Baaghi TV

Tag: حفاظتی ضمانت

  • نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے نواز شریف سرنڈر کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی آپ کا اسٹیٹس کیا ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ابھی اشتہاری کا اسٹیٹس ہے، لیکن عدالتی فیصلے موجود ہیں سرنڈر کرنے پر پروٹیکشن دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کس فیصلے کی آپ بات کر رہے ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عاصمہ عالمگیر کا کیس ہے جس میں فیصلہ ہوا تھا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پراسیکیوشن کے بعد حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی پراسیکیوشن کو سن کر حفاظتی ضمانت دی گئی تھی ، میں نے اس ملک کی کسی عدالت کی ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا ،میرے خلاف جتنے کیس بنے میں خود پیش ہوتا رہا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو اس طرح کہہ رہے ہیں کہ terrible کام ہائیکورٹ نے کیا ہے کہ عدم پیروی اپیل خارج کردی ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کب واپس آ رہے ہیں ، اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف واپس آ رہے ہیںَ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب کی طرف سے کوئی ہے؟ نیب پراسیکیوٹر فوری عدالت کے سامنے پیش ہو گئے اور کہا کہ نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو آنے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر پراظہارِ برہمی کیا اور کہا کہ اگر یہی ہدایات ہیں تو اپیلوں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں؟ کل تو آپ کہیں گے اپیلیں ہی کالعدم قرار دے دیں،نیب کو کیا پہلے ہی ہدایات ملی ہوئی ہیں؟یہ کرنا ہے تو پھر چیئرمین نیب سے پوچھیں آج ہی نوازشریف کی سزائیں کالعدم بھی کر دیتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ جب اپیل فکس ہو گی تو اس وقت ہدایات لے کر دلائل دیں گے،

    عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی،عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کر لیا

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم  نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی،نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حفاظتی ضمانت دائر کی درخواست دائر کی گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے کیسز کا سامنا کرنا چاہتے ہوں عدالت پہنچنے کے لیے گرفتاری سے روکا جائے،درخواست پر سماعت کے لیے آج ہی بینچ بنا کر سماعت کرنے کی استدعا کی گئی.درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اسپیشل فلائٹ سے اسلام آباد آرہے ہیں،

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر ہونے کے بعد نیب کےپراسیکیوٹر بھی عدالت پہنچ گئے،نواز شریف کی لیگل ٹیم عدالت پہنچ گئی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے کوئی اعتراض عائد نہیں کیا رجسٹرار آفس نے 3333/2023 اور 3334/2023 نمبر الاٹ کردیا گیا ، نواز شریف کی درخواست پر آج ہی بنچ تشکیل اور سماعت کا امکان ہے

    نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دونوں درخواستیں آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کی دائری برانچ نے نوٹ بنا کر چیف جسٹس کے سیکرٹری کو بھجوا دیا، رجسٹرار آفس کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ” پٹشنر کی جانب سے درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے ”

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے۔اس موقع پر عطا تارڑ نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکارکیا صرف کہا کہ "میں صرف قانونی ذمہ داری پوری کرنے آیا ہوں” اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف نے اسپیشل اٹارنی عطا تارڑ کے ذریعے دونوں درخواستیں دائر کیں عطا تارڑ نے بطور اسپیشل اٹارنی ہائی کورٹ میں بائیو میٹرک کرائی.

    مسلم لیگ ن نے حکمت عملی کے تحت آج درخواست دائر کی ہے اگر عدالت نے پہلے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تو نواز شریف لاہور کی بجائے پہلے اسلام آباد لینڈ کریں گے،اسکے بعد لاہور آئیں گے،

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام آباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • اینٹی کرپشن پنجاب کا چوہدری پرویز الہیٰ کو 6 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ

    اینٹی کرپشن پنجاب کا چوہدری پرویز الہیٰ کو 6 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ

    لاہور: اینٹی کرپشن پنجاب نے ضمانتی دستاویزات وصول ہونے کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ کو 6 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق پرویز الہیٰ کے وکلا کی جانب سے اینٹی کرپشن میں عدالت کی جانب سے ملنے والی ضمانت کے کاغذات جمع کرادیے گئے ہیں جس کی اینٹی کرپشن حکام نے تصدیق کرلی جس کے مطابق عدالت نے پرویز الہیٰ کو 6 مئی تک عبوری ضمانت دی ہے۔ اینٹی کرپشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کاغذات موصول ہونے تک پی ٹی آئی کے صدر کو 6 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا …

    ذرائع نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف اینٹی کرپشن پنجاب میں انویسٹی گیشن قانون کے مطابق جاری رہے گی سابق وزیر اعلی پنجاب کے گھر سے گرفتار ہونیوالے افراد پولیس کی حراست میں ہیں، حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف پولیس اور اینٹی کرپشن ٹیم پر پیٹرول بم پھینکنے اور پتھراؤ کا مقدمہ درج ہے۔

    واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف پولیس آپریشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الہی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں پنجاب حکومت، اینٹی کرپشن اور پولیس کو فریق بنایا گیادرخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز الٰہی کی لاہور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔ ضمانت کے باوجود ظہور الٰہی کے گھر پر آپریشن کیا گیا اور ہراساں کیا گیا۔

    پولیس پرویز الہٰی کو گرفتار کرنے میں ناکام،مخبری کس نے کی؟ چودھری سالک بول پڑے

    درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے چوہدری پرویز الہیٰ کی حفاظتی ضمانت کی معیاد مکمل ہونے تک ان کی گرفتاری روکنے، ظہور الہیٰ روڈ کلئیر کرنے اور پولیس کو ہٹنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی-

    دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شاہ محمود قریشی سے رابطہ کرکے چوہدری پرویز الہیٰ کے گھر پولیس کے حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر دھاوے اور چادر چار دیواری کی پامالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ چوہدری پرویزالٰہی کے گھر پر حملے سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں، یہ کارروائی نگران پنجاب حکومت کی جانب سے کی گئی ہے، تحریک انصاف کے جذبات سے اپنی قیادت کو آگاہ کریں گے، اس سلسلے میں جلد تحریک انصاف سے دوبارہ رابطہ کریں گے۔

    عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور

    جبکہ شاہ محمود قریشی نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر غیرقانونی حملے پر تحریک انصاف اور چوہدری پرویز الٰہی کے خاندان کے جذبات سے آگاہ کیا۔

  • عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے

    عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے

    عمران خان کی اسلام آباد دہشت گردی کےدرج 5 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کی دوبارہ سماعت ہوئی،جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار حسین نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل نے درخواست ضمانت پر دلائل دیئے،وکیل نے کہا کہ عمران خان درخواست ضمانت چاہ رہے ہیں ۔اسلام آباد میں بھی گئے ۔ 18 کو جانے نہیں دیا گیا ،درخواست فائل بھی کی گئی تھی ، ضمانت کی ،عدالت انتظار کرتی رہی ، لیکن عمران خان کو عدالت نہیں جانے دیا گیا ۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے اسلام آباد میں درخواست جمع کروائی ہے ؟ کیا سرکاری وکیل تصدیق کرسکتے ہیں؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں اس کا علم نہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اس پر نمبر لگا تھا ، وکیل نے کہا کہ ضمانت کی درخواستیں اسلام آباد کی عدالت میں اسٹاف کے پاس موجود ہیں ،عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو طلب کر لیا

    وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کی ضمانت کو کنفرم کیا جائے،بنیادی طور پر یہ کیس انسداد دہشت گردی کا بنتا ہے، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ بتائے کیا انکی درخواست ضمانت کینسل کی جا سکتی ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان تو ان کیسز میں ہنگامی حالات کی وجہ سے پیش ہی نہیں ہو سکے،ہم نے اسی بنیاد پر پانچ درخواست ضمانتیں دائر کی ہیں،

    وکیل عمران خان نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر ایک سو سے زائد مقدمات بنا دئیے گئے انسانی بنیادوں پر ایک ساتھ اتنے مقدمات میں ہرعدالت پیش ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس کے باوجود ہم سرجھکائے عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں۔ اگر کہیں جانے میں تاخیر ہوئی تو وہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر ہے ہاٸی کورٹ سے رجوع کرنے کی وجہ مقدمات کی بہتات ہے ،اسلام آباد ہاٸی کورٹ میں پیشی تک حفاظتی ضمانت منظور کی جاٸے ، اسلام آباد ہاٸی کورٹ میں تمام مقدمات میں ایک دن پیشی سے بہت سے مساٸل نہیں ہوں گے ، ہماری ضمانت کی درخواستیں اب بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں موجود ہیں ،درخواستیں وہاں سٹاف کے پاس اب بھی موجود ہیں وکلا کو بھی عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گٸی ،عمران خان کے اوپر 146 مقدمات ہیں 23 مارچ کی چھٹی بھی آ گئی،جو عمران خان کی میریٹ پر رخواست ضمانتیں بنتی ہیں وہ ہی دے دیں اگر آپ ہماری درخواستیں ایکسٹینڈ کر دیں تو یہی ہمارے لیے ریلیف ہو گا،

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کردی ،عدالت نے حکم دیا کہ بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی ،عدالت نے اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت میں ضمانت داٸر ہونے پر بیان حلفی طلب کر لیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بیان حلفی دیں کہ آپ کی ضمانت کی درخواست وہاں زیر التوا ہے ، وکیل عمران خان نے کہا کہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے چالیس منٹ تک اندر جانے کا انتظار کرتے رہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ حلف نامہ دیں کہ آپ کی درخواستیں وہاں پر زیر التواء ہیں،بیان حلفی جمع کروانے تک سماعت ملتوی کر دی گئی

    قبل ازین سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،عمران خان کی جانب سے انکے وکیل نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی جس پر رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا اور کہا کہ ان دو مقدمات میں پہلے ہی ضمانت لی جا چکی ہے عمران خان کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ہم آج ہی اعتراض دور کردیتے ہیں عمران خان نے اسلام آباد کی متعلقہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر دوبارہ حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے، عمران خان کے خلاف تھانہ رمنا اور کھنا میں مقدمات درج ہیں لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو آج تک کی حفاظتی ضمانت دی تھی ، دوبارہ درخواست کی آج سماعت ہونے پر عمران خان آج پھر لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے، حفاظتی ضمانت کی درخواستوں میں پیشی کے لئے عمران خان زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ کے لئے روانہ ہوئے بعد ازاں سخت سیکورٹی میں عمران خان لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، عمران خان کمرہ عدالت میں گئے، وکلاء بھی انکے ہمراہ تھے

    عمران خان کی اسلام آباد دہشت گردی کے درج 5 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی،جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس انوار حسین نے سماعت کی ،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان اسلام آباد پہنچے اور بہت دیر تک عدالت کے باہربانتظار کرتے رہے امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے کمرہ عدالت میں نہیں جانے دیا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج ریگولر ڈویژن بنچ نہیں ہوتا۔ اسلام آباد سے واپسی پر دو مقدمات اور بنا دئیے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ہے کہ دوسری بار حفاظتی ضمانت دی گئی ہو، وکیل عمران خان نے کہا کہ ایک کےبعد ایک مقدمہ بنایا جا رہا ہے اور ہم سر جھکائے ہوئے عدالتوں میں ہیش ہورہے ہیں۔ عدالتی حکم کےباوجود مجھے سکیورٹی نہیں دی گئی ،

    عمران خان روسڑم پر آ گئے، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ سترہ مارچ کو حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد 18مارچ کو اسلام آباد پیش ہوا۔میری زندگی خطرے میں رہی وہاں آنسو گیس چلائی گئی ہتھراو کیا گیا۔ میں بڑی مشکل سے جان بچا کرآیا ہوں۔ وہاں چالیس منٹ تک عدالت کے دروازے پر کھڑا رہا مگر اندر نہیں جانے دیا گیا۔ وہاں سے واپسی پر دو مقدمات بنا دئیے گئے۔ اس دن سے لاہور کی عدالتوں میں ہی پیش ہورہے ہیں۔کبھی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا ہو۔ میری زندگی خطرے میں ڈال دی گئی ہے،

    عدالت نے عمران خان کی درخواستوں پر عائد اعتراض ختم کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے ہائیکورٹ آفس کو پیٹشن کو نمبر لگانے کی ہدایت کردی،عدالت نے سماعت آدھے گھنٹے تک ملتوی کردی عدالت نے رجسٹرار آفس کو حفاظتی ضمانتوں پر نمبر لگاکردرخواستیں دوبارہ پپیش کرنے کی ہدایت کر دی

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی،صحافی نے سوال کیا کہ کیا سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اڑا دے گی؟ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اگر نہیں اڑائے گی تو سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ ایسے تو یہ کبھی کہہ دیں گے کہ پیسے نہیں ہیں ،جنگل کا قانون بنا ہوا ہے ،

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • لاہور ہائیکورٹ عمران خان کے دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض لگا دیا

    لاہور ہائیکورٹ عمران خان کے دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض لگا دیا

    لاہور ہائیکورٹ آفس نے عمران خان کی دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض لگا دیا-

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے عمران خان کی درخواستیں اعتراض لگا کر واپس کردیں-

    مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے ایک اور درخواست دائر

    لاہور ہائی کورٹ آفس نے کہا کہ عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں میں کچھ دستاویزات نہیں لگائی گئیں لاہور ہائی کورٹ آفس کی جانب سے دستاویزات درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ رجسٹرار آفس کے مطابق اسلام آباد کے دو مقدمات میں دیگر ملزمان کی حفاظتی ضمانت کے فیصلے کی کاپی نہیں لگائی گئی،اسلم اقبال اور فرخ حبیب نے حفاظتی ضمانت کروائی تھی،ملزمان کی حفاظتی ضمانت کے فیصلہ کی کاپی عمران خان کے کیسز کے ساتھ لگائی جائے-

    یاد پرے کہ عمران خان نے اسلام آباد تھانہ رمنا میں درج دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے رجوع کیا تھا-

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں عدم پیشی پر سیشن کورٹ اسلام آباد کی ہدایت پر عمران خان کا وارنٹ لےکر ان کی رہائش گاہ زمان پارک پہنچی تھی تاہم عمران خان گرفتار نہ ہوسکے۔

    رانا ثنا اللہ کا وارنٹ گرفتاری کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

    عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس کے علاوہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائی کورٹ پر تحریک انصاف کے دھاوے کے دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائرکی گئی ہیں تاہم درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ آفس نے اعتراض لگادیا ہے۔

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    لاہور: اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت (اے ٹی سی) سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت پر وقفہ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا۔

    خیال رہےکہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جواد عباس نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج سے متعلق کیس میں عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کردی تھی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی تھی-