Baaghi TV

Tag: حکومت پاکستان

  • عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی کا اعلان کردیا

    عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی کا اعلان کردیا

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے 7 رُکنی کمیٹی کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذاکراتی ٹیم میں شامل تمام 7 لوگوں کے نام سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے نوٹیفیکیشن کے مطابق شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر ،حلیم عادل شیخ، عون عباسی، مراد سعید اور حماد اظہر مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

    ریت کی طرح جماعت بکھر جانے کے بعد مذاکرات یاد آ گئے؟،مریم اورنگزیب

    نوٹیفیکیشن کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بنائی گئی 7 ممبران پر مبنی ٹیم انتخابات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ لائحہ عمل طے کرے گی۔

    دوسری جانب حکومت نے عمران خان کی فوری مذاکرات کی اپیل مسترد کر دی ہے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ریاست پر حملہ کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے مذاکرات نہیں کیے جاتے ملک میں آگ لگانے، انتشار پھیلانے اور مسلح جتھے بنانے والے سے بات چیت نہیں ہو سکتی مذاکرات کی اپیل این آر او کی اپیل ہے، ریت کی طرح جماعت بکھر جانے کے بعد مذاکرات یاد آ گئے؟-

    عمر ایوب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اور رؤف حسن سیکرٹری اطلاعات مقرر

  • تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا

    پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دو صوبوں کے عوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

    آئندہ سماعت پر عثمان بزدار پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کردی جائے گی،عدالت

    سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کا جواب ابھی ملا ہے، پی ٹی آئی نے تحریری جواب جمع نہیں کرایا، کوئی بھی جواب پہلے سے مجھے فراہم نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاید تحریک انصاف نے جواب جمع نہیں کرایا وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کوئی بھی جواب پہلے سے فراہم نہیں کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم آپ کی مدد کریں کہ جوابات میں کیا کہا گیا ہےپہلے یہ بتانا ہے کہ کیسے نظرثانی درخواست میں نئے گراؤنڈز لے سکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جواب کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، نظرثانی اختیار کا آرٹیکل 188 اختیارات کو محدود نہیں کرتاچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین پاکستان نظرثانی کی اجازت دیتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جاسکتا، نظرثانی کا دائرہ اختیار دیوانی، فوجداری مقدمات میں محدود ہوتا ہے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی حقوق کیلئے رجوع کرنا سول نوعیت کاکیس ہوتا ہے۔

    کراچی میں پولیس اہلکار کو شہید کرنیوالا ملزم سوئیڈن سے گرفتار

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 184(3) کا ایک حصہ عوامی مفاد، دوسرا بنیادی حقوق کا ہے، اگر انتخابات کا مقدمہ ہائیکورٹ سے ہو کر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے۔

    تحریک انصاف نے پنجاب الیکشن نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا، اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف پیش کیا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئے نکات اٹھائے ہیں، جب کہ نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے۔

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نظر ثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی، بلکہ 90 روز میں انتخابات کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کی، انتخابات کے لئے 30 اپریل کی تاریخ صدر مملکت نے دی، جب کہ الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا، سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

    تحریک انصاف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے، نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا، 90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے، آرٹیکل218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    تحریک انصاف نے مؤقف پیش کیا کہ آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے، آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی، آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت ہے، ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی، عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کے لئے مسترد کرچکی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ انتحابات سے کروڑوں عوام کے حقوق جڑے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کےعوام کے حقوق انتخابات سے جڑے ہیں، عوامی مفاد تو 90 روز میں انتخابات ہونے میں ہے-

    109 ملین پاؤنڈز کیس میں نیب میں پیشی: عمران خان سے پوچھ گچھ مکمل

    جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کے لیے عدالت سے رجوع کرنا سول نوعیت کا کیس ہوتا ہے وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تھری کے تحت کارروائی سول نوعیت کی نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کا ایک حصہ عوامی مفاد اور دوسرا بنیادی حقوق کا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نےکہا کہ اگر انتخابات کا مقدمہ ہائی کورٹ سے ہوکر آتا تو کیا سول کیس نہ ہوتا؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا آئینی اختیار سپریم کورٹ سے زیادہ ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق نظرثانی کا دائرہ اختیارنہیں، طریقہ کار محدود ہے-

    چسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نظرثانی کیس میں اپنے دائرہ اختیار کا فیصلہ کیوں کرے، نظرثانی کیس میں آپ کا مؤقف ہےکہ دائرہ محدود نہیں،کیا یہ بنیادی حقوق کے مقدمہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں،سپریم کورٹ کیوں اپنے دائرہ اختیارمیں ابہام پیدا کرے-

    چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے دائرہ کار کو یکجا کر کے استعمال کر سکتی ہے۔وکیل الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، اپیل کا حق نہ ہونے کی وجہ سے نظرثانی کا دائرہ محدود نہیں کیا جا سکتا عدالت کو نظرثانی میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہے، عدالت کو نظرثانی میں ضابطہ کی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہیے، آئینی مقدمات میں نیا نقطہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

    نیب کو ایک اختیار مل گیا جسے ہر جگہ استعمال کررہا ہے،چیف جسٹس

    جسٹس منیب اختر نے وکیل الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ 184(3) میں نظرثانی کواپیل کی طرح سماعت کریں۔ جس پر وکیل نے کہا کہ 184(3) میں نظرثانی دراصل اپیل ہی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دلائل میں بڑے اچھے نکات اٹھائے ہیں، لیکن ان نکات پرعدالتی حوالہ جات اطمینان بخش نہیں ہیں، وفاقی، نگراں حکومت کے جوابات کو بھی سراہتے ہیں، اس بار کیس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اس سے پہلے تو سب بینچ کے نمبرز میں لگے ہوئے تھے، جو باتیں اب کر رہے ہیں پہلے کیوں نہیں کیں، کیا ان باتوں کو پہلے نہ کرنے کی وجہ کچھ اور تھی۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دلیل مان لیں تونظرثانی میں ازسر نو سماعت کرنا ہوگی اور بہت پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی، آئین میں نہیں لکھاکہ نظرثانی اوراپیل کادائرہ کاریکساں ہوگا۔

    بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل سوا 12 بجے تک ملتوی کردی۔

    عمران خان نے ہی منصوبہ کی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کیا …

    واضح رہے کہگزشتہ روز پنجاب میں انتخابات کرانےکے فیصلےکے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھاوفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔

    نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ سے زبردستی پارٹی چھڑوائی جا رہی ہے،عمران خان

  • ملک میں جمہوریت رُک چکی ہے، بنیادی طور پر بظاہر یہ مارشل لاجیسا منظر ہے،عمران خان

    ملک میں جمہوریت رُک چکی ہے، بنیادی طور پر بظاہر یہ مارشل لاجیسا منظر ہے،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تشدد کا راستہ وہ اختیارکرتے ہیں جو الیکشن سے خوفزدہ ہیں-

    باغی ٹی وی: ٹائمز ریڈیو کو دیئے جانے والے حالیہ انٹرویو میں سابق وزیراعظم کے کہا کہ اس وقت جمہوریت رُک چکی ہے، بنیادی طور پر بظاہر یہ مارشل لاجیسا منظر ہے میرا مطلب ہے کہ ملک آرمی چیف چلارہا ہے۔

    عمران خان نے ایک بار پھرخود کے گرفتار ہونے کا دعویٰ کردیا

    اپنے خلاف القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ ظاہرنہیں کیا گیا کہ اس ٹرسٹ سے مجھے کیسے فائدہ ہوا ٹرسٹ ڈیڈ میں لکھا ہےٹرسٹی کوئی مالی فائدہ، جیسے تنخواہ وغیرہ حاصل نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے آج نیب راولپنڈی ، انسداد دہشتگردی عدالت اور الیکشن کمیشن میں پیشی کے موقع پرمممکنہ گرفتاری کے حوالے سے پارٹی کو پُرامن رہنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ منگل (آج) کو اسلام آباد میں ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی پُرامن رہے اورپُرتشدد سرگرمیوں کاحصہ نہ بنے۔

    پی ٹی آئی کے بدبخت ٹولےکی وجہ سے لوگوں کے گھر بھی محفوظ نہیں. رانا …

    عمران خان نے کہا کہ جب بھی تشدد ہو حکومت کو کریک ڈاؤن کا بہانہ مل جاتا ہے، میری ہمیشہ سے کارکنوں کو تجویز رہی ہے کہ ہمیں پُرتشدد سرگرمیوں کی ضرورت نہیں، بڑے ووٹ بینک والی پارٹیوں کو امن اور الیکشن درکار ہوتا ہے، تشدد کا راستہ وہ اختیارکرتے ہیں جو الیکشن سے خوفزدہ ہیں میں نے پارٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ مجھے پُرتشدد مظاہرے نہیں چاہئیں، انہیں محدود اظہار کی تجویز دی ہےکیونکہ پی ٹی آئی سے وابستہ ہر شخص کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو کسی بھی مقدمے میں انہیں گرفتارکرنے کا موقع مل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ میں کل (آج) متعدد مقدمات کیلئے اسلام آباد میں پیش ہو رہا ہوں، مجھے لگتا ہے میری گرفتاری کا بڑا امکان ہے۔

    جیفری ایپسٹین نے بل گیٹس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کیوں کی تھی؟

  • منگل کو میری گرفتاری کے 80 فیصد امکان ہیں،عمران خان

    منگل کو میری گرفتاری کے 80 فیصد امکان ہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ہماری پوری قیادت جیل میں ہے اور اس بات کے 80 فیصد امکانات ہیں کہ کل منگل کو جب میں اسلام آباد جاؤں گا تو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے سی این این کے ساتھ انٹر ویو میں سابق وزیراعظم عمران نے کہا کہ اگر مجھے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تو ملک میں تشدد نہیں چاہتا لیکن پی ڈی ایم لوگوں کو مشتعل کرا کر احتجاج کرنا چاہتی ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں مجھے روکنے کیلئے اسے استعمال کیا جا سکے-

    شمالی وزیرستان میں شر پسندوں نے لڑکیوں کے دو اسکول تباہ کردیئے

    انہوں نے کہا کہ ہم دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیتیں گے۔ مجھے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جنرل عاصم منیر نے مجھے اہلیہ کی کرپشن کے کوئی ثبوت دکھائے اور نہ ہی میں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

    امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔ ہماری پوری قیادت جیل میں ہے اور اس بات کے 80 فیصد امکانات ہیں کہ منگل کوجب میں اسلام آباد جاؤں گا تو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا سب کچھ صرف ہماری جمہوریت کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، 10 ہزار سے زیادہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ میری پوری سینئر قیادت جیل میں ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ کی منتقلی کا کیس:شہزاد اکبر اور زلفی بخاری آج نیب میں طلب

    انہوں نے کہا کہ مجھ پر قاتلانہ حملے ہوئے اور قتل کی کوشش کی وجہ یہ تھی کہ پی ڈی ایم ضمنی انتخابات ہار چکے تھے اور پی ٹی آئی زیادہ سے زیادہ مقبول ہو رہی تھی، اس لیے میں جانتا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے اور مجھے اس کے بارے میں کھلے عام بات کرنی پڑی انہوں نے پاکستان کے استحکام کے لیے ایک مضبوط دفاعی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے موجودہ دور کو “غیر متوقع” قرار دیا۔

    عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ اپنے ماضی کے تعاون کا اعتراف کیا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے آخری چھ ماہ کے دوران انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوششیں کی گئیں انہوں نے متحد پاکستان کی اہمیت اور فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنے پر زور دیا۔ عمران خان نے خبردار کیا کہ فوج کے خلاف فتح کی صورت میں بھی اس کا نتیجہ بالآخر ملک کو ہی نقصان ہوگا۔

    مغربی ہوائیں ملک کے بالائی اور مغربی علاقوں میں داخل،بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب الجزیرہ کو انٹرویو میں عمران خان نےکہا کہ مجھے آرمی چیف سےکوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اقتدار میں واپس آنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے آرمی چیف کے خلاف کوئی کام نہیں کیا لیکن ان کے پاس میرے خلاف کچھ ہے جس کا میں نہیں جانتا۔عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض کٹھ پتلی ہیں۔

  • کرپٹو کرنسی کی روک تھام: حکومت کا انٹرنیٹ پرسروس بند کرنےکا فیصلہ

    کرپٹو کرنسی کی روک تھام: حکومت کا انٹرنیٹ پرسروس بند کرنےکا فیصلہ

    حکومت پاکستان نے کرپٹوکرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ پر کرپٹوکرنسی سروس بند کرنےکا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا-

    ibaad-farooq

    پی ٹی آئی کا ٹکٹ واپس، کورکمانڈر ہاؤس پرحملہ لیڈر شپ نے کرایا، میاں عباد …

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور وزارت آئی ٹی نے کرپٹو کرنسی بندکرنے پرکام بھی شروع کردیا ہے کرپٹو کرنسی سے متعلق سافٹ ویئر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کبھی بھی لیگل نہیں کیا جائےگا فیٹف نے بھی شرائط لگائی ہیں،کرپٹوکرنسی کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ 2.8 ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر 1.2 ٹریلین ڈالررہ گئی ہے،کرپٹو کرنسی ہائی رسک ہے جو صرف ہوائی کرنسی ہے، کرپٹو کرنسی میں فراڈ ہے، پاکستان میں کبھی اجازت نہیں دی جائےگی اکرپٹو ہے کیا اس کا کسی کو کچھ نہیں پتا، کرپٹو کرنسی میں پاکستانی انویسٹمنٹ پر ایف آئی اے اور ایف ایم یو کارروائی کر رہا ہے، کرپٹو کرنسی کی 16 ہزار سے زائد کرنسی بن چکی ہیں جن کو کوئی استعمال نہیں کرتا۔

    گوگل کا غیر متحرک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ 2018 میں بینکوں کو کہا گیا تھا کہ کوئی اس کرنسی میں لین دین نہ کرے، اس جیسی کرنسیوں کا نشانہ ہمارے جیسے ملک ہیں، اس کرنسی کو ریگولیٹ اور مانیٹر نہیں کیا جا سکتا، چین نے بھی انٹرنیٹ پر جا کر اس کرنسی کو بند کیا۔

    چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان کے اربوں ڈالر کرپٹو کرنسی میں انویسٹ ہوئے ہیں، میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کرپٹو کرنسی میں کاروبار کر رہے ہیں، ہمارے روکنے سے وہ نہیں رکیں گے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو پاکستانی اس میں کام کر رہے ہیں ان کو سزا ہونی چاہیے، اس سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے اور کسی ادارے کی ذمہ داری لگائی جائے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےسیارچے میں پانی دریافت کرلیا

  • جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم

    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعتِ اسلامی کے مابین مذاکرات کے حوالے سے چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی نے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز ہونے والی ملاقاتوں میں وزیر اعظم شہبازشریف اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نےامیر جماعت اسلامی سراج الحق کی کوششوں کو سراہا اور انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔

    ہر شعبے میں مداخلت ہوگی تو اسے عدالتی مارشل لا کہیں گے،مولانا فضل الرحمٰن

    مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے،پرویزخٹک، سینیٹراعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کمیٹی میں شامل ہیں، تین رکنی کمیٹی ملک میں جاری سیاسی بحران کے حوالے سے جماعتِ اسلامی سے مذاکرات کرے گی۔

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ہفتے کے روز حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کی کوششوں کا آغاز کیا اور چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم شہبازشریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    فریقین کی جانب سے ان کے اقدام پر”مثبت ردِ عمل” ظاہرکیا گیا، جماعت کے مطابق شہبازشریف نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی قومی اہمیت کے معاملات پر مثبت کردار ادا کرنا چاہتی ہے، تو مسلم لیگ (ن) جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

    حکومت کے ساتھ مذاکرات میں خودشامل نہیں ہوں گا،عمران خان

    عمران خان اور سراج الحق کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی جس کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا حکومت کے ساتھ مذاکرات میں خود شامل نہیں ہوں گا،انتخابات پرکوئی چیز واضح ہو تو اپنے نمائندے بھیج سکتا ہوں۔

    دوسری جانب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان کو پاکستانی سیاست کا غیر ضروری عنصر سمجھتا ہوں، اور ہم اس سے مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں پاکستان میں قومی حکومت موجود ہے اس قومی وژن کو عمران خان کے لئے قربان کر دیں ؟ پارلیمنٹ ،قوم اور عوام جیتے گی ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکن عوام آج بھی میدانوں میں نکلنے کے لئے تیار ہیں صرف چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے کافی نہیں بلکہ چیف جسٹس کو بھی کہنا چاہیے کہ وزیر اعظم کا ہر حکم تسلیم ہوگا ۔

    ٹریفک حادثے میں جاں بحق وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کی نماز جنازہ ادا

  • حکومت کے ساتھ مذاکرات میں خودشامل نہیں ہوں گا،عمران خان

    حکومت کے ساتھ مذاکرات میں خودشامل نہیں ہوں گا،عمران خان

    لاہور: سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ملاقات کی جس کی اندروانی کہانی سامنے آ گئی ہے-

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ٕدوران ملاقات امیر جماعت اسلامی نے عمران خان کو تجویز دی کہ 90 دن کی مدت میں پہلے ہی توسیع ہو چکی ہے، کچھ قدم آپ آگے بڑھائیں، دو قدم وزیراعظم بھی توبات آگے بڑھ سکتی ہے ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں خود شامل نہیں ہوں گا، انتخابات پرکوئی چیز واضح ہو تو اپنے نمائندے بھیج سکتا ہوں۔

    علی زیدی کی گرفتاری لندن پلان کا حصہ ہے،عمران خان

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن میں اعتمادکا شدید فقدان ہے، صرف پنجاب میں انتجابات ہوئے تو اسمبلیاں اکٹھی مدت پوری نہیں کرپائیں گی، حکومت کا خیال ہےکہ اس سے طاقت کا توازن متوازن نہیں رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی پہلے وزیر اعظم شہباز شریف اور پھر عمران خان سے ملاقات کی اور کہا حکومت اور پی ٹی آئی ایک دن الیکشن کرانے کے ایجنڈے پر مل بیٹھنے کو تیار ہیں حکومتی ذرائع کے مطابق الیکشن ایک دن کرانے پر جماعت اسلامی سے مزید بات چیت کیلئے تیار ہیں، کوئی حتمی فیصلہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہوگا۔

    حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ

  • امریکی کانگریس رہنما  کاعمران خان کےحق میں امریکی وزیرخارجہ کو خط

    امریکی کانگریس رہنما کاعمران خان کےحق میں امریکی وزیرخارجہ کو خط

    امریکا کی امور خارجہ کمیٹی کے سینیئر رکن اور کانگریس رہنما بریڈ شرمین نے سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کے نام خط لکھا ہے۔

    باغی ٹی وی: بریڈ شرمین کی جانب سے امریکی وزیرخارجہ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ امریکی مفاد میں ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کو سپورٹ کیا جائےپاکستان کے داخلی حکومتی معاملات میں امریکا مداخلت نہیں کرتا مگرہمیں اس وقت منہ نہیں موڑنا چاہیے جب پاکستانی عوام کے انسانی حقوق کو خطرات لاحق ہوں۔

    مصر کا روس کو 40 ہزار راکٹس خفیہ طور پر دینے کا منصوبہ


    خط میں مزید کہا گیا کہ امریکا کے اس مؤقف کا اعادہ کیا جانا چاہیے کہ حکومت پاکستان لوگوں کے آزادی اظہار ، جمع ہونے، اور پر امن مظاہرے کےحق کا احترام کرے، یہ اہم ہےکہ ایسا جمہوری اور خوشحال پاکستان ہو جہاں لوگ آزادانہ اور کھلے انداز سے جمہوری ڈائیلاگ کرسکیں۔

    بریڈ شرمین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہےکہ پچھلے سال سیاسی شخصیات بشمول سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل اور صحافی جمیل فاروقی کو مبینہ تشدد اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا امین گنڈا پور کی گرفتاری نے خدشات اور بڑھا دیئے ہیں –

    بریڈ شرمین نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کئی مقدمات کا اندراج تشویشناک ہےاور ان کےحامیوں کے خلاف طاقت کا استعمال، مظاہرین کی گرفتاریاں بھی باعث پریشانی ہیں، عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنس دکھانے پر پابندی لگائی جاچکی ہے رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو سیاسی میدان سے ختم کر دیا جائے گا۔

    آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس، پاکستانی وفد امریکا پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ حکام کی جانب سے دو اہم صوبوں میں الیکشن کا التواء جمہوری عمل پر چوٹ ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرے اور الیکشن وقت پر کرائے سپریم کورٹ کے ججوں کے پینل کا فیصلہ حتمی ہے تاہم وزیراعظم شہباز شریف مطالبہ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز مقدمے کی سماعت کریں، یہ معاون ہوگا کہ محکمہ خارجہ کے قانونی ماہرین اس نکتے کو واضح کریں۔

    شرمین نےامریکی وزیرخارجہ سے مطالبہ کیا کہ آپ پاکستان پالیسی سے متعلق امریکا کی رہنمائی کریں۔ جس میں انسانی حقوق کے احترام پر زور ہو۔ پاکستانی اتھارٹیز سے مطالبہ کرنے کے لیے تمام سفارتی چیلنز کو استعمال کیا جائے تاکہ مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کوانصاف کےکٹہرےمیں لایا جائےیہ یقینی بنایاجائےکہ مظاہرہ کرنے والی سیاسی شخیصات یا شہریوں کو غیرجمہوری نتائج کا شکا رنہیں بنایا جائے گا۔

    بریڈ شرمین نے کہا کہ پاکستانی امریکن ڈیموکریٹ ڈاکٹر آصف محمود نے ان کی بہترین مشاورت کی جس پر وہ شکر گزار ہیں، ڈاکٹرآصف ہی نے ان کی عمران خان سے فون پربات کرائی تھی۔

    بھارت نے سری نگر میں جی 20 اجلاس طلب کر لیا

  • ٹوئٹرنے بھارت میں پاکستانی حکومت کا آفیشل اکاؤنٹ بلاک کردیا

    ٹوئٹرنے بھارت میں پاکستانی حکومت کا آفیشل اکاؤنٹ بلاک کردیا

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرنے بھارت میں پاکستان گورنمنٹ کا آفیشل اکاؤنٹ بلاک کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ایجنسی "روئٹرز” کے مطابق برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جمعرات کو ٹوئٹر پر جاری نوٹس میں کہا گیا کہ پاکستانی حکومت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔

    شیخ منصور بن زاید آل نہیان یو اے ای کے نائب صدر مقرر

    ٹوئٹر انتظامیہ کے مطابق کمپنی نے عدالتی حکم پر حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا ہےجاری کردہ نوٹس کے مطابق کمپنی کی گائیڈ لائنز اسے مستند لیگل ڈیمانڈ کےجواب میں اکاؤنٹ روکنے پر مجبور کرتی ہیں۔

    تاہم بھارت میں بلاک کیا جانے والا پاکستان حکومت کا آفدشل ٹوئٹراکاؤنٹ امریکا اور کینیڈا جیسے ممالک میں دیکھنے اور بات چیت کے لیے دستیاب ہے تاحال اس حوالے سے پاکستان کے علاوہ بھارت کی آئی ٹی وزرات سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی بھارت میں حکومت پاکستان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ کچھ قانونی تقاضوں کے باعث حکومت پاکستان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلاک کیا گیا ہے۔

  • حکومت کا توشہ خانہ ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ

    حکومت کی جانب سے توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج منعقد ہوا جس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہواجس میں ملکی سیاسی اورمعاشی صورتحال پرتفصیلی مشاورت ہوئی وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کابینہ کومعاشی صورتحال اوروزیرتوانائی خرم دستگیرنے بجلی بریک ڈاؤن پر بریفنگ دی-

    اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ سے متعلق وزارتی کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے توشہ خانہ کا تمام ریکارڈ پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہےتمام ریکارڈ پبلک کرنے کے فیصلے کے بعد کون سے حکمران نے کتنے تحائف لیے کتنی رقم ادا کی سب پبلک ہوگا۔

    اس حوالے سے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم عوام سے کوئی چیز نہیں چھپائیں گے ہر معاملے میں شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔

    وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف خود یا جسے وہ چاہیں گے وہ ہوگا،رانا ثنااللہ

    جبکہ کابینہ کو توانائی بچت پلان پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ وفاقی کابینہ میں بجلی بریک ڈاؤن پر بھی بات کی گئی جس دوران وزیراعظم نے بجلی کی طویل بریک ڈاؤن پر سخت برہمی کا اظہار کیا اس موقع پر وزیراعظم نے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت دی اور وزراء سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں بیٹھنے کے بجائے فیلڈ میں کام کریں اور جو وزیر اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکتا وہ عہدہ چھوڑ دے۔

    نواز شریف کے منجمد اثاثہ جات بحال کئے جائیں، عدالت میں درخواست