Baaghi TV

Tag: حسین ثاقب

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib

  • آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    چھبیس نومبر 1994 کی وہ صبح مجھے اور میرے سرکاری معاصرین کو اب بھی یاد ہوگی جب ایک ناقابل یقین اطلاع ملی کہ ہماری بیچ میٹ پروین شاکر ٹریفک کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ وہ صبح کے وقت دفتر جارہی تھیں۔ گاڑی کے ڈرائیور کے بارے میں بھی اطلاع کچھ اچھی نہیں تھی لیکن پروین کے بارے میں سب لوگ پُرامید تھے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔ زخم جلد مندمل ہوں گے اور وہ اپنی زندگی میں واپس آ جائے گی۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہیں تھے اس لئے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ نہیں مل سکتی تھی۔ بہت سے لوگ ہسپتال میں جمع تھے اور کچھ مجھ جیسے کاہل الوجود دفتر میں بیٹھے فون کر کر کے ادھر ادھر سے خبر حاصل کر رہے تھے۔

    بالآخر خبر آ گئی لیکن یہ وہ خبر نہیں جس کے لئے دعائیں کی جارہی تھیں۔ قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ پروین شاکر اپنی بھری جوانی میں اپنے سول سروس کے کیرئر کے آغاز اور شاعرانہ کیرئر کے عروج پر پہنچ کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کی عمر گو کہ صرف بیالیس برس تھی لیکن وہ اتنی کم عمری میں ناصر کاظمی کی طرح شعر و ادب کی دنیا میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کر چکی تھی جو بہت کم شعراء کو نصیب ہوا۔ شاید کاتبِ تقدیر کی مشیت میں اس کی آمد کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اس شہرت اور مقام و مرتبے کا لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس زمانے کا اسلام آباد ایک خاموش اور پُرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کی المناک موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ اس کے جاننے والوں کو پرسہ دینے لگے۔
    parveen

    وہیں دفتر میں بیٹھے بیٹھے مجھے صرف دس دن پہلے کی بات یاد آ رہی تھی۔ مجھے اسلام آباد میں تعینات ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اور مجھے کسٹمز سروس کے کسی صاحب اختیار کا رابطہ نمبر درکار تھا۔ میں نے اپنے رفیقِ کار سرور زیدی سے کہا کہ کسٹم کے کسی بھی دفتر میں فون کر کے متعلقہ افسر کا فون نمبر پوچھ لیں۔ سرور نے تھوڑی دیر بعد ہی گھبرائے ہوئے لہجے میں بتایا کہ فون کسی میڈم نے براہ راست ہی اٹھا لیا جو آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں اور آپ کو پہلے ہی بتا دوں کہ وہ آپ کا نام سننے کے بعد غصے میں لگتی ہیں۔

    "ثاقب!” فون ملتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی، "اسلام آباد کب آئے؟” مجھے آواز پہچاننے کے لئے ذرا مہلت چاہئے تھی اس لئے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو پھر آواز آئی کہ اب کیا مجھے اپنا تعارف کرانا پڑے گا۔ میں نے ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے فورا” جھوٹ گھڑ کر کہا کہ کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔ میں آواز پہچان گیا تھا کیونکہ یہ سگنیچر ڈانٹ ڈپٹ صرف پروین شاکر کی ہی ہو سکتی تھی۔

    "آتے ہی فون کیوں نہیں کیا؟ ملنے کیوں نہیں آئے؟”

    میں نے فوراً وعدہ کیا کہ جلد حاضر ہوں گا۔ ابھی یہ وعدہ پورا کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ دن آن پہنچا۔ صرف دس دن پہلے کی بات تھی کہ وہ زندہ سلامت نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھی بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور شکوہ شکایت بھی کر رہی تھی۔

    پروین شاکر سول سروس میں ہماری ہمعصر تھی جسے ہماری زبان میں بیچ میٹ کہتے ہیں۔ اس کا ہمعصر ہونا ایک اعزاز تھا۔۔اگرچہ وہ اپنے منفرد شاعرانہ لب و لہجے اور اپنی ناموری کی وجہ سے ہم میں بہت ممتاز حیثیت رکھتی تھی پھر بھی اس کے ساتھ معاصرانہ چشمک اور یکطرفہ ڈانٹ ڈپٹ بھی چلتی رہتی تھی۔

    انہی دنوں اردو کے صاحب اسلوب شاعر جناب محبوب خزاں کراچی سے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے تشریف لاتے۔ اس دن آئے تو نہایت غمزدہ تھے۔ میں اپنے مربی اور مرشد جناب اطہر زیدی صاحب کی خدمت میں حاضر تھا۔ ان کے ساتھ اس المناک سانحہ پر بات ہو رہی تھی کہ خزاں صاحب تشریف لائے اور کہنے لگے کہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کے ساتھ پروین شاکر کی موت کی تعزیت کروں۔ تم مل گئے ہو تو دلی تعزیت قبول کرو۔ آخر بیچ میٹ بھی تو فیملی سے کم نہیں ہوتے۔
    pavren

    اس دن اطہر زیدی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر ہم نے پروین شاکر کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جس میں ہم تینوں ہی شریک تھے۔ محبوب خزاں صاحب نے پروین کی شاعری پر بڑی خوبصورت گفتگو کی۔ اس نے اپنے شعر کے ذریعے معاشرے کے استحصالی رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا تھا۔ اس کی بغاوت میں بھی حسن تھا، شعریت تھی اور صنف نازک کے ان جذبوں کی ترجمانی تھی جو بوجوہ سامنے نہیں لائے جا سکتے۔ محبوب خزاں صاحب نے ایک شعر سنایا جو پروین کے منفرد نسائی لب و لہجے کا عکاس تھا۔

    تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
    الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

    پروین نے 1981 میں مقابلے کا امتحان دیا۔ ذرا اس کے شاعرانہ مرتبے کا تصور کریں کہ اس امتحان کے اردو کے پرچے میں خود اس کی شاعری کے بارے میں بھی سوال پوچھا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف انتیس برس تھی۔ اگلے برس جب نتیجہ سامنے آیا تو اس میں پروین شاکر کی پوزیشن دوسری تھی اور اسے فارن سروس کے لئے چنا گیا تھا۔ ہمارا یہ بیچ سول سروس کی عصری ترتیب میں دسواں کامن کہلاتا ہے۔ میرٹ میں اس سے اگلا نمبر ایک اور لائق فائق خاتون رعنا مسعود کا تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ کورس کے اختتام پر پروین کو بہترین پروبیشنر اور رعنا کو بہترین آل راؤنڈر کا اعزاز ملا۔
    parveen

    اکیڈمی میں پروین شاکر کی وجہ سے ادبی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ وہ خود تو نجی وجوہات کی بناء پر لو پروفائل پر رہنا چاہ رہی تھی لیکن ان سرگرمیوں کے لئے اس کا نام ہی بہت تھا۔ اسی کی وجہ سے ہم نے اکیڈمی میں ایک عظیم الشان مشاعرہ برپا کیا جس کی صدارت احمد ندیم قاسمی صاحب نے کی۔ سید جاوید (شاہ جی) ہمارے بیچ میٹ اور خوبصورت شاعر ہیں۔ وہ اور میں بھاگ دوڑ کرکے شاعروں کو دعوت دینے جاتے۔ پروین کا نام سن کر کسی شاعر نے اپنا روایتی نخرہ نہیں دکھایا اور بغیر کوئی مشکل پیدا کئے مشاعرے میں شرکت کی حامی بھری۔ خیال رہے کہ شعراء کرام کو کسی قسم کا اعزازیہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔ صرف لانے لے جانے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ہر شاعر نے مشاعرے میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا۔ (جاری ہے)

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    hussain saqib

  • علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    پاکستان میں آج کل سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مختلف سیاسی نظریات اور مفادات کے درمیان ایک کشمکش کا ماحول ہے۔ الزامات لگتے ہیں، جوابی الزامات لگتے ہیں، کردارکشی ہوتی ہے اور اب تو کردارکشی کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے آڈیو اور وڈیو بھی تیار کرکے بلیک میلنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس ساری کشمکش میں اتنی گرد اڑائی جاتی ہے کہ لوگوں کے ذہن سے یہ بات یکسر محو ہو جاتی ہے کہ اس ملک خداداد کو قائم کرنے کا مقصد کیا تھا۔

    برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور شاعر، فلاسفر اور وکیل علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ برصغیر سے مغل حکومت کے خاتمے کے بعد اس بات کے واضح اشارے ملنے لگے تھے کہ اگر انگریز ہندوستان سے نکل گئے تو ہندو اپنی اکثریت کے بل پر مسلمانوں کا استحصال کریں گے۔ انیسویں صدی کے لسانی فسادات کے بعد سرسید احمد خان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی تضادات کی وجہ سے دونوں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ بعد کے واقعات نے ان خدشات کی تصدیق کر دی۔

    ہندوؤں نے آل انڈیا کانگریس قائم کی اور اس کا پہلا سربراہ ایک انگریز کو بنایا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کانگریس تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ 1905 کے تقسیم بنگال کے فیصلے کے بعد کانگریس اور قوم پرست ہندوؤں کا ردِعمل واضح طور پر مسلم دشمنی کا مظہر تھا۔ جب مسلمان لیڈروں کو احساس ہوا کہ آل انڈیا کانگریس اصل میں آل ہندو کانگریس ہے تو اس کے جواب میں 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تقسیم بنگال، جو تمدنی اور معاشی طور پر بنگالی مسلمانوں کے لئے فائدہ مند تھی، ہندوؤں کو منظور نہ تھی۔ ان کے شدید ایجی ٹیشن نے انگریزوں کو صرف چھ سال بعد ہی تقسیم بنگال کی تنسیخ پر مجبور کر دیا۔ یہی بات مسلم زعما کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اپنے حقوق کے لئے انہیں اپنے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح، جو کانگریس کے بنیادی رکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے، ہندوؤں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس اتحاد سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے تھے۔

    اس پس منظر میں علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبۂ آلہ آباد میں ہندوستان کی تقسیم کا تصور پیش کیا۔ اس خطبے کا مرکزی نکتہ ہی مسلمانوں کی جداگانہ قومیت اور ان کے لئے متحدہ ہندوستان کے اندر ایک علیحدہ ریاست کا حصول تھا۔ یہ خیال رہے کہ اقبال نے جداگانہ مسلم قومیت کا تصور اس وقت پیش کیا جب پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا نیشن سٹیٹ کے جدید تصور کو اپنا چکی تھی اور ترکی کی عثمانی سلطنت کے حصے بخرے کئے جا چکے تھے۔ کیونکہ اقبال اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے نیشن سٹیٹ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا تھا:

    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

    1930ء کا خطبۂ الہ آباد انگریزی زبان میں ہے اور قدرے طویل ہے کیونکہ اس میں علمی اور نظریاتی مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس خطبے میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پنجاب ،شمال مغربی صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی ریاست میں مدغم کر دیا جائے۔ ان کا ابتدائی تصور "ہندوستان کے اندر مسلم ہندوستان” تھا۔ ان کا خواب یہ تھا کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس کے باہر ایک خود مختار حکومت اور شمالی مغربی متحدہ مسلم ریاست آخر کار مسلمانوں کا مقدر ہے۔ آلہ آباد سے پہلے یہ تجویز نہرو کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی مگر کمیٹی نے اس بنا پر مسترد کر دی کہ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو اتنی وسیع ریاست وجود میں آجائے گی کہ جس کا انتظام مشکل ہوگا۔

    اقبال نے یہ بھی تجویز پیش کی: "جہاں تک رقبہ کا تعلق ہے یہ بات درست ہے لیکن آبادی کے لحاظ سےمجوزہ ریاست بعض موجودہ ہندوستانی صوبوں سے چھوٹی ہو گی۔ انبالہ ڈویژن اور ممکن ہے ایسے اضلاع کو الگ کر دینے سے جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے اس کی وسعت اور بھی کم ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی تعداد میں غلبہ ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی حدود کے اندر یہ متحدہ ریاست غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت پوری قوت سے کر سکے گی-”

    اقبال نے قائد اعظم کو ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے مسلمانوں کی قیادت کے لئے قائل کیا جس کے نتیجے میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ بدقسمتی سے اقبال اور قائد کی وفات کے بعد پاکستان ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے قائد کی وفات کے بعد ان کی گیارہ اگست والی تقریر میں دئے گئے وژن کو مسترد کرنے کے لئے "قرارداد مقاصد” منظور کرائی۔ اقبال اور قائد مسلمانوں کے لئے ایک جمہوری ملک کا تصور رکھتے تھے جس کو مسخ کر کے کبھی سوشلزم کے تجربے کئے گئے کبھی قرون اولیٰ کی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔

    اقبال اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان مسلمانوں کی جمہوری ریاست ہے جس میں دوسری قومیتوں کو نہ صرف برابر کے حقوق حاصل ہوں گے بلکہ مجوزہ مسلم ریاست ہندوستان کے غیرمسلموں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی۔ گیارہ اگست کی تقریر بھی خطبۂ الہ آباد کی روح کے عین مطابق ہے انہوں نے کسی مرحلے پر بھی اسے بادشاہت کے تحت مذہبی ریاست بنانے کی کوشش نہیں کی۔ شاید اسی لئے مولویوں نے اس کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    پاکستان کو خطبۂ الہ آباد اور گیارہ اگست کی روح کے مطابق ڈھالنے کے لئے ضروری ہے کہ رواداری کو فروغ دیا جائے، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز جائے۔ پاکستان ہندوستان کی ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلم اقلیت کے استحصال کو روکنے کے لئے ایک جمہوری ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے مقصد قیام کو بار بار مسخ کیا گیا تاکہ ان طبقات کو پاکستان پر کنٹرول کرنے کا جواز دیا جا سکے جنہوں نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

  • حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    یکم نومبر انیس سو بیس اپنے عہد کے صاحب طرز ادیب، ڈرامہ نگار اور بانی مدیر ماہنامہ "حکایت” جناب عنایت اللہ کا یوم ولادت ہے۔
    یہ 1970 کے عشرے کے اوائل کی بات ہے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو وہ زین کی خاکی پتلون، کاٹن کی سفید بش شرٹ اور چمڑے کے براؤن سینڈل میں ملبوس نیشنل سنٹر لاہور کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے روایتی دھیمے لہجے میں صیہونیت کے مسلم دشمن منصوبے بے نقاب کررہے تھے. یہ یوم القدس سے منسوب کوئی تقریب تھی. جن منصوبوں کا وہ ذکر کر رہے تھے وہ صیہونیت کے بڑوں نے صدیوں پہلے دنیا اور خصوصا” فلسطین اور شرق اوسط پر تسلط قائم کرنے کےلئے پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن کے نام سے تیار کئے تھے.

    اس کے بعد بھی صیہونی اپنے مذموم عزائم پر کاربند رہے اور عنایت اللہ صاحب نے بھی ہار نہیں مانی. انہوں نے اس کے بعد کی ساری زندگی اسلام اور پاکستان کے خلاف ہنود و یہود کی سازشوں بشمول نظریاتی تخریب کاری کو بے نقاب کرتے گذاری. وہ اپنے دور کی ففتھ جنریشن وار اپنے جذبۂ ایمانی کے زور پر تن تنہا لڑ رہے تھے. ان کے ہتھیار ان کی زندگی کی طرح نہایت سادہ تھے، نیوز پرنٹ کاغذ کی سلپیں، ایچ بی کی پنسل، بگلے کا سگریٹ اور دبیز ملائی والی نہایت شیریں چائے کامگ. بعد میں جب بگلے کا سگریٹ نایاب ہوا تو انہوں نے کے-ٹو پینا شروع کردیا اور کچی پنسل کی جگہ بال پوائنٹ نے لے لی.

    میری زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہوں نے مجھے اپنی فرزندی میں قبول کیا. میں ان سے بہت قریب تھا اور اسی وجہ سے میرا ان سے رشتہ بے تکلفی کا بھی تھا، اتنی بے تکلفی کہ میں ان کے سامنے سگریٹ بھی پی لیا کرتا تھا بلکہ بسا اوقات تو ان کے پیکٹ سے دو سگریٹ سلگاتا، ایک اپنے لئے دوسرا ان کے لئے. حالانکہ میرے لئے وہ والد کی جگہ تھے اور میری ہر مشکل میں ان کا ہاتھ میرے کندھے پر ہوتا تھا. میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا. حب الوطنی کا پہلا باقاعدہ درس میں نے ان سے ہی لیا. نہ صرف یہ بلکہ زندگی گذارنے کے اصول اور دوسرے انسانوں کے ساتھ باہمی تعلقات کا ہنر بھی ان سے سیکھا.

    ان کے ناول اور ٹی وی ڈراموں کے بعد ان کی مقبول ترین تصنیف "داستان ایمان فروشوں کی” پانچ جلدوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے التمش کے قلمی نام سے لکھی. اس فلیگ شپ تصنیف کے قلمی مصنف کے اعزاز میں میں نے ان کے نواسے اور اپنے اکلوتے بیٹے کا نام التمش رکھا جو ہو بہو ان کا ہم شکل ہے.

    ان کی تصانیف کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہے جس میں ان کے قلمی نام سے لکھی ہوئی کتابیں بھی شامل ہیں. ان کے بہت کم قارئین کو علم ہے کہ احمد یار خان، صابر حسین راجپوت، میم الف اور محبوب عالم بھی ان کے قلمی نام تھے. انہوں نے تاریخ، تفتیش، شکاریات اور نفسیاتی مسائل کے موضوع پر یکساں مہارت سے لکھا. اس سے پہلے وہ دفاعی موضوعات پر بھی اپنی مہارت کا لوہا منوا چکے تھے.

    ناول کے موضوع کے لئے وہ تاریخ کو خصوصی اہمیت دیتے تھے. ان کا خیال تھا کہ نئی نسل کو مطالعہ تاریخ پر راغب کرنے کے لئے ناول کا میڈیم ازحد ضروری ہے. تاریخی ناول تو اور بھی بہت لکھے گئے لیکن عنایت اللہ کی تصانیف کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے لئے وہ تاریخی واقعات کی صحت پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے. تاریخی واقعات میں جنگوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور وہ ہر جنگ کی پلاننگ اور میدانِ جنگ کی تصویر کشی پورے پیشہ ورانہ انداز میں کرتے تھے. انہوں نے مجھ سے بھی ٹیپو سلطان کے دور پر تاریخی ناول "آستین کے سانپ” لکھوایا اور ٹیپو کے فن حرب کے بیان اور میدان جنگ کی منظر کشی کو باریک بینی سے دیکھا اور حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کروائیں.

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنا پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ایں ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    یہ مبالغہ نہیں حقیقت ہے کہ اپنے ڈائجسٹ ماہنامہ "حکایت” اور اشاعتی ادارے مکتبہ داستان کی تاسیس کے بعد انہوں نے دن میں کم و بیش اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور خاموشی سے اپنے مشن میں لگے رہے. انہیں اور ماہنامہ حکایت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے. میں اسی لئے انہیں حکایت الّلہ کہا کرتا تھا. ان کی وفات کے بعد لکھے گئے میرے پہلے مضمون کا عنوان بھی حکایت الّلہ تھا.

    تقریبا”انتیس سال تک پاکستان دشمنوں سے لڑتے لڑتے وہ سولہ نومبرانیس سو نناوے کو پھیپھڑوں کے سرطان سے زندگی کی بازی ہار گئے.

  • ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    یہ نہیں اسلام کا پیغام، ہم شرمندہ ہیں
    اے نجاشی! لائقِ اکرام، ہم شرمندہ ہیں

    تاجدارِ حبش! فخرِ عیسیٰ و عیسائیت
    خیر خواہِ بانئ اسلام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے دامن میں ملی اسلام کو جائے اماں
    یہ نہیں احسان کا انعام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے ہم مذہب بہت ہیں محترم اپنے لئے
    کیا دیا ہم نے مگر پیغام، ہم شرمندہ ہیں

    درد کا چارہ تھا واجب درد کے ہنگام میں
    ہم ہوئے لیکن سدا ناکام ہم شرمندہ ہیں

    جاں گنوا کر بھی حفاظت چاہئے سب کی مگر
    کر نہ پائے ہم کوئی اقدام، ہم شرمندہ ہیں

    ابنِ مریم بھی رسولِ حق ہیں اپنے دین میں
    کچھ نہیں اس بات میں ابہام، ہم شرمندہ ہیں

    اے خداوندانِ نفرت! اب رہے گا حشر تک
    اپنے سر اس بات کا الزام، ہم شرمندہ ہیں

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

    (عالمی یوم کتاب کے حوالے سے)

    حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں
    کتابیں روشنی ہیں، دوست ہیں اور رہنما بھی ہیں
    کسی منزل پہ جانا ہو
    کسی رستے پہ چلنا ہو
    کتابیں مشعلیں بن کر
    اندھیرے راستوں کو جگمگاتی ہیں
    کتابیں ہاتھ تھامے منزلوں تک لے کے جاتی ہیں
    کتابوں میں دفینے ہیں، جواہر ہیں، خزانے ہیں
    دفینے علم و حکمت کے، جواہر عشق و مستی کے
    خزانے شاعری کے اور ہر اس حسن و خوبی کے
    جنہیں اپنا کے ملتی ہے کچھ ایسی سروری جس سے
    خدا انسان کی تخلیق پہ خود ناز کرتا ہے
    کتابیں جس بھی صورت میں ملیں
    تہذیب کا اک خوبصورت استعارہ ہیں
    نشانِ منزلِ مقصود ہیں اپنی
    سو تم دیکھو اگر کچھ قافلے ایسے
    جو اپنی منزلوں سے دور بھٹکے پھر رہے ہوں
    اور ایسے راستوں پہ گامزن ہوں
    جو فقط تاریکیوں کی سمت جاتے ہیں
    تو ان کا ہاتھ تھامو اور
    ان کا رخ کتابوں کی طرف موڑو
    کتابیں ان کو ان کی منزل مقصود تک پہنچا کے آئیں گی
    قیامت تک رفیقِ خاص بن کر دوستی کا مان رکھیں گی
    کتابیں ساتھ دیتی ہیں