Baaghi TV

Tag: حملہ

  • سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    بھارتی اداکار سیف علی خان حملہ کیس میں پیشرفت ہوئی ہے ممبئی پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے.

    ا اداکار سیف علی خان کو ان کے ممبئی کے گھر پر چاقو سے وار کیے جانے کے ایک دن بعد، ایک مشتبہ شخص کو بڑے پیمانے پر تلاشی کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے ،گرفتار کئے مشتبہ شخص کو باندرہ پولیس سٹیشن لایا گیا ہے، اسکی تصویر بھی سامنے آئی ہے،اس کے بارے زیادہ معلومات نہیں ہیں، اور اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیا یہ وہی شخص ہے جس نے کل اداکار کے گھر میں گھس کر حملہ کیا تھا یا کوئی اور ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ کل واقعہ کے بعد مشتبہ شخص کو باندرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب دیکھا گیا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کہ اس نے فرار ہونے سے پہلے کپڑے بدلے تھے،پولیس نے تحقیقات کے لئے 20 ٹیمیں تشکیل دی تھیں اور وہ تکنیکی ڈیٹا اکٹھا کر رہی تھی اور ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے مخبروں کا استعمال کر رہی تھی۔پولیس کی ٹیمیں بھی حملہ آور کی تلاش میں وسائی اور نالاسوپارہ میں ڈیرے ڈال رہی تھیں ،پولیس کا کہنا ہے کہ سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والا ‘ستگورو شرن’ میں داخل ہوا تھا، پوش باندرہ علاقے کی 12 منزلہ عمارت جس میں اداکار کی چار منزلہ رہائش گاہ ہے، ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ سیف علی خان کے گھر گھسنے والاملزم سیف کے گھر میں کام کرنے والے کسی شخص سے رابطے میں تھا اور اسی طرح اس نے لابی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں پکڑے بغیر گھر تک رسائی حاصل کی۔ ذرائع نے بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ وہ عمارت کی ترتیب سے واقف تھا اور اس نے ملحقہ کمپاؤنڈ کی دیوار کو سکیل کرنے کے بعد اوپر کی منزل تک پہنچنے کے لیے فائر شافٹ کا استعمال کیا تھا۔

    عمارت کی 11ویں منزل پر ملزم کے گھسنے کے بعد30 منٹ تک ہنگامہ آرائی جاری رہی، اس دوران گھر کے ملازمین اور سیف علی خان ملزم سے مزاحمت کرتے رہے، اسی دوران مسٹر خان کو چھ چوٹیں آئیں۔ اسے قریبی ہسپتال لے جایا گیا اور ایمرجنسی سرجری کی گئی۔سیف علی خان اب خطرے سے باہر ہیں،انکے گھسنے والا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور اسے سیڑھیاں اترتے ہوئے چھٹی منزل پر سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا۔ شبہ ہے کہ اس نے فرار ہونے کے لیے فائر شافٹ کا استعمال کیا، اسی وجہ سے وہ احاطے سے باہر نکلتے ہوئے نہیں پکڑا گیا۔

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    بھارتی اداکار سیف علی خان پر ایک حملہ آور نے ان کے گھر میں گھس کر چاقو کے وار سے حملہ کیا، جس کے بعد متعدد سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس حملے کے بعد پولیس تحقیقات میں مصروف ہے اور مختلف پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔

    سیف علی خان کے گھر میں موجود عملے نے حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اس حملے میں ملزم کے پاس صرف چاقو تھا اور اس نے اسی سے حملہ کیا۔ پولیس یہ بھی جانچ رہی ہے کہ حملہ آور کس طرح سیف علی خان کے گھر تک پہنچا، کیونکہ وہ اس کارروائی کے لیے کسی کی مدد کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔پولیس کے مطابق، رات 3 بجے کے قریب انہیں اداکار سیف علی خان پر حملے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کر سیف علی خان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ بھارتی پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ حملے کے دوران ملزم نے سیف علی خان کے گھر کے قریب واقع ایک ملحقہ عمارت سے دیوار پھلانگ کر گھر کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کسی فرد نے ملزم کو اداکار کے گھر میں داخل ہونے میں مدد فراہم کی۔

    اس حملے کی تحقیقات میں مزید پیشرفت ہونے کی توقع ہے، اور پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ حملہ کسی اور بڑے منصوبے کا حصہ تھا یا صرف ایک اتفاقی واقعہ تھا۔اس حوالے سے باغی ٹی وی کے باخبر ذرائع کے مطابق، سیف علی خان کی برطانیہ میں امیگریشن ہے اور وہ جلد برطانیہ جانے کے خواہشمند ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیف علی خان کا انڈرورلڈ سے تعلق ہے اور ان کے منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔یہی وجہ سے کہ سیف علی خان پر حملے کے بعد تحقیقات کے لئے انڈر ورلڈ کے خلاف کاروائیوں کے لئے مشہور انکاؤنٹر اسپیشلسٹ دیا نائک بھی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہیں جو نہ صرف سیف علی خان پر حملے بلکہ انکے انڈر ورلڈ سے رابطوں بارے بھی تحقیقات کریں گے،

    جمعرات کی صبح ممبئی میں بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان کو ان کے گھر پر متعدد بار چھریوں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے نے نہ صرف سیف علی خان کے مداحوں بلکہ پورے فلمی حلقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ سیف علی خان کی اہلیہ، اداکارہ کرینہ کپور خان اور ان کے دونوں بچے اس حملے میں محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد ممبئی پولیس فوراً سیف علی خان کے باندرہ ویسٹ میں واقع اپارٹمنٹ کمپلیکس، "ستگرو شرن”، پہنچی جہاں تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ پولیس ٹیم میں معروف انکاؤنٹر اسپیشلسٹ د یا نائک بھی شامل تھے۔د یا نائک کا نام ممبئی پولیس میں ایک بہادر افسر کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے 1990 کی دہائی میں 80 سے زائد زیر زمین گینگسٹرز کو ہلاک کرکے اپنی شناخت بنائی۔ ان کی جرات مندانہ کارروائیاں اور ان کی پولیس فورس میں اہم خدمات نے انہیں ایک لیجنڈ کے طور پر شہرت حاصل کی۔

    د یا نائک کا جنم 1960 کی دہائی میں کرناٹکا کے اڈوپی شہر میں ایک کونکنی بولنے والے خاندان میں ہوا۔ وہ اپنے والد بدّا نائک اور والدہ رادھا نائک کے سب سے چھوٹے بچے تھے۔ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز انہوں نے مقامی اسکول سے کیا، جہاں وہ ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ممبئی (اس وقت بمبئی) آگئے۔ممبئی آنے کے بعد ان کی پہلی ملازمت ایک مقامی ہوٹل میں تھی، تاہم، انہوں نے مالی مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھی اور 12ویں جماعت تک تعلیم مکمل کی۔ ان کے دل میں پولیس آفیسر بننے کا خواب اس وقت جاگا جب وہ ایک پلمبروں کی تربیت کے دوران منشیات کے محکمہ کے افسران سے متعارف ہوئے۔
    saif ali

    1995 میں د یا نائک نے پولیس فورس میں سب انسپکٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور جے ہو پولیس اسٹیشن میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ 1996 کے آخر میں ان کی مشہوری کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے چوٹا راجن کے گینگ سے تعلق رکھنے والے دو گینگسٹرز کو جے ہو میں اینکاؤنٹر کے دوران ہلاک کیا۔ اس کارروائی کے بعد انہیں پولیس محکمے میں عزت و شہرت حاصل ہوئی۔دیا نائک کی پولیس فورس میں کامیاب مگر متنازعہ کیریئر رہا ہے۔ 2004 میں، مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کی عدالت نے اینٹی کرپشن بیورو کو ان کے خلاف تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔ اس تحقیقاتی عمل میں چھ مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن میں بنگلور کی دو جگہیں بھی شامل تھیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ د یا نائک نے مبینہ طور پر لگژری بسوں کی دو فلٹیں خرید رکھی تھیں، ایک ممبئی میں "ویشال ٹریولز” کے نام سے اور دوسری بنگلور میں۔

    سیف علی خان پر حملے کے واقعہ کے بعد د یا نائک کی قیادت میں پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملے کے ملزمان تک پہنچا جا سکے۔وہیں دیا انکاؤنٹر سپیشلسٹ سیف علی خان کے انڈر ورلڈ سے رابطوں بارے بھی تحقیقات کریں گے،پولیس تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حملے کے پس پردہ وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے، اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس حملے کے پیچھے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو جمعرات کی صبح ممبئی کے پوش باندرہ ویسٹ محلے میں ان کے گھر پر چاقو سے وار کرنے والے شخص نے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا،

    پولیس ذرائع کے مطابق سیف علی خان کے گھریلو عملے کے ایک رکن نے بیان دیا کہ مسٹر خان کے چار سالہ بیٹے جہانگیر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس نے بتایا کہ چاقو بردار حملہ آور پہلے لڑکے کے کمرے میں داخل ہوا۔اور اس نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا،اس مطالبے کے بعد ہونے والے حملے میں تین افراد – 54 سالہ سیف علی خان، نرس اور ایک اور عملے کا رکن زخمی ہو گئے۔ سیف علی خان پر چھ بار وار کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیں آئیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اداکار کی طبی حالت اب مستحکم ہے۔

    سیف علی خان اور ان کا خاندان ، اہلیہ اداکار کرینہ کپور خان اور ان کے بیٹے ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں ،چار منزلہ اپارٹمنٹ باندرہ ویسٹ میں ہے۔ پولیس ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور جو اپارٹمنٹ میں چوری کرنا چاہتا تھا – ملحقہ راستے سے کمپاؤنڈ میں داخل ہوا۔ اسے اداکار کے گھر کی سیڑھی سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا۔ اسے ٹی شرٹ اور جینز میں دیکھا جا سکتا ہے، اس کے کندھے پر نارنجی رنگ کا اسکارف ہے۔ جہانگیر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس، ایلیاما فلیپس، جو چار سال سے سیف علی خان گھرانے کے ساتھ ہیں، سب سے پہلے اس نے چور کی آواز سنی ۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ جمعرات کی صبح گھر میں شور کی آواز سے بیدار ہوئی تھی۔ یہ تقریباً 2 بجے کا وقت تھا، ، جہانگیر کو سونے کے تین گھنٹے بعد۔ہ اس نے باتھ روم کا دروازہ کھلا اور لائٹ آن دیکھی، اور سب سے پہلے یہ سمجھا کہ کرینہ کپور خان اپنے چھوٹے بیٹے کو دیکھ رہی ہیں۔ "…پھر میں سونے کے لیے واپس چلی گئی لیکن، دوبارہ، میں نے محسوس کیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ تو میں دوبارہ بیدار ہوئی اور دیکھا کہ ایک آدمی باتھ روم سے نکل کر لڑکے کے کمرے میں چلا گیا ہے۔”اس موقع پر اس نے اس کا سامنا کیا – اس نے جواب میں اپنی طرف انگلی اٹھائی اور ہندی میں کہا، ‘آواز مت نکالو’ – اور اس نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔اور جب اس نے چور کے ساتھ مزاحمت کی تو 56 سالہ نرس کی کلائیوں اور ہاتھوں پر چوٹیں آئیں۔

    نرس کے بیان کے مطابق، اس نے پھر چیخ ماری، جس نےسیف علی خان کو چوکنا کر دیا جس نے گھسنے والے سے لڑنے کی بھی کوشش کی۔ اس لڑائی میں ملزم نے چھ بار وار کیا ، اور چھری کا ڈھائی انچ کا ٹکڑا ٹوٹ کر سیف علی خان ریڑھ کی ہڈی میں جا لگا۔

    اس حملے نے ہائی پروفائل عمارت میں ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈز کے ردعمل کے بارے میں سخت سوالات کو جنم دیا ہے، کہ کیسے ایک چور اداکار کے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان کی ڈکیتی کی مزاحمت کے دوران زخمی ہونے کی تفصیلات اب منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ سیف علی خان کے گھر پر پیش آیا، جہاں انہیں ڈاکوؤں نے نشانہ بنایا۔ اس دوران سیف علی خان شدید زخمی ہو گئے اور ان پر چھری سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کے جسم پر چھ زخم آئے۔سیف علی خان کے زخمی ہونے کے بعد ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ ان کے گھر پر موجود گاڑی ایسی حالت میں نہیں تھی کہ اس میں انہیں اسپتال لے جایا جا سکے۔ ایسے میں ان کے سب سے بڑے بیٹے ابراہیم علی خان نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کو رکشے میں اسپتال لے کر جائیں گے۔رپورٹس کے مطابق 23 سالہ ابراہیم علی خان نے وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے والد کو خون میں لت پت دیکھتے ہوئے فوری طور پر رکشہ حاصل کیا اور سیف علی خان کو 2 کلومیٹر دور اسپتال لے جایا۔ جہاں سیف علی خان کی فوری سرجری کی گئی اور ان کا علاج شروع کیا گیا۔

