Baaghi TV

Tag: خانہ کعبہ

  • غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    غلاف کعبہ تبدیل کر دیا گیا،ویڈیو

    مکہ : کل یکم حجری سال کے آغاز پر خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : کنگ عبدالعزیز کمپلیکس سے غلاف کعبہ کو خصوصی ٹرکوں کے ذریعے بیت اللہ شریف لایا گیا کسوہ فیکٹری کے حکام نے غلاف کعبہ حرمین شریفین انتظامی امور کے سربراہ الشیخ عبدالرحمان السدیس کے حوالے کیا۔

    غلاف کعبہ کے تبدیلی کی تقریب نماز عشاء کے بعد شروع ہوئی،غلاف کعبہ کی تبدیلی کا عمل 3 سے 4 گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ نئے اسلامی سال 1445 کی شروعات ہوتے ہی مکہ مکرمہ میں کلاک ٹاور روشنیوں سے جگمگا اٹھا اورنئے اسلامی سال کو خوش آمدید کہا کلاک ٹاور کی تھری ڈی لائٹس روشن کرکے نئے اسلامی سال 1445 کو خوش آمدید کہا گیا۔


    گزشتہ روز سعودی سپریم کورٹ نے تصدیق کی کہ بروزمنگل ذوالحج کا مہینہ مکمل ہوگیا، بدھ کو 19 جولائی یکم محرم الحرام 1445 ہے نئے اسلامی سال کے آغاز پر خانہ کعبہ کے غلاف کی تبدیلی کا عمل شروع کیا گیا۔


    پہلے مرحلے میں پرانے غلاف کعبہ کو چاروں جانب سے انتہائی فنی مہارت کے ساتھ اتارا گیا، اس دوران کعبتہ اللہ کے چاروں جانب حفاظتی بیریئر لگائے گئے جبکہ الیکٹرانک لفٹرز غلاف کو اوپر چھتوں تک پہنچانے کیلئے استعمال کیے گئے،


    رپورٹس کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری پر 2 کروڑ سعودی ریال سے زیادہ لاگت آئی ہے، غلاف کعبہ سلک، سونے اور چاندی کے تار سے سلائی اور کڑھائی سے تیار کیا گیا ہے-


    واضح رہے کہ پاکستان میں محرم الحرام 1445 ہجری کا چاند نظر نہیں آیا محرم الحرام 1445 ہجری کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں ہوا اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ محرم الحرام کا چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی اور پورے ملک میں عدم رویت رہی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیاکہ یکم محرم الحرام 1445 ہجری جمعرات 20 جولائی کو ہوگی اور یوم عاشور 10 محرم الحرام 29 جولائی کو ہوگا-

  • آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    مکہ: آج سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا جس کے باعث خانہ کعبہ کا سایہ ختم ہوجائےگا،اور قبلہ رخ کا تعین کرنا آسان ہوگا۔

    باغی ٹی وی : جدہ فلکیاتی کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہےکہ فلکیاتی حساب کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے اوپر 90 ڈگری کے زاویے پر ہوگا، اس صورت حال میں سورج خانہ کعبہ کے متوازی یعنی ایک ہی خط عمود پر آجاتا ہے جس کی وجہ سے خانہ کعبہ کا سایہ دکھائی نہیں دیتا۔

    خلا سےمسجد الحرام کا روح پرور منظر،ویڈیو

    پاکستانی وقت کے مطابق دن کے 2 بج کر 26 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آئےگا سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے سے پوری دنیا کے مسلمان قبلے کی سمت کا درست تعین قطب نما کے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا آنا اہم واقعہ مانا جاتا ہے، خانہ کعبہ پر سورج سال میں 2 مرتبہ آتا ہے، جب سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوتا ہے تو خانہ کعبہ کا سایہ ختم ہوجاتا ہےماضی میں قبلے کی سمت متعین کرنے کا جدید ترین سائنٹیفک طریقہ میسر نہیں تھا، ماضی میں لوگ خانہ کعبہ پر سورج کا منظر دیکھ کر ہی قبلے کی جہت متعین کرتے تھے۔

