Baaghi TV

Tag: حملے

  • امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    امریکیوں نے وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیدیا

    ہر چار میں سے ایک امریکی سمجھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملہ جعلی تھا،امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اس شک میں مبتلا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حالیہ قاتلانہ حملے واقعی حقیقت تھے یا انہیں محض سیاسی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔

    امریکا میں خبروں اور معلوماتی ویب سائٹس کی ریٹنگ جاری کرنے والے ادارے نیوز گارڈ نے 28 اپریل سے 4 مئی تک سروے جاری کردیا سروے میں ایک تہائی ڈیموکریٹس نے حصہ لیا سروے میں 18 سے 29 سال کی عمر کے امریکیوں نے قاتلانہ حملہ جعلی قرار دیا ، جبکہ عمر رسیدہ امریکی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ پر حملہ اصلی تھا۔

    ‘نیوز گارڈز ریئلٹی چیک‘ کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اس سروے کے مطابق 30 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں ٹرمپ پر ہونے والے تین حملوں میں سے کم از کم ایک واقعہ پہلے سے طے شدہ یا ’اسٹیجڈ‘ تھا یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

    نیوز گارڈ کی سینئر ایڈیٹر صوفیہ روبنسن کے مطابق، اس حملے کے ایک ہفتے کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایسی پوسٹس کی گئیں جنہیں 9 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا، حالانکہ ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھےسروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 18 سے 29 سال کے نوجوان اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ان حملوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔

    ڈیموکریٹس میں سے 42 فیصد کا خیال ہے کہ جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں ہونے والا ’بٹلر حملہ‘ ایک ڈرامہ تھا، جبکہ 34 فیصد نے وائٹ ہاؤس کے ڈنر والے واقعے کو جعلی قرار دیا جبکہ اب ٹرمپ کی اپنی پارٹی یعنی ریپبلکنز کے اندر بھی شک پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے، جہاں 13 فیصد ووٹرز نے حالیہ حملے کو اسٹیجڈ قرار دیا۔

    صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تحریک کے اندر کچھ دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس کی وجہ ایران کے ساتھ جنگ یا ایپسٹین فائلوں جیسے معاملات ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے اپنے حامی بھی اب ان سازشی نظریات پر یقین کرنے لگے ہیں“۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے ان لوگوں کو ”بیمار“ قرار دیا جو ان حملوں کو ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جیسے کہ بٹلر حملے میں حملہ آور مارا گیا اور وفاقی اداروں نے ملزمان کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کی۔

    میامی یونیورسٹی کے پروفیسر جوزف اسکنکسی کے مطابق جن لوگوں کا عالمی نقطہ نظر سازشی ہوتا ہے، انہیں ہر کونے میں سائے نظر آتے ہیں،ان کا ماننا ہے کہ چاہے حکومت کتنے ہی ثبوت پیش کر دے، ایسے نظریات کا مکمل خاتمہ مشکل ہے، جیسے کہ جان ایف کینیڈی کے قتل یا ویکسین کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا تھا بعد ازاں ملزم پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔

  • ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران نے پیر کو متحدہ عرب امارات پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، ایرانی ریاستی میڈیا سے وابستہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور یہ واقعات دراصل امریکا کی ’فوجی مہم جوئی‘ کا نتیجہ ہیں ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب بھی ایران نے کوئی کارروائی کی ہے، اس کی ذمہ داری کھل کر قبول کی ہے، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    تاہم، نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ ایرانی فوجی عہدیدار نے وارننگ دی ہے کہ اگر امارات نے کوئی ’غیر دانشمندانہ‘ قدم اٹھایا تو اس کے تمام مفادات ایران کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز ملک پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فجیرہ کی ریا ست میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی اور تین بھارتی شہری زخمی ہو گئے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے فائر کیے گئے 12 بیلسٹک میزائلوں، 3 کروز میزائلوں اور 4 ڈرونز کو فضا میں ہی روکا۔

    یہ حملے 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کی پہلی بڑی خلاف ورزی ہیں یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو اپنی نگرانی میں نکالنے کا اعلان کیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود میں ایسی کسی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گا۔

  • اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی بمباری، 41 افراد شہید

    اسرائیل کی جنوبی لبنان میں فضائی بمباری، 41 افراد شہید

    لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 افراد شہید ہو گئے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 41 افراد شہید ہوئے ہیں یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب 17 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، مارچ سے جاری کشیدگی کے بعد مجموعی شہادتوں کی تعداد 2,659 جبکہ 8,183 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج نے متعدد فضائی حملے کیے، جن میں نبطیہ، بنت جبیل، شوکین، کفر دجال اور دیگر علاقے شامل ہیں ان حملوں میں رہائشی مکانات اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق نبطیہ کے علاقے شوکین پر حملے میں 3 افراد، جبکہ کفر دجال پر گاڑی کو نشانہ بنانے سے 2 افراد شہید ہوئے اسی طرح لوازیہ میں ایک گھر پر حملے میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اسرائیلی فضائیہ نے نبطیہ کے قریب القدس چوک اور ضلع ٹائر کے علاقے صدیقین کے گرد بھی حملے کیے، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا۔

    دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ہیں، تاہم مقامی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والوں میں عام شہری شامل ہیں ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

  • اسرائیل کی لبنان پر کارروائیاں ،پاکستان اور سعوی عرب کی شدید مذمت

    اسرائیل کی لبنان پر کارروائیاں ،پاکستان اور سعوی عرب کی شدید مذمت

    پاکستان نے لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے،پاکستان اس مشکل گھڑی میں لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن و استحکام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد میں پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گزشتہ شب فون پر بات چیت کی، جس میں خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے جنگ بندی کا مکمل احترام اور نفاذ ضروری ہے، اسحاق ڈار نے سعودی عرب کی پاکستان کی امن کی کوششوں میں مسلسل تعاون کی قدر دانی کی، جبکہ دونوں نے قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، یہ بات چیت اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دی گئی ہے۔

    ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران ہونے والے حملوں میں 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے، بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط مہم کا حصہ ہیں، جن میں لبنان کے مختلف علاقوں بشمول وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

  • اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہےتاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے،مکابرہ میں فضائی حملہ کیا گیا جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی گئی، اسی طرح جنوبی شہر تائر میں بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں سے ایک حملہ ایک اسپتال کے قریب ہوا اور یہ حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے فوراً بعد کیا گیا۔

    لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے خارج کرنے اور حملوں کے تسلسل سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،اس صورتحال نے جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں-

    ایران امریکا جنگ بندی: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، پاکستان سمیت عالمی مارکیٹس میں تیزی

  • ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی فوج نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی عسکری تنصیبات، آواکس طیاروں اور ری فیولنگ جہازوں کے مقامات پر سو سے زائد میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔

    ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں، خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد، ایرانی فوج نے صبح سے جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

    ایرانی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسرائیل کے تل ابیب، ایلات اور بنی براک میں فوجی مراکز، بن گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی آواکس اور ری فیولنگ طیارے، میزائل اور ڈرون کی نگرانی کرنے والے ریڈار نظام، اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے خلاف استعمال ہونے والے الیکٹرانک جنگی مراکز شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل بھی ایرانی فوج خطے میں امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں میں فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنا چکی ہے سیٹلائٹ نگرانی اور دستیاب معلومات کے مطابق ان حملوں سے متعلقہ مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جس سے فوجی کارروائیوں، فضائی مدد اور میزائل و ڈرون کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

    ایرانی فوج نے مزید کہا کہ اس حملے میں دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے جدید ’آرش ٹو‘ ڈرون بھی استعمال کیے گئےایرانی فوج کے تمام اہلکار بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    ایران کی ہلالِ احمر نے ملک میں حالیہ حملوں کے بعد شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تازہ تفصیلات جاری کی ہیں۔ ہلالِ احمر کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد شہری یونٹس متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں رہائشی عمارتیں، طبی مراکز، تعلیمی ادارے اور امدادی مراکز شامل ہیں، متاثرہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ تہران صوبے میں واقع ہے، جہاں حملوں کے باعث خاصا نقصان ہوا۔ ہلالِ احمر نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم ایک ہزار پانچ سو چھبیس افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔

    دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں سو سے زائد بھاری میزائل اور حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے، جب کہ اس کے ساتھ کم از کم دو سو راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے، جن میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی شامل تھی۔

  • ایران کا بیلسٹک میزائل  سے ڈیمونا میں حملے، عمارت تباہ، 20 اسرائیلی زخمی

    ایران کا بیلسٹک میزائل سے ڈیمونا میں حملے، عمارت تباہ، 20 اسرائیلی زخمی

    اسرائیل کے جنوبی شہر ڈیمونا میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں ایک عمارت تباہ ہو گئی جب کہ 20 اسرائیلی زخمی ہوگئے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ ایران کی جانب سے جاری نئے میزائل آپریشن کا حصہ ہے جس میں ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملے شروع کردیے ہیں، آپریشن وعدہ صادق میں وسطی اسرائیل کے 10 مقامات کو میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے ایران نے کلسٹر وار ہیڈ والے میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ جنوبی اسرائیل کے شہر ڈیمونا میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں تقریباً 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ڈیمونا میں ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں میزائل کو شہر پر گرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہےابتدائی اطلاعات کے مطابق میزائل کے ٹکرانے سے ایک عمارت منہدم ہو گئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں،عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد زور دار دھماکا ہوا اور ملبہ اطراف میں پھیل گیا، جس سے مزید نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اسی دوران شہر اور قریبی علاقوں میں ایک بار پھر خطرے کے سائرن بج اٹھے اور لوگ خوفزدہ ہوکر شیلٹز میں بھاگتے ہوئے نظر آئے۔

    خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

  • دبئی  انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کے میزائل حملے میں 16 افراد زخمی

    دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کے میزائل حملے میں 16 افراد زخمی

    دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے کے نتیجے میں 16 افراد زخمی ہوگئے۔

    دبئی میڈیا آفس نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل تھری کے مختلف حصوں میں دھواں بھر گیا تھا، جس کے باعث مسافروں اور عملے میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا۔

    میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے چار افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہےحکام کے مطابق ایئرپورٹ پر آگ لگنے کے کسی بڑے واقعے کی اطلاع نہیں ملی تاہم دھویں کے باعث کچھ حصوں کو عارضی طور پر خالی کرایا گیا۔

    سڑکوں پر بھرپور اور فیصلہ کن موجودگی کا وقت قریب ہے،رضا پہلوی

    اسی دوران ڈرون کو تباہ کرنے کی کارروائی کے وقت برج العرب کے بیرونی حصے میں آگ لگ گئی حکام کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہوٹل کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    اماراتی وزارت دفاع نے میزائل حملے کے بعد نیا الرٹ جاری کرتے ہوئے رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات یا شیلٹرز میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے ایران کی جانب سے داغے گئے132 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ 195 ڈرونز کو بھی مار گرایا گیاحکام کا کہنا ہے کہ دفا عی نظام پوری طرح متحرک ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے اب تک ‘ہماری توقع سے کم’ رہے،صدر ٹرمپ

    دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحا میں بھی ایک بار پھر درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر میں تقریباً 15 سے 20 الگ الگ دھماکے ہوئےاطلاعات کے مطابق ایران نے قطر میں واقع العدید ایئربیس پر مزید 2 میزائل داغے ہیں قطری حکام کے مطابق ایران کی جانب سے65 میزائلوں اور 12 ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حملوں کی شدید مذمت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شام کے وقت سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیر اعظم نے آج اسرائیل کے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی،وزیراعظم نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں انہوں نے سعودی قیادت کو پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر حال میں، ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت جاری رکھے گا،وزیراعظم نے اس نازک مرحلے پر پاکستان کی تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کی آمادگی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ ماہ مقدس رمضان المبارک کی برکتوں سے خطے میں جلد امن، استحکام اور ہم آہنگی قائم ہو۔

    سعودی عرب کا ایرانی میزائل کو ریاض کی فضاؤں میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

  • پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلیجنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیاافغانستان کے مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے ننگرہار جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف جیٹ طیاروں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا لیے گئے ہیں جبکہ شاہینوں کی پروازیں بد ستور جاری ہیں۔

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے بر مل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کئی دہشت گروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس میں دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق جنگی طیاروں نے دہشت گرد ی کےجوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ، اور ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ شامل ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گردی کے اقدامات خارجی عناصر نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دیے۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستان طالبان، فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی۔

    پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بارہا زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کے استعمال سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہےاسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارجاور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے،تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