Baaghi TV

Tag: خسرہ

  • امریکا میں خسرہ کے کیسز کی تعداد میں خطرناک حد تک  اضافہ

    امریکا میں خسرہ کے کیسز کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ

    امریکا میں 30 دسمبر تک خسرے کے 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے تھے، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔

    امریکی مرکز برائے انسداد امراض (سی ڈی سی) کے مطابق 30 دسمبر تک 2026 میں خسرہ کے 2,065 مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہیں، آخری بار 1992 میں خسرہ کے کیسز کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد بچوں کے لیے ایم ایم آر ویکسین کی دو خورا کیں لازمی قرار دی گئی تھیں، خسرہ دنیا کی سب سے متعدی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم ایم ایم آر ویکسین انتہائی مؤثر ہے، جس کی ایک خوراک 93 فیصد اور دو خوراکیں 97 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ویکسینیشن کی شرح مسلسل کم ہورہی ہے گزشتہ تعلیمی سال میں صرف 92.5 فیصد کنڈرگارٹن کے بچوں کو ایم ایم آر ویکسین دی گئی، جو وبا کی روک تھام کے لیے درکار 95 فیصد حد سے کم ہے۔

    حکومت یا وزیراعظم کی کوئی انا نہیں، پاکستان کا مفاد ہر چیز سے بڑا ہے،طلال چوہدری

    جنوبی کیرولائنا کے اپ اسٹیٹ علاقے اور ایریزونا-یوٹاہ سرحد پر جاری وبائیں بدستور پھیل رہی ہیں جنوبی کیرولائنا میں اکتوبر سے شروع ہونے والی وبا میں اب تک تقریباً 180 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اسی طرح یوٹاہ اور ایریزونا کی سرحد پر بھی 350 سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔ اس سے قبل ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں خسرہ کی وبا کے دوران تین غیر ویکسین شدہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکا میں خسرہ کو سال 2000 سے ختم شدہ بیماری تصور کیا جاتا تھا، تاہم رواں سال مختلف ریاستوں میں جڑی ہوئی وباؤں کے باعث یہ حیثیت خطرے میں پڑگئی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنوری تک کیسز میں اضافہ جاری رہا تو امریکا خسرہ کے خاتمے کی عالمی حیثیت کھو سکتا ہے۔

    ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر تشدد مظاہرے میں تبدیل،2 شہری ہلاک متعدد زخمی

  • کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ پھیلنے لگا

    کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ پھیلنے لگا

    شہر کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ نے بچوں کو لپیٹ میں لینا شروع کردیا.

    طبی ماہرین کے مطابق خسرہ کی علامات میں نزلہ، بخار، کھانسی، آنکھوں میں سرخی، اور جلد پر دانے نمودار ہونا شامل ہیں، جبکہ ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ خسرہ ایک تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو ایک بچے سے دوسرے بچوں تک جلدی منتقل ہوتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ 9 ماہ اور ڈیڑھ سال کی عمر میں بچوں کو خسرہ سے بچا کی ویکسین لازمی لگوائیں تاکہ اس خطرناک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔متاثرہ بچے کو الگ تھلگ رکھنا اور وٹامن اے دینا بیماری کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین صحت نے والدین پر زور دیا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔ماہر امراض اطفال ڈاکٹر لیاقت علی نے اس ضمن میںبتایا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ بچوں میں وائرل بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جن میں خسرہ بھی شامل ہے۔ یہ ویکسین کے ذریعے خسرہ سے بچا ممکن ہے، لیکن اگر علاج میں دیر ہو جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے،خسرہ کی ابتدائی علامات میں نزلہ، زکام، کھانسی، بخار اور آنکھوں کی سرخی شامل ہیں۔تین سے سات دن کے بعد بچے کے چہرے پر دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ جسم کے دیگر حصوں تک پھیلتے ہیں۔یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور ایک بچے سے دوسرے تک منتقل ہو سکتی ہے۔اگر بچہ پیدائشی ٹیکہ جاٹ میں خسرہ کی ویکسین لگوا چکا ہے اور اسے وٹامن اے دیا گیا ہے تو پیچیدگیوں اور اموات کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ وٹامن اے کی ایک خوراک موت کے 50 فیصد امکانات کو کم کردیتی ہے۔ لیکن اگر بچہ غذائی قلت یا کمزور جسمانی حالت کا شکار ہو تو خسرہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ویکسینیشن شیڈول کا خاص خیال رکھیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے 9 ماہ اور ڈیڑھ سال کی عمر میں خسرہ سے بچا کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہے۔ خسرہ کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور متاثرہ بچے کو دوسرے بچوں سے الگ رکھیں تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔انہوں نے کہا کہ خسرہ اپنا دورانیہ مکمل کر کے ختم ہو جاتی ہے، لیکن ویکسینیشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ بیماری پیچیدگیوں جیسے نمونیا میں تبدیل نہ ہو۔

  • خسرہ وبا کے روک تھام کے لئے مفت ادویات فراہم کی جائیں،ڈاکٹر  محمد عارف خان

    خسرہ وبا کے روک تھام کے لئے مفت ادویات فراہم کی جائیں،ڈاکٹر محمد عارف خان

    خیبر پختونخوا پشاور کے پروفیسر سرجن محمد عارف خان نے پشاور سمیت صوبہ بھر کے 135علاقوں میں خسرہ کی وبا کے پھیلنے اور درجنوں بچوں کے جاںبحق ہونے اور خسرے کے مرض میں مبتلا ہو کر بے حال ہونے کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گورنر کے پی کے حاجی غلام علی،وزیر اعلیٰ اعظم خان اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور سمیت صوبہ کے تمام اضلاع و تحصیل اور بی ایچ اوز ہسپتالوں میں خسرے کی ادویات مفت فراہم کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں اور اس مرض کی روک تھام کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیئے جائیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں ماہانہ منعقدہ اجلاس میں کیا ،ڈاکٹر عارف خان نے کہا کہ خسرہ کی بیماری کی روک تھام کے لئے بلدیاتی اداروں کو صفائی کی حالت بہتر بنانی ہو گی گندے پانی کی نکاسی کو بہتر کرنے کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے ،

  • خیبرپختونخوا میں  22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں 22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں خسرہ کیسز میں اضافہ،رواں سال 22 بچے خسرے سے جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال ڈیرہ اسماعیل خان میں خسرہ سے سب سے زیادہ 462 کیسز رپورٹ ہوئے اور 13 بچے جاں بحق ہوئے۔چارسدہ میں 317، پشاور میں 226، باجوڑ میں 166 اور مردان میں خسرہ کے 161 کیسز سامنے آئے جبکہ صوابی 136، نوشہرہ، لکی مروت، اور کرک میں 171 بچے متاثر ہوئے ذرائع محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں باقاعدہ ویکسینیشن نہ ہونے سے خسرہ وبائی شکل اختیار کرگیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب کے محکمہ صحت نے بھی خسرہ کے کیسز کی تفصیلات بتائی تھیں، صوبائی محکمہ صحت نے کہا تھا کہ اپریل سے مئی کے دوران 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاہور میں 580 سے زائد بچے خسرہ میں مبتلا ہوئے جبکہ راولپنڈی سے 521، حافظ آباد 114، جھنگ 99، شیخوپورہ 72 کیسز رپورٹ ہوئےقصور56، سیالکوٹ 49، ٹوبہ ٹیک سنگھ 43، فیصل آباد سے 42 بچے خسرے سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرے سے متاثرہ صوبے کی 265 یونین کونسلز میں کیس رسپانس کیا جارہا ہے 265 متاثرہ یونین کونسلز میں چھ ماہ سے پانچ سال بچوں کی ویکسینیشن ہورہی ہے، خسرے سے بچاؤ کی اضافی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بجھوائی جارہی ہیں-

    امریکی وزیرخارجہ بلنکن کی چینی صدر سے ملاقات

    خسرہ ایک ایسی انفیکشن ھے جو وائرس سے پیدا ہوتی ہے۔ِ سردیوں کے آخر میں یا بہار کے موسم میں ہوتی ہے۔ خسرہ کی بیماری کے ساتھ جب کوئی مریض کھانستا یا چھینک مارتا ہےتو نہایت چھوٹےآلودہ قطرے پھیل کر ارد گرد کی اشیاء پر گر جاتے ہیں۔ آپکا بچہ یا تو ڈائیرکٹ سانس کے ساتھ اندر لے لیتا ہے یا پھر آلودہ اشیاء کو ہاتھ لگا کراپنا ہاتھ ناک، منہ، اور کانون لگاتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں غیرمعمولی اضافہ

    خسرہ کی علامات بخار کے ساتھ شروع ہوتی ھیں اور جو کہ دو دن تک رہتی ہیں۔ اس سے کھانسی ، ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے اور پھر بخار آ لیتا ہے۔ اس سے آنکھ مین انفیکشن ہوتی ہے جسے ‘ پنک آئی’ کہتے ہیں۔ سرخ دانے چہرے اور گردن کےاوپر نمودار ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ دانے بازوں، ہاتھوں، ٹانگوں،اور پیروں تک پھیل جاتے ہیں۔پانچ دن کے بعد جس طرح سرح دانے بڑھے تھے اسی طرح کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں-

    خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم آج سے شروع

  • 12 روزہ حفاظتی ٹیکوں کی مہم جاری

    12 روزہ حفاظتی ٹیکوں کی مہم جاری

    قصور
    خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی مہم جاری ،ٹیمیں گھر گھر جا کر 15 سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے میں مصروف،سکولوں میں بھی بچوں کو ٹیکے لگائے جا رہے ہیں

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح ضلع قصور میں بھی 12 روزہ اینٹی خسرہ و روبیلا مہم جاری ہے جس میں حفاظتی ٹیکے لگانے والی ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگا رہی ہیں
    ٹیمیں سکولوں میں بھی جاکر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگا رہی ہیں ہیں
    15 نومبر سے شروع ہونے والی مہم 27 نومبر تک جاری رہے گی جس میں 9 ماہ سے 15 سال تک کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے
    محکمہ صحت و ضلعی انتظامیہ قصور نے والدین سے استدعا کی ہے کہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لازمی لگوائیں تاکہ بچے خسرہ جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکیں

  • خسراجسم کے دفاعی نظام کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے،ماہرین طب کی تحقیق

    ہالینڈ: خسرا جان لیوابیماری ، یہ ان چند موذی بیماریوں میں سے ایک ہے جس کا علاج پاکستان میں پیدائش سے شروع ہوجاتا ہے، اس بیماری پر اچھی طرح قابو پایا جاچکا تھا تاہم دو تین سال سے یہ پھر دنیا میں نئے جوش کےساتھ پیدا ہورہی ہے، خسرے کے دوبارہ سر اٹھانے پر ماہرین طب نے اس پر تحقیقات شروع کردی ہیں،

    جوبھی کشمیریوں‌کی حمایت کرے،اس کی چھٹی کروا دی جائے، بھارت

    تٍفصیلات کےمطابق ہالینڈ میں کئے گئے دو اہم مطالعات سے معلوم ہوا ہےکہ بچوں میں خسرہ کی بیماری ان پر طویل اثرات مرتب کرتی ہے یہاں تک کہ ان کا فطری امنیاتی نظام کمزور ہوکر دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

    یہ ایک پریشان کن خبر ہے کیونکہ یورپ اور افریقہ میں 2006 کے بعد سے خسرے کے واقعات میں کئ گنا بڑھے ہیں۔ صرف 2017 میں ہی پوری دنیا میں خسرے کے 70 لاکھ مزید کیس سامنے آئے ہیں۔ لیکن 2018میں ان کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے ۔

    جوکشمیریوں‌ کا حامی ہواسے ووٹ نہ دیا جائے برطانیہ میں بھارت نے ڈرامہ شروع کردیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس کی وجہ ویکسین سے بیزاری کی اس حالیہ لہر کو قرار دیا ہے جو ایشیا سے لے کر یورپ تک جاری ہے۔ تاہم غریب ممالک میں ویکسین کی رسائی اور نقل و حمل کے اپنے مسائل بھی موجود ہیں۔

    2015 میں ایک سائنسداں ڈاکٹر مائیکل مینا نے نے ایک سروے کےبعد کہا تھا کہ جو بچے خسرے کے شکار ہوتے ہیں وہ آگے چل کر دیگر کئی امراض کے شکار ہوتے ہیں اوران میں سے نصف تعداد کسی اور بیماری کے انفیکشن کی شکار ہوکر مرجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017 میں ایک لاکھ بچوں کی اموات خسرے یا اس کے بعد کسی اور مرض میں مبتلا ہونے سے واقع ہوئی ہیں۔ لیکن ماہرین کے خیال میں اس کی شرح بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ خسرے بچے کے جسم میں ان خلیات کو ختم کردیتے ہیں جو مختلف امراض کے جراثیم کے ردِ عمل میں ان سے لڑنے کی اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا ۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    پروفیسر مائیکل نے ہالینڈ میں 77 بچوں کو منتخب کیا جنہوں نے خسرے کے خلاف ٹیکے نہیں لگوائے تھے۔ کئی ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ یہ بچے اپنے جسم میں خسرے سے قبل کئی امراض کے خلاف اینٹی باڈیز بنارہے تھے لیکن خسرے میں مبتلا ہونے کے بعد ان میں اینٹی باڈیز کا کوٹہ ختم ہوگیا جس کی شرح 11 سے 74 فیصد تھی یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی دفاعی نظام 74 فیصد کمزور ہوچکا تھا۔

    ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ ان بچوں کو دوبارہ خسرے کی ویکسین دی جائے تاکہ امنیاتی نظام پیدا ہوسکے۔یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم کے ایک اور سائنسداں پروفیسر کولِن رسل نے ایسی ہی کیفیت میں مبتلا 20 بچوں کے ڈی این اے کا جائزہ لیا۔ ان کے جسم میں امنیاتی خلیات بے حس اور بے کار بیٹھے تھے اور کسی بھی بیماری سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔اس اہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خسرہ جیسا مرض بچوں کو کئی امراض کا شکار کرسکتا ہے اسی لیے اس مرض کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