    واقعے کے بعد کرینہ کپور کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ اپنے شوہر سیف علی خان کے بارے میں فکر مند نظر آئیں۔ اس ویڈیو نے ان کے مداحوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔رات میں پیش آئے واقعے کے وقت کرینہ کپور گھر پر موجود نہیں تھیں تاہم اب ان کی گھر پہنچ کر تفصیلات لینے کی ویڈیو سامنے آئی ہے،ویڈیو میں اداکارہ کو گھر پر موجود ملازمین سے واقعے کی تفصیلات لیتے دیکھا جا سکتا ہے۔کرینہ کپور شام سے ہی اپنی بہن کرشمہ کپور اور دیگر دوستوں کے ساتھ موجود تھیں۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں سی سی ٹی وی ویڈیوز بھی حاصل کر لی ہیں، جن کی مدد سے ڈاکوؤں کی شناخت اور اس حملے کے اسباب کے بارے میں مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد سیف علی خان کی حالت ابھی تک مستحکم بتائی جا رہی ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    ملزم سیڑھیوں سے سیف کے گھر داخل ہوا،شناخت کر لی،پولیس کا دعویٰ
    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت ہو چکی ہے۔ "اس ملزم کو پکڑنے کے لیے دس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم سیف علی خان کے گھر میں چوری کرنے کے ارادے سے سیڑھیوں کے ذریعے داخل ہوا تھا۔ مزید تفصیلات اس وقت سامنے آئیں گی جب ملزم کو گرفتار کیا جائے گا،

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا صحافی ثاقب بشیر کو اڈیالہ جیل میں کوریج کی اجازت کا حکم

  • لکی مروت،دہشت گردوں کی فائرنگ،دو پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت،دہشت گردوں کی فائرنگ،دو پولیس اہلکار شہید

    لکی مروت کے علاقے خیروخیل پکہ کے قریب دہشت گردوں نے فائرنگ کی ہے،دو پولیس اہلکار حملے میں شہید ہو گئے ہیں

    نواب زیارت جابوخیل کے قریب موٹر سائیکل پر فائرنگ کی گئی،خیروخیل سےڈیوٹی کے لئے آنے والے دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے،دہشت گردوں کے حملے کے نیتجے میں شہید ہونے والے اہلکاروں میں خان بہادر اور حکمت اللہ شامل ہیں،واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، پولیس نے سیکورٹی سخت کر دی ہے

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے لکی مروت پولیس اہلکاروں پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والے 2 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا،اور کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں.دکھ کی گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں.دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس نے جانوں کی قربانی دے کر تاریخ رقم کی ہے.کے پی کے پولیس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،

    قتل کا بدلہ؟ تھانے میں گھس کر فائرنگ،پولیس سوتی رہی،3 افراد قتل

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

  • غزہ،اسرائیلی فوج کی صحافیوں کی گاڑی پر بمباری، پانچ صحافی جاں بحق

    غزہ،اسرائیلی فوج کی صحافیوں کی گاڑی پر بمباری، پانچ صحافی جاں بحق

    اسرائیلی فوج نے غزہ میں صحافیوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ صحافی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق یہ واقعہ غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں واقع العودہ اسپتال کے سامنے پیش آیا، جہاں اسرائیلی بمباری سے صحافیوں کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ، مغربی کنارے، اسرائیل اور لبنان میں 141 میڈیا ورکرز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان میں سے 133 فلسطینی صحافی غزہ میں مارے گئے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو جنگی حالات میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران شدید خطرات کا سامنا ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

    گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے غزہ کے پناہ گزین کیمپوں پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔ یہ حملے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران کی جانے والی بمباری کا حصہ ہیں جس میں روز بروز انسانی نقصانات بڑھ رہے ہیں۔اس دوران، پوپ فرانسس نے اسرائیل کے حملوں پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بچوں پر گولیاں برسا رہا ہے جو کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    دنیا بھر میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، اور اقوام متحدہ سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کا احترام کرے اور شہریوں اور صحافیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کرے۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر غزہ میں انسانی بحران میں شدت آتی جا رہی ہے، اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی درخواستیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی کے مشہور شہر میگ ڈیبرگ میں جمعہ کی شام ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک کار کرسمس بازار میں گھس گئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 60 سے زائدزخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کو حملہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً سات بجے پیش آیا جب جرمن شہر میگ ڈیبرگ میں کرسمس خریداری کے لیے آئے ہوئے لوگ بازار میں موجود تھے۔ بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد تھی اور لوگ کرسمس کی خریداری میں مصروف تھے۔ اسی دوران ایک کار تیز رفتاری سے بازار کے بیچوں بیچ گھس گئی اور لوگوں کو ٹکر مار دی۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کار تیز رفتار سے گزر رہی ہے اور اس کے بعد لوگ گر کر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔پولیس کے مطابق اس حادثے میں 2 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں ایک بالغ شخص اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 60 سے زائد ہے، جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت نازک ہے، اور اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔

    اس واقعہ کو جرمنی میں 2016 میں برلن کے کرسمس بازار پر ہوئے حملے سے مماثلت دی جا رہی ہے۔ اس حملے میں ایک ٹرک ڈرائیور نے کرسمس بازار میں گھس کر 13 افراد کی جان لے لی تھی۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا، لیکن ابھی تک اس کا حتمی مقصد اور محرکات واضح نہیں ہو سکے ہیں۔

    حملے کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ مشتبہ شخص 50 سالہ سعودی ڈاکٹر ہے، جو 2006 میں پہلی بار جرمنی آیا تھا۔ وہ اس وقت میگ ڈیبرگ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور برنبرگ میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔ موجودہ معلومات کے مطابق، وہ اکیلا ہی حملہ آور ہے اور اس لیے شہر کے لیے مزید خطرہ نہیں ہے۔

    سعودی عرب نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے جرمنی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ جرمنی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، سعودی حکام نے ابھی تک مشتبہ شخص کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور حملے کی نوعیت اور مقصد کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جرمنی میں اس قسم کے حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اور متعلقہ حکام اس واقعے کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں۔

  • خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے،پولیس اہلکار سمیت دو کی موت

    بنوں کے علاقے کالا خیل مستی خان میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم پر مامور ایک پولیو ورکر کو قتل کر دیا۔کرک میں پولیو ٹیم پر حملے میں پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیو ورکر اپنی معمول کی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پولیو ورکر کو اس کے راستے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا اور اس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق مقتول پولیو ورکر کا نام گلزار خان تھا اور وہ پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی ذمہ داری پر مامور تھا۔ گلزار خان اپنی ڈیوٹی کے لیے جا رہا تھا جب اسے ملزمان نے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمان فوراً فرار ہو گئے اور وہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ واقعے کی حقیقی وجہ سامنے آ سکے۔پولیس نے بتایا کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں اور یہ حملہ اسی قسم کی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بنوں تھانہ صدر کی حدود میں پولیو ورکر پر فائرنگ ہوئی ہے، فائرنگ سے پولیو ورکر حیات اللہ خان زخمی ہوگیا ، زخمی ورکر کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے ، جس میں ایک کانسٹیبل شہید ہوگیا،کرک میں ٹیری کے علاقے شیخان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہوگیا، جبکہ پولیو ورکر زخمی ہوا۔

    یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک بھر میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت، تمام صوبوں میں پولیو ورکرز گھروں، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے دیں گے۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں، لیکن اس دوران پولیو ورکرز کو مختلف علاقوں میں دہشت گردوں، مسلح گروپوں اور مخالفین کی طرف سے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔پولیو ورکرز اور مہم میں شریک دیگر افراد کی حفاظت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، اور اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران ورکرز کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بنوں کے شہریوں اور پولیو ورکرز کے نمائندوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کو علاقے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے اور حکومت سے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف بنوں بلکہ پورے ملک میں پولیو مہم پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس قسم کے حملے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششیں ہیں۔ اس وقت حکومت اور مقامی اداروں کے لیے سب سے بڑی چیلنج پولیو ورکرز کی حفاظت اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو ورکرز پر حملے، صدر مملکت،وزیراعظم کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک میں پولیو ورکرز پر حملے کی مذمت کی ہے،صدر مملکت نے حملے میں سکیورٹی اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ دہشت گرد ملک و قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں ، دہشت گرد پاکستان کے عوام کو صحت مند اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے ، پاکستان کی عوام بڑھ چڑھ کر پولیو مہم میں حصہ لے، عوام سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، صدر مملکت نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

    پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے، اور اس میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لئے ہماری سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی. قوم کو پولیو کے مرض سے پاک کرنے کے لیے سرگرم عمل پولیو ورکرز پر حملہ باعث تشویش ہےاس قسم کی کاروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے اور پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی.

    گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کرک میں پولیو ٹیم پر حملے کی رپورٹ طلب کر لی،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،حملے میں پولیس اہلکار کی شہادت پر دلی افسوس ہوا، زخمی پولیو ورکر کو ہر ممکن علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پولیو ورکرز پر حملہ پاکستان اور انسانیت دشمن قوتوں کی سازش ہے۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کرک میں پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کیلیےڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں ،پولیو ٹیم پر حملے میں شہید پولیس اہلکار کی شہادت افسوسناک ہے ، پولیو ٹیمیں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں ،اس نیک مقصد کے دوران ان پولیو ٹیموں پر حملہ انہتائی شرمناک ہے ،کے پی حکومت حملے میں زخمی ہو نے والے پولیو ورکرز کو علاج کیلئے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے، حملے میں شہید کانسٹیبل کے لیے بلندی درجات اور اہلخانہ کے لیے صبرو جمیل کی دعا کرتی ہوں،

  • قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر لندن دورے کے دوران مبینہ حملے کے معاملے پر برطانوی ڈپلومیٹک پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ کیا ہے

    برطانوی ڈپلومیٹک پولیس کے دورے کے دوران پاکستانی عملے نے سابق چیف جسٹس کی گاڑی پر مبینہ حملے سے متعلق بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ہائی کمیشن کی گاڑی میں موجود تھے۔ برطانوی ڈپلومیٹک پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ جمعہ کے روز ڈپلومیٹک پولیس کے وفد نے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران سے ملاقات کی تھی۔

    یاد رہے کہ لندن میں پاکستان ہائی کمیشن نے کسی کو نامزد کیے بغیر سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملے کے واقعے کے بارے میں باضابطہ شکایت درج کرائی تھی،پاکستانی ہائی کمیشن کی شکایت کی تصدیق کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان پر حملے سے آگاہ ہیں، اور یہ واقعہ سٹی آف لندن میں پیش آیا ہے، جہاں کی پولیسنگ سٹی آف لندن پولیس کے ذمے ہے

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

  • بنوں، مسلح افراد کے تھانے،چوکی پر حملے

    بنوں، مسلح افراد کے تھانے،چوکی پر حملے

    خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں میں تھانے اور چوکی پر حملہ کیا گیا ہے، واقعہ میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے

    بنوں میں رات گئے مسلح حملہ آوروں نے احمد زئی پولیس اسٹیشن اور مزنگہ پولیس چوکی پر حملہ کیا ہے، پولیس حکام کے مطابق احمد زئی پولیس سٹیشن پر حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، دوسرے حملے میں پولیس چوکی پر نصب تھرمل کیمرے کو نقصان پہنچا ہے،احمد زئی پولیس اسٹیشن پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، مگر پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کے باعث حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی گئیں، لیکن وہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    خیبر پختونخوا میں عوام کی بجائے پولیس کی اپنی حفاظت ایک چیلنج بن چکی ہے ہے۔ مسلح حملوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ نہ صرف پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ شہریوں میں خوف و ہراس بھی پیدا کرتا ہے۔ اس صورتحال کا فوری حل نکالنا ضروری ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔خیبر پختونخوا میں آئے روز پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کاروائی کی جائے.

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان