Baaghi TV

Tag: خاور حسین

  • سینئر صحافی خاور حسین کی میت آبائی علاقے سانگھڑ پہنچا دی گئی

    سینئر صحافی خاور حسین کی میت آبائی علاقے سانگھڑ پہنچا دی گئی

    سینئر صحافی،خاور حسین کی میت آبائی علاقے سانگھڑ پہنچا دی گئی، ان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر عیدگاہ میں ادا کی جائے گی۔

    سینئر صحافی خاور حسین کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے صحافی، عزیز و اقارب اور علاقہ مکین موجود ہیں، حیدر آباد سول ہسپتال کے پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم نے کہا تھا کہ خاور حسین کی میت کے دوبارہ پوسٹم ارٹم کے احکامات ملے تھے، پوسٹ مارٹم کے دوران تشدد یا مزاحمت کا کوئی نشان نہیں ملا، فی الحال موت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، 2 دن میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں اپنی فائنڈنگز کے حوالے سے آگاہ کر دیں گے۔

    دوسری جانب، خاور حسین کے بھائی اعجاز حسین نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بھائی خوش مزاج اور باہمت شخص تھا، خودکشی نہیں کرسکتا تھا، خاور نے کسی پریشانی یا جھگڑے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

    قومی ہاکی کھلاڑیوں کے لیے 10، 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    خاور حسین کے والد رحمت حسین باجوہ نے بھی اپنے بیٹے کی خودکشی کا تاثر یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں قتل کرنے کا شبہ ظاہر کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سے زمین یا کسی بھی قسم کا کوئی تنازع نہیں تھا،میرا بیٹا بہت بہادر اور دلیر تھا، خود سے گولی مار کر جان لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، یہ قتل ہی لگتا ہے، لیکن اس وقت پولیس کی تفتیش جاری ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم نے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کی سربراہی میں جائے وقوع کا دورہ کیا، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد خان نے کہا کہ گاڑی سے ملنے والا اسلحہ خاور حسین کا اپنا لائسنس یافتہ تھا، خاور حسین کی حیدرآباد میں ساڑھے 5 بجے کی لوکیشن تھی، خاورر حسین کی سم آخری وقت تک استعمال میں تھی، کسی نے بھی فائرنگ کی آواز نہیں سنی، موبائل کی سم کہیں نہیں ملی۔

    فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی میٹرو ٹرین چلانے کا فیصلہ

    ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ سی سی ٹی وی سے خاور حسین کی سانگھڑ آمد کا پتا چل جائے گا، خاور حسین کی فیملی سے بات چیت کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا، خاور حسین کی فیملی سے لازمی بات کی جائے گی، دیکھا جائےگا کہ خاور حسین کے کوئی ساتھ تو نہیں تھا، ٹول پلازہ کی فوٹیج بھی موجود ہے، اس کو بھی چیک کیا جا رہا ہے، فون سی ٹی ڈی کو بھیج دیا ہے، سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا جارہا ہے، خاور حسین کا موبائل فون ری سیٹ کیا گیا تھا، کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) نکالا گیا ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ سینئر صحافی خاور حسین کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے، ایک اہم عینی شاہد ملا ہے، جس کی خاور حسین بات ہوئی تھی، عینی شاہدین سے گفتگو اور فارنزک شواہد جمع کیے گئے ہیں، ہم نے جائے وقوع کا دورہ کرکے خاور حسین کی گاڑی کا معائنہ کیا، کمیٹی کے رکن عرفان بلوچ اسلام آباد میں ہیں، صحافی خاور حسین کی موت افسوس ناک واقعہ ہے۔

    پاکستانی بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،فچ

  • صحافی خاور حسین کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم

    صحافی خاور حسین کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم

    حیدر آباد سول ہسپتال کے پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم کا کہنا ہے کہ خاور حسین کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم جاری ہے۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ خاور حسین کی میت کے دوبارہ پوسٹمارٹم کے احکامات ملے تھے، پوسٹ مارٹم کے دوران تشدد یا مزاحمت کا کوئی نشان نہیں ملا، فی الحال موت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا،2 دن میں ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں اپنی فائنڈنگز کے حوالے سے آگاہ کر دیں گے۔

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ سروسز سندھ نےصحافی خاور حسین کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم جاری کیا،دوبارہ پوسٹمارٹم کے لیے ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ نے پولیس سرجن لیاقت یونیورسٹی اسپتال کو خط لکھا،ڈی جی ہیلتھ سروسز کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صحافی خاور حسین کا دوبارہ پوسٹ مارٹم حیدرآباد میں کیا جائے گا۔

    وزیر خان مسجد کے احاطے میں ویڈیو ریکارڈ کرنے پر ماڈل اور فوٹوگرافر پر مقدمہ درج

    واضح،رہے کہ سینئر صحافی خاور حیسن کی ہفتے کی شب سانگھڑ میں ہوٹل کے باہر پارکنگ میں موجود گاڑی سے گولی لگی لاش ملی تھی،بعد ازاں خاور حسین کی موت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی تھی،کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) آزاد خان کر رہے ہیں، جب کہ کمیٹی ممبران میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غربی عرفان بلوچ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عابد بلوچ شامل ہیں۔

    دوسری جانب صحافی خاور حسین کے بھائی اعجاز حسین نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بھائی خوش مزاج اور باہمت شخص تھا، خود کشی نہیں کرسکتا تھا، خاور نے کسی پریشانی یا جھگڑے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا-

    دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ،الرٹ جاری