہ ساز اور ذمہ دار قرار دیا۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ واجد حکومت کے خاتمے کے وقت جولائی و اگست 2024 میں تقریباً 1400 بنگلہ دیشی قتل ہوئےقتل کے اس مقدمے میں ڈھاکہ کے سابق پولیس کمشنر حبیب الرحمن بھی شامل ہیں، سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش پانچ اگست 2024 کو عوامی احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ کر بھارت بھاگ گئی تھیں۔

  • شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری

    شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا دوسری بار وارنٹ گرفتار ی جاری کیا دوسرا وارنٹ شیخ حسینہ کے دور حکومت میں جبری گمشدگیوں سے متعلق ہے۔

    چیف پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت نے شیخ حسینہ واجد سمیت 11 افراد کے وارنٹ جاری کیے ہیں، اور یہ جاری کیا گیا ایک اور وارنٹ جبری گمشدگیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر جاری کیا گیا شیخ حسینہ واجد کا دوسرا وارنٹ بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کی جانب سے جاری کیا گیا۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں بس پر فائرنگ، 3 اسرائیلی ہلاک 7 زخمی

    رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی سیکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر 500 سے زائد افراد کو اغوا کیا تھا جن میں سے کچھ کو برسوں سے خفیہ جیلوں میں رکھا گیا،حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد سے متاثرین نے اپنے اوپر جانے والی سختیوں کے دردناک واقعات سنائے۔

    کانگو میں 102 مسلح ڈاکوؤں کو پھانسی دے دی گئی

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد گزشتہ سال شدید عوامی احتجاج کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت چلی گئی تھیں،عدالت کی جانب سے اس سے قبل بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں شیخ حسینہ واجد کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے،سابق وزیراعظم حسینہ واجد اورعوامی لیگ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف قتل، تشدد اور جبری گمشدگی کے 60 سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں باغیوں کا حملہ، 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

  • 2009 میں بنگلہ دیش رائفلز  کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغازکر دیا گیا

    25 سے 26 فروری 2009ء کو بنگلہ دیش رائفلز کی جانب سے ہیڈکوارٹرز پلکھانا میں بغاوت ہوئی،غیر معمولی حالات کے دوران کم از کم 74 افراد کی ہلاکت ہوئی جس میں کئی شہری شامل تھے،ایک رپورٹ کے مطابق حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی،بھارت بنگلہ دیش کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،بغاوت کے بعد مختلف حلقوں نے الزامات عائد کیے کہ شیخ حسینہ اور بھارتی حکام نے سیاسی فائدے کے لیے اس صورتحال کو ترتیب دیا تھا،

    لواحقین کے مطالبے پر بنگلہ دیش نے 2009 کی بغاوت کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں غیر ملکی مداخلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے انصاف اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں،مظاہرین بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے اصل نام کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغاوت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے "بارڈر گارڈ بنگلہ دیش(بی جی بی) رکھا گیا تھا،بھارت کی مداخلت نے بنگلہ دیش میں فوج اور حکومت کے درمیان اختیارات کے توازن کو بدل کر رکھ دیا،حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

  • حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے،انکوائری کمیشن رپورٹ

    حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے،انکوائری کمیشن رپورٹ

    ڈھاکا: بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دور اقتدار میں زیادتی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے پولیس کے خوفناک مسلح یونٹ ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ کو توڑ نے کی سفارش کی ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق حسینہ واجد کی حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، ان میں سینکڑوں سیاسی مخالفین کا ماورائے عدالت قتل اور سینکڑوں کو غیر قانونی طور پر اغوا کرکے غائب کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ نگراں حکومت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق قائم کردہ انکوائری کمیشن نے کہا کہ انہیں ملنے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ حسینہ واجد اور دیگر سابق اعلیٰ حکام جبری گمشدگیوں میں ملوث تھے، جو مبینہ طور پر ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کی جانب سے کی گئی تھیں۔

    حسینہ واجد کے 15 سالہ دور حکومت کے دوران انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے جواب میں امریکا نے 2021 میں اپنے 7 سینئر افسران کے ساتھ آر اے بی نیم فوجی پولیس فورس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

    کمیشن کے ایک رکن نور خان لٹن نے کہا کہ آر اے بی نے کبھی بھی قانون کی پاسداری نہیں کی، ان کی طرف سے کیے جانے والے مظالم میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اغوا جیسے خطرناک جرائم شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 77 سالہ حسینہ واجد 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک انڈیا فرار ہو گئی تھیں، جب ڈھاکہ میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے دوران وزیر اعظم کے محل پر دھاوا بول دیا گیا تھا۔

  • گانے میں حسینہ واجد کا نام آنے پر تقریب منتظمین کے پانچ افراد گرفتار

    گانے میں حسینہ واجد کا نام آنے پر تقریب منتظمین کے پانچ افراد گرفتار

    بنگلہ دیش: ثقافتی تقریب میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے نام کے گانے پر بچوں کا رقص، ڈی سی نے 5 افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا،

    بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے نام کا ایک گانا بجانے کے جرم میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک آئی ٹی پارک کا نام جو حسینہ کے نام پر رکھا گیا تھا، ایک گانے میں ذکر کیا گیا تھا جس پر کچھ بچوں نے ثقافتی پروگرام میں رقص کیا تھا۔یہ پروگرام جیسورجمنازیم میں جیسور میں پانچویں بین الاقوامی اوپن کراٹے مقابلے کی افتتاحی تقریب کے دوران منعقد ہوا۔ جیسور میں خواتین کی ایک تنظیم جیتی سوسائٹی نے اس تقریب کی حمایت کی۔ ایک ثقافتی تنظیم سے وابستہ بچوں نے گانے پر رقص کیا اور اب ایک صحافی سمیت تینوں تنظیموں کے عہدیداروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پانچوں افراد کی شناخت بنگلہ دیش کراٹے آرگنائزیشن جیسور کے صدر ہمایوں کبیر، جنرل سکریٹری رفیق الاسلام، جیتی سوسائٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارچنا بسواس، ثقافتی تنظیم کے جنرل سکریٹری شیکھر جاشور روشن آرا اور روزنامہ سپندن کے فوٹو جرنلسٹ عمران حسن کے طور پر کی گئی ہے۔

    افتتاحی تقریب ہفتہ کو منعقد ہوئی جہاں ثقافتی تنظیم شیکھر جیسور کے کچھ بچوں نے ایک گانے پر رقص کیا جسے جیسور کا تھیم سانگ کہا جاتا ہے۔ اس گانے میں شیخ حسینہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک سمیت جیسور سے متعلق مختلف روایات اور اداروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ نام سن کر وہاں موجود ڈی سی نے انہیں گانا بند کرنے کو کہا۔گانے میں حسینہ کا نام سن کر ڈی سی اظہر الاسلام برہم ہوگئے اور پوچھا کہ گانے میں شیخ حسینہ کا نام کیسے آیا؟ منتظمین نے ڈی سی سے معذرت کی،تاہم انہوں نے کہا کہ واقعہ سے جڑے ہر شخص کو پولیس کی تحویل میں لے کر معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔اسی مناسبت سے ڈی سی کے حکم پر تقریب سے وابستہ پانچوں افراد کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا۔ تاہم بعد میں انہیں ضمانتی مچلکے پر رہا کر دیا گیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ کافی منت سماجت کے بعد ڈی سی نے مقابلے کو آگے جانے کی اجازت دی۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

  • بھارت میں روپوش حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری جاری

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ شیخ کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں

    انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف جولائی اور اگست میں امتیازی سلوک کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔عدالتی کارروائی کے باضابطہ آغاز کے بعد جمعرات کو ٹربیونل نے یہ وارنٹ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ حسینہ کو 18 نومبر تک اس کے سامنے پیش کیا جائے۔عدالت نے عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبیدالقادر اور 44 دیگر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے ہیں،آئی سی ٹی پراسیکیوٹر بی ایم سلطان محمود کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کے سامنے دو درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، پہلی حسینہ کے وارنٹ گرفتاری کے لیے اور دوسری 45 دیگر کے لیے۔ ٹریبونل نے دونوں درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے 18 نومبر تک طلب کر لی ہے۔

    ٹربیونل کی کارروائی 11:30 بجے کے فوراً بعد شروع ہوئی، بینچ کی سربراہی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجمدار نے کی۔قبل ازیں رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ استغاثہ جولائی سے اگست کے عرصے کے دوران ہونے والے مظالم کے سلسلے میں حسینہ سمیت 50 افراد کے وارنٹ گرفتاری طلب کرے گا۔

    حسینہ واجد، ان کی عوامی لیگ پارٹی اور 14 جماعتی اتحاد کے دیگر رہنماؤں، صحافیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف اب تک جبری گمشدگی، قتل اور اجتماعی قتل کی 60 سے زائد شکایات انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل میں دائر کی جا چکی ہیں۔

    اتوار کو ٹریبونل کے چیف پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ تاج الاسلام نے میڈیا کو بتایا کہ جولائی میں ہونے والے اجتماعی قتل کے ملزمان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ اور سفری پابندیاں رواں ہفتے کے اندر طلب کی جائیں گی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ حسینہ سمیت مفرور ملزمان کو واپس لانے کے لیے انٹرپول کی مدد لی جائے گی جو اس وقت بیرون ملک ہیں۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

    5 اگست کی شام، واقعات کے ایک انتہائی ڈرامائی موڑ میں، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، ہندوستان کے شہر دہلی کے قریب ہندن ایئربیس پر اتریں۔ بنگلہ دیشی فضائیہ کے طیارے میں ان کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ بھی تھیں۔اگلے دن، بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر ملکی پارلیمان میں ان کی آمد کا اعلان کیا۔ تاہم، دہلی سے شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کے حوالے سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان حسینہ واجد سے متعلق تمام سوالات سے گریز کر رہے ہیں اور حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔مزید یہ کہ دہلی سے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ آیا اسے سیاسی پناہ دی جائے گی۔سرکاری معلومات کی اس کمی نے حسینہ کے وہاں قیام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر قیاس آرائیوں اور افواہوں کو جنم دیا ہے۔

    ہندوستان میں اترنے کے بعد حسینہ نے اپنی پہلی رات غازی آباد کے ہندن ایئربیس کے وی آئی پی لاؤنج میں گزاری۔ ہندن، بنیادی طور پر ایک فوجی ایئربیس ہے اور وہاں اعلیٰ فوجی حکام کے قیام کے لیے انتظامات ہیں۔ اگلے دن، مبینہ طور پر اسے غازی آباد میں نیم فوجی دستوں کے ایک محفوظ گھر یا گیسٹ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا، جو ریاست اتر پردیش میں ہے۔تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ اسے ایک رات دیر گئے اندھیرے کی آڑ میں ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں سے دہلی کے ایک خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ تقریباً 10-12 دن پہلے، جنوبی دہلی کے باشندوں نے رات گئے ایک ہیلی کاپٹر کو اڑتے دیکھا، ایسے اوقات میں ہیلی کاپٹروں کا دہلی کے اوپر سے پرواز کرنا غیر معمولی بات ہے۔ مشرقی اور جنوبی دہلی کے مختلف حصوں سے کئی مقامی لوگوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا اور کچھ نے سوشل میڈیا پر تصاویر بھی پوسٹ کیں۔اس کے بعد کے واقعات کا تجزیہ کرنے پر ماہرین کو کافی حد تک یقین ہے کہ حسینہ اور ریحانہ کو اسی رات ہیلی کاپٹر کے ذریعے دہلی لایا گیا تھا۔ دہلی کے اندر کئی فوجی ہیلی پیڈ ہیں، اور ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر ان میں سے ایک پر اترا، جہاں سے انہیں کار کے ذریعے قریبی خفیہ مقام پر پہنچایا گیا۔

    شیخ حسینہ کی بیٹی، صائمہ وازد، جسے پوتول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر گزشتہ سال سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے جنوب مشرقی ایشیائی علاقائی ڈائریکٹر کے طور پر اپنے کردار کی وجہ سے دہلی میں مقیم ہیں۔ وہ جنوبی دہلی کے ایک اعلیٰ درجے کے علاقے میں انتہائی محفوظ ماحول میں رہتی ہے۔ تاہم، جب حسینہ 5 اگست کو ہندوستان پہنچی تو صائمہ تھائی لینڈ میں ڈبلیو ایچ او کے مشن پر تھیں لیکن جلد ہی دہلی واپس آگئیں۔حسینہ کی آمد کے ڈھائی دن بعد، صائمہ نے 8 اگست کی صبح ٹویٹ کیا کہ وہ اس بات سے دل شکستہ ہیں کہ وہ "اس مشکل وقت میں” اپنی والدہ سے نہیں مل سکیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود ماں بیٹی کی ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی۔صائمہ کو شاید حسینہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جو کہ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی افسر کے طور پر ہندوستان میں عارضی طور پر پناہ لے رہی تھی۔ اگرچہ حسینہ ان کی والدہ ہیں لیکن صائمہ کی سرکاری حیثیت نے ایسی ملاقات کو سفارتی طور پر حساس بنا دیا۔تاہم 24 گھنٹے کے اندر صائمہ نے ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    دہلی میں کئی سینئر عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ ماں اور بیٹی نے شہر میں کئی بار ذاتی طور پر ملاقات کی تھی، لیکن ان ملاقاتوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر عام نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے صورتحال کو عوام کی نظروں سے دور رکھنے کو ترجیح دی۔ایک ذریعہ نے یہاں تک کہا کہ ماں اور بیٹی دہلی میں ایک ساتھ یا ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہے ہیں، حالانکہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔صائمہ وازد چند روز قبل ڈبلیو ایچ او کے کاروبار کے سلسلے میں مشرقی تیمور روانہ ہوئی تھیں، اس لیے ان کی والدہ سے کوئی بھی ملاقات ان کی روانگی سے قبل ہو سکتی ہے۔

    حسینہ جن حالات میں بھارت پہنچی، اس کے پیش نظر بھارت کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ایسے مہمانوں کو ڈیبریف کرنے کا رواج ہے۔ بنگلہ دیش کے سابق وزیر اعظم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔اس ڈیبریفنگ کا مقصد اس صورتحال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھا کرنا ہے جس کی وجہ سے اسے اپنا ملک چھوڑنا پڑا، اس دوران مختلف افراد یا تنظیموں کے کردار اور اس میں ملوث افراد کے اقدامات یا بیانات۔ اس کا مقصد اسے یہ بتانا بھی ہے کہ ہندوستان اپنے قیام کے دوران اس سے کیا توقعات رکھتا ہے۔یہ ڈیبریفنگ سیشن عام طور پر کئی دنوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حسینہ پہلے بھی اس طرح کے کئی سیشنز سے گزر چکی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ 1959 میں اس خطے سے فرار ہو کر ہندوستان میں داخل ہوئے تو انہوں نے بھی وسیع بحث کے سیشنز سے گزرا۔دلائی لامہ 31 مارچ کو اروناچل پردیش میں توانگ سرحد کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوئے اور پھر میدانی قصبے تیز پور میں اترے۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو سے ملاقات کے لیے دہلی لائے جانے سے پہلے ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے انہیں تین ہفتے تک وہاں ڈیبری کیا۔ تاہم دلائی لامہ کو دہلی کی طرف سے ان کی آمد سے قبل سیاسی پناہ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، یہ وعدہ پورا کیا گیا۔

    اسی طرح، جب ہندوستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کے پائلٹ ابھینندن کو 2019 میں پاکستان میں ایک پاکستانی جنگی طیارے کا تعاقب کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، تو پاکستان کی جانب سے اسے ہندوستان کے حوالے کرنے کے بعد ان کی بھی ہندوستانی فوج کی طرف سے ڈیبرینگ ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں اس طرح کے طریقہ کار معیاری ہوتے ہیں۔

    حسینہ کے معاملے میں غیر معمولی بات یہ ہے کہ ان کے ڈیبریفنگ سیشنز ذاتی طور پر ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے اعزاز، اہمیت اور وقار کو دیکھتے ہوئے، اجیت نے بظاہر یہ ذمہ داری خود لی ہے۔اجیت ڈووال نے بھی حسینہ کا ذاتی طور پر استقبال کیا جب وہ 5 اگست کو ہندن ایئربیس پر پہنچیں۔ اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ شیخ حسینہ گزشتہ چند دنوں میں کئی بار ہندوستان کے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہی ہیں، حالانکہ ان افراد کی صحیح شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

    حسینہ کو تیسرے ملک بھیجنے کی کوشش
    یہ قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں کہ شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کو بڑھایا جا سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی، ہندوستان انہیں کسی تیسرے "دوستانہ” ملک میں بھیجنے کا امکان بھی تلاش کر رہا ہے۔ہندوستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ شیخ حسینہ "عارضی طور پر” ہندوستان میں ہیں، یعنی ہندوستان ان کی آخری منزل نہیں ہے اور وہ محض ہندوستان کے راستے کسی دوسرے ملک کی طرف سفر کر رہی ہیں۔ لیکن ہندوستانی حکومت نے اس بارے میں کوئی ٹائم لائن فراہم نہیں کی ہے کہ وہ کب تک ہندوستان میں رہ سکتی ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہے کہ آیا انہیں سیاسی پناہ دی جائے گی۔شیخ حسینہ جب پہلی بار ہندوستان میں اتریں تو دہلی میں ایک توقع تھی کہ شاید وہ چند گھنٹوں میں برطانیہ روانہ ہو جائیں گی۔ جب یہ عمل نہ ہوا تو دہلی نے دوسرے ممالک تک رسائی شروع کر دی۔یہ معلوم ہوا ہے کہ جن ممالک نے ابتدائی طور پر رابطہ کیا ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چند یورپی ممالک (ممکنہ طور پر فن لینڈ، جمہوریہ چیک اور سلووینیا) شامل تھے۔تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ حسینہ نے ان میں سے کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی۔ تمام بات چیت بھارت نے کی تھی۔ ایک دوسرے ملک کے ساتھ بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی، قطر، جو مشرق وسطیٰ میں ایک انتہائی بااثر اقتصادی طاقت ہے۔اگرچہ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے حوالے سے قطر کے ساتھ "غیر رسمی” بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ پیچیدہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔تاہم، اگر حسینہ کو کسی موزوں تیسرے ملک بھیجنے کی کوشش بالآخر ناکام ہو جاتی ہے، تو بھارت ذہنی طور پر اسے سیاسی پناہ دینے اور ملک میں رہنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ شیخ حسینہ کی دہلی آمد کے تین ہفتے بعد، یہ ہندوستان کے موقف کا نچوڑ ہے۔

  • حسینہ واجدپر قتل کے مزید 5 مقدمات درج

    حسینہ واجدپر قتل کے مزید 5 مقدمات درج

    سابق وزیراعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ، پارٹی کے جنرل سکریٹری عبیدالقادر اور دیگر 339 افراد کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران پانچ افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں قتل کے پانچ الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    متاثرین کے لواحقین نے پیر کو ڈھاکہ کی مختلف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالتوں میں مقدمات درج کرائے تھے۔سیف عرفات شریف کی والدہ مریم نے اپنے بیٹے کے قتل پر شمیم ​​عثمان اور نذر اسلام بابو جیسی اہم شخصیات سمیت 94 افراد پر الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا۔شریف، جو سفر باڑی پولیس اسٹیشن کے سامنے رضاکارانہ طور پر کام کر رہا تھا، کو 14 اگست کو ٹریفک کا انتظام کرتے ہوئے گلے کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔سید الاسلام یاسین کی والدہ شلپی اختر نے شیخ حسینہ، عبیدالقادر اور دیگر 13 افراد کے خلاف اپنے بیٹے کی موت کا مقدمہ درج کرایا، جو اسی مقام پر ہوا تھا۔تحریک کے دوران قتل ہونے والے عبید الاسلام کے رشتہ دار محمد علی نے مقدمہ درج کرایا تھا۔اس کیس میں شیخ حسینہ، عبید القادر اور 58 دیگر نامزد ہیں۔دیگر قابل ذکر ملزمان میں اسد الزمان خان کمال، حسن محمود، رمیش چندر سین دروپدی اگروالا اور ہارون الرشید شامل ہیں۔شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ 4 اگست کو شام 5 بجے کے قریب سفر باڑی میں کجلا پٹرول پمپ کے سامنے عوامی لیگ کے اراکین سمیت 14 پارٹی اتحاد کے رہنماؤں نے بھیڑ پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبیدال کی موت ہو گئی۔رسل کو 5 اگست کو صبح 10:30 بجے کے قریب کجلا فٹ برج کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ان کے بھائی روبیل نے شیخ حسینہ اور عبید القادر سمیت 36 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔دیگر ملزمان میں اسد الزمان خان کمال، مشی الرحمان ملا شاجل، چوہدری عبداللہ المامون اور ہارون الرشید شامل ہیں۔یہ مقدمہ ڈھاکہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ صدام حسین کی عدالت میں دائر کیا گیا، جس نے سفر باڑی پولیس کو شکایت کو بطور ثبوت قبول کرنے کی ہدایت کی۔شوبو کو 19 جولائی کو دھان منڈی تھانے کی روڈ نمبر 3 کے قریب تحریک کے دوران قتل کیا گیا تھا۔ان کی والدہ رینو نے ڈھاکہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ بیگم فرح دیبا چندا کی عدالت میں شیخ حسینہ اور عبیدالقادر سمیت 138 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔عدالت نے پولیس بیورو آف انویسٹی گیشن (پی بی آئی) کو ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس کیس کے قابل ذکر ملزمان میں اسد الزماں خان کمال، عبداللہ المامون، ہارون الرشید، معین الحسین خان اور ڈاکٹر سمنتا لال سین ​​شامل ہیں۔تحریک کے دوران آکسفورڈین لیبارٹری کالج کے ایچ ایس سی کے امیدوار آصف ابن ارمان عیسیٰ کے قتل کی کوشش کے الزام میں شیخ حسینہ اور دیگر 33 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عیسیٰ کے والد ابوذر محمد ارمان علی جیول نے ڈھاکہ کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ افنان سومی کی عدالت میں مقدمہ درج کرایا۔ عدالت نے پی بی آئی کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔اس کیس کے دیگر ملزمان میں عبیدالقادر، اسد الزماں خان کمال، صابر حسین چودھری، چودھری عبداللہ المامون، حبیب الرحمن، ہارون الرشید، بپلاب کمار سرکار شامل ہیں۔ طلبہ تحریک کے دوران عیسیٰ کو 19 جولائی کو رام پورہ تھانہ کے بناسری علاقے میں گولی مار دی گئی تھی۔

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج