Baaghi TV

Tag: حکومتیں

  • وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو  کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ریلیف پیکجز کا اعلان کر دیا ہے۔

    ان پیکجز کے تحت کروڑوں مستحق افراد کو نقد امداد، سبسڈی شدہ اشیائے خورونوش، راشن کارڈز اور مفت افطار کی سہولت فراہم کی جائے گی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کیے گئے رمضان ریلیف پیکج کے مطابق رواں برس رمضان پیکج کا حجم 38 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت کے اس پیکج کے تحت چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں مستحق خاندانوں کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے امداد کی تقسیم شفاف ڈیجیٹل نظام اور بی آئی ایس پی کے ذریعے براہِ راست بینکوں میں کی جائے گی، گزشتہ برس یہ رقم 5 ہزار روپے تھی، جس میں اس سال نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

    پنجاب حکومت نے بھی رمضان المبارک میں عوامی ریلیف کے لیے تاریخ کا بڑا پیکج متعارف کرا دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں 49 ارب روپے مالیت کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دی گئی اس پیکج کے تحت 42 لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، نگہبان کارڈ کے ذریعے مستحق افراد نہ صرف کیش رقم حاصل کر سکیں گے بلکہ ضروری اشیائے خورونوش بھی خرید سکیں گے۔

    اس کے علاوہ نگہبان دسترخوان ’مریم کے مہمان پروگرام‘ کے تحت صوبے بھر میں ہر تحصیل میں مفت افطار دسترخوان قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق اس پروگرام سے 10 لاکھ سے زائد روزہ دار مستفید ہوں گے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس میں خصوصی رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے، اس پیکج کے تحت صوبے بھر کے 10 لاکھ 63 ہزار مستحق خاندانوں کو فی خاندان اوسطاً 12 ہزار 500 روپے فراہم کیے جائیں گے گزشتہ برس پہلی مرتبہ فی خاندان 10 ہزار روپے کا رمضان پیکج دیا گیا تھا، تاہم رواں برس چینی اور آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پیکج میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے بھی رمضان ریلیف پیکج 2026 کے تحت بڑے پیمانے پر امدادی پروگرام شروع کردیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 25 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا، اس پروگرام کے تحت 50 لاکھ سے زائد خاندانوں کو 5 ہزار سے 13 ہزار روپے تک نقد امداد اور سبسڈی شدہ آٹا، چینی اور دالیں فراہم کی جائیں گی امداد کی تقسیم 500 یوٹیلیٹی اسٹورز اور موبائل وینز کے ذریعے کی جائے گی جبکہ اہلیت کا تعین بی آئی ایس پی اور این ایس ای آر ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    بلوچستان حکومت نے ماہ رمضان میں ریلیف پیکجز کیش رقم کے بجائے مستحق افراد کو راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس مرتبہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز مستحق افراد کی نشاندہی کریں گے اور پھر ان افراد میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔

  • وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی، زاہد اکرم درانی

    وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی، زاہد اکرم درانی

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر وفاقی اداروں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔

    ڈپٹی سپیکر نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی تمام توجہ بحالی کاموں پر مرکوز رکھنا ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی بڑی آبادی حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔کمیٹی کے ارکان نے زور دیتے ہوے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے خیمے ، کھانے پینے کے اشیا ء، مچھر دانی اور طبی سامان کی فراہمی کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومت میں ہم آہنگی ضروری ہے ۔کمیٹی ممبران نے سیلاب متاثرین کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    ڈپٹی سپیکر نے دیر بالا کی ضلعی انتظامیہ کی غیر پیشہ ورانہ روش کا نوٹس لیتے ہوے انہوں نے دیر بالا میں سڑک کھولنے کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو این او سی کی عدم فراہمی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ونگ کو خط لکھنے کی ہدایت کی ۔کمیٹی ممبران نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی امداد کی عدم فراہمی پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ سیلاب اور بارشوں سے مرنے والوں کو مالی معاوضہ جلد از جلد ادا کیا جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ڈویلپمنٹ ساجد حسین طوری ، ممبر قومی اسمبلی مولانا محمّد انور ، سینیٹر ہدایت الرحمان ، پی پی پی کے صوبائی صدر نجم الدین خان ، سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ، این ڈی ایم اے کے اعلی افسران اور خیبر پختونخوا کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

  • حکومتیں انتخابات پر ڈاکےڈال رہی ہیں اورالیکشن کمیشن تماشائی بنا ہے،عمران خان

    حکومتیں انتخابات پر ڈاکےڈال رہی ہیں اورالیکشن کمیشن تماشائی بنا ہے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی کی اہم ترین بیٹھک ہوئی.مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت مرکزی و ریجنل قائدین شریک ہوئے.اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کا مفصل جائزہ لیا گیا.اجلاس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران دکھائی دینے والی بدترین لاقانونیت اور حکمران جماعت کی فتنہ گری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی.اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صاف، شفاف اور ساکھ کے حامل انتخابات کے انعقاد میں ایک مرتبہ پھر ناکامی پر گہری تشویش کا اظہاربھی کیا گیا.

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوران حکمران اتحاد کی جانب سے قبل از انتخابات دھاندلی کی شکایات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والا جوش و خروش امپورٹڈ سرکار کے پیدا کردہ فسطائیت زدہ ماحول میں امید کی کرن قراردیا گیا،اجلاس میں 2 جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں عظیم الشان احتجاجی جلسے کے انعقاد کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی.

    ا

    عمران خان کی سیاست کے فیصلہ کن لمحات،پی ٹی آئی امیدوار تذبذب کا شکار

     

     

    جلاس میں راولپنڈی و اسلام آباد کی تنظیموں کو بھرپور عوامی رابطے اور تیاریوں کی خصوصی ہدایات کی گئیں ،اذیت ناک مہنگائی اور امپورٹڈ سرکار کی جانب سے بجٹ کی خلاف آئین منظوری کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ پی کے 7 سوات میں تحریک انصاف کی فیصلہ کن کامیابی پر مسرت و اطمینان کا اظہارکیا گیا.

    چیئرمین تحریک انصاف کا 2 جولائی کے اسلام راولپنڈی- اسلام آباد احتجاجی جلسے کی خود قیادت کا اعلان کیا، اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ نااہل، نالائق اور بدنامِ زمانہ امپورٹڈ مجرموں کی فسطائی حکومت کیخلاف بھرپور تحریک ملک و قوم کے مستقبل کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے.

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ معاشرے کا ہر طبقہ خصوصاً نوجوان اور خواتین میں سیاسی شعور متاثر کن سطح تک پہنچ چکا ہے، باشعور عوام کا پرجوش ردعمل امپورٹڈ کٹھ پتلیوں کیلئے خوف کی علامت بن چکا ہے، مقامی میرجعفروں کی خوفزدہ سرکار آئین و قانون اور جمہوری اقدار کی دھجیاں یوں اڑا رہی ہے جیسے کسی آمر نے بھی نہیں اڑائیں،سندھ اور پنجاب میں چوروں کی حکومتیں انتخابات پر ڈاکے ڈالنے میں مصروف، الیکشن کمیشن خاموش تماشائی ہے.

    عمران خان نے کہا کہ غلاموں کو قوم پر مسلط رکھنے کیلئے پورا جمہوری نظام داؤ پر لگایا جارہا ہے، عوام کو مہنگائی کی اذیت سے دوچار کرکے چوروں کیلئے این آر او دوم کا اہتمام قوم نے مسترد کیا ہے، حقیقی آزادی کی پرامن جمہوری تحریک ہی قوم کو اس تباہی سے نکالے گی جس میں غلاموں نے اسے ڈالا ہے، 2 جولائی کو پریڈ گراؤنڈ میں تاریخی احتجاجی جلسے کی قیادت کروں گا.