Baaghi TV

Tag: خالد عباس ڈار

  • کام کرنے کا جنونی میرا یار چلا گیا خالد عباس ڈار

    کام کرنے کا جنونی میرا یار چلا گیا خالد عباس ڈار

    خالد عباس ڈار جو کم کم ہی تقریبات کا حصہ بنتے ہیں انہوں‌نے حال ہی میں سید افضال احمد کے جنازے میں شرکت کی انہوں نے کہا کہ سید افضال احمد کام کا جنونی تھا اور کئی برس تک اس نے دن رات کام کیا. انہوں نے تماثیل میں جو پہلا ڈرامہ کیا وہ بھی میرے ساتھ کیا اور اپنی پہلی فلم بھی میرے ساتھ کی. انہوں‌نے انتہائی عروج دیکھا اور اس وقت انڈسٹری میں اپنا نام اور مقام بنایا جب سخت مقابلہ تھا ایک سے بڑھ کرایک آرٹسٹ موجودتھا. خالد عباس ڈار نےکہا کہ اتنا بڑا فنکار اور کس حالت میں دنیا سے گیا. انہوں نے کہا کہ مر تو وہ اسی دن گیا تھا جب اس کے

    دماغ کا پہلا آپریشن ہوا تھا. بیس سال اس نے بہت تکلیف میں گزارے. خالد عباس نے کہا کہ سید افضال جیسا نہ کوئی تھا نہ ہے نہ ہوگا وہ اپنی مثال آپ تھا، نہایت پروفیشنل تھا یاروں کا یار تھا.میرے ساتھ اسکا تعلق ایسا تھا کہ جیسے ہم بھائی ہوں. آخری وقتوں میں ان سے ملنے سے اسلئے گھبراتا تھا کیونکہ انکی حالت دیکھ کر کئی کئی دن نیند نہیں آتی تھی سکون لٹ جاتا تھا لیکن دل سید افضال کی طرف سے رہتا پریشان ہی تھا. وہ آج شوبز انڈسٹری کو یتیم کر گیا ہے.

  • خالد عباس ڈار سٹیج کی موجودہ صورتحال پر برس پڑے

    خالد عباس ڈار سٹیج کی موجودہ صورتحال پر برس پڑے

    سینئر اداکار خالد عباس ڈار سٹیج کی موجودہ صورتحال سے کافی نالاں ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈرامے میں کلاسیکل رقص شامل کیا تھا مگر آج تو ڈانس میں ڈرامہ شامل ہو گیا ہے جو اچھا رجحان نہیں ہے۔سٹیج کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ فیملیاں‌ یہاں‌ کا رخ کرنے سے کتراتی ہیں اور یہ سب سٹیج پر ہونے والے فحش رقص اور بغیر سر پیر کے سٹیج پر پیش کیا جانے والا ڈرامہ ہے. خالد عباس ڈار نے کہا کہ سٹیج پر اگر فیملیوں‌کو واپس لانا ہے سٹیج ڈرامہ زندہ کرنا ہے تو اصلاحی ڈرامے پیش کرنے ہوں گے اور فحش رقص کو ڈرامے سے نکال باہر کرنا ہو گا. جب تک اصلاحی ڈرامہ پیش نہیں‌ کیا جائیگا فیملیاں سٹیج دیکھنے نہیں آئیں گی. خالد عباس ڈار نے کہا کہ جب ہم نے سٹیج شروع کیا تھا تو اس وقت بڑے بڑے نام تھے جن کا کام

    نئے آنے والوں‌کے لئے مشعل راہ تھااس وقت باقاعدہ سٹیج ڈراموں‌کی بھی ریہرسلز ہوا کرتی تھیں.ڈرامہ باقاعدہ طور پر ڈائریکٹر کے ہاتھ میں ہوتا تھا ذو معنی جملے بولنا تو درکنار ایک جملہ بھی خود سے آرٹسٹ نہیں کہہ سکتے تھے.انہوں نے ماضی کے جھروکوں‌میں‌جھانکتے ہوئے کہا کہ میں نے جب سٹیج کا آغاز کیا تو اس وقت سینئر اداکار مسعود اختر سٹیج ڈرامے پر انٹرنینمنٹ ہیرو کے طور پر آتے تھے اور انہوں نے ہی اصل سٹیج ڈرامے کی بنیاد رکھی تھی.ایسے کمال کے لوگوں نے سٹیج ڈرامے کو عروج پر پہنچایا لیکن آج مایوس کن صورتحال ہے.