Baaghi TV

Tag: حنا ربانی کھر

  • پاکستان کی سفارت کاری تنہائی نہیں، امن کے فروغ پر مبنی ہے، حنا ربانی کھر

    پاکستان کی سفارت کاری تنہائی نہیں، امن کے فروغ پر مبنی ہے، حنا ربانی کھر

    سابق وزیر خارجہ اور پارلیمانی سفارتی وفد کی رکن حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری کا محور کسی ملک کو تنہا کرنا نہیں بلکہ امن کو فروغ دینا ہے۔

    نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارتی وفد نے اقوام متحدہ سے کسی قسم کی مصروفیت نہیں رکھی، دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت، امریکا اور کینیڈا میں دہشت گردی جیسے واقعات میں ملوث ہے۔ نئی دہلی اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ بھی مل کر چلنے کو تیار نہیں، جس سے اس کے رویے کا عالمی سطح پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ شفاف انداز میں سفارتی اقدامات کیے اور امن کی کوششوں میں پہل کی۔ انہوں نے کہا، "ہم نے نریندر مودی کا ماضی بھلا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، مگر مودی کی زبان اب بھی دھمکی آمیز ہے، وہ کہتے ہیں روٹی کھاؤ یا گولی کھاؤ۔”

    ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام اور میڈیا واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر تبصرے سے گریز کر رہے ہیں، جو عالمی سطح پر بھارت کے منفی کردار کو بے نقاب کر چکی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، جھوٹی خبریں، ویڈیو گیمز کی فوٹیج اور سنسنی خیزی کا انکشاف

    تمباکو سیکٹر سے 570 ارب روپے ٹیکس وصولی ممکن، غیر قانونی سگریٹ سب سے بڑی رکاوٹ

    پاک کالونی کراچی میں پولیس مقابلہ، لیاری گینگ وار کے 6 کارندے گرفتار

    امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب،مولانا فضل الرحمان خصوصی توجہ کا مرکز،مبشر لقمان کی بھی شرکت

  • بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں کا فی اضافہ ہوا ہے ،حنا ربانی کھر

    بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں کا فی اضافہ ہوا ہے ،حنا ربانی کھر

    وزیر مملکت برائے داخلہ حنا ربانی کھرنے مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم یہاں پناہ گزینوں کو عزت دینے کے لیے آئے ہیں۔

    حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کا عالمی دن ان کے احترام کا دن ہے۔ ابھی بھی بہت چیلنجز ہیں اور یہ ایسی چیز نہیں جس کا جشن منایا جائے۔ کلائیمنٹ انڈیوسٹ ڈسپلیسمنٹ ایک بہت بڑی وجہ سے نقل مکانی کی۔ بین الاقوامی برادری کو میزبان ممالک کی مدد کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میں مالی مدد کے بارے میں بات نہیں کررہی، میں اپنے کام کو بہتر معیار دینے کی بات کر رہی ہوں ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ رقم صحیح طریقے سے پناہ گزینوں کو بھیجی جا رہی ہے۔ افغان اور دیگر مہاجرین کو پاکستان میں صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ہم دوسرے میزبان ممالک میں نہیں دیکھتے۔ پناہ گزین صرف صفحات پر نمبر نہیں ہیں، وہ انسان ہیں۔ بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں کا فی اضافہ ہوا ہے۔ 2023 میں مہاجرین کی تعداد بڑھ کر 35 ملین ہو گئی ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ رقم صحیح طریقے سے پناہ گزینوں کو بھیجی جا رہی ہے۔افغان اور دیگر مہاجرین کو پاکستان میں صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔

    آئیے ایک ساتھ کھڑے ہوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ ایک ساتھ مل کر، ہم فرق کر سکتے ہیں.ہر شخص حفاظت، وقار اور گھر بلانے کی جگہ کا مستحق ہے۔ آئیے پناہ گزینوں کے حقوق کی وکالت کریں اور ان کا کھلے دل سے استقبال کریں ،ہر شخص حفاظت، وقار اور گھر بلانے کی جگہ کا مستحق ہے۔ آئیے پناہ گزینوں کے حقوق کی وکالت کریں اور ان کا کھلے دل سے استقبال کریں۔ ایک پناہ گزین کا سفر انسانی روح کی طاقت اور عزم کا ثبوت ہے۔ آئیے انہیں ہمدردی اور بہتر مستقبل کا موقع فراہم کریں۔ ہمدردی کوئی سرحد نہیں جانتی۔ آئیے ایک ساتھ کھڑے ہوں اور مہاجرین کی حمایت کریں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ان کی آواز سنی جائے اور ان کے حقوق کا احترام کیا جائے پناہ گزین ہمارے معاشروں میں تنوع، لچک اور ثقافتی دولت لاتے ہیں۔ آئیے ان کے تعاون کو قبول کریں اور جامع کمیونٹیز بنائیں

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • وزیرِ اعظم شہباز شریف اورحنا ربانی کھر کی امریکا سے تعلقات پر گفتگو لیک

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اورحنا ربانی کھر کی امریکا سے تعلقات پر گفتگو لیک

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ مملکت برائے خارجہ کی خارجہ پالیسی امور کی گفتگو کا ریکارڈ لیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : واشنگٹن پوسٹ نے ”ڈسکارڈ لیکس“ کے نام سے لیک ہونے والی ان خفیہ امریکی انٹیلی جنس دستاویزات تک رسائی حاصل کی ہے اور اس بارے میں ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی یا تو معذرت کریں یا ثبوت مہیا کریں،مفت آٹا اسکیم کے الزام …

    ڈسکورڈ لیکس (DISCORD LEAKS) دستاویزات میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کی امریکا سے تعلقات پر گفتگو سامنے آ گئی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے متعلق خفیہ انکشافات ایک معاون کے ساتھ روس یوکرین تنازع پر یو این ووٹنگ سے متعلق ہیں۔

    لیک ہونے والی دستاویزات میں سے ایک کے مطابق، پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے مارچ میں دلیل دی تھی کہ ان کا ملک "اب چین اور امریکہ کے درمیان درمیانی بنیاد برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔”

    ایک داخلی میمو میں جس کاعنوان تھا "پاکستان کے مشکل انتخاب”، کھرجنہوں نے پہلے پاکستان کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کیا،لیک دستاویزات کے مطابق حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کو مغرب کو خوش کرنے سے گریز کرنا چاہیے پاکستان کی امریکا سے اسٹریٹجک پارٹنر شپ قائم رکھنے کی خواہش چین سے اصل اسٹریٹجک پارٹنر شپ کے مکمل فوائد کو قربان کردے گی نامعلوم انٹیلی جنس دستاویز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ امریکہ نے کھر کے میمو تک کیسے رسائی حاصل کی۔

    ملک میں گندم کی ریکارڈ پیداوار پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے،وزیراعظم

    ایک اور دستاویز، مورخہ 17 فروری، یوکرین کے تنازع پر آئندہ اقوام متحدہ کی ووٹنگ کے بارے میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ایک ماتحت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو بیان کرتی ہےمعاون نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ قرارداد کی حمایت سے پاکستان کے روس سے تجارت اور توانائی کے سمجھوتے خطرے میں پڑ سکتے ہیں، قرار داد کی حمایت پاکستان کی پوزیشن میں تبدیلی کا تاثر دے گی۔

    انٹیلی جنس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ معاون نے شریف کو مشورہ دیا کہ اس اقدام کی حمایت پاکستان کی پوزیشن میں تبدیلی کا اشارہ دے گی جب کہ اس سے پہلے اسی طرح کی قرارداد پر عدم توجہی کی گئی تھی۔ معاون نے نوٹ کیا کہ پاکستان روس کے ساتھ تجارت اور توانائی کے معاہدوں پر بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور مغربی حمایت یافتہ قرارداد کی حمایت ان تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتی ہےجب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 23 فروری کو ووٹ دیا تو پاکستان ان 32 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے غیر حاضر رہے۔

    سوڈان کے متحارب فریقین مذاکرات کیلئے تیار

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستانی حکام اور لیک ہونے والی دستاویزات میں شامل دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی یہ رپورٹ امریکا کی یوکرین جنگ پر کم ہوتی بین الاقوامی حمایت کے حوالے سے ہے۔

  • مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

    مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

    افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی چوتھی بین الوزارتی کانفرنس افغانستان کے پڑوسی ممالک کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کیلئے طے شدہ لائحہ عمل کا تسلسل ہے۔ 2021 میں افغانستان کے استحکام کیلئے پاکستان نے جامع پلان ترتیب دیا تھا اور حالیہ اجلاس پاکستان کی انہی کاوشوں کے مرہون منت ہے۔

    ازبکستان کے دارلحکومت ثمرقند میں13 اپریل کو اہم کانفرنس ہوئی، افغانستان کے پڑوسی ممالک کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کیلئے طے شدہ لائحہ عمل کا تسلسل ہے ، 2021 میں افغانستان کے استحکام کیلئے پاکستان نے جامع پلان ترتیب دیا تھا حالیہ اجلاس پاکستان کی ان کاوشوں کے مرہون منت ہے افغان عبوری حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری ہے افغان عبوری حکومت کو کچھ لازمی نکات پر عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ خطہ استحکام اور امن کے ثمرات سے مستفید ہو ،افغان انتظامیہ یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو ،افغانستان کو جامع اور تمام گروہوں کی نمائندہ سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو معتدل داخلی اور خارجی پالیسیاں بنائیں ،افغان قیادت کو تمام نسلی، لسانی گروہوں بالخصوص خواتین اور بچوں سمیت تمام افغانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا ،افغان حکام ٹھوس اقدامات کریں تاکہ افغانستان دوبارہ کبھی بھی دہشت گردی کی افزائش، محفوظ پناہ گاہ یا سہولت کاری کے طور پر استعمال نہ ہو ،افغان حکام کو ہر حال میں پاکستان مخالف عناصر کو نکیل ڈالنی ہوگی ،افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے سے متعلق افغان طالبان کے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہوں گے ،پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم، خود مختار، خوشحال اور متحد افغانستان کا خواہاں ہے ،افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان تمام کوششوں کی حمایت بدستور جاری رکھے گا

    ازبکستان کے شہر سمرقند میں افغانستان کے پڑوسی ممالک کے چوتھے اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان سب کے مفاد میں ہے، مسلسل تنازعات اور عدم استحکام سے نہ صرف افغانستان اور اس کے عوام کو خطرہ ہے بلکہ اس کے خطے اور اس سے باہر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں امن اور استحکام کے خواہشمند ہیں ہ افغانستان کےپڑوسیوں کا فارمیٹ اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ ہمارا خطہ نہ صرف مشترکہ ماضی بلکہ ایک مشترکہ مستقبل کا بھی پابند ہے ہے، ہماری قسمت آپس میں جڑی ہوئی ہے، ان گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی رہنمائی میں یہ فطری بات ہے کہ ہم افغانستان کی صورتحال کے لیے علاقائی نقطہ نظر کو فروغ دینے کے لیے اس قدر اعلیٰ ترجیح دیتے ہیں۔ اسلام آباد سے تہران اور تونسی سے سمرقند تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ہمارا ایک پرامن، مستحکم اور باہم مربوط افغانستان کے لیے کام کرنے کا مشترکہ عزم ہے، ہم ایک نازک موڑ پر مل رہے ہیں، افغانستان کو اس وقت متعدد اور باہمی طور پر تقویت دینے والے چیلنجز کا سامنا ہے، ملک میں انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، 28 ملین افراد میں سے آبادی کے دو تہائی حصہ کو زندہ رہنے کے لیے فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،حنا ربانی

    بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،حنا ربانی

    اسلام آباد: وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نےکہا ہےکہ کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نےکہا کہ سابقہ دور حکومت میں بیک ڈور ڈپلومیسی ہو رہی تھی، بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،بیک ڈور ڈپلومسی نتیجہ خیز ہو تو ضرور ہونی چاہیے-

    سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کے راستے پر کیوں نہیں چلتے، اگرسرحد پار وزیراعظم کہےکہ ایٹمی اثاثے دیوالی کے لیے نہیں رکھے، تو آپ کیا کریں گے؟ –

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ابھی سرحد پار سے دشمنی ایک منفرد طرز کی ہے، جو سرحد پار حکومت کے باعث ہے،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،خطے کے مفاد میں نہیں کہ لاشیں گریں، خون بہتا رہے، ہمیں سیاست کی بجائے ریاستی پالیسی کو اپنانا ہو گی ہم ایسا ریلیف ہر روز دیں گے جس سے ملک کے لوگ شہید ہونا بند ہوں-

    ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں، چیف جسٹس

    حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ ہم امن کے راستے پر ہیں، پاکستان نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھا لیکن خطے کے بعض ممالک نے نہیں سیکھا، پاکستان میں اقلیتیوں کو مکمل مذہبی تحفظ حاصل ہے بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوریا ہے اب بی بی سی کی دستاویزی فلم سے دنیا کو وہ سب آشکار ہوا ہے جو ہمارا موقف تھا۔

  • بھارت کو خبردار کرتی ہوں،انتہا پسند سوچ  پر عمل کرنے سے گریز کرے،حنا ربانی کھر

    بھارت کو خبردار کرتی ہوں،انتہا پسند سوچ پر عمل کرنے سے گریز کرے،حنا ربانی کھر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں پاکستان آج بھی دہشت گردی سے نمٹ رہا ہے حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں،لاہورمیں دہشت گردی کا جو واقعہ ہوا اس میں بھارت ملوث تھا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے سمجھوتہ ایکسپریس واقعہ بڑاثبوت ہے کلبھوشن یادیو کیس میں بھی پاکستان نے ثبوت پیش کیے، بھارت پاکستان میں امن ہی نہیں چاہتا،بھارت کالعدم تنظیم بی ایل اے کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے ،صرف بھارت کو اگر ذمہ دار نہ بھی سمجھیں تو ماضی اور حالیہ واقعات ہاں سے دہشت گردی ثابت کرتی ہے بھارت کی جانب سے جو کارروائیاں ہورہی ہیں اس سے خطے کو براہ راست نقصان پہنچ رہا ہے بھارت مسلسل اقوام متحد ہ کی قراردادو ں کی خلاف ورزی کر رہا ہے،ہمارے پاس بھارت کے ملوث ہونے ثبوت ہیں دہشت گردی کے معاملے کو اجاگرکرتے رہیں گے،پاکستان نے بارہا بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت دنیا کو پیش کیے بھارت دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے دوسرے ممالک پر الزام لگاتا ہے،اس بات سے انکار نہیں کہ سی پیک کو متاثر کرنے میں بھی بھارت ملوث ہے،بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے کراچی میں چینی قونصل خانے ،بلوچستان اور لاہور میں حالیہ واقعات میں بھارت ملوث ہے ہمارے پاس بھارت کی جانب سے تخر یبی کارروائیوں کے ناقابل تردید شواہد ہیں بھارت دہشت گردی کی منصوبہ سازی کرتا ہے اوراس میں عام لوگوں کا استعمال کرتاہے ،ہمارے پاس بھارت کے خلاف جوشواہد تھے ہم نے کچھ یواین سیکریٹری جنرل کو بھی پیش کیے ،دہشت گردوں کے انٹر پول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے ،

    حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارت جو کررہاہے ہم ان پر خاموش نہیں بھارت کو انتہا پسند سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی بھارت مثبت ڈپلومیسی کے ایجنڈے پر کام کرے ،بھارت جو کارروائی کرتاہے اس سے صرف پاکستانی نہیں پورا خطہ متاثر ہوتا ہے ،بھارت کو خبردار کرتی ہوں ،دہشتگرد ی کے منصوبے اور انتہا پسند سوچ پر عمل کرنے سے گریز کرے،ہمیں امیدہے بین الاقوامی برادری بھارت کے منفی عزائم پر اس کا احتساب کرے گی پاکستان امن کو نقصان پہنچانے والی بھارتی تخریب کاریوں پر خاموش نہیں ہوگا، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے را مختلف تنظیموں کی مالی معاونت کرتا ہے گویندا اپٹنائک ،دنگارا ،پارتھیا سارتھی بھارتی دہشت گرد ہیں گوادر دیگر ممالک سے پاکستان کو کنکٹ کرتا ہے 10 سال سے بھارت میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سوچ کو مزید فروغ ملاہے،تنبیہہ کرتے ہیں کہ اگر آپ اپنے ہمسایہ کے گھر میں آگ لگانے کی کوشش کرینگے گے تو پھر گھر آپکا بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہے گا ہم نے پورے مکمل ثبوتوں کیساتھ سفارتی حلقوں کو ڈوسئیر دیا ہے کہ کس طرح بھارت تازہ ترین واقعہ کے پیچھے ملوث ہے جس کے نتجہ میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں پاکستان کو بھارت کے لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت مل گئے پاکستان نے ڈوزیئر تیار کرلیا جو اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل اور سیکیورٹی کونسل کے ممبر ممالک کو بھجوایا جارہا ہے۔

    جوہر ٹاون دھماکہ کیسے ہوا ؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آ گئی

    جوہر ٹاون دھماکہ حافظ محمد سعید کی رہائشگاہ کے قریب ہوا؟ حقیقت سامنے آ گئی،

    جوہر ٹاون دھماکہ۔ زخمیوں کے نام سامنے آ گئے ۔اموات میں اضافہ

    لاہور جوہر ٹاؤن دھماکے میں پڑوسی ملک کے ملوث ہونے کے ثبوت سینئر صحافی سامنے لے آئے

    لاہور میں دھماکہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ، شہباز شریف

    دہشت گردی کے کتنے تھریٹ ملے تھے؟ لاہور دھماکے کے بعد آئی جی کا انکشاف

    جوہرٹاون دھماکہ:تحقیقاتی ادارے ملزم کے قریب پہنچ گئے،

    جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

    لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید

    جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

    جوہر ٹاؤن دھماکہ، سب ملزمان گرفتار، ملک دشمن خفیہ ایجنسی ملوث، بزدار کی پریس کانفرنس

    جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی

    جوہر ٹاؤن لاہور 2021 کے دہشتگردی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی 

  • شراکت داری سے ڈی ایٹ ممالک اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرسکتے ہیں،حنا ربانی کھر

    شراکت داری سے ڈی ایٹ ممالک اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرسکتے ہیں،حنا ربانی کھر

    وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے ترقی پذیر ممالک ڈی ایٹ کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے نجی سیکٹر کوآرڈینیشن سہولت کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ڈی ایٹ کے وزراء خارجہ کی کونسل کے اجلاس سے ہائبرڈ فارمیٹ میں خطاب کے دوران کیا۔

    مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    انہوں نے آسان قانونی فریم ورک کے ذریعے تجارت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سرمایہ کاری اور کاروبار کیلئے مساوی مواقع پر زور دیا۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ جیو اکنامکس کے پاکستان کے وژن میں سماجی و اقتصادی ترقی، روابط اور ترقی کو مرکزیت حاصل ہے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ تعاون اور شراکت داری کے ذریعے ڈی ایٹ ممالک اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرسکتے ہیں، پاکستان کا محل وقوع ایشیا کے اہم خطوں وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور چین کیلئے اہم زمینی اور بحری رابطے کا ذریعہ ہے جس نے پاکستان کو جغرافیائی سیاسی طور پر دنیا کی سب سے اہم ریاستوں میں شامل کردیا ہے۔

     

    دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت ہے،گورنر پنجاب

     

    انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے یہ جغرافیائی سیاسی اثاثہ تیزی سے جیو اکنامک ڈیویڈنڈ میں تبدیل ہوجائے گا۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے وزراتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔ ترکی اور ایران کے وزراء خارجہ اور نائیجیریا کے وزیر مملکت کے علاوہ مصر، انڈونیشیا اور ملائشیا کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    وزراءنے ڈی ایٹ سیکرٹریٹ کیلئے مالی اور انسانی وسائل کو بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اجلاس نے سیکرٹریٹ کو ڈی ایٹ کے رکن ممالک کی جانب سے مالی معاونت کیلئے پراجیکٹ کی تجاویز کا مزید جائزہ لینے کا کام بھی سونپا ہے۔ اجلاس میں جمہوریہ آذربائیجان کی ڈی ایٹ کا رکن بننے کی خواہش کو سراہا گیا۔

    وزراء نے اس سال اکتوبر میں ڈی ایٹ کمیشن کا خصوصی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ ڈی ایٹ میں نئے رکن ممالک کے الحاق کے معیار کے حوالے سے حتمی سفارشات پیش کی جا سکیں۔

    اس سلسلے میں ایک رپورٹ کو وزراءکی کونسل کے اگلے اجلاس میں منظور کرنے پر غور کیا جائے گا۔15 جون 1997 کو استنبول میں قائم ہونے والے ڈی ایٹ گروپ میں بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا، پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔

  • حنا ربانی کھر کی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات

    حنا ربانی کھر کی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات

    روانڈآ:دولت مشترکہ سربراہانِ مملکت اجلاس کے موقع پر وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کی افریقی ملک روانڈا میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات ہوئی ہے۔

    حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیراعظم سے ملاقات خوشگوار رہی، ملاقات میں پاک برطانیہ تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور دونوں ملکوں کے ہمہ جہت عوامی رابطوں کے پُل کو مزید استحکام دینے پر اتفاق ہوا۔انہوں نے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم سے افغانستان اور دیگر مشترکہ امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    پاکستان اور برطانیہ نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ مفاہمت وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر اور برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے درمیان کیگالی، روانڈا میں 26ویں دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس (سی ایچ او جی ایم) کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں طے پائی۔

    ٹویٹر پر ایک مختصر بیان میں، کھر نے CHOGM میں کہا، دونوں رہنماؤں نے "پاک-برطانیہ تجارت، اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور ڈائنامک ڈائیسپورا پل سے مزید فائدہ اٹھانے” پر اتفاق کیا۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ "…افغانستان اور مشترکہ تشویش کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔”

     

    حناربانی کھر نے کامن ویلتھ فارن افیئرز منسٹریل میٹنگ (سی ایف اے ایم ایم) میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، جہاں انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے خاندان کے طور پر، دولت مشترکہ کو اقوام متحدہ کی مرکزیت کی تصدیق کرنی چاہیے، اور جمہوریت، قانون کی حکمرانی، اچھی حکمرانی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اور اقوام کے اندر اور ان کے درمیان استحکام، امن اور خوشحالی کی بنیاد کے طور پر انسانی حقوق کا احترام لازمی قراردیا

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدار، خاص طور پر انسانی حقوق کا احترام، بشمول حق خود ارادیت، تب ہی اپنے مقصد کو حاصل کریں گے جب ان کا اطلاق عالمی سطح پر اور بلا امتیاز کیا جائے۔

    جانسن کے ساتھ ملاقات کےعلاوہ وزیر مملکت نے برطانیہ کے وزیر برائے جنوبی ایشیا، دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ کے لارڈ طارق احمد، جمیکا کی وزیر خارجہ کمینا جانسن اسمتھ، ڈومینیکا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر کینتھ ڈیروکس اور خارجہ کے ساتھ مفید دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ سیرا لیون کے وزیر پروفیسر ڈیوڈ جے فرانسس۔

    دولت مشترکہ 54 ریاستوں کی ایک تنظیم ہے جو مشترکہ اقدار کے ساتھ مل کر شامل ہیں۔ حکومتی سربراہان کا اجلاس تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے، جس سے یہ وبائی امراض کے بعد کی مدت میں دولت مشترکہ کا پہلا اجتماع ہے۔

