Baaghi TV

Tag: خاتون صحافی

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • بنگلہ دیش،صحافی میاں بیوی کو جیل بھجوا دیا گیا

    بنگلہ دیش،صحافی میاں بیوی کو جیل بھجوا دیا گیا

    ڈھاکہ کی ایک عدالت نے ہفتہ کو نجی چینل ایکتور ٹی وی کے سابق چیف نیوز ایڈیٹر شکیل احمد اور ان کی اہلیہ، سابق چیف رپورٹر اور اینکر فرزانہ روپا کو 9 روزہ ریمانڈ کے بعد جیل بھیج دیا۔

    ڈھاکہ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ فرزانہ شکیلہ سمو چودھری نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔دو الگ الگ مقدمات میں نو روزہ ریمانڈ کے بعد تفتیشی افسر اڈابور پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر منٹو چندر بنک نے انہیں عدالت میں پیش کیا۔ملزامن کے وکیل نے درخواست ضمانت دائر لیکن استغاثہ نے اس کی مخالفت کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد دونوں کو جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

    شکیل احمد اور فرزانہ روپا کو 21 اگست کو حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کی بیٹی سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔انہیں ڈھاکہ کے ہوائی اڈے سے صبح 6:20 بجے ترکش ایئر لائنز کے ذریعے استنبول کے راستے پیرس، فرانس کے لیے روانہ ہونا تھا۔تاہم، اترا ایسٹ پولیس اسٹیشن میں درج ایک کیس کی وجہ سے، پولیس کی اسپیشل برانچ نے انہیں روانگی کی منظوری نہیں دی۔بعد ازاں ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی جاسوسی برانچ کی ایک ٹیم انہیں پوچھ گچھ کے لیے ڈی بی آفس لے گئی تھی

    بھارت حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے، مرزا فخر الاسلام

    حسینہ دہلی میں بیٹھ کر عوامی فتح کو ناکام بنانے کی سازش کر رہی ہے،مرزا فخرالاسلام

    حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کی درخواست دائر

    مچھلی کے تاجر کے قتل پر حسینہ واجدکے خلاف مقدمہ درج

    گرفتاری کا خوف،حسینہ کی پارٹی کے رہنما”دودھ کا غسل” کر کے پارٹی چھوڑنے لگے

    بنگلہ دیش، ریلوے اسٹیشن پر لوٹ مار،تشدد،100 سے زائد زخمی

    ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی

    حسینہ واجد پر قتل کا ایک اور مقدمہ درج

  • خاتون صحافی کے قتل کے الزام میں سابق شوہر گرفتار

    خاتون صحافی کے قتل کے الزام میں سابق شوہر گرفتار

    پنجاب کے ضلع جہلم میں خاتون صحافی کے قتل کے الزام میں سابق شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے

    خاتون صحافی نوشین رانا کو 5 ماہ قبل قتل کیا گیا تھا،سوہاوہ پولیس کے مطابق پانچ ماہ قبل فون پر اطلاع ملی تھی کہ لہڑی روڈ پر ایک خاتون کی لاش پڑی ہے،خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا تو انکشاف ہوا کہ خاتون کو تشدد اور فائرنگ کرکے قتل کیا گیا اور شناخت چھپانے کے لیے چہرے پر تیزاب پھینکا گیا ،خاتون کے بیگ سے ملنے والے کاغذات سے خاتون کی شناخت ہوئی، خاتون پاکپتن کی رہائشی اور مقامی صحافی تھی،ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی تھی، تاہم 5 ماہ تک تفتیش کے بعد ملزم کو پاکپتن سے گرفتار کرلیا گیا جو کہ مقتولہ صحافی کا سابق شوہر تھا، گرفتار ملزم سے تحقیقات جاری ہیں،

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • یونان میں پاکستانی پرچم لہرانے پر پاکستانی خاتون صحافی مونا خان گرفتار

    یونان میں پاکستانی پرچم لہرانے پر پاکستانی خاتون صحافی مونا خان گرفتار

    یونان میں پاکستانی خاتون صحافی مونا خان کو گرفتار کر لیا

    اینکر اور میرا تھن رنر مونا خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان نے معاملہ یونانی حکام کے سامنے اٹھاتے ہوئے قونصلر رسائی مانگ لی ہےمیڈیا رپورٹس کے مطابق مونا خان ہائیکنگ کے لئے یونان گئی تھیں انہیں پاکستان کا قومی پرچم لہرانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے

    کوچ محمد یوسف نے مونا خان کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایاکہ پولیس نے ان کا فون بھی قبضے میں لے لیا ہے،مونا سے میرا آخری رابطہ ایک گھنٹہ قبل ہوا تھا، وہ اپنے بیٹے کو ایتھنز میں چھوڑ کرگئی تھیں

    مونا خان سرکاری ٹی وی میں اینکر پرسن ہیں، وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہوئیں تھیں، ان کی مبینہ آڈیو گفتگو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں انکا کہنا تھا کہ ” یونان میں تمام ہائیکرز ایک ساتھ جمع ہوئے تھے، جب میں نے پاکستانی پرچم نکالا تو پولیس نے مجھے حراست میں لے لیا، مجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ پاکستان کا پرچم لہرائیں گی، جس پر میں نے جواب دیا کہ جی ہاں میں پاکستان کا پرچم لہراؤں گی، جس کے بعد یونان پولیس نے مجھ سے بدسلوکی کی”۔

    یونان میں پاکستانی سفارتخانہ میراتھن رنر کی گرفتاری کی وجوہات معلوم کررہا ہے،ترجمان دفتر خارجہ
    کوچ یوسف مونا کی رہائی کے لیے پاکستانی حکومت سے اقدامات کی اپیل کی تھی جس کے بعد آج ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی اینکر اور میراتھن رنر مونا خان کی یونان میں گرفتاری کا معاملہ پاکستانی سفارتخانے نے یونانی حکام کے سامنے اٹھایا ہے،یونانی حکام سے مونا تک قونصلر رسائی مانگی ہے، یونان میں پاکستانی سفارتخانہ میراتھن رنر کی گرفتاری کی وجوہات معلوم کررہا ہے اور ان کے رننگ کوچ ملک یوسف سے بھی رابطے میں ہے

    سفاک شوہر نے حاملہ بیوی اور کمسن بیٹی کو جان سے مار دیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

  • خاتون صحافی کا قتل،لاش کی ایک ماہ بعد شناخت،چہرے پر پھینکا گیا تھاتیزاب

    خاتون صحافی کا قتل،لاش کی ایک ماہ بعد شناخت،چہرے پر پھینکا گیا تھاتیزاب

    پاکپتن، خاتون صحافی کو قتل کر دیا، لاش کی شناخت ایک ماہ بعد ہوئی، چہرے پر تیزاب پھینک کر قتل کیا گیا تھا، لاش جنگل سے ملی اور امانتا تدفین کی گئی تھی

    سوہاوہ میں ایک ماہ قبل قتل ہونے والی خاتون کی شناخت پاکپتن کی رہائشی نوشین رانا نامی خاتون کے نام سے ہوئی، نوشین رانا کو تیز دھار آلہ سے قتل کرکے چہرے پر تیزاب پھینک کر قتل کیا گیا تھا جس کی لاش لہڑی کے ملحقہ جنگل سے ملی تھی ،پولیس تھانہ سوہاوہ نے اندھے قتل کی تفتیش کے پہلے مرحلے میں خاتون کو ڈی این اے رپورٹ کے بعد شناخت کر لیا،خاتون صحافی کی سوہاوہ میں امانتاً تدفین کی گئی تھی ،ایس ایچ او تھانہ سوہاوہ احسن شہزاد کا کہنا ہے کہ شناخت کے بعد تفتیش کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اس سلسلہ میں سائنسی طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کی مدد سے بہت جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ،قتل کی وجوہات جاننے کے لیے پولیس مصروف کار ہے

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

    ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

    ‎‎نوارا نجم (Nawara Negm) معروف مصری صحافی، مترجم، انسانی حقوق کی علمبردار اور نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ‎ نوارا نجم انسانی حقوق کے بارے میں شائع ہونے والے اپنے مصری مضامین اور نائل ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر نشر ہونے والے پروگرام اور مصری خبرنامہ (‎Egypt News) ‎کی وجہ سے مشہور ہیں، اس کے علاوہ بھی مصر میں آزادیِ صحافت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی بڑی کاوشیں ہیں۔‎ ‎آپ اسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں بطور میزبان و مترجم منسلک ہیں۔ آپ مشہور مصری شاعر احمد فواد نجم اور ممتاز اسلامی مفکر و صحافی سفیناز کاظم کی صاحبزادی ہیں۔

    نوارا نجم نے میں انگریزی ادب (Literature) ‎میں جامعہ عین الشمس مصر سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
    تصانیف
    سن 2009ء میں انہوں نے اپنی پہلی کتاب عش عالريح Esh A’rrih ‘A Nest on the Wind شائع کی جو ان کے کالموں کا مجموعہ ہے اور اسی سال انہوں نے چند مصری خواتین صحافیوں کے ساتھ مل کر ایک اور کتاب أنا أنثہ Ana Ontha I’m Female : شائع کی۔
    صحافتی سفر
    1992 تا 1993 یونیورسٹی میں طالب علمی کے دوران میں انہوں نے بطور ٹرینی صحافی الحرم پبلشنگ ہاوس کے زیر انتظام شائع ہونے والے ماہنامہ الشباب میگزین اور انگریزی ہفت روزہ الااحرم، خواتین میگزین ہفت روزہ نصف الدنیا، ثناء الابثی سے منسلک رہے۔
    بعد ازاں نوارا نجم روزنامہ الحرم سے مستعفی ہو کر الفواد نامی روزنامہ میں ملازمت اختیار کی اس کے بعد انہوں نے ہفت روزنامہ القاہرہ نامی ہفت روزہ اخبار جو وزارت ثقافت حکومت مصر کے زیر انتظام شائع ہوتا تھا سے منسلک ہو گئے، اس کے بعد جب 1997ء میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نےنائل ٹیلی ویژن نیٹ ورک میں ملازمت کا آغاز کیا۔
    صحافتی تخلیقات
    نوارا نجم ہر اتوار مصر کے مشہور اخبار الفواد اور روزنامہ الدستور کے لیے ہفتہ وار کالم بھی لکھتی ہیں۔
    بلاگز

    سن 2006 ء میں نوارا نجم نے اپنے سیاسی بلاگ جبۃ التھييس الشعبيۃ کا آغاز کیا، اس بلاگ میں سیاسی، سماجی، ادبی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مضامین، ویڈیوز، آڈیوز اور تصاویر شائع کیے جاتے ہیں۔
    2011ء کے مصری انقلاب (جسے جان 25واں انقلاب بھی کہا جاتا ہے) میں بھر پور انداز میں شریک ہوئے اور روزانہ دیگر مظاہرین کے ساتھ تحریر اسکوائر قاہرہ میں مظاہرین کے شانہ بشانہ خدمات انجام دیں اور تحریر اسکوائر سے الجزیرہ ٹیلی ویژن کے لیے بھی رپورٹنگ کی۔
    نوارا نجم نے مترجم، نیوز ایڈیٹر، میزبان، نامہ نگار اور کالم نویس کی حیثیت سے کئی مصری اشاعتی اداروں سے منسلک ہیں۔

  • پشاورایئرپورٹ پر غیر ملکی خاتون صحافی کی تلاشی،صحافی کا احتجاج

    پشاورایئرپورٹ پر غیر ملکی خاتون صحافی کی تلاشی،صحافی کا احتجاج

    پشاورائیرپورٹ پرغیر ملکی صحافیوں نے عملے کی جانب سے مبینہ بدتمیزی کا الزام سامنے آیا ہے

    غیرملکی صحافی بین الاقومی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے تھے ،سری لنکا اور آذربائیجان کے صحافیوں سے تلاشی کے بہانے بدسلوکی کی گئی، آذربائیجان کی خاتون صحافی اسپورٹس اینڈ پیس کانفرنس کیلئے پاکستان آئی تھیں ، خاتون صحافی نے دعویٰ کیا کہ واپس روانگی پر پشاور ائیرپورٹ پر بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا، ، آذربائیجان کی خاتون صحافی اور ان کے والد کی فلائٹ مس ہو گئی

    اے ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی جانچ کررہے ہیں،غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس معاملے کو دیکھ رہے ہیں،

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    صحافی تنظیموں نے واقعہ کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے، امجد عزیز ملک جی ایس ایشین سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ واقعہ سے پاکستان کا امیج خراب ہوا پاکستان کی جگ ہنسائی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے

  • ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی معروف صحافی اور ٹی وی میزبان لتھوانیا فرار ہو گئی

    ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی معروف صحافی اور ٹی وی میزبان لتھوانیا فرار ہو گئی

    روسی صدر ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی لتھوانیا فرار ہو گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں انٹیلی جنس سروسز نے بتایا کہ معروف روسی صحافی اور ٹی وی میزبان کیسنیا سوبچک اور صدر ولادیمیر پیوٹن کی بپتسمہ یافتہ بیٹی ماسکو میں پولیس کے ان کے ایک گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد لتھوانیا فرار ہو گئی ہیں۔

    روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’طاس‘ کے مطابق ملک کی سکیورٹی سروسز کے پاس کیسنیا سوبچک کے اسی مجرمانہ کیس میں ملزم کے طور پر اس کے میڈیا ڈائریکٹر کرل سکھانوف کے وارنٹ گرفتاری تھے۔

