Baaghi TV

Tag: خرم دستگیر

  • بجلی بریک ڈاون کی وجہ کیا تھی انکوائری رپورٹ پیر کو موصول ہو گی،وزیر توانائی

    بجلی بریک ڈاون کی وجہ کیا تھی انکوائری رپورٹ پیر کو موصول ہو گی،وزیر توانائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بجلی بریک ڈاون کے باعث بجلی سپلائی متاثر ہوئی تھی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بجلی کی ترسیل کا عمل شروع ہوچکا ہے،خیرپور ناتھن شاہ میں ابھی بھی پانی موجود ہے سندھ کے بعض علاقوں میں بجلی کا تعطل بریک ڈاون کے باعث نہیں وہاں پانی موجود ہے،بریک ڈاون کی وجہ کیا تھی ،انکوائری رپورٹ پیر کو موصول ہو گی،بھان سعید آباد میں بھی سیلابی پانی موجود تھا ،بریک ڈاون کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا،کراچی سے فیض آباد تک کے علاقوں میں بریک ڈاون ہوا،جن علاقوں میں سیلابی پانی موجود تھا وہاں کے بعض مقامات پر بھی بجلی بحال کردی سکھر ،حیدرآباد ،فیصل آباد اور بلوچستان کو بجلی کی سپلائی بحال ہوگئی ہے، ملک بھرمیں اس وقت بجلی کا نظام مکمل بحال ہے بریک ڈاون کے بعد کم مدت میں بجلی نظام بحال کیا،ملک میں بجلی کی ترسیل اور پیداوارمعمول کے مطابق جاری ہے،ملک بھر میں بلیک آوٹ نہیں ،بریک ڈاون کو آدھے حصے تک محدود رکھا گیا بجلی کی قیمت میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 9روپے 70پیسے فی یونٹ کمی آئی تھر کوئلے سے بجلی پیداکی جائے گی، تھرمیں 2 پاور پلانٹس نے بجلی بنانا شروع کردی ہے، انکوائری رپور ٹ کا تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرائیں گے تھر کا کوئلہ امپورٹڈ کوئلے سے 10 گنا سستا ہے کسی جگہ بھی ٹرانسمیشن میں خرابی کی وجہ سے شٹ ڈاون نہیں

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    وفاقی وزیرخورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اپنے گھرکے بل کا معاملہ اٹھا دیا

    وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا مزید کہنا تھا کہ کل کے انتخابات میں کوئی پریذائیڈنگ افسراغوا نہیں ہوگا،کل کے انتخابات شفاف اوراچھے ماحول میں ہوں گے مریم نوازپرکوئی الزام نہیں ،وہ مکمل آزاد ہیں ،ان کو پاسپورٹ مل گیا تو لندن گئیں، پاکستان کا ایٹمی پروگرام کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت محفوظ ہے،پاکستان ایٹمی پروگرام سےمتعلق امریکی صدرکا بیان بے بنیاد ہے،

  • پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیرنے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،سیلاب سے بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی،سیلاب سے متاثرہ بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے،دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام بحال کیا گیا ہے.

    گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ،دادو کا گریڈ اسٹیشن بلوچستان اور جنوبی سندھ کی سپلائی کیلئے بہت اہم ہے،دادو کے گریڈ اسٹیشن پر خطرہ ابھی بھی موجود ،پانی کا ریلا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،ہم دادو گریڈ اسٹیشن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،دادو شہر چاروں طرف سے پانی میں گھیرا ہوا ہے.

    خرم دستگیرنے کہا کہ ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانے چاہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے،یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی کی حکومت اپنا کام کر رہی ہے،کسی جتھے کے پاس جلسے کیلئے 10 کروڑ ہیں تو بہتر یہی تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے استعمال ہوتے،سیلاب متاثرین کیلئے حکومت پنجاب کے پاس پیسے نہیں.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس وزرا کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے30کروڑ روپے موجود ہیں،ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ایک دن بھی پیٹرول کی شارٹیج نہیں ہوئی،بجلی کے بلوں کا بہت دکھ تھا مگر وزیر اعظم نے فوری طور پر ریلیف دیا،بجلی کی قیمت نیچے آئیگی، تمام اسٹیشن چلا کر لوڈشیڈنگ کو کنٹرول رکھا، کل خبر آئی ان کے دور میں یوٹیلٹی اسٹور میں 6ارب روپے کا گھپلا ہوا،ان کے دور میں کویڈ فنڈز میں کم ازکم 140ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے،300یونٹ والوں کو ریلیف فوری طور پر دیدیا ہے ،ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں، کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا.

  • وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجنیئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے، ملک میں تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی اور بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو حیدرآباد میں حیسکو پاور ونگ کالونی کے کانفرنس ہال میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں 200 یا اس سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے تصحیح شدہ نئے بل جاری کئے جائیں گے، گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے بل جمع کرانے کی آخری تاریخ کی میعاد 06 ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ میری یہاں موجودگی کا مقصد حیسکو اور سیپکو ریجنز میں سیلاب زدگان کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتہائی غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں کہیں اوسط سے چار گنا اور بعض مقامات پر سات گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، اس کا اثر ہماری بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑا ہے، گرڈ اسٹیشنز ڈوبے ہوئے ہیں، کہیں کھمبے پانی میں گر گئے ہیں، کچھ مقامات پر حفاظتی اقدامات کے طور پر بھی بجلی کی سپلائی منقطع کی جاتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے حیسکو اور سیپکو کے چیفس کو ہدایات دیں کہ جہاں بھی نکاسی آب کے مسائل درپیش ہیں وہاں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تاکہ نکاسی آب کا مسئلہ ترجیحی طور پر حل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ بارشوں کے دوران حتی الامکان بجلی کی فراہمی جاری رہنی چاہیئے اس حوالے سے حیسکو اور سیپکو نے محنت کی اور لوگوں نے بھی محسوس کیا ہوگا کیونکہ پہلے بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی غائب ہوجاتی تھی، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی بھی چیلینجز درپیش ہیں، صوبے کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ حاصل کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو کے تین اہم گرڈ اسٹیشنز بارش کی وجہ سے بند ہوگئے تھے جن میں نوابشاہ ون، دوڑاور جھرک گرڈ اسٹیشن شامل ہیں، نوابشاہ کے چار فیڈرز کو متبادل گرڈ اسٹیشنز سے منسلک کرکے چلادیا گیا ہے، جھرک گرڈ اسٹیشن کو بھی لو لوڈ پر چلادیا گیا ہے، بحالی کا کام جاری ہے، جن گرڈ اسٹیشنز میں پانی جمع ہوا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کارکنان ہمارے اور آپ کے لئے بارش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کا چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا، شمال سے ایک نیا ریلا دریائے کابل اور کنہار سے آرہا ہے جو کے پی سے گذرتا ہوا ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی آئے گا، آنے والے چند ہفتے ایمرجنسی کے ہیں جس میں پوری کوشش کی جارہی ہے کہ بجلی کے محکمے کے سربراہان، سینئر افسران اور عملہ پوری ذمہ داری سے خدمات انجام دیں اور کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے لیکن فی الحال سیلاب کی صورتحال اور بلوں کی تصحیح کے معاملے پر ہماری پوری توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک پارٹی نہیں بلکہ وسیع البنیاد جمہوری حکومت میں شامل دس کی دس پارٹیاں ریلیف کے کام میں مصروف عمل ہیں، ہم سب اکٹھے ہیں اور بلا تفریق سیلاب متاثرین کو ریسکیو کریں گے، ان کو ریلیف بھی پہنچائیں گے اور بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے معاملے میں ملکی سطح پر غور و فکر کیا جارہا ہے، دس روز میں تفصیلی بحث کے بعد ریلیف کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا جائے گا وزیراعظم اس کا اعلان کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دوسرے طریقے سے بھی ریلیف دیا جارہا ہے اور بی آئی ایس پی کے تحت ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی مالی امداد کی فراہمی کی جارہی ہے، سیلاب کے دوران جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں ان کے ورثا کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے امدادی چیکس دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ حیسکو کی کارکردگی ایک علیحدہ سوال ہے، خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی کا معاملہ بھی ایک چیلنج ہے ان مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔ بجلی کے حوالے سے ملک میں دو قسم کی صورتحال ہے، ایک تو وہ فیڈرز ہیں جہاں بلوں کی ریکوری 80 فیصد سے زیادہ ہے اور لائن لاسز 20 فیصد سے کم ہیں ، جہاں ریکوری اچھی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوتا ہے جبکہ زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ کے قریب متوقع تھی لیکن یہ طلب 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگئی۔ پچھلے چار سال یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہے مگر ملک کے اندر بجلی وافر مقدار میں موجود نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فرنیس آئل پر پرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے جو بجلی تیار کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے جیسے حکومت اور عوام اپنا خون جلا رہی ہے، ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کی موثر صلاحیت 25 ہزار میگاواٹ تک کی ہے اس سے زائد بجلی بناتے ہیں تو ہمیں تیل سے بنانی پڑتی ہے جس سے پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ اگلے موسم گرما سے قبل جو زیر تکمیل پلانٹس جن میں تھر میں 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک اور 330 میگاواٹ کے دو منصوبے وہاں موجود ہیں، سے تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا بھی اعلان کریں گے، اگلے موسم گرما میں ہمارے پاس ان ذرائع سے ہزاروں میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ سولر سے سستی بجلی بنانے کے دوران دن کے وقت ہم ایندھن پر پلانٹس کو کم سے کم چلائیں تاکہ بجلی کی لاگت کم کرکے عوام کے بجلی کے بل بھی کم کئے جاسکیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی اور مستقبل میں جتنی بھی بجلی کی پیداواری صلاحیت ہوگی وہ تھر کول، ہائیڈل ذرائع، پن بجلی، شمسی اور نیوکلیئر ذرائع سے حاصل کی جائے گی جس سے ملک کے صارفین کو بجلی کی لگاتار اور سستی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔

    حیسکو اور سیپکو کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ سے بات چیت چل رہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں بھی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے عمل میں شامل ہوسکتی ہیں۔ اس موقع پر چیف ایگزیکیوٹو آفیسر حیسکو نور احمد سومرو، مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما شاہ محمد شاہ، سابقہ سینیٹر نہال ہاشمی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے

  • بجلی کی قیمتوں میں7روپے 91 پیسے اضافےکی منظوری نہیں دی گئی،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،خرم دستگیر

    بجلی کی قیمتوں میں7روپے 91 پیسے اضافےکی منظوری نہیں دی گئی،قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں7روپے 91 پیسے اضافے کی منظوری نہیں دی گئی، بجلی کے نرخوں میں اضافے کی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے-

    باغی ٹی وی : خرم دستگیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش مسترد کردی ہے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے 91 پیسے اضافے کی منظوری نہیں دی گئی۔

    حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پرلائف لائن صارفین کو خصوصی رعایت دی جائے گی، 100یونٹ تک صارفین کیلئے بجلی کے نرخ نہیں بڑھائیں گےگیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کو متبادل ذرائع سے چلایا جا رہا ہے، کراچی کے ایٹمی پاور پلانٹ کےٹو کی ری فیولنگ جاری ہے، ایٹمی پاورپلانٹ سے مزید 1100میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگی۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ افغانستان سے کوئلے کی درآمد کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، کوئلے سے بھری 3 ٹرینیں ساہیوال پہنچ چکی ہیں۔

    زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا،طارق بشیر چیمہ

    واضح رہے کہ خبریں تھیں کہ حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا ہے خبریں تھیں کہ اس سلسلے میں حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے بحلی کا بنیادی ٹیرف 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ بڑھانے کی مرحلہ وار منظوری دی –

    محنت کریں، حسد نہ کریں،مریم نواز کا مفت بجلی پر تنقید کرنیوالوں کوجواب

  • طلب بڑھنےکی وجہ سےملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے:خرم دستگیر

    طلب بڑھنےکی وجہ سےملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے:خرم دستگیر

    اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ پچھلی حکومت کی پالیسیاں ہیں ،ملک میں گرمی میں اضافہ بھی ایک وجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وسط اپریل سے گرمی کی شدت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے، 30 ہزار میگاواٹ طلب جمعرات کو نوٹ کی گئی، حکومتی تخمینہ سے پانچ سے چھ ہزار میگاواٹ طلب زیادہ ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ طلب بڑھنے کی وجہ سے ملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، بجلی کی پیداوار وہی ہے جس کا افتتاح نواز شریف نے کیا تھا۔

    وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد بجلی کی زیادہ پیداوار کی، آئندہ مالی سال میں پانچ ہزار میگاواٹ کی مزید کپیسٹی پیدا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ عمرانی جھوٹ کا عوام روزانہ سامنا کر رہی ہے، کورونا کے دوران بجلی کی طلب میں کمی ہوئی،جہلم پن بجلی منصوبہ 969 میگاواٹ کی پیداوار دے رہا ہے،مقامی کوئلے سے چلنے والا شنگھائی پاور پلانٹ نومبر تک پیداوار شروع کردے گا

    وفاقی وزیر توانائی نے کہاہے کہ سابقہ حکومت کی نااہلی ، سی پیک دشمنی اور نیب گردی کے باعث مسائل درپیش ہیں،گزشتہ حکومت نے عالمی منڈی سے سستے فیول کی خریداری کا موقع ضائع کرکے مجرمانہ غفلت کی ،گردشی قرضے میں 250 فیصد اضافے سے شعبہ توانائی کو مالی مشکلات ہیں ، مسلم لیگ ن 2013 کی طرح ایک بار پھر ملک کو بجلی کے بحران سے نجات دلائے گی، نومبر سے بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی،

  • جس طرح مریم کو سیکیورٹی ملتی ہے اسی طرح عمران خان کو بھی مہیا کی جائے،شہباز گل

    جس طرح مریم کو سیکیورٹی ملتی ہے اسی طرح عمران خان کو بھی مہیا کی جائے،شہباز گل

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے کہا ہے کہ خرم دستگیر کے بیان پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جس طرح مریم کو سیکیورٹی ملتی ہے اسی طرح عمران خان کو بھی مہیا کی جائے-

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ریکارڈ مہنگائی ہوئی اور جب سے کورونا گیا ہم نے بتایا کہ یہ انٹرنیشنل مہنگائی ہے لیکن ہم کہتے تھے کہ دنیا کی مہنگائی سے موازنہ کریں تاہم اب صورتحال الٹ ہے پہلے جو 11، 12 فیصد مہنگائی تھی آج 30 فیصد کو چھو چکی ہے کسانوں کو ملنے والی کھاد بند کر دی گئی ہے اور کسانوں کی فصلیں تباہ ہو جانی ہیں۔ خرم دستگیر کے بیان پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے کیونکہ خرم دستگیر نے فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔

    ملکی حالات پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،شیخ رشید

    شہباز گل نے کہا کہ خرم دستگیر نے کل جو اناج کو نقصان پہنچایا ہوا تھا بول گئے کہ حالات مشکل ہیں، ہم حکومت نہیں چلانے گئے تھے بلکہ عمران خان سو نئے جج لگانے لگا تھا اور آرمی چیف کی تعیناتی ہونا تھی۔ انہوں نے احتساب روکنے کے لیے عمران خان کو ہٹایا –

    شہباز گل نے کہا کہ ایک رشتے تڑوانے والی باجی ہے جو انگلی کے اشاروں سے باتیں کرتی ہیں۔ وہ بتاتی تھیں آٹا چور، چینی چور لیکن اب باجی بتاو آٹا، چینی، پناہ گاہ، لنگر خانے کا چور کون ہے؟ آپ لوگوں کے 2 ہزار لینے سے عوام خوشحالی کی زندگی گزار رہی ہے۔ تمام اخراجات پورے کر کے عوام کے پاس 797 روپے بچے پڑے ہیں۔ اب یہ بھی بتا دیں لوگ بچے پیسوں سے فارن ٹرپ نہ کر آئیں؟

    عمران خان نے اپنی مرضی کے جج بنا کر اپوزیشن کو سزائیں دینے کا پروگرام بنایا ہوا…

    انہوں نے کہا کہ سارا خرچہ کر کے لوگ سیکیورٹی گارڈ رکھنے کا سوچ رہے ہیں اور اس حکومت کی چوری چکاری عوام کو سمجھ آ گئی ہے۔ عمران خان کے قتل کے لیے افغانستان سے بندے کو ہائر کیا گیا ہے اور وہاں سے آنے والی معلومات ہمیں بھی موصول ہوئی ہیں۔ ہمیں اس ملک کے محب وطن افسروں سے یہ معلومات موصول ہوئیں اور جس طرح مریم کو سیکیورٹی ملتی ہے اسی طرح عمران خان کو بھی مہیا کی جائے۔

    خرم دستگیر کے بیان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خرم دستگیر نے واضح بتایا کہ ہمارا احتساب ہونے جا رہا تھا اور اب اس تمام معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں تیل 272 پر جا پہنچے گا اور اگر آپ نہ نکلے تو یہ ملک مزید تباہی میں جا گرے گا تمام مسائل کا واحد حل فریش الیکشن ہیں-

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو

  • توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی متوقع نہیں ہے:خرم دستگیر

    توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی متوقع نہیں ہے:خرم دستگیر

    اسلام آباد:توانائی اور ایندھن کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھ رہی ییں ،اس حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا ہے کہ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی متوقع نہیں ہے۔

    وزیر توانائی خرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں توقع سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوئی ہے، عذاب عمرانی آج بھی جاری ہے، وقت پر کوئلہ، ایل این جی اور فرنس آئل نہیں خریدا گیا۔انہوں نے کہا کہ بدانتظامی کی سونامی اس ملک سے گزری ہے، اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں، جب حکومت سنبھالی 58 سو میگا واٹ ایندھن نہ ہونے اور بارہ سو میگا واٹ مرمت کی وجہ سے بند تھی۔

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ یکم مئی سے بارہ مئی تک اچھی ریکوری اور کم خسارے والے فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ کی، کوئلے کی قیمت میں تین سو فیصد اضافے کی وجہ سے کچھ پلانٹس بند کرنا پڑے۔

    وزیر توانائی نے کہا ہے کہ عذاب عمرانی نے آئی پی پیز کو ادائگیاں نہیں کیں، ایل این جی کے چار لوڈ خرید چکے ہیں، فرنس آئل کے پانچ جہاز ہمیں مہیا کیے ہیں، ایندھن کی کمی کا بحران حل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حویلی بہادر شاہ پلانٹ کی بحالی اور مرمت کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، ہم ہنگامی بنیادوں پر پلانٹس کے مسائل حل کر رہے ہیں، کوشاں ہیں کہ بجلی کی پیداوار میں وقتی تعطل دور کیا جائے گا۔

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی متوقع نہیں ہے، مزید فرنس آئل خریدا جائے گا تاکہ بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کی جا سکے۔

    وزیر توانائی نے کہا ہے کہ سرکلر ڈیٹ 2460ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، آئی ایم ایف سے مزاکرات میں توانائی ڈویژن کا کلیدی کردار ہے، وزارت پیٹرولیم اور خزانہ سے کوآرڈینیشن موجود ہے، ہم توانائی کے معاملات میں توازن اور تسلسل کی طرف جانا چاہتے ہیں۔

  • بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ،وزیر خارجہ مخدوم شاہ قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے-

    باغی ٹی وی : پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خصوصی طور پر شریک ہوئے، اجلاس میں اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے سخت سوالات اٹھائے، جس پر وزیر خارجہ سے تحمل سے جوابات دیئے-

    خرم دستگیر نے اعتراض اٹھایا کہ وزیراعظم پاکستان کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی واضح نہیں ہے بلکہ حکومت خود تذبذب کا شکار ہے، کبھی کہتے ہیں کہ پہل نہیں کریں گے، کبھی مذاکرات نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہیں تو کبھی مذاکرات کرنے کے حوالے سے انتہائی کمزور بیان جاری کردیتے ہیں-

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 3ارب ڈالر ڈپازٹ کے معاہدے پر دستخط

    انہوں نے وزیر خارجہ سے وضاحت طلب کی کہ بتایا جائے کہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی کیا ہے؟ اور کیا حکومت کے عالمی سطح پر اٹھائے گئے اقدامات سے بھارت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے آیا؟

    اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے، جمہوریت اور انسانیت کے علمبردار بھارتی شہری بھی مودی کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس بھارت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کررہی ہیں تاہم مودی حکومت کی پالیسی میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری پالیسی دو ٹوک اور واضح ہے کہ بھارت سے مذاکرات تبھی ہوں گے جب کم از کم 5 اگست کے اقدام کو واپس لے کر بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کی لئے تیار ہوگا۔

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے نہ ہی حکومت بھارت سے متعلق نرم رویہ رکھتی ہے، بھارت کے ساتھ نرم رویہ رکھنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہے۔

    سیز فائر معائدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر سیز فائز کا معائدہ 2003 میں ہوا تھا جس کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے تھے سیز فائر کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیری عوام کو ہے، کیونکہ بھارت کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ سے معصوم کشمیری شہید ہورہے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس معائدے کے باوجود بھارت کی جانب سے سیز فائر کی 13600 خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں، صرف گزشتہ سال میں 397 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 28 کشمیریوں کو شہید کیا اور 255 کو زخمی کیا۔

    انہوں نےبتایا کہ ہم ایل او سی کے قریب رہنے والے کشمیریوں کیلئے بنکرز بنانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران وہ خود کو محفوظ کرسکیں۔

    میرا سندھ ترقیاتی پلان کا مقصد 14اضلاع کے باسیوں کی معاشی ترقی ہے: وزیراعظم