Baaghi TV

Tag: خالد مگسی

  • مدارس کے طلبا کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

    مدارس کے طلبا کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت بجٹ اجلاس جاری ہے

    بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں اراکین کی تعداد انتہائی کم،تاہم بجٹ پر بحث جاری ہے،رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مردم شُماری کے دوران ڈیوٹی نبھانے والے اساتذہ اور اہلکاروں کو محکمہ شماریات کی جانب سے اب تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا، میرا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے طلباء کو لیپ ٹاپ سکیم میں شامل نہیں کیا گیا ان طلباء کو بھی سیکم میں شامل کیا جائے، ملک میں 40 لاکھ طلباء دینی مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، وفاق المدارس کے طلباء کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کیا جائے،

    کسان کو قرضے پر 2 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے، راؤ محمد اجمل
    رکن قومی اسمبلی راؤ محمد اجمل نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کسان کو جو قرضہ دیا جاتا ہے، زرعی بینک کا ہو یا کمرشل بینک کا، اس پر لگنے والے 2 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے، ڈیزل، بجلی اور کھاد کسان کے لیے ضروری جزو ہیں، بجٹ میں ان تینوں چیزوں کے لیے ریلیف نہیں دیا گیا، اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    اس سال بچوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، شزہ فاطمہ
    شزہ فاطمہ ایس اے پی ایم برائے یوتھ افیئرز نے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچے اس ملک کا اثاثہ ہیں اور اسی بات کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا دوبارہ آغاز کیا ،وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے لیے 80 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے وزیراعظم نے پہلا حکم لیپ ٹاپ سکیم کو دوبارہ شروع کرنے کا دیا ،اس سال بچوں میں ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، 50 ہزار سے زائد نوجوانوں میں 30 ارب روپے کے قرضوں کی تقسیم کی گئی ہے تاکہ وہ زراعت اور بزنس کے لیے ان پیسوں کو استعمال کر سکیں، وزیراعظم کے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ایک لاکھ بچوں کو اس سال ٹریننگ دی جائے گی جس میں سے 60 ہزار بچے پہلے ہی اس سے مستفید ہو چکے ہیں

    سوئی جہاں گیس کا پلانٹ لگا ہے وہاں ابھی تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، خالد مگسی
    رکن قومی اسمبلی خالد مگسی نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں 1952 میں گیس نکلی اور 1985 میں کوئٹہ کو گیس ملی، سوئی شہر میں جہاں گیس کا پلانٹ لگا ہے وہاں ابھی تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، ہم مسئلے کے حل کے لئے درخواست کرتے ہیں مگر کوئی نہیں سنتا، میں نے وزیر اعظم سے بھی بات کی ہے، وزارت پیٹرولیم کو بلایا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    لوڈشیڈنگ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل
    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی تقسیم کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لائن لاسز کو کم کرکے نہ صرف لوڈشیڈنگ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے بلکہ قومی وسائل کی بچت بھی کی جا سکتی ہے جہاں تک پانی کی بات ہے تو پانی وافر مقدار میں موجود ہے مگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر کچھ علاقوں میں نہیں پہنچ پا رہا جن کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے

    رکن قومی اسمبلی سید حسین طارق نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بھی پیٹرولیم کے مسائل ہیں، سندھ کے مختلف علاقوں سے گیس نکالی جارہی ہے مگر ان علاقوں کو گیس نہیں مل رہی، پچھلے سالوں میں کسانوں کو قرضے ملے ہوئے تھے مگر سیلابی صورتحال کی وجہ سے کسان اپنے قرضے ادا نہیں کرسکے جس کی وجہ سے بینک ان کسانوں کی زمین کو فروخت کرنے کی کوشش کرہا ہے،

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    ہولی کا تہوار سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے،شاہدہ رحمانی

    پیپلز پارٹی آپ کے دفاع میں سامنے نہیں آئے گی،بلاول کا عمران کو پیغام

  • باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سےگرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟

    لاہور:باپ پارٹی کی ”ن لیگ” سے گرما گرمی۔۔| بلوچستان کے مسائل کی اصل جڑ کون ؟اس حوالے سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ علاؤالدین مری جو کہ آج کل باغی ٹی وی سے منسلک ہیں اوربلوچستان کے مسائل کے حوالے سے ایک ماہرانہ تجزیہ اورتبصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں آج انہوں نے بلوچستان کےمسائل کے حل نہ ہونے کا ذمہ دارقوتوں اورافراد کی نشاندہی کی ہے

    علاوالدین مری نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام موسم اور دنیا کی قیمتی ترین معدنیات سے مالا مال کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ ابھی بھی پسماندگی کا شکار ہے ،

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے ذمہ داربلوچستان کی سیاسی قوتیں بھی ہیں اور وفاق بھی اس کاذمہ دار ہے، عفیفہ راو کے ایک سوال کے جواب میں علاوالدین مری نے کہا کہ شہبازشریف کا صوبے کا تھوڑے ہی عرصے میں تین مرتبہ دورہ ایک اچھی بات ہے لیکن صرف دورے ہی کافی نہیں ، سابق حکومت کے دور میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت زیادہ فنڈز رکھے گئے لیکن اس کے باوجود کوئی خاص ترقی دیکھنے کو نہیں ملی

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین اسلم بھوتانی ,خالد مگسی اور دیگررہنماوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بلوچستان کو اربوں روپے کے خصوصی فنڈزدیئے گئے لیکن ہمیں عزت نہیں دی گئی ، اوراگرموجودہ حکومت کو دیکھا جائے توہمیں اگرعزت دیتے ہیں تو بلوچستان کے لیے اس قدرفنڈز نہیں دے رہے ہیں بلوچستان ہردوراورہرحکومت میں ایسے ہی پسماندہ رہا ہے ، گوادر کے حالات سب کے سامنے ہیں ، چین کے بھی کچھ ایسے ہی کنسرن ہیں

     

     

    علاوالدین مری کہتےہیں کہ بلوچستان کی ترقی کےلیے ضروری ہے کہ بلوچستان بھرمیں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے جائیں ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے ،اعلیٰ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، نوجوان طبقے کوفنی تعلیم دلوا کرمعاشی سرگرمیوں کے لیےتیار کیا جائے نہ کہ گورنمنٹ جاب کی طرف دھکیل دیا جائے جس میں کم تنخواہوں سے کیسے گزارہ ہوسکتا ہے

    علاوالدین مری کہتے ہیں کہ صوبے میں انڈسٹریل اسٹیٹس بنائی جائیں‌، ٹیکس فری زون بنائیں جائیں تاکہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹیں اورصوبے میں ایک بہتردور کاآغاز ہوسکے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہےکہ بلوچستان کے ہرعلاقے میں ترقیاتی کام کیے جائیں ، لوگوں‌کوتعلیم صحت اورروزگار فراہم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اپنے ہی علاقوں میں روزگارمل سکے

    علاوالدین مری کہتےہیں‌کہ اس سلسلے میں حکومتوں کوعملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ بیانات کے ذریعے سہارا لیکرعوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور احساس محرومی ختم کرنے کےلیے کوشش کرے