    مفرور خاتون صحافی سینٹ پیٹرزبرگ کے سابق میئر اناتولی سوبچک کی بیٹی ہیں، جنہیں پوتین نے پہلے اپنا استاد قرار دیا تھا اور افواہیں ہیں کہ وہ پیوٹن کی پوتی ہیں اگرچہ یہ یقینی نہیں ہےلیکن روسی صدر کےساتھ ان کے طویل خاندانی تعلقات کے باوجود دونوں میں اختلافات بھی نمایاں رہے ہیں۔

    دس سال سزا پانے والے للا دی سلوا دوبارہ برازیل کے صدر منتخب

    کیسنیا روس کی ایک معروف میڈیا پرسن ہیں، جو صحافت میں کیریئر شروع کرنے سے پہلے ایک رئیلٹی شو کی میزبان کے طور پر شہرت حاصل کر چکی ہیں کیسنیا سنہ 2018ء میں روس کی صدارتی امیدوار بھی رہ چکی ہیں۔

    روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوبچک ماسکو سے دبئی کے راستے استنبول کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ خرید کر روسی حکام کو دھوکہ دے کر منگل کی شب بیلاروس کے راستے لتھوانیا کی سرحد کے پار پہنچ گئیں۔

    ملک کی کاؤنٹر انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ڈاریوس یونسکیس نے جمعرات کی صبح ایک مقامی ریڈیو سٹیشن کو بتایا کہ بغیر کسی شک کے وہ لتھوانیا میں ہے سوبچک نے اپنے اسرائیلی پاسپورٹ کے ساتھ سرحد پار کی اور لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا نے گزشتہ ماہ سیاحتی ویزا رکھنے والے روسی شہریوں پر داخلے پر پابندی عائد کر دی ایک اسرائیلی شہری کے طور پر ایک درست پاسپورٹ کے ساتھ اسے ویزا کی ضرورت نہیں ہے اور وہ لتھوانیا میں داخل ہو سکتی ہے اور یہاں 90 دن تک رہ سکتی ہے۔

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

  • ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا، صدف کی ماں کی گفتگو

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا، صدف کی ماں کی گفتگو

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے لانگ مارچ میں خاتون صحافی صدف کی موت ہو گئی ہے صدف کے ساتھی رپورٹنگ کرنے والے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ صدف کو سیکورٹی گارڈ نے دھکا دیا جس کے بعد اسکی موت ہوئی ۔ لاہور سے خاتون صحافی امبرین فاطمہ صدف کے گھر گئیں اور لواحقین سے ملاقات کی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    صدف کنٹینر پر تعینات گارڈز کے دھکا دینے سے جاں بحق ہوئیں، ساتھی رپورٹر کا دعویٰ


    صدف کے گھر لواحقین سےملاقات کے بعد امبرین فاطمہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ابھی صدف کے گھر سے ہوکر آئی ہوں،صدف کے والد اور والدہ بیٹا اور بیٹی سب کی حالت دیکھ کر بہت تکلیف ہوِئی۔مرحومہ کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور بیٹی۔

    بیٹی کا کہنا ہے کہ صبح ناشتے کے وقت انکو منع کیا مت جائیں،والدہ کہتی ہیں رات 12 بجے کال کرکے خاص طور پہ منع کیا لیکن کام ‏کے جنون نے انہیں رکنے نہ دیا اور کام پر پہنچ گئیں۔

    لانگ مارچ میں خاتون صحافی کی موت، وزیر داخلہ نے بڑا اعلان کر دیا


    امبرین نے ٹویٹ کرتے ہوئے مزید کہا کہ والدہ کہتی ہیں کہ صدف نے مزید کام نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہوا تھا آٹا منگوایا کہ اب بچوں کو اپنے ہاتھ سے روٹی بنا کر دوں گی،امتنان شاہد کے اصرار پر لانگ مارچ کی کوریج کےلیے گھر سے نکلی،تایا کا کہنا ہے کہ عمران خان کا انٹرویو کرنے پہ بہت خوش تھی،صدف کی نند بچوں کی طرح رو رہی تھی اور تعریف کررہی تھی۔

    صدف کی والدہ کہتی ہیں کسی نے کہا ٹی وی دیکھو،دیکھا تو صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا بولیں آٹھ دن پہلے میرے پاس چھ گھنٹے گزار کر گئی بولی پھر آوں گی امی جی-

    امبرین فاطمہ کے مطابق صدف کا جنازہ آج رات ایک بجے ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا جائے گا۔

    اہلیہ کی موت حادثاتی تھی،کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتے،شوہر صدف نعیم