Baaghi TV

Tag: حکومتی اتحاد

  • پیپلزپارٹی ارکان کی اکثریت حکومتی اتحاد  سے نکلنے کی رائے دیدی

    پیپلزپارٹی ارکان کی اکثریت حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دیدی

    پیپلزپارٹی کے سی ای سی اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے فوری طور حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دی ہے۔

    باغی ٹی وی کےذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان کی اکثریت کے ن لیگ کی حکومت چھوڑنے کے حق میں دلائل دیئے۔ اراکین کی اکثریت چاہتی ہے ن لیگ کے ساتھ اتحاد پیپلز پارٹی کی ساکھ کو تباہ کر رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ارکان کی اکثریت نے فوری طور حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دی ہے۔ ن لیگ پی پی کو اہمیت نہیں دیتی تو اتحاد میں رہ کر کیا کریں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان نے سوالات کیے کہ ہم سے نہ ہی مشاورت کی جاتی ہے اور نہ ہی آگاہ کیا جاتا ہے تو ہم کیسے اتحادی ہیں۔ کسی بھی قانون سازی پر اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی تعیناتیوں سے متعلق رائے لی جاتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اراکین نے کہا کہ اگر اتحاد میں رہے تو عوام میں کیسے جائیں گے، ن لیگ کے ساتھ اتحاد میں رہ کر ان کی غلطیوں میں شریک ہو رہے ہیں، عوام ابھی بھی حکومتی اتحاد سے متعلق ہم سے سوال کرتے ہیں۔

    کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    ن لیگ کی حمایت،پی ٹی آئی کے جنید اکبر بلا مقابلہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی منتخب

    عافیہ صدیقی، حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا،تابش قیوم

  • بلاول بھٹو نے اتحادیوں کو سیاسی مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم کردی

    بلاول بھٹو نے اتحادیوں کو سیاسی مذاکرات پر راضی کرنے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم کردی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نےتمام حکومتی سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ پر اتفاق رائے کے لئے پی پی پی اراکین کی کمیٹی بنادی-

    باغی ٹی وی:چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تمام حکومتی سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ پر اتفاق رائے کے لئے پی پی پی اراکین کی کمیٹی بنادی پاکستان پیپلزپارٹی کی کمیٹی حکومتی اتحادی جماعتوں سے تمام سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ پر اتفاق رائے کے حوالے سے بات کرے گی-

    عمران خان کی عبوری ضمانت اور ویڈیولنک حاضری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    تمام حکومتی سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ پر اتفاق رائے کے لئے پی پی پی کی 3 رکنی کمیٹی میں یوسف رضا گیلانی، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ شامل ہوں گے-


    گزشتہ ماہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے اثرات پر خبردار کرتے ہوئے تمام سیاسی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ اکٹھے ہو جائیں اور ملک کو "مصیبت” سے نکالیں۔

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر …

    ہفتہ کو اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر جاری ایک مختصر بیان میں صدر علوی نے کہا کہ "پاکستان کی زندگی میں ایک اور دن تباہی کے بغیر گزرا” تفصیلات بتائے بغیر، صدر نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیاستدان مل بیٹھ کر ملک کو بحران سے نکالیں کیونکہ (موجودہ سیاسی) صورتحال میں کوئی بھی بڑا حادثہ ہو سکتا تھا، درگزر، امن اور سلامتی کو لبیک کہیے۔

    پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی …

  • پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر دیا

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر دیا

    اسلام آباد: حکومت میں شامل جماعتوں نے عدالتی اصلاحات بل کے خلاف سماعت کے لیے بنائے گئے سپریم کورٹ کے بینچ کو مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : حکومت میں شامل جماعتوں کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل پر متنازع بینچ تشکیل دینے کا اقدام مسترد کردیا-

    ایف آئی اے نے بین الاقوامی منی لانڈرنگ کرنے والا نیٹ ورک پکڑ لیا

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کا اقدام پاکستان اور عدالت کی تاریخ میں اس سے قبل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ساکھ ختم کرنے اور انصاف کے آئینی عمل کو بے معنی کرنے کے مترادف ہےسپریم کورٹ کی تقسیم سے حکومت میں شامل جماعتوں کے مؤقف کی پھر تائید ہوئی-

    مشترکہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے کوئی جج بینچ میں شامل نہ کرنا بھی افسوسناک ہے، حکمران جماعتیں اس اقدام کو پارلیمان اور اس کے اختیار پر شب خون قرار دیتی ہیں پارلیمان کا اختیار چھیننے، اس کے دستوری دائرہ کار میں مداخلت کی کوشش کی مزاحمت کی جائےگی-

    لوئر دیرمیں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک

    اعلامیے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمان کے اختیار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، متنازع بینچ کی تشکیل سے نیت اور ارادے کے علاوہ آنے والے فیصلے کا بھی واضح اظہار ہو جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی ہیں درخواستوں پر سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،ر جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

    عمران خان کے وکیل اظہر صدیق کے گھر پر نا معلوم افراد کا پٹرول بم …

  • سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں؟وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں؟وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس

    عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر مشاورت کے لیے حکمران اتحاد میں شامل اہم جماعتوں کے قائدین نے مشاورت شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہو رہا ہے زیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر مرکزی رہنما اور وفاقی وزرا و مشیران بھی شریک ہیں۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر دی جانے والی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے اور حکم دیا ہے کہ گورنر آج ساڑھے گیارہ بجے پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں ،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے۔

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

  • حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد نے موجودہ سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ موازنہ نواز شریف حکومت اور عمران خان کی معیشت کا ہوگا کابینہ میں بند لفافہ لہرایا جاتا ہے ، ملک ریاض کے پیسے پر کسی نے نوٹس لیا؟ 2017 کے بعد ایسا ملک ہلا اب سنبھلنے کو نہیں آرہا کونسا جرم ہے جو عمران خان نے نہیں کیا،سول نافرمانی، بل جلاؤ، سپریم کورٹ پر کپڑے ٹانگو، شاہراہ دستور پر قبریں، کیا کیا نہیں کیا گیا ؟سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریڈ زون میں آنے کی اجازت دی لیکن عمران خان نے ریڈ زون میں ہنگامہ کر کے توہین عدالت کر دی لیکن سپریم کورٹ خاموش رہی اور کہا شاید خان صاحب کے پاس ہمارے احکامات نہیں پہنچے ،جس نے تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ بولے اسے صادق و امین کا لقب دے دیا گیا،آپ نے ایک جھوٹے شخص کو صادق اور امین ڈکلیئرڈ کیا ،وہ صادق و امین کا لقب دینے والا آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے،تاریخ کے جھوٹے شخص نے تین سو کنال کے محل کو ریگولائز کرایا،جعلی دستاویزات جمع کرائے،عمران خان ابھی بھی سپورٹ کے بغیر نہیں، ان کے حمایتی بیٹھے ہوئے ہیں جو سب کر رہے ہیں۔ شیری مزاری کے لیے راتوں رات عدالت کھل جاتی ہیں اور مریم نواز کے لیے جج چھٹی پر چلا جاتا تھا ،کیا سارے سوموٹوصرف ن لیگ اوراتحادیوں کیلئے ہیں؟ میں x y z نہیں کہتی میں نام لیتی ہوں ترازو ٹھیک ہوگا تو پاکستان اپنے آپ ٹھیک ہوجائیگا

