Baaghi TV

Tag: حنا ربانی کھر

  • شاہ محمود قریشی کیلئےموقع ہےکہ حناربانی کھرسے سفارتکاری سیکھ لیں،سلیم صافی

    شاہ محمود قریشی کیلئےموقع ہےکہ حناربانی کھرسے سفارتکاری سیکھ لیں،سلیم صافی

    شاہ محمود قریشی کیلئےموقع ہےکہ حناربانی کھرسے سفارتکاری سیکھ لیں،سلیم صافی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں عمران خان کی جانب سے لہرائے گئے دھمکی آمیز خط بارے بات چیت ہوئی

    اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا کہ کسی قسم کی کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عہدیدار کی گفتگو کی اطلاع شاہ محمود قریشی کوفوری دے دی گئی تھی مگرانہوں نے دفترخارجہ کوفوری احتجاجی مراسلہ دینے سے منع کردیا ۔خود سفیر نے اپنے مراسلے میں احتجاج کا کہا تھا مگرنہیں کیا گیا ۔بلکہ ایک مراسلے کوسیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔ ادارے اور مراسلہ لکھنے والے سفیر متفق ہیں اسے سازش نہیں کہا جا سکتا،اتنی بڑی دھمکی تھی تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ مراسلہ آنے کے بعد کئی روز خاموش کیوں بیٹھے رہے؟

    حنا ربانی کھر کے جواب پر سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی ہوتی ہیں وزیر خارجہ اور یہ ہوتی ہے سفارتی زبان۔۔ شاہ محمود قریشی کے لئے اچھا موقع ہےکہ حنا ربانی کھر سے سفارتکاری اور سفارتی زبان سیکھ لیں کیونکہ ہوسکتا ہے وہ اگلی حکومت میں پھر پیپلز پارٹی یانون لیگ کے ٹکٹ پر وزیر بن جائیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ایجنسیوں نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ،جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں واشنگٹن سے پاکستانی سفارتخانے کے مراسلے کا جائزہ لیا گیا،سابق پاکستانی سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو مراسلے سے متعلق بریفنگ دی،تمام سیکیورٹی ایجنسیز نے خط کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد متفقہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی،

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے کے دوران ایک خط لہرا کر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش ایک بہت ہی طاقتور ملک کی جانب سے کی گئی

    بعد ازاں اس معاملے پر دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور سے احتجاج کرتے ہوئے ڈی مارش بھی جاری کیا تھا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد منتخب ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی ہی تقریر میں قومی اسمبلی میں مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر بیرونی مداخلت ثابت ہو گئی تو وزارت عظمیٰ چھوڑ دوں گا

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ، امریکی ردعمل بھی آ گیا

  • امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال

    امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی وزیرِ اعظم سے ملاقات، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کانگریس وومن محترمہ الہان ​​عمر نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آج امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز کی رکن الہان ​​عمر کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ان کے عزم و ہمت اور سیاسی جدوجہد کو سراہتے ہوئے، وزیر اعظم نے پاکستان کے پہلے دورے پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

    وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اس سے پاکستان اور امریکی عوام کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور پاکستانی پارلیمنٹ اور امریکی کانگریس کے درمیان تبادلہ خیال کو تقویت ملے گی۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باہمی احترام، اعتماد اور مساوات پر مبنی دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط سے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

    ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اس بات کا ذکر ہوئے کہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان امریکہ تعلقات کو تقویت دینے میں سمندر پار پاکستانیوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان قومی ترقی اور نمو میں ان کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    وزیر اعظم نے IIOJK میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زوردیا جس سے خطہ اپنی اقتصادی صلاحیت کر بھرپور طریقے سے بروئے کار لا سکے اور سماجی ترقی کو فروغ دے سکے۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم جنوبی ایشیاء ہی اپنی ترقی پر بھرپور توجہ دے سکتا ہے اسلامو فوبیا جیسی برائی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    رکن کانگریس الہان ​​عمر نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے دورہ پاکستان سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

    علاوہ ازیں امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر نے وفد کے ہمراہ وزارتِ خارجہ آفس کا دورہ کیا وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے معزز مہمانوں کا خیر مقدم کیا-

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے الہان عمر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ دو طرفہ مراسم ہیں، پاکستان، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے-

    وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے مقبوضہ کشمیر میں، 5 اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدامات کے بعد مظلوم کشمیریوں کی پرزور حمایت اور ان کے حق میں آواز اٹھانے پر الہان عمر کا شکریہ ادا کیا-

    ممتاز پاکستانی امریکن ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید بھی اس ملاقات میں شریک تھے

    کانگریس کی خاتون رکن الہان ​​عمر 20 سے 24 اپریل 2022 تک پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ، وہ لاہور اور آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کریں گی تاکہ پاکستان کی ثقافتی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ سمجھ سکیں۔

  • افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں،حنا ربانی کھر

    افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں،حنا ربانی کھر

    افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں،حنا ربانی کھر

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر سے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق کی وزارت خارجہ میں ملاقات ہوئی

    ایڈیشنل سیکرٹری افغانستان عامر آفتاب قریشی و ڈی جی افغانستان، آصف میمن بھی اس موقع پر موجود تھے نمائندہ ء خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق نے افغانستان اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کو تفصیلی بریفنگ دی

    وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات باعث تشویش ہیں، پاکستان، افغانستان کی آزادی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے،پاکستان کیلئے مستحکم اور پرامن افغانستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے ،

    قبل ازیں رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا چارج سنبھال لیا حنا ربانی کھر منگل کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے وزارت خارجہ پہنچیں تو سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی حنا ربانی کھر اس سے قبل فروری 2011 سے مارچ 2013 تک وزیر خارجہ رہ چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ وزیر مملکت برائے خزانہ اور اقتصادی امور بھی رہ چکی ہیں