Baaghi TV

Tag: حکمران اتحاد

  • حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملکی موجودہ صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں حکمران اتحاد کا اجلاس ہوا، اجلاس شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن میں ہوا،

    اجلاس میں حکومت کے اتحادی جماعتوں کے کچھ ارکان آن لائن بھی شریک تھے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ، ملک احمد خان سمیت دیگر رہنما اجلاس میں شریک تھے .نواز شریف اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے
    اجلاس میں موجودہ سیاسی صورت حال اور زیر سماعت مقدمات میں تازہ پیشرفت پر غور کیا گیا،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران اتحاد نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اجلاس میں نواز شریف نے فیصلے کی توثیق کی ہے اور کہا کہ اس بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے ، اٹارنی جنرل کو کہا جائے کہ وہ عدالت پیش ہو کر اس بینچ پر عدم اعتماد کر دیں،اجلاس میں دیگر جماعتوں نے بھی بینچ کے بائیکاٹ کا ہی مشورہ دیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والا پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کا سربراہی اجلاس ختم ہو گیا ہے، اجلاس 3 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا،اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جائے گی،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینج پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے، حکومت کا مطالبہ ہے کہ فل کورٹ تشکیل دی جائے، گزشتہ سماعت پر عدالت نے حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا تھا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات پر حکمران اتحاد کا بلاول ہاؤس میں اجلاس،پی پی اور ایم کیو ایم میں ڈیڈ لاک برقرار

    ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات پر حکمران اتحاد کا بلاول ہاؤس میں اجلاس،پی پی اور ایم کیو ایم میں ڈیڈ لاک برقرار

    بلاول ہاؤس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے تحفظات پر حکمران اتحاد نے اہم اجلاس بلا لیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بلاول ہاؤس کراچی میں ایم کیو ایم سمیت دیگر حکومتی اتحادیوں کی ملاقات ہوئی جس میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، ناصر شاہ شرجیل، مرتضی وہاب، وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ، ملک احمد خان اور دیگر شریک ہوئے۔

    پوری قوت کے ساتھ دہشتگردی سے نمٹا جائے گا,قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ

    اجلاس میں ایم کیوایم پاکستان کے تحفظات پر غور کیا گیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلی سندھ نے معاملے پر بریفننگ دی۔

    ایم کیوایم کی جانب سے گورنرسندھ کامران ٹیسوری، خالد مقبول،فیصل سبزواری، وسیم اختر نے شرکت کی،ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

    واضح رہے کہ حلقہ بندیوں کے تنازع پر حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے علحیدگی ہونے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات دور کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا-

    اجلاس ختم ہونے کے بعد گورنر سندھ ، نون لیگی اور ایم کیو ایم رہنما میڈیا سے بات کیے بغیر بلاول ہاؤس کراچی سے روانہ ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا جبکہ پی پی اور ایم کیو ایم کے مابین نئی حلقہ بندیوں پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

    ڈی جی خان، پرویز الہی قبضہ مافیا کے سرپرست نکلے، عدالتی حکم بھی ہوا میں اڑا دیا گیا

    ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن نئی حلقہ بندیوں سے مشروط کردیے ہیں اور اجلاس میں بلدیاتی حلقہ بندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم رہنماؤں نے اجلاس میں واضح کردیا کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر بلدیاتی الیکشن کرائے گئے تو ہم آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔ اجلاس کے بعد ایم کیو ایم وفاقی وزرا بغیر بات کئے روانہ ہوگئے۔

    انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر حلقہ بندیوں کو درست نہ کیا گیا تو پھر ہم کارکنان اور عوام کے پاس جائیں گے اور سڑکوں پر آجائیں گے اور یہ بھی سوچیں گے کہ حکومت میں رہتے ہوئے الیکشن لڑیں یا پھر اتحاد کو چھوڑ دیں۔

    خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ الیکشن غیر جانب دار اور شفاف ہوں تو ہم ضرور تیار ہیں مگر سندھ کے اندر بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے جو حلقہ بندیاں کی گئی ہیں وہ متنازع ہیں، 15 جنوری کو شفاف انتخابات ہورہے ہیں اور ہم نے 8 ماہ کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے درجنوں ملاقاتیں کی ہیں جن میں کہا تھا کہ فوری طور پر کراچی و حیدر آباد کی حلقہ بندیاں تبدیل کی جائیں۔

    قبل ازیں بلاول ہاؤس میں مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی آمد سے قبل پیپلز پارٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا اجلاس کی صدارت پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کی جس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بریفنگ دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے حکومت کی پوزیشن سے آگاہ کیا۔ اس حوالے سے پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ ہم نے ماضی میں کئی دفعہ ایم کیو ایم کے کہنے پر الیکشن کمیشن کو خطوط لکھے جبکہ بلدیاتی الیکشن کرانا یا ملتوی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے-

    مولانا فضل الرحمان کی طبیعت ناساز،سیاسی سرگرمیاں منسوخ

    پارٹی رہنماوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا سندھ حکومت اس پر عمل درآمد کرے گی۔ بعدازاں آصف علی زرداری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ہماری اتحادی ہے، ان کے ساتھ لیکر چلیں گے۔

    ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم نے وفود کو بریفنگ دی کہ حلقہ بندیاں فوری طور پر ممکن نہیں ہے، نئی حلقہ کم از کم چار سے ماہ درکار ہوسکتے ہیں جبکہ ووٹرز کے ردو بدل اور یوسیز ردو بدل معمولی عمل نہیں ہے۔

    سندھ حکومت کی قانونی ٹیم بریفنگ نے بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کا دباؤ ہے اور الیکشن کمیشن احکامات نہ ماننے کی صورت میں صوبائی حکومت خلاف ایکشن لے سکتی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن انتظامات کے متعلق خود جائزہ لے رہی ہے۔

    اراکین اسمبلی کو لوکل گورنمنٹ کےترقیاتی کاموں کیلئےگرانٹ دیناغیرقانونی ہے،لاہور ہائیکورٹ

  • عمران خان کے فوج مخالف بیانات،حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے کی شدید مذمت

    عمران خان کے فوج مخالف بیانات،حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے کی شدید مذمت

    حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نےعمران خان کے فوج مخالف بیانات کی شدید مذمت کی ہے

    اس حوالہ سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ، حکمران اتحاد کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے جلسے میں افواج پاکستان اور اس کی قیادت کے خلاف نفرت پھیلانے اور حساس پیشہ وارانہ امورکو متنازعہ بنایا، پوری قوم سیلاب سے لڑ رہی ہے،  نفرت، انتقام اور تکبر میں ڈوبے عمران خان مسلح افواج سمیت قومی اداروں اور عوام سے لڑ رہے ہیں، سنگین بہتان تراشی کا مقصد معاشی بحالی کے عمل کو متاثر کرکے پاکستان کو سری لنکا بنانا اور عوام کو  فوج سے لڑانا ہے، الزامات کا مقصد فوج کے رینک اینڈ فائل میں تصادم کی راہ ہموار کرنا ہے آئین اور قانون کی طاقت سے اس مذموم سازش کو ناکام بنائیں گے، سازشیوں سے آئین اور قانون کے مطابق نمٹیں گے،پاکستان آئین کے مطابق چلے گا، پاکستان کو کسی فرد واحد کے تکبر ، فسطائیت اور آمرانہ رویوں کا غلام بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،

    عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    وزیراعلیٰ پنجاب کا عمران خان کو "خوش” کرنے کا ایک اور "پروگرام”

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    واضح رہے کہ عمران خان کی حکومت جانے کے بعد عمران خان دوبارہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کے لئے بیتاب ہیں اور عمران خان اسکے لئے اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں،غداری کے جرم میں گرفتار شہباز گل کی رہائی کے لئے عمران خان نے ریلی نکالی، پاک فوج پر تنقید کرنے والوں کو عمران خان نہ صرف شاباش دیتے ہیں بلکہ خود بھی مسلح افواج پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں

    تحریک انصاف کی جب سے وفاق میں حکومت ختم ہوئی ہے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے مسلح افواج پر تنقید کرنا شروع کر دی ہے،نہ صرف تحریک انصاف کے کارکنان بلکہ تحریک انصاف کے چیئرمین بھی پروپیگنڈہ کرنے سے باز نہیں آ رہے ، سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے، اور جب ان میں سے ادارے کسی کو گرفتار کرتے ہیں تو وہ معافیاں مانگنا شروع کر دیتے ہیں، ایسی کئی اعترافی بیانات کی ویڈیو سامنے آ چکی ہیں جس میں ملزمان اعتراف کرتے نظر آ رہے ہیں کہ انکا تعلق پی ٹی آئی سے ہے

  • فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    حکمران اتحاد اورپی ڈی ایم کے قائدین کا ہنا ہے کہ اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے قبل حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم قائدین کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق وزیراعظم ہاﺅس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کا مشاورتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری ، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، اے این پی کے قائدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مریم نواز اور پارٹی کے دیگر قائدین نے بھی اجلاس میں شرکت کی.

    اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب سے متعلق کیس فل کورٹ سنے، موجودہ بینچ کا فیصلہ جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا،انصاف کی بالادستی کیلئے فل کورٹ کی تجویز دی تھی، اب فیصلہ تین بینج پر مشتمل یہی ججز کریں گے،اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فل کورٹ کا ہے،یہ مطالبہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کے وقار کیلئے کیا تھا،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سپریم کورٹ میں سماعت کا بائیکاٹ کریں گے، سپریم کورٹ کو پارلیمان سے متعلق بار بار فیصلے دینے پڑ رہے ہیں،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سماعت کا بائیکاٹ کریں گے،ہم سمجھتے ہیں عدالت کا بھی فل بینچ بیٹھے اور فیصلہ دے،حکومتی اتحادی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے.

     

    فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

     

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے،قانون کا تقاضا ہے کہ کسی جج یا بینچ پر انگلی اٹھ جائے تو وہ خود کو وہاں سے ہٹا دے، ہم نے صرف فل کورٹ کی استدعا کی تھی، مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر احسن اقباک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باعث 20 اراکین اسمبلی کے ووٹ نہیں گنے گئے، اس کیس پر نظرثانی کی درخواست اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،نظرثانی درخواست کا فیصلہ آئے بغیر یہ معاملہ غلط سمت میں جا رہا ہے،عمران نیازی کی ہدایت محترم تھی تو چودھری شجاعت کی ہدایت بھی اتنی ہی محترم ہونی چاہئے، ایک سربراہ کی ہدایت پر 20 اراکین کو نااہل کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی ہدایت کو تسلیم نہیں کیا جاتا،ہیں چاہتے کہ کسی سیاسی تنازع پر سپریم کورٹ پر لوگ انگلیاں اٹھائیں،عام تاثر ہے کہ عمران خان عدلیہ کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں،ہم نے صرف سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی،سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنی تیزی اس مقدمے کی سماعت کیوں کی جا رہی ہے،فل کورٹ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا.

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے فیصلے کو سمجھ سے بالاتر قرار دے دیا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنتا تو تمام سیاسی جماعتیں مطمئن ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا فیصلہ نہ مان کر پارلیمانی پارٹی کو جواز بنانا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ 25 ارکان کی نااہلی کے پیچھے پارٹی سربراہ کے احکامات تھے۔اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ ووٹوں کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے، مرحوم حاصل بزنجو کے ووٹ مسترد ہوئے تو اس پر بھی عدالت خاموش رہی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر کے 52 ہزار ووٹ جعلی نکلے، اس معاملے پر بھی عدالت 3 سال تک فیصلہ نہ دے سکی۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی گئی، تمام قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو آج کی سپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

     

    فل
    کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا

  • وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کے الیکشن میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد حکمران اتحاد نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے

    حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں چیف جسٹس پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتی ہیں کہ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ قرین انصاف ہوگا کہ عدالت عظمیٰ کے تمام معزز جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ ،سپریم کورٹ بار کی نظرِ ثانی درخواست موجودہ درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کو ایک ساتھ سماعت کے لئے مقرر کرکے اس پر فیصلہ صادر کرے کیونکہ یہ بہت اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات ہیں۔ آئین نے مقننہ،عدلیہ اورانتظامیہ میں اختیارات کی واضح لکیر کھینچی ہوئی ہے جسے ایک متکبر آئین شکن فسطائیت کا پیکر مٹانے کی کوشش کر رہا ہے یہ دراصل پاکستان کے آئین عوام کےحق حکمرانی اورجمہوری نظام کو بھی معیشت کی طرح دیوالیہ کرانا چاہتا ہے یہ سوچ اوررویہ پاکستان کے ریاستی نظام کے لئے دیمک ہے۔

    ‎حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں اس عزم کا واشگاف اعادہ کرتی ہیں کہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر فورم اور ہر میدان میں تمام اتحادی جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی اور فسطائیت کے سیاہ اندھیروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

    وفاقی حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظور ی دے دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ تمام چوٹی کے قانونی ماہرین رات سے بتا چکے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی ہے،فل بینچ کا مطالبہ معاملے کو طول دینے کوشش ہے تاکہ ضمیر خریدنے کی نئی کوشش کی جائے، بینچ کو متنازعہ بنانے کے لیے وٹس ایپ ٹولے کو صبح سے ہدایات جاری کر دی گئی تھیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے