Baaghi TV

Tag: حسین حقانی

  • ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے تحریک انصاف کے اس خیال کو محض خوش گمانی قرار دیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی رہائی میں کسی قسم کا کردار ادا کریں گے۔

    حسین حقانی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان دونوں ہی پاپولسٹ لیڈر ہیں اور اس لئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی ہو گی، لیکن حقیقت میں ایسا کوئی اشارہ ابھی تک نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کوئی اثر انداز ہو گی۔بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین حقانی نے کہا کہ تحریک انصاف کا یہ خیال بھی ہے کہ انہوں نے امریکہ میں مضبوط لابنگ کی ہے اور اس کا اثر عمران خان کی رہائی کے معاملے پر پڑے گا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا تیسرا گمان یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے اور چوتھا یہ کہ صدر ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی موجود ہے۔

    حسین حقانی نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کچھ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی مداخلت یا دباؤ کی کوئی مثال نہیں ملتی، جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت امریکہ نے مخالفت کی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح نواز شریف کی قید کے دوران بھی امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے باوجود انہیں رہائی نہ مل سکی تھی، بلکہ سعودی عرب کی مداخلت پر نواز شریف کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    حسین حقانی نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالنا چاہیں تو ان کے پاس کوئی خاص طریقہ نہیں ہے۔ جمی کارٹر کے دور میں بھی جب انہوں نے بھٹو کی پھانسی کی مخالفت کی تھی، امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی امدادی پیکیج یا پابندیاں نہیں تھیں جن کو وہ منسوخ کر سکتے۔ ان کے مطابق 2007 میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے دوران امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی قوت اس لئے تھی کہ پاکستان کو امریکہ سے سالانہ امداد ملتی تھی جو پاکستان کی معیشت اور مشرف حکومت کے لیے ضروری تھی۔

    حسین حقانی نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کوئی آلہ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ آئی ایم ایف میں امریکہ کے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے خلاف کچھ موقف اختیار کریں، لیکن وہ بھی بعید لگتا ہے کیونکہ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایسا کوئی عنصر نہیں ہے جو عمران خان کی رہائی کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو مؤثر بنائے۔

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • سابق سفیر حسین حقانی کا احتجاج میں ہلاکتوں پر  پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل

    سابق سفیر حسین حقانی کا احتجاج میں ہلاکتوں پر پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل

    کراچی:امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے احتجاج میں ہلاکتوں پر پی ٹی آئی کے جھوٹ پر مبنی دعووں پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ میم بازی، فوٹو سازی، ٹک ٹاک گری – دوسرا دن ہے، دو ٹوک نام، پتہ، شانختی کارڈ نمبر اور تصویر کے ساتھ یہ اپنے مرنے والوں کی کوئی جامع فہرست جاری نہیں کر سکے تو باقی پچیس کروڑ زندوں کو کیسے سنبھالیں گے؟

    جس پر حسین حقانی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سانحہ کارساز 2007 میں پیپلزپارٹی کے 180 افراد خالق حقیقی سے جا ملے تھے،پارٹی لیڈر نے سب کے جنازوں میں شرکت کی اور دو دن میں نام ،شناختی کارڈ اور تصویریں جمع کر لیں،پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت کوئی صوبائی حکومت بھی نا تھی-
    ppp
    واضح رہے کہ آج سے 16 سال قبل 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم سندھ کی بیٹی بےنظیر بھٹو آٹھ سال کی طویل خودساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد جب 18 اکتوبر کو دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر کراچی پہنچیں تو ان کے استقبال کے لیے ملک بھر سے آنے والے لوگوں کا اتنا بڑا جلوس تھا کہ انہیں کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک پہنچنے میں 10 سے زائد گھنٹے لگے۔

    جب ان کا جلوس شاہراہ فیصل پر کارساز پل کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے، جن میں 180 سے زائد لوگ مارے گئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو کراچی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا،شام کے وقت کارساز کے قریب محترمہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک کے انتہائی نزدیک یکے بعد دیگرے دو زور دار دھماکے ہوئےہر طرف لاشیں اور انسانی اعضا بکھر گئے،اٹھارہ اکتوبر2007 کا سانحہ کار ساز اس وقت تک کی سب سے بڑی دہشت گردی تھی جس میں 170 افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت سندھ سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

    حسین حقانی 2008ء سے 2011ء تک امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے،یوسف رضا گیلانی نے انہیں سفیر مقرر کیاسیاسی کردار کا آغاز اسلامی جماعت طلبہ، جامع کراچی، کے صدر کے طور پر کیا بعد میں صحافت سے وابستہ رہے امریکی جامعہ میں استاد بھی رہے 2011 میں ان پر پاکستان کے فوجی سربراہان کے خلاف صدر آصف علی زرداری کی طرف سے امریکی ایڈمرل ملن سے مدد مانگنے کا پیغام بھیجنے کا الزام لگا جس پر ان سے استعفی لے لیا گیا۔

  • عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    عمران خان کا مستقبل مخدوش،بلاول کی شاندار حکمت عملی،بشریٰ عمران کو سرپرائز دیگی؟ حسین حقانی

    پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ عمران خان کا مستقبل مخدوش ہے، بلاول نے شاندار سیاسی حکمت عملی اپنائی،بشریٰ بی بی عمران خان کو سرپرائز دے سکتی ہیں، اس بارے نہیں جانتا،الیکشن کے بعد پاک بھارت تعلقات، تجارت بارے فیصلے کرنے دونوں ممالک کے لئے بہتر ہیں، سائفر کی وجہ سے تعلقات متاثر ہوئے، عمران خان کو اسی وجہ سے سزا ملی،

    باغی ٹی وی کی اینکر یاسمین آفتاب علی کو پروگرام "یاسمین آفتاب علی کے ساتھ” میں دیئے گئے ایک انٹر ویو میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ سائفر کوڈ میں تھا اور اسکا ڈی کوڈد ورجن ساتھ رکھ لیں تو کوڈ کو توڑنا آسان ہوتا ہے،جو اس پورے عرصے میں پاکستان کے سفارتکاروں میں پیغامات آئے کوئی بھی پاکستان کا دشمن یا دوست بھی ڈی کوڈ کر سکتا ہے،جو رازداری ہے وہ راش فاش ہو گیا،یہی وجہ ہے کہ قانونی کاروائی ضروری سمجھی گئی،

    حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو کہ ایک دوسرے کے شہری مارے جائیں ، میرا یہ خیال ہے کہ پاکستا ن میں الیکشن کے بعد پاکستان کی نئی قیادت کوئی ایسا قدم اٹھاتی ہے جس کے نیتجے میں مودی کی حکمت عملی کہ لوگوں کوپاکستان یا مسلمانوں‌کے خلاف غصے میں رکھیں یہ ناکام ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے لئے بھی اچھا ہو گا، بھارت کے ساتھ ہمیں تجارت کے لئے بات چیت کرنی پڑے کیونکہ جو پڑوسی کے ساتھ تجارت نہیں کرتا تو اسکی ایکسپورٹ کبھی زیادہ نہیں ہو پاتیں کیونکہ پڑوسی ملکوں کے درمیان چیزیں بھیجنا اور لانا آسان اور سستا ہوتا ہے، تجارت کھولنے کے لئے بہت بڑے سیاسی فیصلے کرنے ہوں گے،دونوں طرف اس پر بات چیت ہو گی، فیصلے کرنے ہوں گے،

    حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ ہم نے موقع ضائع کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا،حقیقت یہ ہے دنیا تیزی سے بدلتی رہی ہے،لیکن ہم اس طرح بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتے، ہم ہر بات کو نظریاتی کشمکش، نعرہ بنا دیتے ہیں اور اسی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں،ہم دوسرے نعرے کے پیچھے چل پڑتے اور امریکہ سے اس وقت دشمنی کی جس وقت دوستی کا فائدہ ہو سکتا تھا،

    پاکستان کی سیاست پر بات کرتے ہوئے حسین حقانی کا مزید کہنا تھا کہ بہت سارے لوگ جو کہتے ہیں کہ میں اس سے بات نہیں کروں گا وہ بات کرتے نظر آتے ہیں، مجھے تو حیرت نہیں ہو گی کہ عمران خان رہا ہونے کے بعد اس اتحاد کا حصہ بنے ہوں جس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہوں‌جس کو وہ گالیاں دیتے تھے، نتائج وہ ہوں گے جو ووٹر کے ڈبوں سے نکلیں گے،پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم بارے بات کرتے ہوئے حسین حقانی کا کہنا تھاکہ بلاول چار پشتوں سے سیاست میں ہیں، انکی والدہ، انکے نانا وزیراعظم تھے، انکے نانا کے والد بھی وزیراعظم ہی کہلاتے تھے، انکو سیاست ورثے میں ملی، پڑھی بھی ہے وہ پڑھےلکھے بھی ہیں، متوازن آدمی بھی ہیں، انہوں نے شاندار حکمت عملی بنائی کہ اگر وہ اس انتخاب میں لوگوں کا ووٹ تبدیل نہ بھی کر سکے تو اگلے انتخاب تک لوگوں کی سپورٹ مل جائے گی،

    تحریک انصاف کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو غور کرنا چاہے کہ وہ اس مقام پر کیسے پہنچے، لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان بہت مقبول ہیں لیکن صرف مقبولیت سیاست نہیں ہوتی، لیکن لوگوں کو ایک سمجھداری کی حکمت عملی کے ساتھ ایک راستے پر لے جانا ضروری ہوتا ہے ، پی ٹی آئی اس میں ناکام ہوئی، اسکی مشکلات کم نہیں ہوئیں کیا اسٹیبلشمنٹ چاہے گی کہ تیس چالیس آزاد امیدوار نئی پارٹی بنا کر اڈیالہ سے ہدایات لیتے رہیں ایسا نہیں ہو گا، ایک ایسی چیز ہے جو غیر یقینی ہے وہ ممکنہ نتائج ضروری نہیں جو ہم تصور کرتے ہوں.ہ جو سیاسی حالات رہے ہیں پچھلے ڈیڑھ سال میں انکو پڑھنے میں عمران خان سے شدید غلطیاں ہوئیں، انکو افراد کو پڑھنے میں بھی غلطیاں‌ہوئیں، خاور مانیکا نے سرپرائز دیا کیا بشریٰ بی بی بھی کوئی سرپرائز دیں گی، مجھے اس کا علم نہیں نہ ہی جانتا ہوں، ہو یہ نہ ہو ،بشری بی بی کو بنی گالہ سب جیل قرار دے کر بھجوانے کا عمران خان کو سیاسی نقصان ضرور ہو گا، عمران خان کا مستقبل مخدوش نظر آ رہا ہے،

    نوٹ، حسین حقانی کامکمل اور تفصیلی انٹرویو بدھ کو نشر کیا جائے گا

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

  • عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا،حسین حقانی

    عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا،حسین حقانی

    اسلام آباد: سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہےکہ عمران خان پیرانوئڈ ڈ لیوژن کا شکار ہیں جس میں آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہر شخص اس کے خلاف سازش کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کے دوران عمران خان کی طرف سے اپنے خلاف سازش کے الزامات پر حسین حقانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا، امریکا کو یہ بتانے کے لیے کسی حسین حقانی کی ضرورت نہیں کہ عمران خان اینٹی امریکا ہیں جبکہ شیریں مزاری کو تو اپنے گھر کی مکھیوں اور مچھروں میں بھی امریکی سازش نظر آتی ہے۔

    پی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں …

    انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ لو ہی نہیں امریکا میں بہت سے افراد سے میرے اچھے تعلقات ہیں، میرا مؤقف وہی ہے جو میں اپنی تحریروں میں لکھتا ہوں کہ پاکستان میں فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے اگر کوئی مجھے ادائیگی کرتا ہےتومیری ریسرچ اور میرے مؤقف کے لیے کرتا ہے، میرا موقف بدلنے کے لیے نہیں کرتا۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ حسین حقانی نے میری حکومت گرانے کیلئے امریکا میں لابنگ کی ہے-

    بھارت نے سری نگر میں جی 20 اجلاس طلب کر لیا

  • فواد چودھری کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ حسین حقانی

    فواد چودھری کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ حسین حقانی

    سابق وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے ایک پیغام میں الزامات عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ:‏ ” سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے پاکستان کے معاشی بحران کا حل دیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دینے چاہئیں۔
    سابق وزیر اطلاعات نے مزید دعوی کیا کہ: حسین حقانی کا مشورہ ہے کہ پاکستان ایٹمی اثاثوں سے دستبردار ہو جائے اور ہندوستان اور اسرائیل کے ساتھ برابری کے بجائے ماتحت ریاست کے طور پر تعلقات قائم کرے۔

    فواد چودھری کے مطابق: سابق وزیر اعظم ‏عمران خان اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی کا مقصد پاکستان کے معاشی حالات کو اس قدر خراب کرنا ہے کہ پاکستان کو مستقل طور پر غلام بنایا جاسکے۔

    چودھری نے دعوی کیا کہ: سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ترجمانوں کے مشورے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، لہذا ہم اس مہم کو مسترد کرتے ہیں اور ہر صورت پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کرینگے۔

    سابق سفیر حسین حقانی نے فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کو کہا کہ "کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ اگر آپ دعوی کرتے ہو تو اس کا کچھ ثبوت بھی تو آپ کو دینا چاہئے مثال کے طور پرتمہارے پاس کوئی تحریر، کوئی کہی ہوئی بات یا کوئی خفیہ ٹیپ وغیرہ ہوگی لہذا وہی سنا یا پھردکھا دیں جس میں ہم نے وہ کچھ کہا ہو جس کا ہم سے منسوب کرتے ہوئے جھوٹا دعوی کیا جارہاہے۔


    ایک صارف شکیل احمد کہتے ہیں کہ: کسی کے بارے میں سچ جھوٹ کا محاسبہ کون کرے گا؟ یہاں تو الزامات ایسے لگائے جاتے ہیں جیسے سزا و جزا ہے ہی نہیں۔ ایسا نظام کب لاگو ہوگا جس میں الزامات لگانے والے کو الزامات ثابت نہ کرنے والے پر سزا ہوسکے؟

    صحافی رضی دادا نے حسین حقانی کے ردعمل پر کہا کہ: حد ہے ویسے! آپ فواد چوہدری کو سنجیدہ لیتے ہیں؟ آپ کو چاہئے انہیں اگلی نوکری ڈھونڈنے میں مدد فرمادیں، بےچارے کی بہت بری حالت ہے۔