ڈیرہ اسماعیل خان : اندرون شہر ہولیس چیک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا، سی سی ٹی وی کیمرہ سے موٹرسائیکل پر سوار دو حملہ آورں کی فوٹیج حاصل کرلی گئی. تلاش کیلئے سرچ آپرشن جاری ہیں.
ایس ایچ او سٹی پولیس سٹیشن پرویز شاہ کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے جب بچے قریبی سکولوں کیطرف جارہے تھے بازار میں بہت رش تھا، اس دوران مسلم بازار پولیس چوکی پر دستی بم سے حملہ کیا گیا. لیکن خوش قسمتی سےکوئی نقصان نہیں ہوا. موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں حملے کے وقت کی قریبی سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج میں دو ممکنا حملہ آوروں کو دیکھا جاسکتا ہے دونوں کی تلاش کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں.
Tag: حملہ

ڈیرہ اسماعیل خان، پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کیا گیا
اوکاڑہ کے نواحی علاقے شاہبھور میں محنت کش کے گھر پر غنڈوں کا حملہ
اوکاڑہ(علی حسین مرزا) تھانہ شاہبھور کی حدود میں چند بااثر افراد نے غریب محنت کش محمد عرفان کے گھر پر اینٹوں، پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔ غنڈہ عناصر گھر کی چھت پر چڑھ کر اینٹیں برساتے رہے جبکہ کچھ ڈنڈہ بردار افراد نے محنت کش پر تشدد کیا۔ مقامی پولیس کو اطلاع دیے جانے کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ متاثرین نے ڈی پی او اوکاڑہ عمر سعید ملک سے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹر کی فیملی پر قاتلانہ حملہ
قصور
پتوکی میں نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر کی ہمشیرہ اور بھانجے پر ملزم کی گھر میں گھس کر فائرنگ رپورٹر کی بہن اور بھانجا زخمی ہسپتال منتقل
فائرنگ کے نتیجہ میں ثریا بی بی بیوہ جسکے تین بیٹے اور بیٹیاں ہے کا ایک پاؤں ضائع ہوگیا اور دوسرا فائر پنڈلی میں لگا اور اس کا بیٹا شدید زخمی جن کو طبی امداد کیلئے لاھور ہسپتال ریفر کردیا گیا
یہ واقع محلہ چراغ پارک میگا روڈ پر کل شام کو پیش آیا
ملزم علی شیر اندھا دھند فائرنگ کرکے موقع سے فرار ہوگیا
اطلاع ملتے ہی تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے
"وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ
ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….