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ طیبہ کیس میں ویڈیو پر نیب کو بلیک میل کرتا رہا، کسی نے سو موٹو نہ لیا سرینہ عیسٰی، آصف زرداری کی بہن کو تو انصاف ہی نہیں ملا، مریم نواز ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے علیمہ خان کو جرمانہ کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں چلے گا،یہ ایمپائرز سے مل کر کھیلتا ہے جب سے وہ ہٹے یہ دھڑام سے گرا،ابھی بھی یہ سپورٹ کے بغیر نہیں ہے، تفصیل میں گئی تونئے محاذ کھل جائیں گے، عمران خان کو کورٹ جان کو خطرے پر نہیں بلایا جاتا مجھے پاسپورٹ مانگنے پر دن میں بینچ بنتے اور ٹوٹتے ہیں،سیاہ سفید کرنے والا شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح گوگی بھاگ گئی،شہزاد اکبراور فرح گوگی کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے،قاضی فائزعیسٰی کیس پر کہا گیا، ایگزیکٹو ڈومین ہے، کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی،عمران خان کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کی انکوائری روک دی گئی، کیوں؟ میں سلام کا جواب دوں عدالت لائن حاضر کر لیتی ہے عمران نیازی اپنی ضمانت کا کیس کرتا پھر کہتا ہے جان کو خطرہ ہے اور عدالت مان لیتی اور میرے پاسپورٹ کی درخواست پر روز بینچ ٹوٹ جاتے یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی گفتگو کو سپورٹ کرتے ہیں، احتساب سب کے لیے ضروری ہے ہمیں اجنبی ہونے کا احساس کیوں دلایا جا رہا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں جو حوالے دیئے گئے،اچھا مواد ہے، اسی کی بنیاد پر ہم نے آگے بڑھنا ہے،اگر آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں کوئی مشکل پیدا نہ کروں تو میں بھی آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں،ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں کہ عوام بغاوت پر اتر آئیں،حکومت کو چلنے تو دیا جائے پھرہی استحکام اور اکانومی بہتر ہو گی لیکن اس کے لیے حکومت کو کام کرنے دیں مشکلات پیدا نہ کریں ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 افراد ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں، ہمیں آئین کو بحال کرنے کے لیے 30سال جدوجہد کرنا پڑتی ہے اتحادی جماعتیں جمہوری نظام چا ہتی ہیں ،نظرآرہا ہے کہ کچھ افراد کو جمہوری نظام ہضم نہیں ہورہا ہے، ون یونٹ نظام آپ سے برداشت نہیں ہورہا، آپ سے برداشت نہیں ہورہا کہ آپ کے سلیکٹڈ نے تاریخی قرض لیا،ہمارا 70 سال کا قرض ایک طرف اور عمران کا 4 سال کا قرض ایک طرف ،ہم نے چار سال ظلم کہ باوجود، جہاں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، زرداری کو دوائیاں نہیں مل رہی تھیں، تو ہماری بات نہیں سنی جاتی تھی۔ آج جب اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی تو کچھ سازشی لوگوں سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ ہم نے نہ تو تشدد کا راستہ اپنایا نہ ہی غیر مناسب زبان استعمال کی ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے غیر متنازعہ رہیں،تمام سیاسی جماعتیں فل بینچ کا مطالبہ کرتی ہیں، فل بینچ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا،عمران خان کے دباؤ میں آکے آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ فل بینچ کا مطالبہ سب جماعتوں کا ہے،یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں،اے این پی کے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آئین کو بہت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،آئین کی ایسی تشریح میں نے پہلے نہیں دیکھی، ق لیگی رہنما طارق بشیرچیمہ کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ فل بینچ کے ہمارے مطالبے کومانے گی

  • ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے سیکٹری ثقافت ڈاکٹر خادم حسین نے باغی ٹی وی (اردو) سے خصوصی بات کرتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ: عوامی نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ بنی کیونکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جو پچھلی حکومت تھی ایک تو وہ جائز حکومت نہیں تھی اور نہ وہ سہی طور پر عوام کی نمائندہ حکومت تھی کیوں کہ وہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی لہذا اس حکومت کو ہٹانا سیاسی طور پر بہت ضروری تھا تاکہ ایک مثال سیٹ ہو جائے اور یہ بھی ضروری تھا کہ اس عمل کو سیاسی اور آئینی طور پر کیا جائے۔

    خادم حسین نے باغی ٹی وی کو بتایا: جو عدم اعتماد آئین میں درج ہے اس پر ہم نے متحدہ اپوزیشن کا حصہ بن کر اپنا آئینی حق ادا کرتے ہوئے ناصرف انہیں ووٹ دیا بلکہ ان کی حمایت بھی کی۔

    لیکن پھر جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ہم نے واضح طور پر کہا کہ ایک تو ہماری عددی اکثریت نہیں ہے بہت کم ہے اور دوسرا ہم اپنی جماعت کے اندر بہت سارے کام کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ تنظیم نو وغیرہ۔

    انہوں نے مزید بتایا: چونکہ ہماری جماعت کا قومی اسمبلی میں ایک ہی ممبر ہے جن کو وزیر بنایا جائے جس پر ہم اتفاق بھی کر لیتے لیکن چونکہ وہ ہماری جماعت کے قائم مقام صدر بھی ہیں تو ظاہر ہے اس سے عوامی نیشنل پارٹی کی تنطیم نو کی فعالیت بہت زیادہ اثر اندز ہوتی ۔

    لہذا ہم نے اتحادیوں کو آگاہ کیا کہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں اور تمام تر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دو تین چیزوں کے حوالے سے ہم سنجیدہ ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا.

    سیکریٹری ثقافت کا کہنا تھا کہ: پہلی بات یہ ہے کہ اگر معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے اور اس کے لیے جتنے بھی ساختی تبدیلیاں ہیں وہ کی جاتی ہیں اور پالیسیوں کو درست کیا جاتا ہے تو ہم اس کا ساتھ دیں گے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ سارے کا سارا بوجھ عوام کی پر منتقل نہ کیا جائے۔

    بلکہ عام عوام کیلئے کے لیے فوری ریلیف کا انتظام جو بہت ضروری ہے کیا جائے، مہنگائی اور بیروزگاری اور بد امنی و دہشتگردی کا یہ جو سلسلہ ہے یہ براہ راست عوام کو ان کے روزگار اور ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے تو اس حوالے سے بھی ہم نے حکومتی اتحاد سے یہ کہا کہ عوام کے لئے فوری سہولیات کا بندوبست کیا جانا ضروری ہے۔

    ان کے مطابق: اب لگ ایسا رہا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جارہا، جبکہ ڈالر بھی بھی اڑان بھر رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ جو عام عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔
    خادم حسین کہتے ہیں کہ: ہم بار بار حکومت کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اور اپنے مرکزی قائم مقام صدر کے ذریعے یہ پیغام پہنچاتے رہتے ہیں کہ عوام پر سارا بوجھ نہ ڈالا جائے کیونکہ کسی اور نے معیشت کا بیڑا غرق کیا جس سے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

    لہذا قصوروار بھی وہی یعنی پچھلی حکومت ہے جس نے معیشت کو تباہ کیا لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا عوامی نیشنل پارٹی کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ خمیازہ ان لوگوں پر منتقل کیا جائے جو دراصل اس پورے نظام کے بہت بڑے منافع کے حصہ دار ہیں جیسے مختلف ادارے اور تجارتی کمپنیاں ہیں کیونکہ یہی سرمایہ دار سب سے زیادہ منافع کما رہے ہیں تو پھر ہمیں منظور ہوگا۔

    انہوں نے کہا: ہمارا حکومت کومشورہ یہ تھا کہ خرچہ کو کم کرکے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ: موجودہ حکومت ایسا نہیں کر پارہی ہے یا پھر ان کو بہت زیادہ وقت درکار ہے کیونکہ ان کی رفتار بہت زیادہ سست ہے۔ لہذا عوامی نیشنل پارٹی کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اسی طرح بوجھ عوام پر منتقل کیا جاتا رہا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہی اور عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا نہ ملا علاوہ ازیں معیشت مستحکم نہیں ہو پاتی اور لوگوں کی بے روزگاری ختم نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کا اتحاد میں رہنا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ: ہم نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ کب حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنا ہے اور آخری بات یہ کہ نہ یہ ہماری چاہت ہے کے حکومت غیر مستحکم ہو لیکن ہمیں عام عوام پر ڈالا گیا بوجھ ہرگز قابل قبول نہیں ہے جس کا ہم حکومتی اجلاسوں میں کئی بار اظہار بھی کرچکے لیکن فحال کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آرہی لہذا ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے.