Baaghi TV

Tag: حکمران

  • سیاسی ومذہبی جماعتیں  نفاذ اسلام کے میثاق پر یکجا ہوجائیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاسی ومذہبی جماعتیں نفاذ اسلام کے میثاق پر یکجا ہوجائیں،ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملک بچانے کےلئے نفاذ اسلام کے میثاق پر یکجا ہوجائیں ۔ پاکستان کو صرف اسلامی نظام کے نفاذ کے میثاق سے ہی بچایا جاسکتا ہے ۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام کا کہنا تھا کہ ملک نازک ترین حالات سے گزررہا ہے اور ہمارے سیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں ۔ ملک بچانے کےلئے میثاق اسلام کے علاوہ تمام تجربات ناکام ہوں گے ، کچھ جماعتیں میثاق معیشت اور کچھ جماعتیں میثاق جمہوریت کی تجویز پیش کررہی ہیں ہماری تجویز یہ ہے کہ ملک بچانے کےلئے میثاق اسلام پیش کیا جائے ۔ اسلئے کہ یہ ملک اللہ نے ہمیں اسلام کی برکت سے عطاکیا ہے ، جب ہمارے حکمرانوں نے نفاذ اسلام کے وعدے سے رو گردانی کی تو پھر حالات دن بہ دن تنزلی کا شکار ہوتے چلے گئے یہاں تک پاکستان دولخت ہوگیا ۔ اس وقت بھی اقتدار کے جو تجربے کئے جارہے ہیں یہ ناپائیدار ہوں گے ، پائیدار تجربہ صرف اسلام کا نفاذ ہے ۔ ہماری معیشت اور جمہوری ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں ۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام کا مزید کہنا تھا کہ معیشت اور جمہوری اداروں کے استحکام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کا سب سے اہم ترین لائحہ عمل یہ ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں نفاذ ِ اسلام کے میثاق پر متفق ہوجائیں ۔ یہ ملک ہمارے پاس لاکھوں شہدا ءکی امانت ہے ، اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے ۔اس کی بقا ، دفاع ، تحفظ اور استحکام صرف اور صرف باہمی اتحاد میں ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ہمارا دین تحمل ، برداشت اور باہمی اتحاد واتفاق کا سبق دیتا ہے ۔ جبکہ ہمارے سیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں عوام اور ملک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جس کے نتیجہ میں بے یقینی کی کیفیت طاری ہے، مہنگائی روز بہ روز بڑھ رہی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان اتحاد واتفاق کا مظاہرہ اور میثاق اسلام پر متفق ہوجائیں تاکہ ملک تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔

    تبصرہ کتب، زکوٰۃ ،عشراور صدقۃ الفطر

    تبصرہ کتب،واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات

    تبصرہ کتب،بچوں کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا

    تبصرہ کتب، خواتین کے امتیازی مسائل

    نام کتاب : جنوں اورشیطانوں کی دنیا

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

  • وزیراعظم کا نوٹس، بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب

    وزیراعظم کا نوٹس، بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کل اسلام آباد میں بجلی کے نرخوں اور صارفین کے بلوں پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، وزیراعظم نے وزارت بجلی اور تقسیم کار کمپنیوں سے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ پیش کرنے کی بھی ہدایت کر دی، اجلاس میں صارفین کو بجلی کے بِلوں کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی

    واضح رہے کہ بجلی کے بلوں کی وجہ سے پاکستان بھر کی عوام سراپا احتجاج ہے، بجلی کے بل زیادہ آنے کی وجہ سے عوام خود کشیان کرنے پر مجبور ہو چکی ہے، ملک بھر میں بجلی صارفین بھاری بلوں سے تلملا اٹھے ،حکومت ایک طرف سرکاری ملازمین کو مفت بجلی فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف بجلی چوری اور لائن لاسز بھی عوام کے کھاتے میں ڈال پیسے وصول کئے جاتے ہیں ،بجلی کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں،سرکاری ملازمین کیلئے پھر بھی مفت بجلی کے مزے برقرار ہیں،مہنگائی کے ستائے پاکستان کے شہریوں کیلئے بجلی کے بل ادا کرنا مشکل ہو گیا

    توانائی کے شعبے سے وابستہ سرکاری اداروں کے ملازمین کو اربوں روپے کی مفت بجلی دی جارہی ہے ،ایک سال میں 8 ارب 19 کروڑ روپے مالیت کی بجلی مفت استعمال کی جاتی ہے ،سرکاری ملازمین نے ایک برس میں 34 کروڑ 46 لاکھ یونٹس بجلی مفت استعمال کی,ایک تا درجہ چہارم کے حاضر سروس ملازمین کو 100 یونٹ بجلی مفت دی جاتی ہے ،اسی درجہ کے ریٹائرڈ ملازمین کو 50 یونٹ بجلی مفت فراہم کی جاتی ہے,پانچویں سے 10ویں اسکیل تک حاضر سروس 150 اور ریٹائرڈ کو 75 یونٹ بجلی مفت دی جا رہی ہے,11ویں سے 15ویں اسکیل تک حاضر سروس کو 200 اور ریٹائرڈ کو 100 یونٹ بجلی مفت دی جاتی ہے,16ویں اسکیل کے حاضر سروس کو 300، 17ویں کو 450، 18ویں کو 600 یونٹ بجلی مفت دی جاتی ہے,ذ19ویں گریڈ کو 880، 20ویں کو 1110 یونٹ بجلی مفت دی جا رہی ہے,21 اور 22 گریڈ والے ملازمین کو بجلی کے 1300 یونٹ مفت دیے جاتے ہیں,

    بجلی چوری اور سہولت کاری میں ملوث 10 سرکاری ڈسکوز کے 743 ملازمین وافسران کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سب سے زیادہ 422 اہلکاروں کا تعلق حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سے ہے 124 ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی، 118 لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اہلکار ملوث پائے گئے 44 فیصل آباد، 12 ٹیسکو اور سیپکو 11 کا تعلق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سے ہے

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بجلی کے بلوں کی خاطر خودکشیاں اور خود سوزیاں شروع کر دیں۔یہ ورسک روڈ پشاور کی ایک دکان کا بجلی بل ہے۔ اس میں 13 مختلف قسم کےٹیکسز لیے جا رہے ہیں۔ بجلی 18 ہزار کی خرچ ہوئی، 16 ہزار کے ٹیکس بل میں شامل کرکے بجلی کا بل34 ہزار آیا ہے اور اب قیمتوں میں حالیہ5 روپے 40 پیسے فی یونٹ اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔گزشتہ دنوں پشاور کے رہائشی نبی گل نے جو عشرت سنیما چوک گلبہار پشاور میں ایک PCO چلارہا تھا، پچھلے ماہ 23 ہزار بجلی کا بل آیا تو موٹر سائیکل بیچ کر بل جمع کروایا اس ماہ 29 ہزار بل آ گیا تو تنگ آ کر خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ حکمرانوں ڈرو اس وقت سے جب عوام اپنے اوپر تیل چھڑکنے کی بجائے آپ کے محلات اور عیش و عشرت کے ایوانوں کی طرف تیل چھرکنے کیلئے لپکیں گے۔ حکمرانوں خدارا اس معاشی دہشتگردی کو روکو۔ عوام کا معاشی قتل بند کرو۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، ضروریات زندگی اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بند کرو۔

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو مشتعل کر دیا ہے جبکہ بجلی کے بھاری بھرکم بلز دیکھ کر عوام کا پارہ ہائی ہوگیا ہے کیونکہ آئے روز ہر حکومت بلوں میں اضافہ کررہی ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں عوام بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری بھرکم بلوں کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے اور سراپا احتجاج شہریوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے.

    مظاہرین کے مطابق بجلی آئے نہ آئے مگر بھاری بل ضرور ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ اوپر سے جرمانے الگ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ جینا محال ہو رہا ہے کوئی تو اس مہنگائی کو لگام ڈالے۔ ادھر دوسری جانب کراچی میں بھی شہریوں نے مہنگی بجلی اور بھاری بھرکم بلوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا ،پنجاب کے شہروں لاہور، قصور، گجرات، ملتان، رحیم یار خان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جہلم اٹک ، چکوال ،میانوالی سمیت دیگر میں عوام نے بجلی بلوں کے خلاف بھر پور احتجاج کیا، شہریوں کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں بجلی کے اضافی بل عوام کی برداشت سے باہر ہوگئے غریب عوام دو وقت کی روٹی پوری کریں یا بجلی کے بھاری بل جمع کرائے؟شہریوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور ٹیکس بھی ختم کیا جائے

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی

     

  • روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کےلیے راشن لینےآئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی

    روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کےلیے راشن لینےآئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی

    راجن پور:روجھان:پانیوں میں ڈوبتی ممتابچوں کے لیے راشن لینے آئی:راشن تونہ مل سکا جان چلی گئی،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پرایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک خاتون کی لاش ایک رکشے میں پڑی ہے اوراس کو اس کے گھرواپس پہنچانے کے لیے دریائے سندھ کے لہروں کے سپرد کرنے کے لیے کسی کشتی کا انتظارکیا جارہا ہے

     

     

    اس حوالے سے وہاں موجود الخدمت فاونڈیشن کے ایک رضا کارنے اس بے بس ماں کی بے بسی پرخون کے آنسو روتے ہوئے ایک منظرنامہ پیش کیا ہے ،خدائی مخلوق کا یہ رضا کاربتا رہا ہے کہ یہ رکشے پرموجود لاش اس ماں کی ہے جو گہرے پانیوں میں سے ہوتی ہوئی راجن پورکی تحصیل روجھان کی یہ بدقسمت ماں اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے لیے راشن لینے کے لیے یہاں پہنچی تھی

    اس رضا کار نے یہاں کا منظربیان کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کویہ امید دلا کرکہ میں آپ کے لیے ابھی روٹی اور کھانے پینے کا سامان لے کرآتی ہوں آپ انتظار کریں ، اپنے بچوں کے ہمیشہ ہمیشہ کےلیے انتظارپر لگا دیا ، یہ خاتون جو کہ روجھان کے علاقے سے دریائے سندھ کی ظالم لہروں سے کھیلتی ہوئی ، غوطے کھاتی ہوئے جب راشن لینے کے لیے دریا کے اس پارآئی تو راشن نہ مل سکا ،

    پتہ نہیں کہ اس ماں پراس وقت کیا بیتی ہوگی ، وہ اپنے بھوکے پیاسے بچوں کو جو امیدیں دلا کرآئی تھی وہ امیدیں دم توڑ چکی تھیں ، شایدیہ ممتا اپنے بچوں کی بھوک اورپیاس پرضط نہ کرسکی اوراسی پریشانی میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملی

    الخدمت کے یہ رضا کاربتاتے ہیں کہ بدقسمتی ہے انسانیت کے لیے کہ جن کو کھانے پینے کےلیے کچھ نہیں ملتا مگردوسری طرف حکمرانوں کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنیاں جانیاں جاری ہیں اور میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں مگراس ماں کا کیا قصورہے کہ جسے اپنے بھوکے پیاسے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی نہ مل سکی

    خدائی مخلوق کے اس کارکن کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس ملک میں غریب اور بے بس مزید غریب سے غریب تر ہوگیا ہ مگرحکمران ہیں کہ جن کوعوام کی فکر نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ روجھان کا علاقہ جس کی 5 ، 6 لاکھ آبادی ہے ، اس کی غریب مائیں اپنے بچوں کے لیے روٹی پانی کی خاطراپنی جانیں قربان کررہی ہیں‌، آخر یہ ظلم کب تک ہوتا رہے گا ، کیا یہ غریب عوام ایسے ہی حکمرانوں‌ کی بے حسی کا شکار ہوں گی یا پھرکوئی انقلاب آئے گا اور غریبوں اوربے بسوں کی آواز بن جائے گا

  • حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل کر رہ گئے۔ قوم کو لڑانے اور تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر گامزن حکمران جماعتیں حالات کی نزاکت کو جانتے ہوئے بھی خطرناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ حکومت جان لے کہ قومی اداروں کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کے ایجنڈے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، اقدامات اور قانون میں تبدیلی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ملکی اثاثے بیچنے کے شوق میں مبتلا حکمران آف شور کمپنیوں اور بیرون ملک بنکوں سے ذاتی اثاثے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں۔

    فارن فنڈنگ کیس:اسد قیصر، قاسم سوری و دیگر کیخلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونیکا امکان

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے مکینوں کا سب کچھ سیلاب کی نذر ہو گیا، حکمران فوٹوشوٹ کے علاوہ کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایک طرف گھنٹوں لوڈشیڈنگ جاری اور دوسری جانب بجلی کا بل دیکھ کر لوگوں کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ کرپشن اور سودی معیشت نے ہر شعبہ بربادکر دیا۔ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے مل کر پاکستان کو اس نہج پر پہنچایا۔ ایک ایجنڈے کے تحت عوام کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ استعماری طاقتیں پاکستان کے فیصلے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں نافذ کرتی ہیں۔ قوم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے، مافیاز سے نجات کے لیے جدوجہد کرنا ہر محب وطن شہری پر لازم ہو گیا۔

    سراج الحق نے کہا کہ مارشل لائی حکومتیں اور نام نہاد جمہوری ادوار ڈلیور کرنے میں ناکام رہے، اب ملک کو اسلامی نظام چاہیے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی اہلیت رکھتی ہے، قوم ہمارا ساتھ دے۔

     

    پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ پارٹی ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کرنا ہے،رانا ثناء اللہ

     

    بلوچستان کے سیلابی علاقوں کے تین روزہ دورہ کے بعد منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس میں امیر جماعت اور دیگر قائدین نے جماعت اسلامی بلوچستان کو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بہترین کارکردگی دکھانے پر مبارک باد دی اور اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں جماعت اسلامی بے پناہ پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ امیر جماعت اور مرکزی قائدین نے لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے فوجی افسران اور جوانوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور حادثہ کو قومی سانحہ قرار دیا۔ اجلاس میں سیلاب میں جاں بحق افراد کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ایمرجنسی اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

    امیر جماعت نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے تاحال اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے لٹے پٹے بے حال افراد کو ہمیشہ کی طرح تنہا چھوڑا ہوا ہے۔ انھوں نے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو امدادی سرگرمیوں میں بھرپور تیزی لانے کی ہدایات کے ساتھ ساتھ قوم سے عطیات اور امداد کی فراہمی کی اپیل بھی کی۔

    سراج الحق نے کہا کہ ملک کی معیشت مکمل طور پر ڈوب چکی ہے۔ سودی قرضوں پر انحصار، بیڈ گورننس اور کرپشن کی وجہ سے معیشت کا سقوط ہوا۔ اگر پی ٹی آئی نے پونے چار برسوں میں ہر شعبے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بھی سابقہ پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔ جن لوگوں نے مہنگائی کے خلاف جلسے جلسوس اور ریلیاں نکالیں انھوں نے صرف تین ماہ میں ہی بنیادی ضروریات کی اشیا کی قیمتوں میں سو گنا سے زیادہ اضافہ کردیا۔

    آج آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں،ادویات، پٹرول، بجلی اور گیس سفید پوش آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ملک میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار، ذرائع آمدن ختم ہونے کی وجہ سے گھر گھر غربت ناچ رہی ہے۔ لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ فاقوں پر مجبور ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خودکشیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ملک کا مجموعی نظام ایڈہاک کی بنیادوں پر چل رہا ہے۔ انھوں نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ عوام کا مزید امتحان نہ لیں، ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں بھی سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔

    امیر جماعت نے کہا کہ بہتری کا واحد راستہ اسلامی نظام ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست اور جدوجہد کا مقصد ملک کو قرآن و سنت کا نظام دینا ہے۔ ہم سودی معیشت کے خلاف جنگ کو حتمی مرحلے تک لے کر جائیں گے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان اپنی جدوجہد میں مزید تیزی لائیں اور قرآن و سنت کا پیغام گھر گھر پہنچائیں تاکہ ملک میں پرامن اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہو۔

  • حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    اے میرے وطن کے حکمرانو….! وہ وقت یاد کرو جب حکمرانی کو اعزاز و اقتدار نہیں بلکہ بوجھ اور ذمہ داری سمجھا جاتا تھا…. جب ایک ادنیٰ اور غریب کا بیٹا حاکم وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ مال غنیمت کی اس چادر کا لباس تو نے کن پیسوں سے حاصل کیا…. وہ وقت یاد کرو جب مسلم حکمرانوں کی طرف سے بیت المال اور ذاتی مال کی اصلاحات متعارف کی گئیں…. وہ وقت یاد کرو جب خلیفہ وقت آدھی رات کو اٹھ کر اپنی قوم کا پہرہ دیا کرتا تھا….. وہ وقت جب حاکم وقت دریائے فرات کے کنارے مرنے والے کتے کے حساب سے بھی خوفزدہ رہتا تھا…. اور وہ وقت جب مسلم حکمران بادل کے ٹکڑے کو دیکھ کر کہتا تھا کہ آے بادل کے ٹکڑے….! تو نے جہاں بھی برسنا ہے جا برس. لیکن تو نے جہاں بھی برسنا ہے اس کھیتی کا غلہ میرے پاس پہنچے گا. مسلم علاقے میں ٹیکس کی مد میں اور غیر مسلم علاقے میں خراج کی صورت میں….!

    تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
    ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے

    ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
    تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے

    وہ صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے. وہ فاتحین عرب و عجم ہی نہیں…. بلکہ عرب و عجم میں بسنے والے ہر مسلمان کے دل کے حکمران تھے. انہوں نے دنیا کو مرنے کا فن اور جینے کا ڈھنگ سکھایا. انہوں نے امت مسلمہ کو خالق حقیقی کے آگے گردن جھکانا اور باطل کے سامنے اسی گردن کو جھکائے بغیر کٹوانا سکھایا.

    حکمت، تدبر، سیاست اور دور اندیشی کے بل بوتے پر اور سب سے بڑھ کر اللہ کی توفیق سے ان کا ہر فیصلہ امت مسلمہ کے لیے خیر کا پیغام لیکر آتا تھا. وہ تین سو تیرہ ہوتے مگر ہزاروں سے ٹکرا جاتے…. وہ تنہا ہوتے مگر ان کا عزم پہاڑوں کے کلیجے پھاڑ دیتا. وہ ساحلوں پر کشتیاں چلاتے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے. وہ کھجوروں کی ایک چھوٹی سی بستی سے نکلے مگر ان کی بصیرت اور ان کی سیاست نے اللہ کی مدد کے ساتھ قیصر کے شہر قسطنطنیہ کی فصیلیں، کسری کے قصر ابیض کے دروازے اور شام کے پھاٹک کھول دیے….. دنیا کے تمام خزانے ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیے….یہ دنیا کے اندر انعام تھا بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ رب العزت کی غلامی میں دینے کا. انہوں نے دہشت گردی سے پاک اور مالی آسودگی سے مزین ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ ایک پردہ دار خاتون حیرہ شہر سے نکل کر مکہ مکرمہ بیت اللہ کے طواف کی نیت سے سفر کرتی اور اسے اللہ کے علاوہ اور کسی کا خوف نہ ہوتا ….ایک مسلمان صدقہ کرنے کی نیت سے گھر سے باہر نکلتا لیکن اس کو کوئی صدقہ لینے والا نہ ملتا.

    صرف یہی نہیں…. مسلم حکمرانوں نے اپنی رعایا پر علم و فنون کے دروازے کھول دیئے. جس وقت سارا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا…. سپین کے صرف ایک شہر کے اندر ہزاروں لائبریریاں موجود تھیں. جب لوگ غاروں اور جنگلوں میں رہنے پر مجبور تھے…. اندلس کے حکمران عبدالرحمن ثالث اور اس کے جانشین فن تعمیر کو نقطہ ِمعراج تک پہنچا چکے تھے…! اور جس وقت صلیبی پادری سائنس اور دینی علوم و فنون کے خلاف فتوے لگا رہے تھے…. مسلمان سائنسدان کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی، علم الارضیات، اور فلکیات کے میدانوں میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے تھے.

    اے مسلمان حکمران…! آج پھر اسی عہد کو دہرانے کا وقت ہے. ابو بکر کی صداقت، عمر کی عدالت، عثمان کی سخاوت اور علی کی شجاعت کو دہرانے کا وقت ہے. اسلام کے نام پر بنی اس پاک سر زمین پر اسلام کے سنہری اصولوں کو آزمانے کا وقت ہے…. امت مسلمہ کے ہر پریشان و غمگین دل کو آپس میں ملانے کا وقت ہے…. اور عالم کفر کی ہر چال کو مٹانے کا وقت ہے.

    اے مسلم حکمراں ! توحید کا پرچم اٹھا پھر سے
    ذرا تکبیر کے نعروں سے امت کو جگا پھر سے
    ہر اک نفرت ختم کر کے دلوں کو اب ملا پھر سے
    یہ ملت جسدِ واحد ہے یہ دنیا کو بتا پھر سے

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا