Baaghi TV

Tag: حلقہ بندیاں

  • پڑوسی چاند پر پہنچ گیا ، کراچی میں بچے گٹر میں گر کر مر رہے،مصطفیٰ کمال

    پڑوسی چاند پر پہنچ گیا ، کراچی میں بچے گٹر میں گر کر مر رہے،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا چاند پر جا رہی ہے اور کراچی میں آج بھی گٹر کے ڈھکن نہیں ہیں،ملک چلانے والوں کو پہلے ملک بچانا ہے،جو لوگ حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن کا کہہ رہے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے عمران خان عالمی عدالتوں کے لاڈلے ہیں،انتخابات کی گونج سنائی دے رہی ہے، ہم کہتے ہیں الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے،

    مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ 7 اپریل کو سندھ کی آبادی کو گن لیا گیا تھا، کراچی کی آبادی کو ایک کروڑ تیس لاکھ بتایا جا رہا تھا،ہم کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لیے احسن اقبال صاحب کے پاس بھی گئے، 73 لاکھ لوگوں کو گنے بغیر مردم شماری مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی،اگر کسی کو الزام دینا ہے الیکشن میں تاخیری حربے اپنانے کا تو صوبائی حکومت کو دیا جائے، سندھ کے سب سے بڑے شہر میں گٹر کے ڈھکن نہیں ہیں، ایک طرف خبریں چل رہی ہیں کہ پڑوسی ملک چاند پر چلا گیا، ایک اسکرین پر خبر ہے بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا، 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر جعلی الیکشن کروائے گئے کیا ملک ٹھیک ہو گیا، ہمارا مطالبہ ہے نئی حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے،ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ کئی علاقوں میں گنتی ہی نہیں ہوئی

    مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ سندھ میں الیکشن لڑا نہیں جاتا الیکشن خریدا جاتا ہے ،بلدیاتی انتخابات میں ڈاکو آ رہے تھے بیلٹ باکس لیکر آپ سب نے دیکھا پاکستان اب کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ملک چلانے والوں کو اس ملک کو بچانا ہے پاکستان میں بجلی کا بحران پیدا ہو گیا ہے دہشتگردی کے بعد سب سے زیادہ نقصان بجلی کی چوری کا نقصان ہے

    ایم کیو ایم کے رہنما اپنی سیاسی شناخت تبدیل کر سکتے ہیں مگر اعمال نہیں ،وقار مہدی
    جنرل سیکریٹری پیپلزپارٹی سندھ سینیٹر وقار مہدی نے ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم والے پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ‘پاکستان پیپلزپارٹی نے کراچی کے شہریوں کو مگر مچھوں سے نجات دلوائی ہے ‘گٹروں میں ریت کی بوریاں ڈالنے اور ڈھکن چوری کرنے والوں کی سیاست دیوالیہ ہو چکی ‘ ایم کیو ایم کے رہنما اپنی سیاسی شناخت تبدیل کر سکتے ہیں مگر اعمال نہیں ‘ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی ایک کی سکہ کے دو رخ ہیں ‘ کراچی بدل چکا ہے اب ہر ووٹر خود اپنے ہاتھ سے بیلٹ پیپر پر مہر لگائے گا ‘حلقہ بندیاں ہوں یا جو بھی صورتحال ہو شکست ایم کیو ایم کا مقدر ہے۔ پیپلزپارٹی آئندہ عام انتخابات میں کراچی اور حیدرآباد شہر سے بھی تاریخی کامیابی حاصل کرے گی۔الیکشن کمیشن جلد از جلد الیکشن شیڈول کا اعلان کرے۔

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

  • حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

    حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ بندی کی حتمی اشاعت 30 نومبر کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے کہا کہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے گا الیکشن کا انعقاد کرنا ہے اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا جائےگا۔ دوسری جانب یاد رہے کہ اس سے قبل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے پنجاب کی نگراں حکومت کو انتخابی قواعد وضوابط سے متعلق خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابی قوانین نگراں حکومت یا وزیر کو سیاسی سرگرمیوں، جلسوں میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے۔

    نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے خط میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ نگراں حکومت الیکشن عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرے گی اور خط میں کہا گیا تھا کہ نگراں کابینہ ارکان سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن مہم میں شرکت نہیں کرسکتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    علاوہ ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے خط میں لکھا تھا کہ تمام سیاسی فریقین کو برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں، نگراں کابینہ کے کسی وزیر کا قریبی عزیز الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا، خط میں کہا گیا تھا کہ نگراں کابینہ اپنے فرائص آئین وقانون کے مطابق سر انجام دینے کے پابند ہیں، خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن کمیشن سخت اقدامات کرے گا اور خط ہدایت کی گئی تھی کہ محسن نقوی الیکشن کمیشن کی ہدایات تمام کابینہ اراکان تک پہنچا دیں۔

  • نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں-

    باغی ٹی وی: کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا اجلاس کنوینر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدارت میں پاکستان ہاؤس میں ہوااجلاس میں حلقہ بندیوں سمیت عام انتخابات سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے، اراکین رابطہ کمیٹی سے الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے دعوت نامے سے متعلق تجاویز لی گئیں-

    اراکین رابطہ کمیٹی نے کہا کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لئے ضروری ہیں نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں، نئی منصفانہ حلقہ بندیوں کیلئے آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    الیکشن میں تاخیر،جماعت اسلامی کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

    دوسری جانب جماعت اسلامی نے الیکشن میں تاخیر پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا ہے، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے درخواست تیار کرلی ہے، جسٹس ریٹائرڈ غلام محی الدین کے توسط سے سپریم کورٹ میں اگلے ہفتے درخواست دائر کی جائےگی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہےکہ نگران وفاقی حکومت کی جانب سے عام انتخابات میں تاخیر آئین کے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی ہے،اسمبلی تحلیل کے بعد 60 سے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا آئین کے آرٹیکل 224 میں واضح ہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کے نمائندوں اور نگران وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کو بنیاد بنا کر الیکشن میں تاخیر کی جارہی ہے۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کوبحال کر دیا گیا،لیٹر جاری

    درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہےکہ مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس میں دو وزرائےاعلیٰ نےاپنےنگران حکومت کےپہلے دورانیےکو مکمل کیا ہے اب ان حکومتوں کی حیثیت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے عدالت الیکشن کمیشن کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ٹو کے تحت جنرل الیکشن کا اعلامیہ جاری کرنےکا حکم دے اور 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کرنےکے لیے الیکشن کمیشن کو احکامات جاری کرے-

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

  • نئی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست،فریقین سے جواب طلب

    نئی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست،فریقین سے جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ: الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا ،عدالت نے سماعت 6 ستمبر تک ملتوی کردی ،عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے سرکاری وکیل کو عام انتخابات کی تاریخ کی بابت ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کردی ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ چار ماہ کے اندر حلقہ بندیاں ہونا ناممکن ہے، الیکشن کروانے کی آڑ میں تیس ملین لوگوں کو الیکشن سے نکال نہ دیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان نوے روز میں الیکشن کرانے کی تاریخ دینے کا پابند ہے ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں یہی معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے شہری مقسط سلیم کی درخواست پر سماعت کی ،شہری نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں عام انتخابات کی تاریخ کے لیے بھی استدعا کی گی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا،موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی اقدامات کرتے ہوئے مقررہ مدت میں الیکشن نہیں کرائے، نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، عدالت حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک نئی حلقہ بندیوں کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    اسلام آباد: نئی مردم شماری پر الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا-

    باغی ٹی وی: باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آج سے باضابطہ طور پر حلقہ بندیوں کا آغاز کردے گا، اور پہلے مرحلے کے تحت آج سے حلقہ بندیاں کمیٹیوں کی تشکیل ہوگی حلقہ بندیاں کمیٹیوں کی تشکیل آج کے اجلاس میں ہوں گی، کمیٹیاں وفاقی دارلاحکومت اور صوبوں کیلئے قائم ہوں گی ، جو ضلعی نقشہ جات، آبادی سمیت ضروری ڈیٹا حاصل کریں گی۔

    کمیٹیاں31 اگست تک ضلع کی مردم شماری رپورٹ سمیت دیگر معلومات حاصل کرے گی، تیسرے مرحلہ میں حلقہ بندیاں کمیٹی کی چار روزہ ٹرینگ کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا، 8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک ابتدائی حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں گئیں۔

    ایمان مزاری اور علی وزیر کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ

    9 اکتوبر کو ابتدائی حلقہ بندیوں کی تفصیلات شائع کی جائیں گی، جس پر اعتراضات یا تجاویز 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک دائر کرسکیں گے، اور الیکشن کمیشن 10 اکتوبر سے 9 دسمبرتک اعتراضات پر سماعت کرکے فیصلہ کرے گا، جب کہ 14 دسمبر کو حتمی حلقہ بندیوں مکمل ہوں گی۔

    قومی اسمبلی چونکہ اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل تحلیل کر دی گئی ہے لہٰذا آئین کے مطابق انتخابات 90 روز میں ہونا ہیں، تاہم انتخابات حالیہ دنوں منظور کی گئی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ہونے ہیں اس لیے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنی ہوں گی گذشتہ حلقہ بندی شیڈول کے اعلان کے بعد تقریباً چار ماہ میں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کا شیڈول مکمل کیا۔

    دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں …

    انتخابی کمیشن کو اگر نئی حلقہ بندیوں کے لیے چار ماہ درکار ہوں گے تو انتخابات پھر اس سال ہونا ناممکن ہو جائے گا، حلقہ بندیوں کے مکمل ہونے کے بعد انتخابی مہم کے لیے تین ماہ درکار ہوں گے جس کی وجہ سے آئندہ برس مارچ میں عام انتخابات کی توقع کی جاسکتی ہےوفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے منگل کو ایک نجی ٹی وی کو بتایا تھا کہ اگر نئی حلقہ بندیاں ہوئیں تو فروری کے تیسرے ہفتے یا مارچ کے پہلے ہفتے میں انتخابات ہوں گے ان کی رائے کے مطابق آئینی تقاضہ ہے کہ حلقہ بندیاں ہونی چاہئیں۔

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے گرفتار

  • ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،سپریم کورٹ

    ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،سپریم کورٹ

    یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر یونہی فیصلہ دے دیں گے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سندھ کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واضح ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور لوکل انتظامیہ کے اشتراک سے حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں،یہ واضح نہیں کہ جن عوامل کو سامنے رکھ کر حد بندی ہوتی ہے وہ کیا ہیں،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہی حد بندی کی گائیڈ لائنز بنائی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نکات پر فیصلہ نہیں دے سکتے جو سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے گئے ہوں بہتر ہو گا کہ ایم کیو ایم یہ جنگ متعلقہ فورم پر لڑے، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے وکلاء کو سننا چاہتے ہیں،

    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم اور پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے متعدد بار آپ کو کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھیں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں واضح طور پر درج ہے کہ جون تک آپ نے کچھ نہیں کیا،سندھ ہائیکورٹ نے واضح کہا کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات کے چند روز پہلے ترمیمی درخواست دائر کر دی،سندھ میں بلدیاتی انتخابات 26 جون کو شروع ہو چکے ہیں، فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک بار مجھے سن لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ میں دائر ترمیمی درخواست میں ووٹ شمار ہونے یا نا ہونے کا نکتا اٹھایا ہی نہیں گیا، یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر یونہی فیصلہ دے دیں گے،آپ الیکشن کمیشن اور حلقہ بندی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ حل کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایم کیو ایم وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کیس واپس ہائیکورٹ بھیجوا دیں؟

    تحریک انصاف نے سندھ میں موجودہ حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کی حمایت کر دی، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آدھا الیکشن ہوچکا جس پر قوم کا پیسہ اور وسائل لگے،اس عمل کو منسوخ کر کے نئے سرے سے الیکشن کروانا درست نہیں ہوگا،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ ایم کیو ایم نے حلقہ بندی اتھارٹی سے رجوع ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت مل کر کام کرتی ہیں الیکشن کمیشن کی ہدایت پر کئی حدبندیاں تبدیل کی گئیں ووٹرز کو حدبندی سے کوئی فرق نہیں پڑتا،سیاسی جماعتوں کا مسئلہ صرف میئر کے الیکشن کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کوئی حلقہ سات کوئی 10 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے ،حلقے کے عوام کی نمائندگی تو ہو جاتی ہے حق ادا نہیں ہوتا،اس قسم کے مسائل کے حل پر الیکشن کمیشن کو توجہ دینی ہو گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے اعتراضات کچھ حلقوں میں ہیں سب میں نہیں،جہاں سے اعتراضات آتے ہیں ہم ان پر غور کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو سمجھائیں گے،

    سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست نمٹا دی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،ایم کیو ایم حلقہ بندیوں کے معاملے پر متعلقہ فورم سے رجوع کرے،پی ٹی آئی سندھ بلدیاتی الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست دائر کرے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کروانے کی حمایت کی الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام فہمیدہ مرزا کے حلقہ سے متعلق تحفظات دیکھیں،سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 28 اگست کو ہوں گے

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،چیف جسٹس

    عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،چیف جسٹس

    عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،چیف جسٹس

    سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندی کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی صوبائی حکومت کا اختیار ہے،صوبائی قانون پرعملدرآمد کے دوران کچھ سقم نظر آرہے ہیں، کیا الیکشن کمیشن سقم نظرانداز کرکے اپنی مرضی سے حلقہ بندی کرسکتا ہے؟ بعض یونین کمیٹیوں کی آبادی میں فرق 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے،عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندی کا اختیار ایک شق میں الیکشن کمیشن دوسری میں حکومت کو ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا حلقہ بندیوں کے دوران یونین کمیٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے؟ وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ حلقہ بندی میں تعداد کم اور زیادہ ہو سکتی ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے قانون میں بلدیاتی اداروں کا ڈھانچہ بنایا ہے،کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی کے ذریعے ڈھانچہ تبدیل کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا ہی کام کر سکتا ہے جتنا اسے اختیار ہو، خیبرپختونخواکے قانون میں یونین کمیٹیوں کی تعداد کیلئے طریقہ کار درج ہے، وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ سندھ حکومت نے کمیٹیوں کی تعداد کا کوئی طریقہ کار واضح نہیں کیا، اورنگی ٹاون کی 7 لاکھ آبادی میں مئیر کیلئے 7 ،مومن آباد کی 4 لاکھ آبادی پر 9 ووٹ مختص ہیں، جسٹس منصور علی شاہ کے ایک فیصلے پر انحصار کر رہا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے مسلسل میری ماضی کی غلطیاں یاد دلا رہے ہیں،

    سندھ بلدیاتی انتخابات میں بلدیاتی نمائندوں کے وکیل خالد جاوید نے دلائل دیئے اور کہا کہ حلقہ بندیاں ریاضی کے اصول کے تحت نہیں کی جا سکتیں،ایم کیو ایم کی دلیل مان لی جائے تو صوبائی و قومی اسمبلی کی حلقہ بندیاں متاثر ہو جائیں گی اصول کے تحت 2015 میں سندھ حکومت کی حد بندی پر حلقہ بندیاں ہوئیں میئر بنے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندیاں سپریم کورٹ میں اس وقت چیلنج ہیں، وکیل نے کہا کہ 110 گز کے گھر میں 8 لوگ اورہزارگز کے گھر میں 3 لوگ بھی رہتے ہیں،الیکشن کمیشن یونین کمیٹی بناتے وقت آبادی نہیں حلقے میں بنیادی سہولیات کو بھی مد نظر رکھتا ہے، پاکستان میں آبادی کے تناسب سے سب نہیں ہوتا،رقبے کے لحاظ سے سب سےبڑے صوبے کی آبادی سب سے کم ہے،کراچی سے آیا ہوں قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ صرف یہ واضح کر دیں کہ سندھ حکومت نے حد بندیاں کس بنیاد پر کی ہیں اگر حد بندی شفاف ہو تو حلقہ بندیاں متنازعہ نہیں ہوں گی،وکیل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2016 میں حد بندیوں کی گائیڈ لائنز دیں جن پر عمل ہو رہا ہے آج تک ایم کیو ایم نے سیکشن 10 ون کو دوبارہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو بھی اس معاملے پر سننا چاہتے ہیں،

    ممبر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا روسٹرم پر آ گئیں اور کہا کہ پانچویں مرتبہ بدین سے منتخب ہوتی آرہی ہوں،ٹھٹہ بدین کا بہت برا حال ہے، ٹھٹہ بدین سے منتخب ہونے کے باوجود میرا ووٹ وہاں سے کراچی منتقل کر دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فہمیدہ مرزا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کل سنیں گے،

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراض الیکشن کمیشن سنتا ہے،چیف جسٹس

    حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراض الیکشن کمیشن سنتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سندھ بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے کچھ ایریاز میں تو بلدیاتی الیکشن ہو گئے ہیں، وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن 2 مرحلوں میں کرانے کا شیڈول بنایا ہے،پہلے فیز میں لوکل باڈیز الیکشن ہو چکے ہیں، کراچی ،حیدر آباد ،بدین اورٹھٹہ میں الیکشن ہونا باقی ہے،ہمارا حلقہ بندیوں پر اعتراض ہے سندھ حکومت نے جہاں ہماری اکثریت ہے 90 ہزار کی یونین کونسل بنا دی ، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فارم 10 اے کہتا ہے حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کرے گا، حلقہ بندیوں کا چارٹ دکھانےسے پہلے حلقہ بندیوں کے پیرامیٹرز بتا دیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراض الیکشن کمیشن سنتا ہے، حلقہ بندیوں کیخلاف اعتراض پہلے فیز کی پولنگ کے بعد کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ حلقہ بندیوں سے کیسے متاثرہیں ؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کہاکہ حلقہ بندی اتھارٹی کو ہی چیلنج کر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں کوئی پابندی نہیں کہ صوبائی افسر کمیٹی میں شامل نہ ہوسکے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک گلی میں ایک جماعت مقبول ہوتی ہے تو دوسری گلی میں دوسری،گلی محلے کی سطح پر حلقہ بندی مقامی افسران کے بغیر نہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن کے پاس اتنا عملہ نہیں ہوتا کہ بغیر معاونت کے کام کر سکے،فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ اورنگی ٹاون میں ایم کیو ایم کی اکثریت ہے وہاں یونین کمیٹی 94 ہزار پر مشتمل ہے، آبادی کے تناسب میں 10فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہو سکتا، سندھ حکومت نے لوکل گورنمٹ ایکٹ سیکشن 10 ایک کے تحت 233 یونین کمیٹیز بنانے کا نوٹیفکیشن کیا،سندھ حکومت نے یونین کمیٹیز بنانے کی بنیاد کو نوٹیفکیشن میں واضح نہیں کیا، سندھ حکومت کی اصل بدنیتی حد بندی پر الیکشن کمیشن کو پابند کرنا ہے سپریم کورٹ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے آرٹیکل 10 ون کو کالعدم قرار دے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کیس پر سن لیتے ہیں،ڈی جی لا الیکشن کمیشن روسٹرم پر آ گئے ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومت کی حد بندی کا پابند کیسے ہے؟ الیکشن کمیشن کے پاس تو الیکشن ایکٹ کے تحت اختیار ہے کہ حلقہ بندیاں کرے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ یونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے،الیکشن کمیشن صوبے کی حد بندی اور یونین کمیٹیوں کی تعین کردہ تعداد کا پابند ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ایک صوبے میں مختلف طرح حد بندی کرتا ہے دوسرے میں مختلف؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیارات کو لوکل گورنمنٹ قوانین کیساتھ نہ ملائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی فریقین کو کل سنیں گے،

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

  • سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی ، وکیل ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا کہ حلقہ بندی میں آبادی کا تناسب یکساں نہیں رکھا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی سے مطمئن ہے؟ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ حلقہ بندیاں قانون کے مطابق ہوئی ہیں حد بندی صوبائی حکومت اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،وکیل نے کہا کہ جہاں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی وہاں ایک یونین کمیٹی 90 ہزار آبادی پر مشتمل ہے پیپلزپارٹی جن علاقوں سے کامیاب ہوتی وہاں یوسی 40 ہزار آبادی پرمشتمل ہے،

    وکیل خالد جاوید خان نے کہا کہ اس دلیل کو مان لیا جائے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں ختم ہو جائیں گی،قومی اسمبلی کا کوئی حلقہ 3 اور کوئی 9 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو 15 اگست کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کرینگے،اگست کی 28 تاریخ کو الیکشن ہے اس لیے آئندہ سماعت پر کوئی التوا نہیں دینگے، اکیو ایم کی درخواست خارج بھی کی جا سکتی ہے، ایم کیو ایم کی درخواست صرف شہری علاقوں تک محدود ہے،

    پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے نمائندوں کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کر لی گئی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

  • الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا

    الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا

    اسلام آباد:پاکستان الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا صدر مملکت نے دونوں ممبران کی تقرری کی ہے-

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب اور ممبر خیبرپختونخوا کی حلف برداری اسلام آباد میں واقع ہیڈ آفس میں ہوئی جہاں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے نئے ارکان سے حلف لیا۔

    الیکشن کمیشن کے ممبران میں بابر حسن بھروانہ نے پنجاب اور جسٹس (ر) اکرام اللہ خان نے ممبر خیبرپختونخوا کی حیثیت سے حلف لیا۔

    ایل پی جی کی قیمت میں کمی، نوٹیفکیشن جاری،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے نئے ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں سےالیکشن کمیشن کےممبران مکمل ہوگئے ہیں-

    قبل ازیں چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن بغیرکسی خوف اپناکام جاری رکھےگا،عام انتخابات کیلئےاپناکام جاری رکھےہوئےہیں جب کہاجائےگاالیکشن کرادیں گے-

    اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ نے کہا کہ حلقہ بندیوں سےمتعلق ابتدائی فہرستیں جاری کی جاچکی ہیں الیکشن کمیشن آئین کےمطابق ذمہ داریاں اداکرتارہےگاالیکشن کمیشن اپنے فیصلے بلا خوف کرتا ہے اور کرتا رہے گا فیصلوں سے کوئی ناراض یا راضی ہوتا ہے یہ ہمارا مسئلہ نہیں ،ان کا ہے سب ہمارے دوست ہیں-

    الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی: قومی اسمبلی میں نشستیں کم ہوگئیں

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے ،انتخابات کے لیے ہمیشہ تیار ہیں،الیکشن کافیصلہ حکومت نے کرنا ہےالیکشن کمیشن کا کام صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ہے ،مردم شماری کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا موقف واضح تھا ،مردم شماری سرکاری طور پر شائع ہونے سے قبل حلقہ بندیاں نہیں کی جاسکتیں ،مئی 2021 میں 2017 کی مردم شماری کے نتائج شائع ہوئے-

    سندھ ہائی کورٹ نے درختوں کی کٹائی کے خلاف درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیئے

    سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں پر کام مردم شماری کے نتائج شائع ہونے کے بعد شروع کیا ،2018الیکشن اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم لائی گئی تھی ،حکومت ڈیجیٹل مردم شماری کرانا چاہتی ہے ،ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج دسمبر تک ملے تو بروقت حلقہ بندیاں ہوسکتی ہیں ،نتائج تاخیر کا شکار ہوئے تو 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیوں پر انتخاب ہوگا سابق ڈپٹی ا سپیکر نےاراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کا کیس الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا،

    پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس سے متعلق سوال پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کی سماعت جاری ،فریقین کو صفائی کا موقع دینا ضروری ہے،

    بجٹ میں سبسڈیز واپس لینے اور ٹیکسز میں اضافے کا امکان ہے،مفتح اسماعیل