Baaghi TV

Tag: خارجہ پالیسی

  • امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

    امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

    امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی رہی،مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا فقدان دیکھا گیا، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔

    امریکی وزیرِ تجارت نے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہو سکا، کیونکہ مودی دباؤ اور گھبراہٹ کا شکار تھے اور انہوں نے فون کرنے سے گریز کیا، امریکا نے بھارت کے بجائے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کر لیے ہیں، جسے ماہرین بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں-

    باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ماضی میں بھارت کی معیشت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “کمزور” قرار دے چکے ہیں اسی تناظر میں معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے 500 فیصد تک ممکنہ ٹیرف بھارتی معیشت کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

    معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناکام سفارت کاری اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا براہِ راست بوجھ بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور تجارتی دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ

  • مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کا محور اخلاقیات نہیں بلکہ مفادات ہیں،دی وائر

    مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کا محور اخلاقیات نہیں بلکہ مفادات ہیں،دی وائر

    مودی سرکار فلسطین اور ایران کے حوالے سے سفارتی سطح پر دوغلے پن کا شکار ہے،مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کا محور اخلاقیات نہیں بلکہ مفادات ہیں-

    دی وائر کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے اسرائیل کی ایران کیخلاف جارحیت پر واضح موقف سے گریز کیا، بھارت کی اس دوغلی پالیسی نے اسے عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے مودی سرکار نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے حق میں اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں پر ہمیشہ خاموشی اختیار کی، مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کا محور اخلاقیات نہیں بلکہ مفادات ہیں۔

    دی وائر کا کہنا ہے کہ مودی نے پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کے لیے اسرائیل کی حمایت کو ترجیح دی، مودی سرکار نے اقوام متحدہ میں میانمار میں ہونے والی زیادتیوں پر بھی خاموشی اختیار کی، روس کے یوکرین پر حملے کی کھل کر مذمت نہیں کی، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہےمودی حکومت کی دوہری پالیسی نے بھارت کو عالمی اخلاقی اور سیاسی اہمیت سے دور کر دیا ہے، مودی نے عالمی انسانی حقوق کی بنیاد پر اتحاد بنانے کے تاریخی ورثے کو نظرانداز کیا ہے، مودی کی غیر اخلاقی سفارتکاری نے بھارت کو بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام بنایا ہے۔

    پاکستان اور امریکا کا دوطرفہ تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق

    دی وائر کا کہنا ہے کہ مودی کی سیاست نے بھارت کو اخلاقی اعتبار سے تنہا کیا اور اس کے سفارتی تعلقات کمزور کیے، مودی حکومت کی خاموشی اور دوہری پالیسی بھارت کے عالمی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے، مودی کی خارجہ پالیسی عالمی اصولوں کی بجائے طاقت کے حساب سے فیصلے کرنے پر مبنی ہے جو بھارت کے لیے خطرناک ہے۔ اسرائیل ایران جنگ، فلسطین پر مظالم اور دیگر عالمی تنازعات پر بھارت کی دوغلی پالیسی مودی حکومت کی کمزریوں کو ثابت کرتی ہے۔

    بلوچستان کابجٹ آج پیش کیا جائے گا، تنخواہوں میں اضافے کا امکان

  • کیا ہر صوبہ اب اپنی اپنی خارجہ پالیسی بنائے گا؟ عرفان صدیقی

    کیا ہر صوبہ اب اپنی اپنی خارجہ پالیسی بنائے گا؟ عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے رہنما،سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنڈا پور اپنا ہر معاملے میں گنڈاسا استعمال کریں لیکن صوبہ خارجہ پالیسی نہیں بنا سکتا

    عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ہر صوبے کی سرحد کسی نہ کسی صوبے سے ملتی ہے، پنجاب سے بھارت، بلوچستان کی ایران، خیبر کی افغانستان سے سرحد ملتی ہے کیا سندھ بھارت یا دوسرے کسی قریبی ملک سے تعلقات پر بات کر سکتا ہے،یہ خوفناک کام کرنا چاہ رہے ہیں، آئی ایم ایف کو خط لکھا، وہاں مظاہرے کئے ،امریکی کانگریس میں دہائی دی، سائفر کو مذاق بنایا، اب یہ جو سلسلہ شروع ہوا کہ اپنی اپنی خارجہ پالیسی بنالو، جو بھی پالیسی ہو گی وہ وفاق نے طے کرنی ہے میں یہ معاملہ سینیٹ میں آج اٹھانا چاہتا تھا، ہم اس کو سینیٹ کے ایجنڈے میں لے کرآئیں گے، یہ دستور آئین کی خلاف ورزی ہے، پہلے پچاس ساٹھ ہزار بندہ وہاں لا کر بٹھا دیا آج بھی ہم دہشت گردی بھگت رہے ہیں، ہم آپکی گالی کو نظر انداز کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان کی سلامتی ،سیکورٹی، دفاع ،خارجہ پالیسی کو تماشا بنائیں گے تو یہ ناقابل برداشت ہے، ہم پارلیمنٹ میں توانا آواز اٹھائیں گے، قومی اسمبلی،سینٹ میں معاملہ اٹھائیں گے،افغان حکومت بھی دفتر خارجہ کو نظر انداز کر کے کوئی ایسا صوبائی سطح پر کام کرے گی تو یہ درست نہیں ہو گا، اس طرح ہوا تو امریکہ کی 50 ریاستیں کہیں کہ ہم اپنے معاملات بنائیں گے کیا ہر ریاست کو الگ خارجہ پالیسی کی اجازت مل سکتی ہے؟ ہر چیز کی حد ہونی چاہئے،

    ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    گنڈاپور کی افغان سفارتکار سے ملاقات آئندہ ماہ کوئی ایڈونچر کرنے کی پلاننگ ہے،عظمیٰ بخاری

    دہشتگردی کے خلاف پولیس اور پاک فوج کا تعاون جاری رہے گا،آئی جی خیبر پختونخوا

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • مقبوضہ کشمیر  کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟  سنگین علی زادہ

    مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

    ۔
    بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
    پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
    زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
    کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
    بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