Baaghi TV

Tag: خدیجہ شاہ

  • خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس، کوئٹہ پولیس نے گرفتار کر لیا

    خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس، کوئٹہ پولیس نے گرفتار کر لیا

    لاہور ہائیکورٹ،خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    پنجاب حکومت نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس لے لیا ، خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکومتی تحریری آرڈر سرکاری وکیل نے عدالت میں پیش کر دیا، جسٹس علی باقر نجفی خدیجہ شاہ کو کوئٹہ منتقل کرنے پر برہم ہوگئے ،سرکاری افسران کو فوری ہدایت لیکر پیش ہونے کا حکم دے دیا ،

    آئی جی پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوگئے ، اور کہا کہ کوئٹہ پولیس خدیجہ شاہ کو آج صبح ساڑھے دس بجے لیکر چلی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لکھ کر کہ دیں کہ خدیجہ شاہ کو کب اور کتنے بجے حوالے کیا گیا،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ ہم نے خدیجہ شاہ کے راہدری ریمانڈ کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کی درخواست سماعت کےلیے مقرر ہوگئی ہے ؟ خدیجہ شاہ کو کون سی گاڑی پر لے جایا گیا ہے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمیں اس بات کا معلوم نہیں ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خدیجہ شاہ ابھی پنجاب کی حدود میں ہیں؟آئی جی پنجاب نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے ، آپ نے بلایا اور میں آگیا ،وکیل نے کہا کہ ہماری درخواست یہ ہے کہ کہ خدیجہ شاہ کو فوری واپس بلایا جائے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خدیجہ شاہ کو واپس بلانے کےلیے راہدری ریمانڈ کو کینسل کرنا ہوگا ،جب تک راہدری ریمانڈ موجود ہے عدالت کیسے بلا سکتی ہے؟وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ جب تک راہدری ریمانڈ کے حوالے سے ہماری درخواست مقرر نہیں ہوتی خدیجہ شاہ کو یہاں ہی رکھا جائے سوال یہ کہ نظر بندی کے کینسل ہونے کے بعد جیل سے کیسے گرفتار کرلیا گیا،اگر نظر بندی کا آرڈر کل کینسل ہوا تو پھر ایک روز خدیجہ شاہ کو غیر قانونی حراست میں رکھا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ امکان ہے کہ خدیجہ شاہ کو بذریعہ جہاز لے جایا گیا ہے ،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ کوئٹہ حکام نے اے ٹی سی کو بتایا تھا کہ خدیجہ شاہ کو بائی روڈ لے جایا جائے گا،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس درخواست صرف خدیجہ شاہ کی نظر بندی کی حد تک تھی،نظر بندی کا معاملہ ختم ہوگیا ہے ،اگر خدیجہ شاہ پنجاب کی حدود میں نہیں ہے کیسے بلا سکتے ہیں ،ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے ،وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے

    دوسری جانب کوئٹہ پولیس نے خدیجہ شاہ کو نو مئی کے مقدمے میں گرفتار کرلیا،انسداد دہشتگری عدالت کی جج عبہر گل نے خدیجہ شاہ کو کوئٹہ منتقل کرنے کےلیے دو روز راہدری ریمانڈ بھی دےدیا ہے

    خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کو چیلنج کر رکھا ہے ،درخواست میں ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 15 نومبر کو ڈی سی لاہور نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا،خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت خدیجہ شاہ کی فوری رہائی کا حکم دے،خدیجہ شاہ کو نظر بند کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے،خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیجانے سے روکا جائے،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • خدیجہ شاہ الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی،شوہر کا بیان

    خدیجہ شاہ الیکشن لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی،شوہر کا بیان

    لاہور ہائیکورٹ: خدیجہ شاہ کی نظربندی اور توہین عدالت کی درخواستوں پر علیحدہ علیحدہ سماعت ہوئی

    عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ کو ہدایات کیلئے مہلت دیدی،عدالت نے کہا کہ آپ بیان حلفی دینے کے حوالے سے ہدایات لے کر ایک گھنٹے بعد بتائیں، اگر خدیجہ شاہ آئندہ ایسا نہ کرنے کا بیان دیتی ہیں تو کیا حرج ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خدیجہ شاہ کی طرف سے بیان حلفی بھی دینے کو تیار ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے جہانزیب امین کی درخواست پر سماعت کی

    خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کو چیلنج کر رکھا ہے ،درخواست میں ڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 15 نومبر کو ڈی سی لاہور نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا،خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے، عدالت خدیجہ شاہ کی فوری رہائی کا حکم دے،خدیجہ شاہ کو نظر بند کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے،خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیجانے سے روکا جائے،

    دوسری جانب خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ خدیجہ شاہ الیکشن لڑانے کا ارادہ نہیں رکھتی ،خدیجہ شاہ نے کبھی الیکشن لڑنے کے حوالے سے اظہار بھی نہیں کیا،پہلے بھی ہماری فیملی ممبران نے کہا کہ خدیجہ شاہ پی ٹی آئی میں نہیں ہیں ،خدیجہ شاہ نا پی ٹی آئی کی رکن ہیں نا کوئی آفیشل عہدہ رکھتی ہیں

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • خدیجہ شاہ پر منی لانڈرنگ کا الزام، تحقیقات شروع

    خدیجہ شاہ پر منی لانڈرنگ کا الزام، تحقیقات شروع

    خدیجہ شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کا الزام ، تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

    ایف آئی اے حکام کے مطابق خدیجہ شاہ کے بینک اکاؤنٹ میں مشکوک ٹرانزکیشن سامنے آئی،ایف آئی اے نے خدیجہ شاہ کیخلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت انکوئری کا اغازکر دیا ،ایف آئی اے کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کو خطوط بھجوا دیئے گئے،تمام ریکارڈ آنے کے بعد خدیجہ سے پوچھ گچھ کی جائیگی، خدیجہ شاہ سے جیل میں انویسٹی گیشن کی جائےگی ،بینک اکاؤنٹ سے ہونے والی بیرون ملک ٹرانزیکشن کے حوالے بھی سوالات ہوں گے

    دوسری جانب خدیجہ شاہ کی نظر بندی اور توہین عدالت کی درخواست پر سماعت 5دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر نظر بندی پر کابینہ فیصلے کی رپورٹ طلب کرلی،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس کے لیے سمری بھجوا دی گی ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کے شوہر کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں وفاقی حکومت ،ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے۔خدیجہ شاہ کو قانون کے منافی نظر بند کیا گیا ۔پولیس نے مختلف مقدمات میں نامزد تاخیر سے کیا ۔مقدمات میں تفتیش بھی میرٹ پر نہیں ہوئی ۔ عدالت خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیکر جانے سے روکنے کا حکم دے ۔ عدالت نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقلی سے روکنے کی درخواست،جواب طلب

    خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقلی سے روکنے کی درخواست،جواب طلب

    خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقل کرنے سے روکنے کی متفرق درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے درخواست گزار کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کے روبرو نظر بندی کے خلاف نظر ٹانی کی درخواست دینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ جمعہ کے روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم درخواست گزار کو سن کر فیصلہ کرے ،عدالت نے خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقل کرنے سے روکنے کی استدعا سے اتفاق نہ کیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہے؟ کہ اگر خدیجہ شاہ کو اسکے گھر پر نظر بند کر دیا جائے، سرکاری وکیل نے کہا کہ مجھے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے،عدالت نے خدیجہ شاہ کے وکیل سے کہا کہ اگر اپ مجاز اتھارٹی سے مطمن نہیں ہوتے تو دوبارہ عدالت آجائیں، درخواست گزار کے وکیل نے اس سے اتفاق نہ کیا .

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈی سی لاہور نے قانون کے مطابق نظر بندی کا فیصلہ نہیں کیا ،سرکاری وکلا نے کہا کہ درخواست گزار پہلے ڈی سی لاہور کو نظر بندی پر نظر ثانی کی درخواست دیں ۔عدالت نے خدیجہ شاہ کے پروڈکش آرڈرجاری کرنے سے اتفاق نہ کیا ،وکیل نے استدعا کی کہ عدالت خدیجہ شاہ کے پروڈکش آرڈرجاری کرئے،عدالت اسکے بیان کی روشنی میں رہا کرے، خدیجہ شاہ ضمانتوں کے باوجود چھ ماہ سے جیل میں ہے، خدیجہ شاہ کریمنل نہ ہے ۔نہ وہ کسی گینگ سے تعلق رکھتی ہے ۔

    عدالت میں ڈی سی لاہور نے جواب جمع کروا دیا،جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف تین مقدمات ہیں، سیکورٹی اداروں اور ایس پی کینٹ کی رپورٹ کی روشنی میں نظر بند کیا ،درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی جائے،حکومت پنجاب کی طرف سے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ملک سرود اور غلام سرور پیش ہوئے ،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،

    جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں وفاقی حکومت ،ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے۔خدیجہ شاہ کو قانون کے منافی نظر بند کیا گیا ۔پولیس نے مختلف مقدمات میں نامزد تاخیر سے کیا ۔مقدمات میں تفتیش بھی میرٹ پر نہیں ہوئی ۔ عدالت خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیکر جانے سے روکنے کا حکم دے ۔ عدالت نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • 9 مئی واقعات میں ملوث خدیجہ شاہ کی ضمانت منظور

    9 مئی واقعات میں ملوث خدیجہ شاہ کی ضمانت منظور

    لاہور : انسداد دہشتگردی کی عدالت نے معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے خلاف 9 مئی سے متعلق چوتھے اور آخری مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی : جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور پر حملہ کرنے سے متعلق پہلے سے درج دو مقدمات میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد سرور روڈ پولیس نے خدیجہ شاہ کو کنٹونمنٹ کے علاقے میں پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

    اس سے قبل 9 مئی کو جلائو گھیرائو اور توڑ پھوڑ کے دوران سوشل میڈیا پر لوگوں کو مبینہ طور پر فوج کے خلاف اشتعال دلانے کے لیے پیغامات پوسٹ کرنے پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کیس میں ان کو گرفتار کیا تھا، تاہم سیشن کورٹ نے سائبر کرائم کیس میں ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

    بنوں میں چیک پوسٹ پر شرپسندوں کا حملہ

    خدیجہ شاہ کے وکیل نے کہا کہ پولیس کے پاس درخواست گزار کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں ، انہوں نے محض دیگر زیر حراست ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر درخواست گزار کو پھنسایا، ضمانت منظور کی جائے جبکہ پراسیکیوٹر نے کیس ریکارڈ پیش کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ استغاثہ کے گواہوں نے جیل میں ملزمہ کی شناخت پریڈ کے دوران ان کوشناخت کیا درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج ارشد جاوید نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض درخواست گزار کی ضمانت منظور کر لی۔

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث سابق ایم این اے ساجد مہمند سمیت تمام 23 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی، تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا،پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں 9 مئی کےواقعات میں ملوث23 ملزمان کی مقدمے کی سماعت ہوئی، سماعت اے ٹی سی جج جہانزیب شنواری نے کی، واقعات میں نامزد تمام 23 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ پولیس نے تحقیقات مکمل کرکے چالان عدالت میں جمع کرادیا۔

    گرفتاری کا خوف، بشریٰ بی بی پھر عدالت پہنچ گئی

    پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے نو مئی کو ضلع مہمند میں مین غلنئی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیا تھا، اور سیکیورٹی فورسز اور دیگر قومی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں، ملزمان کے خلاف تھانہ غلنئی میں مقدمہ درج ہے۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہان بھی طلب کرلیے اور کیس کی مزید سماعت 4دسمبر تک ملتوی کردی۔

  • خدیجہ شاہ کیس، ایف آئی اے سے ریکارڈ طلب

    خدیجہ شاہ کیس، ایف آئی اے سے ریکارڈ طلب

    سیشن کورٹ لاہور: اشتعال انگیز ٹویٹ کرنے کا معاملہ ،خدیجہ شاہ نے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری دائر کردی

    عدالت نے ایف آئی اے سے خدیجہ شاہ کا ریکارڈ طلب کرلیا ،عدالت نے سماعت سات نومبر تک ملتوی کردی ،ایڈیشنل سیشن جج محمد نواز نے درخواست ضمانت پر سماعت کی ،خدیجہ شاہ نے اپنے وکیل سمیرا کھوسہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے ضمانت دائر کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خدیجہ شاہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،عدالت ایف آئی اے کے مقدمے میں ضمانت منظور کرنے کا حکم دے ،خدیجہ شاہ پر نو مئی کو اشتعال انگیز ٹویٹ کرنے کا الزام ہے

    واضح رہے کہ خدیجہ شاہ کو دیگر مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد ایف آئی اے نے گرفتارکر لیا تھا،گزشتہ دنوں‌انہیں عدالت پیش کیا گیا تو عدالت نے جسمانی ریمانڈ‌کی بجائے خدیجہ شاہ کو جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا.

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی پنجاب عدالت پیش ہوئے تھے، آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جلاو گھیراو کیس میں 45 ہزار لوگ ملوث ہیں ،واٹس اپ گروپ اور سیف سیٹی کیمروں اور ٹی وی رپورٹس اور سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں کاروائی کی گئی ایک ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ،ہم نے خدیجہ شاہ کو شامل تفتیش کی اجازت کے لیے ٹرائل کورٹ سے قانون کے تحت ریمانڈ لیا ،نو مئی کو ان لوگوں نے طالبان کی طرح حملے کیے ،یہ کیس بہت بڑا ہے،لوگوں سے چیزیں مل رہی ہیں ،عدالت کی حکم عدولی نہیں کی،

  • خدیجہ شاہ کیس،نو مئی کو ان لوگوں نے طالبان کی طرح حملے کیے،آئی جی پنجاب

    خدیجہ شاہ کیس،نو مئی کو ان لوگوں نے طالبان کی طرح حملے کیے،آئی جی پنجاب

    لاہور ہائیکورٹ: سوشل ایکٹوسٹ خدیجہ شاہ کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کر نے پر آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت دس نومبر تک ملتوی کر دی،عدالت نے آئی جی کو توہیں عدالت کیس کا جواب داخل کرانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے اس دوران درخواست گزار کے وکیل کو مجاز عدالت سے رجوع کی ہدایت کر دی، سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ یہ بہت پیچیدہ کیس ہے ،کیس کا تفتیشی دو ہزار ملزمان کو ڈیل کر رہا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب اگرچہ خدیجہ شاہ کو ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا ہے ،مناسب ہے انکے وکیل مجاز عدالت سے رجوع کریں،

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تفتیشی کیوں پیش نہ ہوا ،وکیل خدیجہ شاہ نے کہا کہ تفتیشی دانستہ پیش نہ ہوا نہ ریکارڈ پیش کیا،اب ایف آئی اے نے خدیجہ شاہ کے خلاف جھوٹا کیس بنا دیا ہے ،اسکو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے ،عدالت کے حکم کے برعکس خدیجہ شاہ کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا ،عدالت نے آئی جی پنجاب پولیس پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب ضمانت کے بعد روبکار جاری ہو گئی اور ٹرائل کورٹ نے ریمانڈ نہ دیا تو اپنے اسکو کیوں نہ چھوڑا ،آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جلاو گھیراو کیس میں 45 ہزار لوگ ملوث ہیں ،واٹس اپ گروپ اور سیف سیٹی کیمروں اور ٹی وی رپورٹس اور سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں کاروائی کی گئی ایک ہزار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ،ہم نے خدیجہ شاہ کو شامل تفتیش کی اجازت کے لیے ٹرائل کورٹ سے قانون کے تحت ریمانڈ لیا ،نو مئی کو ان لوگوں نے طالبان کی طرح حملے کیے ،یہ کیس بہت بڑا ہے،لوگوں سے چیزیں مل رہی ہیں ،عدالت کی حکم عدولی نہیں کی،

    عدالت نے آئی جی پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اچھی تقریر کی ،آپ نے پہلے ہی خدیجہ شاہ کو شامل تفتیش کیا ۔ضمانت کے بعد کیوں نیا کیس بنایا گیا ،آپ نے صرف دو مقدمات دینے کا بیان کیوں دیا،عدالت پر بہت پریشر ہے ،آپکو قانون کے تحت پراسس کرنا چاہیے تھا، اپ اپنے اختیارات کو مس یوز نہ کریں،آپ نے خدیجہ شاہ کو ایک اور کیس میں ملوث کرنے کے لیے ضمانت ملنے کا کیوں انتظار کیا ۔آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ اس کیس میں جب تین ملزمان گرفتار ہوئے تو اسکی روشنی میں ریمانڈ لیا ،ہم نے ٹرائل کورٹ کی اجازت لے کر خدیجہ شاہ کو شامل تفتیش کیا،اس کیس میں میاں اسلم اور حماد اظہر کی تلاش جاری ہے ۔

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عمران کشور پیش ہوئے،عدالت نے دونوں پولیس افسران کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا تھا ،،ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے عدالت میں کہا کہ پولیس اس کیس میں قانونی تقاضے پورے کرکے کاروائی کر رہی ہے ،عدالت نے کہا کہ آپ کے پاس پہلے سے فیک ایف ائی ار پڑھی ہیں اس میں کسی کو ملوث کر دیتے ہیں ،

    جسٹس علی باقر نجفی خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے.

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • چھ ماہ سے جیل میں سڑ رہی ہوں مجھے باہر نکالیں،خدیجہ شاہ کی عدالت میں استدعا

    چھ ماہ سے جیل میں سڑ رہی ہوں مجھے باہر نکالیں،خدیجہ شاہ کی عدالت میں استدعا

    انسداد دہشت گردی عدالت،خدیجہ شاہ کی دو مقدمات میں ضمانت کے بعد نئے مقدمہ میں گرفتاری کا معاملہ، عدالت نے خدیجہ شاہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ،عدالت نے خدیجہ شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی

    انسداد دھشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے سماعت کی ،تفتیشی افسر انسپکٹر نوید انجم اعوان نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ، عدالت میں کہا کہ ملزمہ خدیجہ شاہ کے گھر پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی بغاوت بارے ملاقات ہوتی رہی ہے ،تین شریک ملزمان کے بیانات موجود ہیں کہ خدیجہ شاہ کے حکم پر جلاؤ گھیراؤ کیا .

    خدیجہ شاہ نے عدالت کی اجازت سے روسٹرم پر گفتگو کی ،خدیجہ شاہ نے عدالت میں کہا کہ میری پانچ سال کی بیٹی مجھ سے چھ ماہ سے دور ہے ،پلیز مجھے گھر جانے دیاجائے،تین شریک ملزمان کبھی میرے گھر نہیں آئے تفتیشی جھوٹ بول رہا ہے ، فاضل جج نے کہا کہ یہی بات آپ پولیس کو بتا دیں تاکہ تفتیش مکمل ہو سکے، خدیجہ شاہ نے کہا کہ میں چھ ماہ سے جیل میں سڑ رہی ہوں مجھے باہر نکالیں ،جس پر عدالت نے کہا کہ پریشان نہ ہوں جلد مقدمات کا ٹرائل شروع ہو جائے گا اور فیصلہ ہو جائے گا ،خدیجہ شاہ کے وکیل نے استدعا کی کہ خدیجہ شاہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے،پولیس نے ضمانت منظور ہونے کے بعد بدنیتی کی بنیاد پر تیسرے مقدمہ میں گرفتار کیا ،ملزمہ کو پولیس کی گاڑیاں جلانے کے کیس میں پیش کیا گیا ہے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • خدیجہ شاہ کی عدم رہائی، سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب کی طلبی

    خدیجہ شاہ کی عدم رہائی، سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب کی طلبی

    لاہور ہائیکورٹ: سوشل ایکٹوسٹ خدیجہ شاہ کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کر نے پر آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی پنجاب پولیس کو طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب 3نومبر کو پیش ہوکر جواب داخل کرائیں، عدالت نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ آپکی رپورٹ مجھے قائل نہ کر سکی اس لیے آپکو بلایا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ میں تفتیشی کا بیان حلفی دینا چاہتا ہوں ،عدالت نے سرکاری وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپ اسطرح تفتیش کرنے لگے تو عدالت کیسے آگے بڑھے گی، سرکاری وکیل نے کہا کہ خدیجہ شاہ کے ریمانڈ پر آج فیصلہ ہونا ہے،

    عدالت نے کہا کہ اگر ریمانڈ نہیں تو پھر کیا ہے، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ٹرائل کورٹ کا آرڈر چیلنج کریں گے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے آرڈر نہیں لکھا صرف جوڈیشل کیا ہے ،آج بھی ٹرائل کورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ،پولیس کی پیش کردہ رپورٹ مضحکہ خیز ہے،عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو کیس کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ ٹرائل جج نے معاملہ یہاں ہونے کی وجہ سے خدیجہ شاہ کے ریمانڈ دینے یا نہ دینے پر فیصلہ نہیں کیا ،عدالت نے کہا کہ حکومت نے جو کہا اسکے نتائج دیکھتے ہیں ؟آپ نے صرف دو مقدمات دینے کا بیان کیوں دیا،

    عدالت میں سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ اور ڈی ائی جی انوسثی گیشن عمران کشور پیش ہوئے، جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،

    خدیجہ شاہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ایڈیشنل آئی جی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست میں عدالت رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں خدیجہ شاہ پر دو مقدمات درج کرنے کی تفصیلات فراہم کی گی ،پولیس نے خدیجہ شاہ سے دیگر مقدمے میں تفتیش شروع کردی ہے ،پولیس کی بدنیتی ہےعدالت آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • خدیجہ شاہ کی رہائی کیوں نہیں ہوئی؟ سی سی پی او لاہور کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم

    خدیجہ شاہ کی رہائی کیوں نہیں ہوئی؟ سی سی پی او لاہور کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم

    خدیجہ شاہ کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کرنے کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب پولیس اورسی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    عدالت نے توہیں عدالت کی درخواست پر سی سی پی او لاہور کو 27اکتوبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ سی سی پی او پیش ہو کر ضمانت کے باوجود خدیجہ شاہ کا ریمانڈ لینے پر مطمئن کریں ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پولیس نے دانستہ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں جھوٹ بولا اور غلط بیانی کی ،جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کا فیصلہ جاری کیا

    درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے خدیجہ شاہ کی رہائی کی درخواست ضمانت منظور کر لی،پولیس حکام دانستہ خدیجہ شاہ کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوے ہیں،پولیس نے خدیجہ شاہ کو رہاہ کرنے کی بجائے اسکی گرفتاری کے لیے ٹرائل کورٹ میں نئی درخواست دے دی ہے ،ایسا کیا جانا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے،عدالت اپنے حکم کی نفی کرنے پرآئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہیں عدالت کی کارروائی عمل میں لائے

    خدیجہ شاہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ایڈیشنل آئی جی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست میں عدالت رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں خدیجہ شاہ پر دو مقدمات درج کرنے کی تفصیلات فراہم کی گی ،پولیس نے خدیجہ شاہ سے دیگر مقدمے میں تفتیش شروع کردی ہے ،پولیس کی بدنیتی ہےعدالت آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا