Baaghi TV

Tag: حکیم محمد سعید

  • سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید  کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

    سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی

    سابق گورنر سندھ ،معروف طبیب حکیم محمد سعید کی26ویں برسی 17اکتوبر کومنائی جائے گی ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکیم محمدسعید پاکستان کے ایک مایہ ناز طبیب تھے شعبہ حکمت میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیںطب و حکمت،عالمی ادب کے تراجم،اسلام اور دیگر موضوعات پر انہوں نے 200سے ز ائد کتب تصنیف کیں ،حکیم سعید کو ان کی شاندار خدمات کے صلہ میں ستارہ امتیازاور نشان امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے انہیں بچوں سے بے پناہ محبت تھی وہ بچوں کے رسالے نونہال سے اپنی شہادت تک منسلک رہے۔وہ صوبہ سندھ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں .انہیں17اکتوبر 1998ء کو کراچی میں نامعلوم افراد نے فجر کی نماز کے بعد روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے یہودیوں اور اسرائیل سے تعلقات کے بارے حکیم محمد سعید نے ہی خبردار کیا تھا جسکی وڈیو انکے سوشل میڈیا پر آج بھی دیکھی جا سکتی ہے.

    کراچی،صدر میں ہوٹلوں کی چیکنگ کے دوران 6 مشکوک افراد گرفتار

    ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کو اہمیت کی سوچ خطرناک ہے، سعید غنی

    کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

  • ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید

    ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید

    حکیم محمد سعید

    محمد سعید 9 جنوری 1920 کو دہلی میں پیدا ہوئے، وہیں طب کی تعلیم حاصل کی 1906 میں ان کے والد حافظ عبدالحمید نے ہمدرد دوا خانہ ک بنیاد ڈالی والد کی وفات کے بعد 1948 میں اپنا گھر، دواخانہ اور کاروبار چھوڑ کر اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے۔ آرام باغ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں مطب قائم کیا۔ جس مکان کو اپنا مسکن بنایا تھا، مرتے دم تک اسی میں مقیم رہے۔ نصف صدی میں جو کچھ کمایا، خلقِ خدا کیلئے وقف کردیا۔ اپنے نام کوئی اثاثہ نہیں رکھا۔ نصف کروڑ کے قریب مریضوں کا طبی معائنہ کیا، کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیاحکیم حافظ محمد سعید 1993 سے 1996 تک سندھ کے گورنر رہے اس دوران بھی وہ باقاعدگی سے اپنے مریضوں کو دیکھتے تھے، آخری مریض کو دیکھے بغیر نہیں جاتے تھے۔ وہ جلدی سوتے اور جلدی جاگتے تھے۔ جب انھیں گورنر بنایا گیا اور اس کی اطلاع دینے کے لیے ان کے گھر فون کیا گیا تو وہ سورہے تھے، حکام کو بتایا گیا کہ حکیم صاحب سورہے ہیں، صبح تہجد میں اٹھیں گے، اس سے قبل بات ممکن نہیں ہے۔ ان کے تعلیم سے لگاؤ کا یہ حال تھا کہ اپنی گورنری کے مختصر ترین دور میں 4 یونیورسٹیز کی منظوری دی۔

    بارہ روپے سے ہمدرد کےادارے کی بنیاد رکھی، بیوی کا زیور بیچ کر اس کی ترقی و ترویج کی اور اسے وقف برائے پاکستان کردیا۔ حکیم صاحب ایک درویش صفت انسان اور پکے پاکستانی تھے طب اور تعلیم ان کے بنیادی ہدف تھے دو سو سے زائد کتابیں اور ریسرچ پیپرز لکھے، شام ہمدرد کے ذریعے آگہی پھیلائی۔ ہمدرد رسائل و جرائد کے ذریعے فکر و عمل کی دعوت دی۔

    ہمدرد فاؤنڈیشن شاید پاکستان کا واحد ادارہ ہے جہاں ادارے کے سربراہ سے لے کر چپڑاسی تک تمام خط و کتابت، دفتری اور انتظامی امور اردو میں سرانجام دیتے ہیں حکیم صاحب ہر خط کا جواب خود تحریر کرتے تھے جہاں دوست، جواناں امروز، ہمدرد مجلسِ شوریٰ، بزمِ ہمدرد نونہال کے ذریعے علم و آگہی پھیلائی، کتابیں اور کتب خانے ان کی شناخت تھیں مدینۃ الحکمت میں سب سے پہلے بیت الحکمت لائبریری تیار کرائی گئی جو پاکستان کی بڑی جدید اور سائنٹیفک لائبریری ہے۔

    حکیم صاحب کا ادنیٰ و اعلیٰ سے ایک جیسا رویہ تھا، انھیں ستارۂ امتیاز اور نشانِ امتیاز جیسے تمغوں سے بھی نوازا گیا لیکن ان تمغوں نے ان کی نہیں بلکہ حکیم صاحب کی شخصیت نے انھیں توقیر و افتخار بخشا،ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے قائم کردہ اہم ادارے ہیں جو آج تک پاکستان کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ حکیم محمد سعید بچوں سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ بچوں کے ساتھہ اسٹول پر بیٹھہ جایا کرتے تھے۔ بچوں کیلئے1953 میں ہمدرد نونہال جیسا معلوماتی رسالہ جاری کیا جو اب تک جاری ہے۔

    [ نصف صدی سے زیادہ اس کےمدیر رہنے والے مسعود احمد برکاتی صاحب نے بتایا ایک بار ہمدرد کی انتظامی میٹنگ جاری تھی۔ اکائونٹنٹ کے پاس ایک موٹی سی فائل رکھی تھی۔ حکیم صاحب نے اسے مخاطب کیا اور پوچھا، اس فائل میں کیا ہے۔ اکاؤنٹنٹ نے فائل حکیم صاحب کو پیش کی اور بولا: ہم نے ہمدرد نونہال کی آمدنی اور خرچ کا دس سالہ گوشوارہ بنایا ہے ، اس کے اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کروڑ سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ آمدنی صرف چند لاکھہ ہے۔ یہ رسالہ مسلسل خسارے میں ہے اس لیے ہماری تجویز ہے کہ اسے بند کردیا جائے، حکیم صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور اکائونٹنٹ کو مخاطب کرکے بولے: اس رسالے سے جو منافع ہوتا ہے اسے سمجھنا آپ کے بس کی بات نہیں، آگے چلیے۔ راوی:عقیل عباس جعفری]

    تراجم سمیت مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر کتابیں اور مجلے شائع کئے جاتے ہیں۔17اکتوبر 1998 کی صبح بھی وہ آرام باغ میں واقع اپنے مطب پہنچے ہی تھے کہ دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا ان کے قتل کا شک ایم کیو ایم کے کچھ رہنماؤں پر ظاہر کیا جاتا ہے حکیم سعید کو انہی کی قائم کردہ ہمدرد یونیورسٹی میں سپرد خاک کیا گیا۔

    ہمدرد نونہال میں قلمی دوستی کیلئے تعارف چھپتے تھے جن بچوں نے اپنا مشغلہ ٹکٹ جمع کرنا لکھا ہوتا تھا، حکیم صاحب انہیں ذاتی خط لکھتے ، ٹکٹ جمع کرنے کے مشغلے کے فائدے بتاتے کہ ٹکٹوں سے یہ یہ معلومات حاصل ہوتی ہیں ساتھہ ہی کچھ غیر ملکی ٹکٹوں کا تحفہ ہوتاہمدرد کے بچوں کے ٹانک کے ساتھہ ایک کارڈ ہوتا تھا، جس پر بچے کے کوائف لکھ کر بھیجنا ہوتا تھا پھر اس بچے کی ہر سالگرہ پر حکیم صاحب کا مبارک باد کا کارڈ ملتا رہتا تھا۔

    منقول

  • 17-اکتوبرکو200 سے زائد کتب کے مصنف کو بے دردی سے قتل کردیا

    17-اکتوبرکو200 سے زائد کتب کے مصنف کو بے دردی سے قتل کردیا

    کراچی : 17-اکتوبرکو200 سے زائد کتب کے مصنف کو بے دردی سے قتل کردیا ، یہ عظیم شخصیت قوم کے محسن ، اور شہید پاکستان کا لقب پانے والے انسان سابق گورنر سندھ، مایہ ناز طبیب اور سماجی رہنما حکیم محمد سعید تھے جن کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا ، یہ بات بھی بڑی قابل فخر اور قابل رشک ہے کہ عظیم طبیب حکیم محمد سعید روزے کی حالت میں شہید ہوکر اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گئے

    پاکستان آکر پتہ چلاکہ خاندان کیا ہوتا ہے ،شہزادی کیٹ

    بین الاقوامی شہرت یافتہ معالج، سماجی کارکن اور مصنف حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے، دو سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، وہ بچپن سے ہی غیر معمولی ذہانت اور حیران کن یادداشت کے مالک تھے یہی وجہ ہے کہ وہ 9 برس کی عمر میں حافظ قرآن بھی بن گئے تھے۔

    تقسیمِ برصغیر کے بعد حکیم سعید نے بھارت میں موجود تمام کاروبار ، عیش و عشرت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ 9 جنوری 1948 کر کراچی پہنچے، یہاں انہوں نے زندگی کے آخری روز تک قیام کیا۔حکیم سعید نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتابیں تحریر کیں جبکہ حکمت کے حوالے سے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے بہت بڑا فیصلہ کرلیا

    بچوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ حکیم سعید نے نونہال کے نام سے باقاعدہ رسالے جاری کیے، وہ اپنی آخری لمحات تک ہمدرد نونہال سے وابستہ رہے، حکیم سعید نے 1993 سے 1994 تک بطور گورنر سندھ امور انجام دیے، گورنر سندھ دیگر اہم سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہے ، حکومت پاکستان نے خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔

    وہ 17 اکتوبر1998 کو جب گھر سے مطب جانے کے لیے نکلے تو دہشت گردوں نےانہیں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔جس وقت انہیں آرام باغ میں ان کے دواخانہ کے باہر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا وہ روزے کی حالت میں تھے، یوں انہوں نے روزہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔

    ڈینگی نے کراچی والوں کا براحشرکردیا

    شہید پاکستان مریضوں کے مسیحا حکیم محمد سعید کوہم سے بچھڑے 21 برس ضرور بیت گئے مگران کی طبی،علمی اور ادبی خدمات سے آج بھی ہزاروں لوگ فیض یاب ہورہے ہیں۔