    سعودی عرب اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات بحال، نئے سفیروں کے تقرر پر اتفاق

    قبلہ کی درست سمت کے تعین کیلئے آج مقررہ وقت پر زمین پر ایک چھڑی عمودی گاڑ دیں یا کسی عمارت کے کونے کا انتخاب کریں جیسے ہی یہ وقت آئے ، اس سایہ پر ایک خط کھینچ دیں اور اس خط پر عمود گرائیں، شمال سے جنوب کی جانب زاویہ قائمہ بنائیں، یہی قبلہ رخ ہوگا۔

    فلکیاتی انجمن کے سربراہ ڈاکٹر ماجد ابو زہرہ کا کہنا تھا کہ خانہ کعبہ کے اوپر سورج نظر آنے کا واقعہ اس لیے پیش آتا ہے کیونکہ خانہ کعبہ خط استوا اور مدار السرطان کے درمیان واقع ہے گردش کے دوران مئی کے مہینے میں سورج خط استوا سے مدار السرطان کی طرف منتقل ہوتا ہے اور گردش کرتے ہوئے سورج خانہ کعبہ کے اوپر آ جاتا ہے۔

    پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے پچیس برس مکمل،مسلح افواج کا سائنسدانوں اور انجینئیرز کو خراج تحسین

  • مسجد الحرام میں اچانک بارش کے دلکش مناظر،ویڈیو

    مسجد الحرام میں اچانک بارش کے دلکش مناظر،ویڈیو

    مکہ مکرمہ: رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد الحرام میں اچانک بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا –

    باغی ٹی وی: مکہ المکرمہ میں خانہ کعبہ کے زائرین اور معتمرین نے آج پیر کی صبح فجر سے پہلے المسجد الحرام پر ہونے والی خیر و برکت کی بارش کے درمیان خوبصورت لمحات گزارے بارش سے معتمرین نہال ہوگئے اور اللہ کے شکر گزار بندے اس کی کبریائی اور پاکی کا ورد کرتے رہے-

    مسجد نبویﷺ میں 4 ہزار سے زائد مرد اور خواتین اعتکاف بیٹھیں گے


    رمضان جو کہ رحمتوں کا مہینہ ہے، مقام دنیا کا سب سے مقدس ترین ہو اور پھر اللہ کی رحمت مینہ کی شکل میں بادلوں سے برس رہی ہو تو اس خیر و برکت کی بارش میں عبادت کےلطف اُٹھانےوالے خوش قسمت ترین افراد ہی ہوں گے نمازی خوشی سےجھوم اٹھے، اور دعاؤں میں با آواز بلند رحمت کی بارش کے لیے شکر گزار ہوتے رہے۔

    امریکا میں نامعلوم شخص کا نماز فجر کے دوران امام مسجد پر چاقو حملہ

    اس دوران کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اور سیفٹی کے شعبہ جات بھی متحرک ہوگئے محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مملکت میں آج سے بارشوں کے نیا سلسلہ داخل ہو گیا جس کے باعث وقفے وقفے سے بارشیں مزید ایک دو دن تک جاری رہ سکتی ہیں۔

  • رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    رواں برس میں پہلی اور آخری بار چاند آج رات خانہ کعبہ کے عین اوپرآگیا

    جدہ: 2023ء میں پہلی بارچاند خانہ کعبہ کے عین اوپر آگیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاھرۃ نے کہا ہےکہ گرینیج ٹائم کے مطابق رات7 بج کر 43 منٹ پر چاند 89.5 ڈگری کے اوپر مکہ مکرمہ کے آسمان پر نظر آیا۔

    چاند پاکستانی وقت کےمطابق رات 12 بج کر 43 منٹ پرخانہ کعبہ کےاوپر آیا، ایسا 2023 کے دوران پہلی اور آخری مرتبہ ہوا ہے۔

    فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چاند خانہ کعبہ کے اوپر آنے سے دنیا کے مختلف علاقوں میں قبلے کے رخ کا درست تعین کیا جاسکتا ہے۔

    قبل ازیں جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چاند 93 فیصد روشن ہو گا اس کے علاوہ دیگر چمک دار ستارے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔دنیا کے مختلف علاقوں میں قبلے کا رخ متعین کرنے کا بہترین موقع ہے۔

  • غلاف کعبہ :مقدس ترین گھر کا مہنگا ترین غلاف کتنے میں تیار ہوتا ہے؟

    غلاف کعبہ :مقدس ترین گھر کا مہنگا ترین غلاف کتنے میں تیار ہوتا ہے؟

    خانہ کعبہ کی دیواروں اور باب کعبہ (دروازہِ کعبہ) کو جس کپڑے سے ڈھانپا جاتا ہے اسے غلاف کعبہ یا کسوہ (عربی: كسوة الكعبة) کہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے کام کرنے والے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس کے حکام کا کہنا ہے کہ غلاف کعبہ کی تکمیل کرلی گئی ہے اور اسے عیدالاضحیٰ کے مبارک دن اسے حوالے کیا جائے گا۔

    سینکڑوں کلو گرام ریشم، چاندی اور سنہری دھاگوں سے تیار کیا جانے والا خانہ کعبہ کا غلاف کئی دہائیوں سے ہر سال ذوالحجہ کے اسلامی مہینے میں حج کے موقع پر نو ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا رہا ہےہر سال غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تقریب نماز عشا کے بعد قریب پانچ گھنٹے تک جاری رہتی ہے اور اسے پوری دنیا میں لوگ براہ راست دیکھ سکتے ہیں۔

    تاہم 2022 میں اس روایت میں تبدیلی لائی گئی ہے اور سعودی حکام کے مطابق رواں برس غلاف کعبہ کو عید کے ایام کے بجائے نئے اسلامی سال کے آغاز پر یعنی یکم محرم الحرام 1444ھ کو غلاف کعبہ کی زینت بنایا جائے گا –

    وزیر اطلاعات کے مشیر اور جنوبی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ مواصلات کے شعبے کے سربراہ فہیم بن حمید الحامد نے مکہ مکرمہ میں واقع غلاف کعبہ کمپلیکس کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ شاہی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس سال 10 ذی الحج کوخادم حرمین شریفین سے کسوہ کو سدنہ کے حوالے کیا جائے گا جب کہ سدنہ یکم محرم الحرام کو اسے صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے حوالے کرےگا-

    اس سلسلے میں حرمین شریفین کے امور کے صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ شاہی حکم پر نیا غلاف دس ذوالحجہ کو خانہ کعبہ کے منتظمین کے حوالے کیا جائے گا اور اس کی تبدتلی کا عمل یکم محرم الحرم کو سرانجام پائے گا۔

    بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تاریخ کی تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔

    غلاف کعبہ کی تیاری کی بات کی جائے تو یہ دنیا کا مہنگا ترین غلاف ہے جس کی تیاری پر25 ملین سعودی ریال خرچ آتا ہے۔

    شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلاف کعبہ امور کے انڈر سیکرٹری جنرل عبدالحمید المالکی نے میڈیا انٹرویوز کے دوران کمپلیکس میں کعبہ کسوہ فیکٹری کے اندر کسوا صنعت کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ غلاف کعبہ کی تیاری آٹھ ماہ میں مکمل ہوتی ہے اور غلاف کعبہ 185 ہنر مندوں کی زہرمگرامہ سال بھر کی محنت سے تیار ہوتا ہے ان تمام کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ اپنے شعبے کے ماہر اور اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں-

    المالکی نے بتایا کہ کعبہ میں تقریباً 700 کلو گرام خالص ریشم، 300 کلو گرام کاٹن، 100 کلوگرام چاندی کا دھاگہ اور 120 کلوگرام چاندی کے تار کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ زمین پرموجود اللہ کے اس عظیم گھر خانہ کعبہ کا سب سے بڑا اور مہنگا لباس ہے۔

    غلافِ کعبہ کی تاریخ کیا ہے؟ خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا آغاز کب ہوا؟

    غلاف کعبہ کی تیاری کا آغاز کب ہوا اس کے متعلق درست معلومات موجود نہیں ہیں تاہم متعدد تاریخی کتب کے مطابق قبل از اسلام دور میں پہلی مرتبہ یمن کے بادشاہ طوبیٰ الحمیری نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا الحمیری نے مکہ سے واپسی پر ایک موٹے کپڑے کو استعمال کرتے ہوئِےغلاف کعبہ تیار کروایاتاریخی کتب میں اس موٹے کپڑے کو ’کشف‘ کا نام دیا گیا ہے انہوں یہ کام اسلام کے دور سے قبل کیا بعدازاں وہ مکہ آئے اوراطاعت کے ساتھ داخل ہوئے۔

    بعد ازاں اسی بادشاہ نے ’المعافیریہ‘ کپڑے سے غلاف تیار کروایا معافیریہ یمن کے ایک پرانے شہر کا نام تھا جہاں یہ کپڑا تیار ہوا تھا اس کے بعد انہوں نے الملا استعمال کیا جو ایک نرم اور باریک کپڑا تھا اس کو ربطہ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اسی طرح بعد ازاں غلاف کعبہ کے لیے الوصائل نامی سرخ دھاری دار یمنی کپڑے کا استعما ل کیا گیا۔

    طوبیٰ الحمیری کے بعد کے ادوار میں غلافِ کعبہ کے لیے مختلف کپڑے استعمال کیے جن میں چمڑے سے لے کر مصر کا قبطی کپڑا تک شامل تھا۔

    ماضی میں مصر سے تحفے کے طور پر ہر سال غلاف کعبہ بھجوایا جاتا تھا۔ اس دور میں جمال عبدالناصر حاکم تھے۔ لیکن 1962 میں جب غلاف کعبہ بندر گاہ پر پہنچا تو کافی دیر ہو گئی تھی۔ اس موقع پر سعودی عرب میں سنہ 1962 میں شاہ سعود نے شاہ فیصل کو غلاف کے لیے کارخانہ لگانے کا حکم دیا جس کو مکمل کیا گیا۔ تب سے اسے مقامی طور پر تیار کیا جارہا ہے اور سلسلہ جاری ہے۔

    شاہ عبدالعزیز کے دور میں اس غلاف کی تیاری کے لیے الگ سے ایک محمکہ قائم کیا گیا اور یوں اس مقصد کے لیے کپڑا مکہ میں ہی بننے لگا اور اس کام کے لیے ایک کارخانہ بھی لگایا گیا۔

    اس کارخانے میں غلاف کعبہ کی تیاری کے دوران استعمال ہونے والے پانی تک کو پاک کیا جاتا ہے اور غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال کیے جانے والے ریشم کو اس پاک پانی سے دھویا جاتا ہے اس کارخانے میں غلاف کعبہ کو جس ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اس پر سنہری اور چاندی کے تاروں سے قرانی آیات کندہ کی جاتی ہیں غلاف کی تیاری میں استعمال کیا جانے والا ریشم اٹلی جبکہ سنہری اور چاندی کی تاریں جرمنی سے آتی ہیں۔

    رئاسة شؤون الحرمين کی سرکاری ویب سائٹ پر اس غلاف کی تیاری سے متعلق معلومات دی گئی ہے جن کے مطابق غلافِ کعبہ کو بنانے کے لیے اٹلی سے لائے جانے والے ریشمی دھاگے اعلی معیار کی گریڈ (A5) کے ہوتے ہیں اور ان کی موٹائی تین ملی میٹر ہوتی ہے جو مضبوطی اور لچک کی ضمانت دیتی ہے۔

    ایک ریشم کا دھاگہ متعدد ٹیسٹ پاس کرتا ہے جس میں تھریڈ ٹیسٹ سے لے کر موٹائی، مضبوطی، رنگنے، میچنگ، دھوتے ہوئے رنگ اُترنے اور دھات کی تاروں کے ساتھ استعمال تک کے ٹیسٹ شامل ہیں ریشم کو سیاہ اور سبز رنگوں میں رنگا جاتا ہے اور غلاف کی تیاری کے دوران خصوصی کیمیکلز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

    غلاف کعبہ کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے شاہ عبد العزیز کمپلیکس میں ایک تجربہ کار ٹیم ان ٹیسٹوں کی نگرانی کرتی ہے اس غلاف کی تیاری پر لاگت کا تخمینہ لگ بھگ دو کروڑ سعودی ریال ہوتا ہے، یعنی تاریخ کا سب سے مہنگا غلاف-

    اس غلاف کی تیاری کے عمل کی نگرانی 200 سے زیادہ مینوفیکچررز کرتے ہیں جن میں بہترین قابلیت، تجربہ، سائنسی اور عملی قابلیت رکھنے والوں کو مسجدِ بنوی اور خانہ کعبہ کے امور کے لیے ملازمت پر رکھا گیا ہے-

    کپڑے کی تیاری کے حوالے سے کمپلیکس میں جدید جیکوارڈ مشینیں موجود ہیں یہ مشینیں قرآنی آیات کی کڑھائی، آیات اور دعاؤں کے لیے کالا ریشم تیار کرتی ہیں جبکہ سادہ ریشم بھی بناتی ہیں جن پر آیات پرنٹ کی جاتی ہیں اسی طرح چاندی اور سونے کے دھاگوں سے کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے یہ مشینیں غلاف کعبہ کی ریکارڈ وقت میں تیاری کے لیے فی میٹر نو ہزار 986 دھاگے استعمال کرتی ہیں۔

    پرنٹنگ کے شعبے میں کام غلاف کعبہ کی پٹی پر آیات کی پرنٹنگ سے شروع ہوتا ہے۔ سادہ ریشم کو سب سے اوپر لگایا جاتا ہے۔ کارکن قرآنی آیات کی پرنٹنگ کے لیے سلک سکرین، سفید اور زرد روشنائی استعال کرتے ہیں کمپلکس کا بیلٹ ڈیپارٹمنٹ سونے اور چاندی سے ہونے والی کشیدہ کاری کے معاملات دیکھتا ہے۔

    اس عمل میں سوتی اور دوسرے دھاگوں کو استعمال کر کے کپڑے پر پرنٹنگ کی جاتی ہے۔ اس دوران کارکن مسلسل متحرک رہتے ہیں اور ضروری ٹانکے لگاتے ہیں۔

    غلاف کعبہ کی پٹی، جس پر قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں، کے لیے 16 ٹکڑے تیار کیے جاتے ہیں جبکہ مختلف سائز کے چھ ٹکڑے پٹی کے نیچے اور چار مضبوط ٹکڑے کعبہ کے چاروں کونوں کے لیے بنتے ہیں۔ اسی طرح دیگر حصوں میں 12 مشعلیں پٹی کے نیچے، پانچ ٹکڑے حجر اسود کے اوپر اور کعبہ کے دروازے کا پردہ بھی شامل ہے۔

    حج کے موقع پر غلاف کعبہ کو تقریباً تین میٹر تک اوپر اٹھا دیا جاتا ہے اور نیچے کی جگہ کو سفید سوتی کپڑے سے ڈھک دیا جاتا ہے تاکہ کسوہ صاف رہے اور پھٹنے سے محفوظ رہ سکے۔

    غلاف کعبہ کا رنگ مختلف ادوار میں تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔

    پیغمبر اسلام نے غلاف کعبہ کے لیے سفید اور سرخ دھاریوں کا یمنی کپڑا استعمال کیا تھا عباسی دور میں غلاف کعبہ کے لیے ایک بار سرخ اور ایک بار سفید کپڑے کا استعمال کیا گیا، تاہم سلجوقی سلطان نے غلاف کعبہ زرد رنگ کے کمخواب سے بنوایا۔

    عباسی خلیفہ الناصر نے پہلے سبز اور پھر سیاہ کمخواب کے ساتھ غلاف کعبہ تبدیل کیا اور یہی سیاہ رنگ آج تک چلا آ رہا ہے ’ قبطی کپڑا مصر سے لایا گیا جو غلاف کعبہ کے لیےاستعمال کیے جانے والے کپڑوں میں سے سب سے اچھی قسم کا تھا۔ اسی طرح یمنی غلاف کعبہ بھی اعلیٰ قسم کا کپڑا تھا جو اپنے دور میں بہت مشہور تھا‘۔

    سینٹر آف مکہ ہسٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواز الدہاس نے 2020 میں دیئے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ غلاف کعبہ کے لیے ایک بار سفید، ایک بار سرخ اور ایک مرتبہ سیاہ رنگ استعمال کیا گیا۔ رنگوں کا انتخاب ہر دور کے مالی وسائل کے لحاظ سے رہا ہے۔

    مختلف ادوار میں غلاف کعبہ کے رنگ تبدیل کیے جانے کے حوالے سے فواز الدہاس نے بتایا تھا کہ سفید ایک اجلا رنگ ہے، لیکن یہ دیرپا نہیں ہے۔ حاجیوں کے چھونے کی وجہ سے یہ اکثر میلا، گندا اور پھٹنے لگتا تھا۔ یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا تھا۔ اس لیے اسے سیاہ اور سفید کمخواب اور شملہ کے ساتھ تبدیل کیا گیا جو عرب خیموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھامالی وسائل کی مناسبت سےغلاف کعبہ کا کپڑا تبدیل ہوتا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ انسانوں کی سمجھ کے مطابق غلاف کعبہ کا ارتقا ہوتا رہا اور اسے سرخ کمخواب اور مصری کپڑے کے ساتھ تبدیل کیا گیا۔ اسی طرح ایک خاص قسم کا چمڑا اور کچھ سخت قسم کے کپڑے بھی اس مقصد کے لیے استعمال ہوئے خلافت راشدہ، اموی اور عباسی ادوار میں جب بھی کپڑا دستیاب ہوتا غلاف کعبہ وقتا فوقتا تبدیل ہوتا رہا‘۔

    عباسی دور کے آخر میں غلاف کعبہ کے لیے سیاہ رنگ کو حتمی طور پرمنتخب کیا گیا جو دیرپا تھا اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے حاجیوں، زائرین اور لوگوں کی طرف سے چھوئے جانے کو برداشت کر سکتا تھا-

  • سورج آج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا

    سورج آج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہو گا

    28 مئی کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 18منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں حوطہ سدیر میں فلکیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ ہفتہ 28 مئی 2022 کو مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12 بجکر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے ٹھیک اوپر نظر آئے گا اس موقع پر قبلے کی سمت سائے کی جہت کے الٹی جانب ہوگی قبلے کی سمت کا درست تعین کیا جا سکے گا۔

    ملک بھر میں آج موسم کیسا رہے گا؟

    اس وقت دنیا بھرکے سایوں کارخ بیت اللہ کی سیدھ میں ہوگا جبکہ اس لمحے بیت اللہ کا سایہ نہیں ہوگا جس سے قبلہ رخ کا درست تعین کیا جا سکے گا 28 مئی کو مقررہ وقت پر زمین پر ایک چھڑی عمودا گاڑ دیں یا کسی عمارت کے کونے کا انتخاب کریں جیسے ہی یہ وقت آئے گا اس سایہ پر ایک خط کھینچ دیں اور اس خط پر عمود گرائیں شمال سے جنوب کی جانب زاویہ قائمہ بنائیں یہی قبلہ رخ ہوگا۔

    سوات، مینگورہ اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    رپورٹ کے مطابق سورج خانہ کعبہ کے ٹھیک اوپر سال میں دو مرتبہ نظر آتا ہے ایک 28 مئی کو مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق 12 بجکر 18 منٹ پر اور دوسری بار 15 یا 16 جولائی کو مکہ مکرمہ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12 بجکر 27 منٹ پرایسا ہوتا ہے-

    واضح رہے کہ قدیم زمانے میں جب قبلے کی سمت متعین کرنے کے لیے جدید ترین حساس آلات نہیں تھے تب لوگ اسی منظر کو دیکھ کر مساجد کا سنگ بنیاد رکھتے اور قبلے کی جہت متعین کیا کرتے تھے۔

    عمران خان کو گرفتار نہ کیا جائے،مریم نواز کا وزیراعظم کو مشورہ

  • خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف کی اجازت

    خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف کی اجازت

    ریاض: دو سال بعد خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف کی اجازت دیدی گئی۔

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق رواں برس ماہ رمضان کی مبارک سعادتوں کو عبادات اور اذکار سے سجانے کے لیے سعودی عرب میں مقدس مقامات کی خدمات پر مامور کمیٹی نے اہم فیصلے کیے ہیں ان فیصلوں کے تحت رمضان المبارک میں عمرہ اور عبادات کی بغیر کسی پابندی کے مکمل اجازت دیدی گئی ہے اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تمام کورونا سفری پابندیاں بھی ختم کردی گئی ہیں۔

    مسجد نبوی ﷺ میں 12سال سے کم عمربچوں کے داخلے پر عارضی پابندی

    دو سال سے فرزندگان توحید بیت الحرام اور روضہ نبوی ﷺ میں اعتکاف پر بیٹھنے کے لیے بے چین تھے تاہم اب یہ انتظار ختم ہوا اور سعودی حکومت نے اس سال اعتکاف کی اجازت دیدی ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا پابندیاں ختم کرتے ہوئے غیرویکسین شدہ افراد کو مملکت میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے عمرے کی غرض سے آنے والے بھی اب کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائے بغیر سفر کر سکتے ہیں۔

    منسوخ شدہ پابندیوں میں کورونا کے خلاف ویکسینیشن کا سرٹیفکیٹ جمع کروانے کی شرط اور سعودی عرب میں آنے یا آنے سے پہلے پی سی آر ٹیسٹ کروانے نیز مملکت میں آنے والے مسافروں کے لیے ضروری قرنطینہ کی شرائط کا خاتمہ شامل ہے۔

    سعودی وزارت حج و عمرہ کے بیان کے مطابق غیر ویکسین شدہ افراد مسجد الحرام میں عمرہ اور نماز ادا کرسکیں گے۔ وہ غیر ویکسین شدہ افراد عمرہ اور مسجد الحرام میں نماز ادا کرسکیں گے جو کورونا میں مبتلا نہیں ہوئے۔

    مسجد الحرام میں سماجی فاصلے کے بغیر پہلا جمعہ، دس لاکھ نمازیوں کی شرکت

    وزارت حج و عمرہ نے مزید کہا تھا= کہ ملک میں کورونا وبا کی صورتحال قابو میں ہے جس کے باعث اب ویکسین نہ لگوانے والے افراد کو عمرہ کرنے اور مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    قبل ازیں سعودی حکومت نے مقدس مساجد میں سماجی فاصلے سمیت تمام کورونا پابندیاں ختم کرکے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں پوری گنجائش کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دیدی تھی جس کے بعد مسجد الحرام میں سماجی فاصلے کے بغیرنمازادا کی گئی نماز جمعہ کے لیے صفوں کودرست کرنے اورفاصلے ختم کرنے کا خصوصی اعلان بھی کیا گیا تھا حرم شریف میں دس لاکھ سے زائد نمازیوں نے شرکت کی تھی حرمین شریفین کے علاوہ مملکت کی تمام مساجد میں مکمل گنجائش کے ساتھ نمازیوں نے صفوں کی پابندی کے ساتھ نماز باجماعت ادا کی تھی-

    وزیراعظم عمران خان کا چین میں طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

  • خانہ کعبہ اورمسجد نبوی ﷺ میں رمضان المبارک کیلئے خصوصی تیاریاں

    خانہ کعبہ اورمسجد نبوی ﷺ میں رمضان المبارک کیلئے خصوصی تیاریاں

    ریاض: کورونا وبا کے بعد پہلی بار رواں ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ تعداد کو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں عبادت کی اجازت دی جائے گی جس کے لیے خصوصی تیاریاں کی کی جارہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق حرمین شریفین کے انتظامی امور کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدا لرحمان السدیس نے رمضان المبارک کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس کی سربراہی کی جس میں رمضان المبارک کے دوران عبادت گزاروں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے لیے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔


    شیخ ڈاکٹر عبدا لرحمان السدیس نے معتمرین کی صحت و سلامتی کے لیے کورونا ایس او پیز کی مکمل پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رمضان کی مبارک سعادتوں کو مقدس مساجد میں گزارنے کی واحد شرط مکمل طور ویکسین شدہ ہونا ہے۔

    7 سال کے بچوں کو عمرہ ادائیگی کی مشروط اجازت

    انہوں نے مزید کہا کہ غیر منظور شدہ ویکسین لگوانے والے غیر ملکی معتمرین کو بوسٹر ڈوز بھی لگوانا ہوگا اور اس کے بعد خود کو اعتمرنا ایپ پر ’’ مکمل طور پر ویکسین شدہ ‘‘ رجسٹر کرانا ہوگا۔

    ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے خادمین کو ہدایت کی کہ رمضان میں عبادت کے لیے پُرسکون ماحول فراہم کرنے میں کوئی کسر نہ چھو ڑی جائے اور معتمرین کے تحفظ کے لیے سماجی فاصلے سمیت کورونا پابندیوں پر عمل کروایا جائے۔

    قبل ازیں سعودی عرب 7 سال کی عمر تک کے بچوں کو بھی عمرہ ادائیگی کی مشروط اجازت دی ہے وزارت کی اجازت کے بعد اب 7 سال یا اُس سے زائد برس کے افراد عمرہ ادا کر سکتے ہیں تاہم یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ایسے افراد کو توکلنا ایپلی کیشن پر اپنی ویکسین سے متعلق تفصیلات درج کرنا ہو گی کورونا صورت حال بہتر ہونے کے بعد عمر کی حد کو مزید کم کیا جائے گا، جس کے تحت 5 سال تک کے بچوں کو عمرہ ادائیگی کی اجازت ہو گی۔

    مقبوضہ کشمیر:زکورہ اور ٹینگ پورہ قتل عام کی برسی : مگرعالمی برادری خاموش

  • آج چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    آج چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    ماہرین فلکیات کی رواں ہفتے کی جانے والی پیشگوئی کی روشنی میں آج چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا۔ یہ منظر مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 16 منٹ پر دیکھا جا سکے گا۔

    العربیہ کے مطابق مارچ 2020ء میں پہلی بار چاند کعبہ شریف کے عین اوپر عمودی شکل میں دکھائی دیا تھا جبکہ 8 نومبر کو عمودی طور پر چاند کے کعبہ شریف کے اوپر دکھائی دینے والا منظر گزشتہ سال آخری مرتبہ ہوا تھا۔ چاند کے عین کعبہ شریف کے اوپر دکھائی دینے سے قبلے کا رخ متین کرنے میں آسانی ہوگی۔

    ماضی میں کعبہ کی سمت کا تعین اس طرح کے واقعات سے کیا جاتا تھا۔ رواں برس 2021ء میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں پورا چاند کعبے کے اوپر ہوگا۔