Baaghi TV

Tag: حل

  • اندھے قتل کا معمہ حل:مفرور ملزم گرفتار

    اندھے قتل کا معمہ حل:مفرور ملزم گرفتار

    کراچی :اندھے قتل کا معمہ حل ملزمہ گرفتار ہوچکی ہے اور ایسے ہی ایک اور واقعہ میں مطلوب مگر مفرور ملزم بھی پولیس نے پکڑلیا ہے

    کراچی سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انوسٹی گیشن پولیس ڈسٹرکٹ کیماڑی نے جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے کاروائیاں جاری رکھی ہیں‌،تفتیشی ٹیم تھانہ ماڑی پور نے اعلیٰ پیشہ ورانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندھے قتل کا معمہ حل کر کے ملزمہ کو گرفتارکر لیا

    پولیس کے مطابق مورخہ 2022-10-16 کو مقتول ذولفقار کسی کے فون آنے پر گھر سے نکلا اور لاپتہ ہوگیا،بعد ازاں ذولفقار کی نعش سینڈزپٹ سے سمندر کی ریت میں دبی ہوئی ملی

    واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 264/2022۔ بجرم دفعہ 302/34 ت پ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا

    تشکیل کردہ تفتیشی ٹیم نے تکنیکی و انٹیلیجنس ذرائع کی مدد سے اندھے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے ملزمہ کلثوم مبارک دختر مبارک حسین کو گرفتارکر لیا،ملزمہ مقتول کی قریبی رشتہ دار ہے جو کہ مقتول کی بھانجی کی بیٹی ہے

    ابتدائی تفتیش میں ملزمہ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے مقتول کو بہانے سے بلوا کر اپنے دوستوں کے ذریعہ قتل کروانے کا انکشاف کیا

    گرفتار ملزمہ سے مزید تفتیش جاری ہے

    دوسری کاروائی میں تفتیشی ٹیم تھانہ مدینہ کالونی نے کاروائی کرتے ہوئے مفرور ملزم کو گرفتارکر لیا،ملزم نثار احمد کے خلاف تھانہ مدینہ کالونی میں مقدمہ الزام نمبر 120/2022 بجرم دفعہ 381A/420/34 ت پ درج تھا

  • مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پائیدارترقیاتی اہداف کاحصول قومی ترجیح ہے، ملک کو اس وقت، موسمیاتی تبدیلیوں، صحت، تعلیم ،معیشت،صنفی عدم مساوات اور سماجی ترقی کے شعبوں میں چیلنجزکا سامناہے ، ان مسائل کے حل کے لئے ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلناہوگا،قومی احتساب اور بہتر طرز حکمرانی تمام عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

    پرویز الہیٰ کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد شجاعت حسین کا بیان بھی آگیا

    ان خیالات کااظہارانہوں نے ایس ڈی جیز کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے 2030 تک کے ایجنڈے کے لئے عزم کا اعادہ کیا۔ 2016 میں متفقہ قرارداد کے ذریعے اپنے قومی ترقی کے ایجنڈے کے طور پر اہداف طے کیے تھے تاہم کووڈ۔19 عالمی معیشت اور ہماری ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

     

    بیلنس کرنے کے نام پر عدالتی فیصلے ہوں گے تو نظام کیسے چلے گا؟عطاء اللہ تارڑ

     

    پائیدار ترقی کے نفاذ کو متاثر کرنے والے کئی عوامل ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، صحت، اقتصادی ترقی، غربت، صنفی عدم مساوات اور سماجی و اقتصادی چیلنجز شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیز کی تکمیل کے لیے کام کرنا اور ایجنڈا 2030 کی دیانتدارانہ عکاسی ضروری ہے۔ 2021 کی پائیدار ترقی کے اہداف کے انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 165 ممالک میں 129 ویں نمبر پر ہے جس کا مجموعی اسکور 58 فیصد ہے، بنیادی طور پر 17 اہداف میں سے ایک پر اس کی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیز کے لیے قومی گورننس تب ہی موثر ہو سکتی ہے جب عالمی گورننس کے مطابق ہم لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

    راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں لاکھوں لوگ بغیر کھانا کھائے سو جاتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنا ہو گا کہ ہمارے بچے ضروری غذائی اجزاء سے محروم نہ رہیں،بچوں کی غذائی اجزاء میں کمی ان کی نشوونما میں براہ راست رکاوٹ بن سکتی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پاکستان میں عوام کو صحت کے شعبے میں مسائل کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں خدمات تک بہت کم رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    بطور قانون ساز یہ ادارہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سب کو یکساں اور معیاری صحت کی خدمات فراہمی کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے۔ قدرتی آفات کے اثرات کے ساتھ ساتھ ان حالات نے ملک میں غذائیت کی کمی کو ایک بہت بڑی تشویش کا باعث بنا دیا ہے، گزشتہ کئی سالوں کے دوران ملک میں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔

    اس شعبے میں موجود چیلنجزکا اب تک ازالہ نہیں کیاجاسکا۔ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے معیشت، صحت، تعلیم، مساوات اور سماجی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہواہے، ہمیں مل کر آج اپنے ماحول کی حفاظت کا عہد کرنا ہو گا اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر کل چھوڑنا ہو گا۔

    انہوں نے کہاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اولین ترجیح ہے، آب و ہوا کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ڈی جیزکے حصول کے لئے ایک قومی بجٹ مختص کر کے تمام 17 اہداف کو قابل حصول بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی احتساب اور بہتر طرز حکمرانی تمام عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

  • چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتاہوں،جس تعداد میں خواتین اور نوجوان نکلے میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،خواتین کو بھی ضمنی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارکباد دیتاہوں،یہ آج میرے اور ملک کے لیے ایک اچھی بات ہے،کبھی بھی قوم نظریے کے بغیر نہیں بنتی،ایک بیرونی سازش کے تحت ہم پر امپورٹڈ حکو مت مسلط کی گئی،ہم کسی اور کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہیں.

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آج ہم ایک قوم بننے جارہے ہیں،جب ہم ایک قوم بنیں گے تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے،قوم نے بتا دیا کہ ہم کسی اور کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہیں،میں پہلی بار اس قوم میں بیداری دیکھ رہا ہوں ،اشرافیہ نے لندن میں جائیداد خریدی ہوئی ہے،ملک سے محبت کرنے والے سیاستدان علاج،شاپنگ اور عید بیرون ملک کرتےہیں،ایک سیاسی بحران پیدا کیا گیا،کورونا کے باوجود ہم نے ریکارڈ روزگار دیا تھا،ہمارے دور کے آخری2 سالوں میں ملک کی گروتھ اور ایکسپورٹ بڑھی تھیں،زراعت بھی صحیح راستے پر تھی.

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ کسانوں کو ہم نے پیسے دلوائے،ہمارے دور میں سب سے زیادہ ملک میں ڈالرز آرہے تھے،دوسالوں میں 75فیصد ہماری ایکسپورٹس بڑھی تھیں،دوسالوں میں 75فیصد ہماری ایکسپورٹس بڑھی تھیں،سازش کر کے ہماری حکومت گرائی گئی،ہم گھر بنانے کیلئے سود کے بغیر قرضے دے رہے تھے ،آتے ہی انہوں نے اپنے کرپشن کیسز معاف کروائے،ہماری حکومت کے دورمیں مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیاگیا،آج جو معاشی بحران ہے اس کی وجہ سیاسی بحران ہے جوانہوں نے پیدا کیا،تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں،پاکستان میں بحران کا واحد حل فی الفور شفاف انتخابات کرانا ہے.

    چیف الیکشن کمشنر میں اہلیت نہیں ،انہوں نے ن لیگ کو جتوانے کیلئے پوری کوشش کی ،کھلے عام پیسے دیتے ہوئے تصویریں آئیں،الیکشن کمیشن کے تمام فیصلے تحریک انصاف کیخلاف آتے تھے،قوم اپنی آزادی کے لئے باہر نکلی ہے الیکشن کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں ہے ،عوام کو فیصلہ کرنے دیں شفاف الیکشن اس الیکشن کمیشن کے زیر انتظام نہیں ہو سکتے ،الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں، ہمیں اس پر اعتماد نہیں ہے.

    عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے ضمنی الیکشن کے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم کو ضمنی الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی.اجلاس میں ضمنی الیکشن میں کی جانیوالی دھاندلی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا.

    میڈیا کی آزادی سے متعلق عمران خان کے بیان کو پی ایف یو جے نے حقائق کے منافی قرار دے دیا

    عمران خان نے کہا کہ قوم جاگ اٹھی ہے،پوری ٹیم نے پنجاب الیکشن میں بھرپور محنت کی، پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے، نوجوانوں نے دھاندلی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ عوام نے پہلے کی طرح اب بھی ان چوروں کو مسترد کردیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کا جواب عوام نے اپنے ووٹوں سے دیا ہے۔ضمنی الیکشن کے نتائج نے امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر دیا،

    لانگ مارچ، جلاؤ گھیراؤ کیس: عمران خان کی 5 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظورhttps://login.baaghitv.com/torr-phorr-case-ik-ki-5-cases-me-zamanat-qabl-az-girftari-manzur/

     

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی اپنا بیانیہ جارحانہ انداز سے جاری رکھے گی.اجلاس میں پولیس کی جانب سے پی تی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مزمت کی گئی.

  • پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    پاکستان کی معاشی مشکلات اور غیر معمولی حل

    بیرونی جبر سے ریاست کی نظریاتی اور سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کووِڈ-19 کے انتہائی سنگین حالات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی تعزیرات کے گھمبیر خطرے کے درمیان ملک کے معاشی بحران کو حل کرنے میں مسلسل بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مستقل ادارہ جاتی ناکامی۔ فوج قومی سلامتی کے سوچنے والے آلات کے طور پر تیار ہوئی ہے اور اس نے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیتیں تیار کی ہیں۔

    اگرچہ جنگ بندی اور فوجی حکمت عملی اس کی بنیادی بنیاد بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تنظیمی صلاحیت اور چستی نے اسے مسئلہ حل کرنے والی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی قیادت کی طرف سے ظاہر کی گئی نااہلی اور صلاحیت کی کمی نے فوج پر سول کام کے شعبے میں شامل ہونے کا بوجھ ڈالا ہے، خاص طور پر بحرانوں کے دوران۔ وبائی مرض کے دوران، جب کہ پوری دنیا بحرانوں کی زد میں تھی، پاکستان کی فوج نے حکمت عملی کی قیادت کی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) کے ایک نئے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنایا۔ فوج کی تنظیمی اور انتظامی مہارت کو اچھی طرح استعمال کیا گیا، اور ایک جدید ترین فوری لیکن پائیدار حل سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف غریبوں میں خوراک اور طبی آلات کی تقسیم میں حصہ ڈالا بلکہ CoVID-19 کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم بھی چلائی۔

    اس طرح کی موثر اور ہم آہنگی کی کوششوں کی بدولت پاکستان نے نہ صرف کووِڈ 19 کے بعد کی صورتحال سے بہت مؤثر طریقے سے نمٹا ہے بلکہ ایک آنے والے معاشی المیے کو بھی ٹال دیا ہے۔اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ NCOC کے پاکستان ماڈل کا بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گہرائی سے مطالعہ اور تعریف کی گئی۔ بل گیٹس نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایسی اہم کوشش پر NCOC کو سراہا۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر (NLCC) بنا کر ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے دوران اسی طرح کی حکمت عملی کو حرکت میں لایا گیا اور بڑی کوششوں کے بعد خطرہ ٹل گیا۔1993 میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے سونا اور تانبا نکالنے کے لیے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جسے ریکوڈک معاہدہ کہا جاتا ہے۔

    بعد ازاں، یہ ثابت ہوا کہ کینیڈین کمپنی کے ساتھ معاہدہ قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس دوران کمپنی نے پاکستان کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل پر مسئلہ کو انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) کو بھیج دیا اور پاکستان کے خلاف 11.5 بلین ڈالر جرمانے کا مطالبہ کیا۔اتنی بڑی رقم پہلے سے نقدی کی کمی کا شکار پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ ایک عام علم ہے کہ فوج نقصان کو سنبھالنے اور کم کرنے کے لیے اوور ڈرائیو میں گئی۔

    سخت کوششوں کے بعد نہ صرف خطرہ ٹل گیا بلکہ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہوئے۔ پاکستان نہ صرف 11.5 بلین ڈالر کا جرمانہ معاف کروانے میں کامیاب ہوا بلکہ اسی کمپنی کو بلوچستان میں تقریباً 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی آمادہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے بلوچستان کے لوگوں کو روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع میسر آئیں گے۔ 2008 میں، پی پی پی کی حکومت نے کارکی کراڈینیز الیکٹرک یوریٹین (KKEU) کو رینٹل پاور پروجیکٹ سے نوازا تھا۔ لیکن یہ 231 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہا جیسا کہ معاہدے کے تحت درکار تھا، حالانکہ کمپنی کو صلاحیت کے چارجز کے طور پر 9 ملین ڈالر پیشگی ادا کیے گئے تھے۔

    2013 میں، KKEU نے تقریباً 16 ماہ تک کراچی بندرگاہ کو چھوڑنے کی اجازت نہ دیے جانے کی وجہ سے اپنے جہازوں کو ہونے والے نقصانات یا قدر میں کمی کی مد میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مانگتے ہوئے ICSID کو منتقل کیا۔ ترکی کی کمپنی نے بعد میں 2017 میں مقدمہ جیت لیا اور پاکستان پر 1.2 بلین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ شکر ہے، 2019 میں، ریاستی اداروں نے فوج کی سفارتی حکمت کے ذریعے تنازعہ کو حل کیا اور جرمانے میں 1.2 بلین ڈالر کی بچت کی۔چمالنگ کول مائنز کی ملکیت کا تنازعہ بھی پاک فوج کی ثالثی سے حل ہو گیا جس کی مالیت 12 ارب ڈالر ہے۔

    جنوری 2006 میں، کوئٹہ میں قائم 41 ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے متحارب فریقوں کو اکٹھا کرکے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ایک پہل شروع کی۔ میرس، لونس اور ٹھیکیداروں کو فوج کی ثالثی پر مکمل اعتماد کرنا تھا۔ جب سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، 1.5 ملین ٹن کوئلے کی کھدائی ہو چکی ہے جس سے پاکستان کو 37 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ 2007 تک، کانوں نے بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے لوگوں کے لیے 55,000 ملازمتیں پیدا کیں۔پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی بھی CPEC کے تقریباً 62 بلین ڈالر کے منصوبوں کو ہموار چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔

    فوجی اہلکار اس منصوبے کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوریڈور کو حکومت کے منصوبے کے مطابق تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فلیگ شپ پروجیکٹ کے تحفظ اور حفاظت کے لیے ایک اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا گیا ہے۔ فوجی انجینئر اس راہداری کے حصوں کی تعمیر میں مصروف ہیں، جہاں سڑک موجود نہیں ہے اور فوج نے اس کی حفاظت کی پوری ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔اس کے علاوہ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) پہلے ہی CPEC کے مغربی روٹ کے حصے کے طور پر بلوچستان میں 870 کلومیٹر کے روڈ نیٹ ورک میں سے 556 کلومیٹر مکمل کر چکی ہے۔

    بلوچستان کے پراجیکٹس پر FWO کے 12 یونٹ بھی تعینات کیے گئے تھے اور FWO علاقے کی تنہائی اور ناہمواری کے حالات کے پیش نظر لاجسٹک خدشات کے باوجود مشکل لیکن چیلنجنگ کام کو بروقت مکمل کرنے کے لیے ناقابل تسخیر ہے۔

    پاکستانی فوج طویل عرصے سے قومی تعمیر کے کاموں میں شامل رہی ہے جس میں شاہراہ قراقرم جیسی سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ ڈیموں کی مرمت؛ آبپاشی کی نہروں کی صفائی؛ مردم شماری کا انعقاد؛ اور انتخابات کا انعقاد۔ اس کے علاوہ، فوجی سفارت کاری اور اس کی مذاکراتی صلاحیتوں نے متعدد مواقع پر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کی تنظیمی طاقت، اس کی چستی اور اس کے محنتی دفتری کیڈر نے اسے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ قومی سطح کی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کی ہے۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے، پاکستان کی فوج حکومت پاکستان کی مدد کرنے پر فخر کرتی ہے۔ اور مشکلات سے قطع نظر، اس نے ایک بہتر پاکستان کی تعمیر کے لیے بہت سے اسٹریٹجک چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔

  • سیاسی تنازع کے حل کیلئے سیاستدان باکسر بن گئے

    سیاسی تنازع کے حل کیلئے سیاستدان باکسر بن گئے

    برازیلیا: برازیل کے 2سیاستدان سیاسی تنازع حل کرنے کے لئے سیاسی مذاکرات کی بجائے باکسنگ رنگ میں پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین” کے مطابق برازیل کے شہربوربا میں واٹرپارک کوقائم رکھنے یا ختم کرنے کا تنازع حل کرنے کے لئے بوربا کے مئیراوران کے حریف سابق کونسلرباکسنگ رنگ میں پہنچ گئے۔

    عوام پر 11 روز کے لئے ہنسنے،تفریح کرنے اورگھرکا سودا خریدنے پرپابندی


    ماناؤس سے 90 میل جنوب میں واقع ایک قصبے بوربا کے میئر Simão Peixoto کوستمبرمیں ایک سابق کونسلر Erineu da Silva نےعوامی طورپرواٹرپارک کے معاملے پرتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے باکسنگ کا چیلنج دیا تھا۔ پیکسوٹو نے ایک آن لائن ویڈیو شائع کرتے ہوئے اس چیلنج کو قبول کیا جس میں اس نے اپنی مٹھی سے اپنی ہتھیلی کو مار کر اپنے مخالف کو مارنے کی تیاری کا اشارہ کیا۔

    "میں اسٹریٹ فائٹر نہیں ہوں، میں بوربا کی میونسپلٹی کا میئر ہوں،” سیاستدان نے نومبر کے شروع میں اپنے آفیشل فیس بک پیج پر کہا اگر وہ واقعی لڑنا چاہتا ہم لڑنے کے لیے تیار ہیں میں ہمیشہ سے فاتح رہا ہوں۔”

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    تاہم مقامی اسکول کے جمنازیم میں ہونے والی فائٹ کو 100ڈالر کا ٹکٹ خرید کرسیکڑوں افراد نے دیکھا باکسنگ کے مقابلے میں 39سال کے مئیر نے اپنے حریف سینئرسیاستدان کوہرا دیا-

  • وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی

    وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی

    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان/یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پیغام.آجکا دن اپنے ہی گھروں میں محبوس کشمیری عوام کے ساتھ تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ 73 سال سے کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کی تاریک رات اب ختم ہونے کو ہے۔
    آج پوری دنیا بھارت کے غاصبانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ کشمیر میں لگائی گئی آگ اب بھارت کے اندر تک پہنچ چکی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی ہے۔
    وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی امور اپنی مرضی سے سر انجام دیں گے۔ فیاض الحسن بہ تسلیمات نظامت اعلٰی تعلقات عامہ، حکومت۔
    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان/یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پیغام
    آجکا دن اپنے ہی گھروں میں محبوس کشمیری عوام کے ساتھ تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ 73 سال سے کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کی تاریک رات اب ختم ہونے کو ہے۔ آج پوری دنیا بھارت کے غاصبانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ کشمیر میں لگائی گئی آگ اب بھارت کے اندر تک پہنچ چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی امور اپنی مرضی سے سر انجام دیں گے۔ فیاض الحسن چوہان

  • پی ٹی آئی نمائندوں نے نکالا سیوریج کا حل

    پی ٹی آئی نمائندوں نے نکالا سیوریج کا حل

    قصور
    الہ آباد میں سیوریج سسٹم بار بار بند ہونے کی وجہ سامنے آگئی
    الہ آباد میں پی ٹی آئی کی مقامی باڈی کے نمائندوں نے حلف اٹھانے کے بعد عوامی مسئلے کو حل کرنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے گئے تاکہ اصل رکاوٹ کہا ہے پتہ چل سکے پانچ چھ سالوں سے سیوریج کے بار بار بند ہونے سے عوام پریشان ہے
    پی ٹی آئی کے نمائندوں جاوید اقبال ،چوہدری مشتاق احمد ،جاوید برکی،میاں اصغر علی، مہر وسیم یحٰیی چوہدری الطاف حسین،سمیرالحادی اور حاجی اسماعیل نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر اور ڈاکٹر عظیم الدین زاہد لکھوی کو ڈسپوزل گلشن اقبال کالونی کا وزٹ کروایا تو ایک ٹیکنیکل پوائنٹ سامنے آیا جس کی وجہ سے سیوریج کے بار بار بند ہونے کی وجہ سامنے آ گئی
    جب پانی سے زیر زمین کنویں بھر جاتے تھے تو پانی باہر نکلنے کیلئے پائپ لائن ڈالی گئی تھی کہ بجلی بند ہونے کی صورت میں یا پانی زائد ہوجانے کی صورت میں پانی باہر نکل سکے مگر ذمہ داروں نے وہ پائپ لائن بند کی ہوئی تھی اس لیے کہ پانی جمع کر کے فروخت کیا جاتا تھا اور کنویں میں پانی جمع ہونے کی صورت میں پانی آگے نہیں نکلتا تھا وہ پانی پیچھے گڑھوں سے باہر نکلنا شروع ہوجاتا تھا ذمہ داران اپنی مرضی سے پانی آگے نکالتے تھے۔کبھی موٹریں خراب ہونے کا بہانا بناتے تو کبھی بجلی بند ہونے کا بہانا لگایا جاتا رہا ۔یہ سب سابقہ سی او میونسپل کمیٹی الہ آباد کی ملی بھگت سے کام چلتا رہا تھا۔ ان کی وجہ سے پانچ چھ سال عوام پریشانی میں مبتلا رہی۔ کتنے گلیاں بازار تباہ و برباد ہوئے کتنے مکانوں کو نقصان پہنچا اور کتنے لوگ مختلف بیماریوں میں متلا ہوئے ان کا کون ذمہ دار ہے۔ جو سیوریج سسٹم کی وجہ سے بازار تباہ ہوئے ہیں ان کا وزٹ کیا جائے۔اور جتنا نقصان ہوا ہے وہ ان سے وصول کیا جائے