Baaghi TV

Tag: حکم امتناع

  • کے فور منصوبے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی

    کے فور منصوبے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی

    کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے کے فور منصوبے کے راستے کی 100 ایکٹر زمین پر حکم امتناع ختم کرکے کیس مسترد کردیا۔نجی کمپنی نے 100 ایکٹر زمین کے سلسلے میں 7 سال قبل یعنی 2018 میں دیوانی دعوی دائر کیا تو عدالت نے 4 مئی 2018 کو حکم امتناع جاری کردیا تھا۔
    سندھ ہائیکورٹ نے کیس مسترد کردیا، جس کے ساتھ ہی کے فور منصوبے کی راہ میں حائل حکم امتناع بھی ختم ہوگیا۔دوران سماعت وکیل واٹر کارپوریشن بیرسٹر ولید خانزادہ نے کہا کہ تاخیر کی وجہ سے منصوبے کی لاگت 25 ارب سے بڑھ کر سوا کھرب ہوچکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکم امتناع کے فور منصوبے کے انفرااسٹرکچر کی تیاری میں رکاوٹ ہے، مدعی کا موقف ہے کہ اس زمین پر تعمیرات کرکے تیسرے فریق کو دے دی گئی ہیں۔

    بیرسٹر ولید خانزادہ نے یہ بھی کہا کہ تیسرے فریق نے تاحال عدالت سے رجوع نہیں کیا، اس کا مطلب انہیں کوئی اعتراض نہیں، حکومت کو عوامی اہمیت کے حامل منصوبوں کیلیے زمین حاصل کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ مدعی کو اپنی زمین کے معاوضے کیلیے ریفرنس دائر کرنا چاہیے تھا، عدالت میں دعوی دائر کرنے کا کوئی جواز نہیں، کیس قابل سماعت نہیں مسترد کیا جائے۔

    شیر افضل مروت نے عمران ریاض کو کیا "بے نقاب”

    جماعت اسلامی وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات ،ٹریفک حادثات میں اموات پر اظہار تشویش

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    بارودی مواد کا سراغ لگانے والی جدید مشینیں اے ایس ایف کو دینے کا فیصلہ

    حکومت کا ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا ارادہ نہیں، عرفان صدیقی

    پاکستان کو شکست، نیوزی لینڈ نے سہ ملکی ون ڈے سیریز جیت لی

  • سائفرتحقیقات، ایف آئی اے کو اجازت مل گئی

    سائفرتحقیقات، ایف آئی اے کو اجازت مل گئی

    لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف سائفر معاملے پر ایف آئی اے کی تحقیقات پر جاری حکم امتناع واپس لے لیا

    سائفرکی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کی حکم امتناع ختم کرانے کی متفرق درخواست عدالت نے منظور کرلی ، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو سائفر کے حوالہ سے تحقیقات کی اجازت مل گئی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے وفاقی حکومت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سائفر تحقیقات پر جاری حکم امتناع واپس لیا

    ،وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے ،وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفشل سیکریٹ سروس ایکٹ 1923 کے تحت اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ،وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوے ایف ائی اے کو معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا ،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 30نومبر کو طلبی کا نوٹس دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان نے حقائق چھپا کر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس دیے اور سنے بغیر یکطرفہ ایف آئی اے نوٹس پر عمل درآمد معطل کر دیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے,

     

  • پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا

    پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا

    ملتان:پنجاب کے17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری ہوگیا،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روکنے کیلئے حکم امتناع جاری کردیا گیا، الیکشن آرڈیننس 2021 کیخلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

    پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہائیکورٹ ملتان بنچ کا بڑا فیصلہ، ہائیکورٹ کے جسٹس شان گل نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں لوکل گورنمنٹ انتخابات روکنے کا سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے، عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے27 اپریل کو جواب طلب کر لیا۔

    عدالت میں خانیوال کے محمد اسلم کمبوہ، وہاڑی کے دلاور خان اور ساہیوال کے غلام عباس ڈوگر نے درخواست دائر کی، درخواست کونسل رانا آصف سعید کے ذریعے الیکشن آرڈیننس 2021ء کے خلاف دائر کی گئی، لوکل گورنمنٹ کے انتخابات آرڈیننس 2021 کے تحت کرائے جانے ہیں جس میں قانونی بے ضابطگیاں ہیں، آرڈیننس کی مدت ختم ہوچکی اور اسے ایکٹ کی شکل نہیں دی گئی۔

    درخواستگزار نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی غیر قانونی ہے، پہلے مرحلے میں لیبر کونسل اور ویلج کونسل کے انتخابات ہونا تھے، بعدازاں ضلع کونسل چیئرمین اور میونسپل کارپوریشن میئر کے ہونا تھے، الیکشن کا ہر اقدام غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا، آرڈینینس میں الیکشن کی ووٹنگ بذریعہ مشین کرائی جانی تھی لیکن ایسا کوئی سسٹم موجود ہی نہیں ہے، انتخابات کو روکا جائے۔

    ایڈووکیٹ رانا آصف سعید نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 25 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع ہونے تھے،27 اپریل سے 9 مئی تک سکروٹنی ہونی تھی، 9 جون کو انتحابات تھے۔