  • ایف اے ٹی ایف اجلاس جاری،حنا ربانی کھر اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گی

    ایف اے ٹی ایف اجلاس جاری،حنا ربانی کھر اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گی

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جرمنی میں جاری ہے جہاں پاکستان کی جانب سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس جرمنی کے شہر برلن میں 17جون تک جاری رہے گا۔ وزیر مملکت حنا ربانی کھر ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گی، اجلاس میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے تحت پاکستان کی پیشرفت پر گفتگو ہوگی-

    بڑی امید ہے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا:جرمن سفیر

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پلینری انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ آئی سی آر جی کی سفارشات کا جائزہ لے گی، وزیر مملکت ایف اے ٹی ایف کے نئےاور سبکدوش ہونے والے صدور سے ملاقاتیں کریں گی، ایگزیکٹو سیکریٹری اور رکن ممالک کے وفود کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں شیڈول میں شامل ہے۔

    وزیر مملکت جرمنی دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں جرمنی کے معززین سے ملاقاتیں بھی کریں گی، پاکستان کوگرے لسٹ سے نکالے جانےکا امکان ہے۔

    ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس:پاکستان کی کوششوں کوکامیابی ملنےکا امکان

    واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کو دیئے گئے دو ایکشن پلان کے 34 نکات پر عملدرآ مد کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اور ان نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کےلیے پاکستان کے آن سائٹ وزٹ کا فیصلہ کیا جائے گا اس کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے رواں برس اکتوبر میں ہونے والے پلینری اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگا ایف اے ٹی ایف کا جوائنٹ اسسمنٹ گروپ جولائی یا اگست میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لے گا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکات پر مکمل عملدرآمد کرلیا ہے اور پاکستان نے کامیابی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف کا اجلاس آج سے شروع،پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کا قوی امکان

  • پاکستان نے یوکرین کے جنگ زدہ عوام کیلئے امدادی سامان کی دوسری کھیپ بھجوا دی گئی

    پاکستان نے یوکرین کے جنگ زدہ عوام کیلئے امدادی سامان کی دوسری کھیپ بھجوا دی گئی

    یوکرین :پاکستان نے یوکرین کے جنگ زدہ عوام کیلئے امدادی سامان کی دوسری کھیپ بھجوا دی گئی ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے نورخان ایئربیس پر یوکرین کے عوام کے لئے امدادی سامان کی دوسری کھیپ بھجوانے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، وزیرمملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر، این ڈی ایم اے حکام، یوکرین کے سفیر نے بھی شرکت کی۔

    حنا ربانی کھر نے یوکرین میں جاری جنگ پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یوکرین کے جنگ زدہ عوام کی ہرممکن مدد جاری رکھیں گے۔یوکرین کے سفیر نے مشکل وقت میں دوسری بار امدادی سامان بھجوانے پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے یوکرین کو امدادی سامان بھیجنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یوکرین میں جاری جنگ کے حوالہ سے شدید تحفظات رکھتا ہے۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ امدادی سامان یوکرین کے عوام کے ساتھ پاکستان کا اظہار یکجہتی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور یوکرین کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہیں، جنگ کے باعث یوکرین میں بڑی تعداد میں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے توقع ظاہر کی ہے کہ یوکرین کے عوام موجودہ بحران سے جلد نکلیں گے، یوکرین کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں گے۔

    اس موقع پر یوکرین کے سفیر نے کہا کہ یوکرین کے عوام کو اس وقت جنگ کا سامنا ہے ، مشکل وقت میں مدد پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ یوکرین بھیجی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ جنگ کے باعث یوکرین میں بڑی تعداد میں شہری بے گھر ہوچکے ہیں، امدادی سامان یوکرین کے جنگ میں گھرے عوام کے ساتھ پاکستان کی طرف سے یکجہتی کا اظہار ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک