Baaghi TV

Tag: خشک سالی

  • تہران کے ڈیم میں صرف دو ہفتے کا پانی باقی، خشک سالی سنگین ہو گئی

    تہران کے ڈیم میں صرف دو ہفتے کا پانی باقی، خشک سالی سنگین ہو گئی

    ایران کے دارالحکومت تہران کو پانی فراہم کرنے والا امیر کبیر ڈیم خشک سالی کے باعث خطرناک حد تک خالی ہو چکا ہے۔

    حکام کے مطابق ڈیم میں صرف دو ہفتے کا پانی باقی ہے۔تہران واٹر کمپنی کے ڈائریکٹر بہزاد پارسا نے بتایا کہ ڈیم میں اس وقت صرف 1.4 کروڑ مکعب میٹر پانی موجود ہے، جو اس کی کل گنجائش کا صرف 8 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سطح پر یہ ڈیم زیادہ سے زیادہ دو ہفتے تک پانی فراہم کر سکتا ہے۔گزشتہ سال اسی ڈیم میں 8.6 کروڑ مکعب میٹر پانی تھا، مگر اس سال بارش میں 100 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق تہران کے شہری روزانہ تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث کئی علاقوں میں فراہمی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے خبردار کیا ہے کہ پانی کا بحران اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جتنا اس پر بات کی جا رہی ہے.

    امریکا میں شٹ ڈاؤن، پروازوں میں تاخیر، کنٹرولرز بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور

    تربت کے نواحی علاقے سے 4 نوجوانوں کی لاشیں برآمد

    فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک کرنے والی اسرائیلی فوج کی وکیل لاپتہ

    برطانیہ ، 6 لاکھ افراد بیماریوں کے باعث ملازمت چھوڑنے کا خدشہ

  • ملک میں خشک سالی سے  بیماریوں کا خطرہ

    ملک میں خشک سالی سے بیماریوں کا خطرہ

    اسلام آباد: چیف میٹرولوجسٹ محمد افضال کا کہنا ہے کہ اس سال ہمیں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یکم ستمبر 2024 سے 26 مارچ 2025 تک 42 فیصد کم بار شیں ہوئیں۔

    باغی ٹی وی :محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ محمد افضال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بارشیں معمول سے 63 فیصد کم ہوئیں جبکہ پنجاب اور کے پی میں معمول سے 41 فیصد کم بارشیں ہوئیں ، آگے بھی ہم بارشیں بہت کم دیکھ ر ہے ہیں ہم نے خشک سالی کے حوالے سے ایک الرٹ بھی جاری کیا ہے، فصلوں کے لیے پانی کم ہو گا جو زراعت کو متاثر کرے گا، جنگلی حیات پر بھی منفی اثرات ہوں گے، پانی کی کمی سے بیماریاں بھی متوقع ہیں۔

    محمد افضال نے کہا کہ عید کے دنوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، ملک کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت دو سے تین ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے، آئندہ مہینوں میں بھی ملک بھر میں دن کے وقت درجہ حرارت زیادہ رہنے کا امکان ہےبڑے شہر گرمی کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوں گے، درجہ حرارت کے بڑھنے سے گلیشئرز پگھلیں گے، تربیلا اور منگلا ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی کی شدید قلت ہے۔

    محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست دائر

    شاہ رخ خان کا بچپن میں غربت دیکھنے کا انکشاف

    برطانوی پارلیمنٹ نے ہانیہ عامر کو ایوارڈ سے نواز دیا

  • ملک میں ناکافی بارشوں کے باعث خشک سالی کا اندیشہ

    ملک میں ناکافی بارشوں کے باعث خشک سالی کا اندیشہ

    محکمہ موسمیات نے ملک میں ناکافی بارشوں کے باعث خشک سالی کا امکان ظاہر کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے میدانی علاقوں میں خاطر خواہ بارشیں ریکارڈ نہیں کی گئیں، معمول سے کم بارشوں کے باعث خشک سالی کی صورتحال مزید بڑھ گئی۔دستاویز کے مطابق یکم ستمبر سے 15 جنوری 2024 کے درمیان معمول سے 40 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ سندھ میں 52، بلوچستان میں 45 اور پنجاب میں 42 فیصد معمول سے کم بارشیں ہوئیں جبکہ پوٹھوہار میں ہلکی خشک سالی کی صورتحال دیکھی گئی۔دستاویز کے مطابق بارانی علاقوں سمیت مختلف علاقوں میں ہلکی خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، ناکافی بارشوں کے باعث خشک سالی کا اندیشہ ہے۔دستاویز کے مطابق اٹک، چکوال، راولپنڈی، اسلام آباد، بھکر، لیہ، ملتان میں بھی بارشیں معمول سے کم ہوئیں جبکہ راجن پور، بہاولنگر، بہاولپور، فیصل آباد، سرگودھا میں بھی خشک سالی دیکھی گئی۔

    چین سے21 الیکٹرک بسیں 7 سال بعد لاہور پہنچ گئیں

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ زندہ ہوگیا،عملے کی دوڑیں

    ملک میں عالمی برانڈز کی جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کا انکشاف

    اسرائیل کے آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا

  • وزیراعظم کا ریاض میں خطاب کے دوران آبی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز پر زور

    وزیراعظم کا ریاض میں خطاب کے دوران آبی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز پر زور

    وزیراعظم شہباز شریف نےون واٹر سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر پانی کے تحفظ اور آبی وسائل کے مسائل پر تفصیل سے بات کی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کے بروقت انعقاد پر سعودی عرب، فرانس، قازقستان اور ورلڈ بینک کا شکریہ ادا کیا، اور پانی کے وسائل کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کے لیے پانی کی فراہمی خطرے میں ہے اور دنیا کی نصف آبادی پانی کی کمی کے مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان میں 30 فیصد آبادی خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ ملک کے 70 فیصد علاقے بنجر اور نیم بنجر ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ عالمی سطح پر پانی کے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی کی حد بندیوں سے قوموں کے درمیان روابط اور ایکوسسٹم کی تشکیل ہوتی ہے، اور عالمی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں بڑے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی کے مسائل پر بات چیت کو ترجیح دی ہے اور سندھ طاس معاہدہ اس کی مثال ہے۔پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات انتہائی سنگین ہیں، اور اس وقت پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہیں۔انہوں نے پانی کے ذخائر کے تیزی سے کم ہونے، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا، اور کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے آبی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا اور لاکھوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔وزیراعظم نے اس موقع پر ’ریچارج پاکستان‘ پروگرام کا ذکر کیا، جس کا مقصد آبی نظام کی بحالی اور ماحولیاتی نظام پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ پاکستان کی واٹر پالیسی پانی کے بہتر انتظام، واٹر شیڈ کے نظام کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مرتب کی گئی ہے۔وزیراعظم نے عالمی سطح پر پانی کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سوچ اور قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی سے متعلق تحقیق اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ دریاؤں، جھیلوں اور آبی ذخائر کا تحفظ یقینی بنائے گا، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    وزیراعظم کی فرانسی صدر سے اہم ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

    بلاول بھٹوسے چینی سفیر کی ملاقات ،دوطرفہ تعلقات پر بات چیت

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    مسائل پر خاموش نہیں رہ سکتےحکومت کو معاملات ٹھیک کرنے پڑیں گے،علی خورشیدی

  • کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہو گا؟اس آنیوالی تباہی کے پیچھے محرکات کافی زیادہ ہیں،پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں،ایک اندازے کے مطابق موجودہ آبادی 220 ملین سے زیادہ ہے۔ ایشین لائٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی طلب 191 ملین ایکڑ فٹ کے مقابلے میں 274 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

    دوسری وجہ گنے، کپاس، چاول اور گندم جیسی پانی زیادہ لینے والی فصلوں کی پیداوار ہے۔ وہ موجودہ پانی کی فراہمی کا 95% استعمال کرتے ہیں جبکہ جی ڈی پی میں 5% سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں۔پانی صارفین تک پہنچانے میں ضائع ہو رہا ہے۔ نہروں میں شگاف کے ساتھ پانی کی بچت کا بنیادی نظام بھی پرانا ہے۔ پاکستان اپنی فصلوں کے لیے بارش پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ برسات میں ہونے والی تبدیلیاں، اور درجہ حرارت میں اضافہ، زرعی شعبے کے لیے کافی چیلنجز لا رہا ہے. خاص طور پر شمالی پاکستان، جہاں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ پہلے ہی زیادہ ہے۔

    پانی کی قلت کے بحران کے اثرات 2023 کے وسط میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں جبکہ تقریباً 30 ملین آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے، جس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے بہت سے شہروں میں زمینی پانی کی فراہمی ہی بنیادی ذریعہ ہے۔ "اس میں مختلف پیتھوجینز شامل ہیں جن میں بہت سے وائرل، بیکٹیریل، اور پروٹوزوئن ایجنٹس شامل ہیں، جس سے ہر سال اسہال کی بیماری پھیلتی اور اس سے 2.5 ملین اموات کا باعث بنتے ہیں۔” [ایم. کوسیک، سی. برن، اور آر ایل جیرنٹ، "اسہال کی بیماری کا عالمی بوجھ، جیسا کہ 1992 اور 2000 کے درمیان شائع ہونے والے مطالعات سے اندازہ لگایا گیا ہے” عالمی ادارہ صحت کا بلیٹن، جلد۔ 81، نمبر 3، صفحہ 197-204، 2003۔]

    پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ میونسپل سیوریج اور صنعتی گندے پانی کا مختلف مقامات پر جاری واٹر سپلائی میں شامل ہونا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس میں پانی کی جراثیم کشی، اور پانی کے معیار کی جانچ کے موثر نظام میں بھی ناکامی ہے۔

    اگر ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا تو یہ قابل فہم ہے کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید قلت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے، پاکستان کو پانی کے تحفظ، بنیادی نظام کی ترقی، زراعت، اور پانی کی صفائی میں نمایاں کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات کے لیے حکومت، بین الاقوامی تنظیموں، اور عام شہریوں سے مربوط کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

    پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے پانی کی کمی اور اس کے منفی اثرات کے ممکنہ مستقبل کے منظر نامے کو روکنے کے لیے ان چیلنجوں کو فوری طور پر ترجیح دینا، اور ان سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔ تاہم، اس طرح کے اقدامات کا نفاذ، اور کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے. جن میں سیاسی رجحان، مالی وسائل، تکنیکی ترقی، اور سماجی تعاون بھی شامل ہیں۔.

  • امریکا:خشک سالی کا شکاردریا ئی نالےسے11 کروڑ 30 لاکھ قدیم ڈائنو سار کے قدموں کے نشان دریافت

    امریکا:خشک سالی کا شکاردریا ئی نالےسے11 کروڑ 30 لاکھ قدیم ڈائنو سار کے قدموں کے نشان دریافت

    رواں برس یورپ میں خشک سالی، سخت گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے دریاؤں میں بھی سطح آب میں کمی آنے کے بعد کافی نایاب اور قدیم چیزیں ظاہر ہوئی ہیں نایاب اور قدیم چیزوں کے ظاہر ہونے کا سلسلہ تاحال جاری ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا میں جاری شدید گرمی اور خشک سالی سے ایک دریائی نالہ خشک ہونے سے وہاں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دیکھے گئے ہیں جو لگ بھگ 11 کروڑ 30 لاکھ (113 ملین) سال قدیم ہیں۔

    برطانیہ میں 800 سال قدیم لاکٹ دریافت

    ماہرین کا خیال ہے کہ کروڑوں برس قبل ایک بڑا ڈائنوسار یہاں سے گزرا تھا۔ یہ علاقہ ڈیکساس کی مشہوری ڈائنوسار وادی کا حصہ ہے جو اس سے قبل بھی ایسی ہی دریافتوں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔

    پارک انتظامیہ کے مطابق دریا بالکل خشک ہونے سے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا ایک طویل سلسلہ سامنے آیا ہے جو درحقیقت ’ایکروکینتھوسارس‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس ڈائنوسار کی اونچائی 15 فٹ اور وزن لگ بھگ 7 ٹن تھا۔

    پارک کی ترجمان اسٹیفینی سیلیناس گارشیا کے مطابق شدید گرمی سے ٹیکساس بھر میں مشکلات ہیں لیکن پارک کے علاقے میں گھاس پھوس کا نقصان ہوا ہے اور دریا بھاپ بن کر اڑچکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے مقام پر سوروپوڈ نسل کے ڈائنوسار کے نشانات ملے ہیں جن کی گردن سے دم تک لمبائی 60 فٹ اور وزن 44 ٹن تک تھا۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے


    خشک سالی سے کئی مقامات پر دریا کا فرش واضح ہوچکا ہے، جس کے بعد نقوشِ پا دریافت ہوئے ہیں۔ تاہم توقع ہے کہ یہ نشانات بارشوں کے موسم میں دریا میں پانی بھرنے سے دوبارہ ڈوب جائیں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت دنیا بھر میں قدیم جانوروں کے قدموں کےنشانات موسم زدگی اور ٹوٹ پھوٹ سےمحفوظ رہتے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی ریاست یوٹاہ کی ایئر فورس بیس کے قریب ایک جگہ سے 12 ہزار سال پُرانے انسانی قدموں کے نشانات دریافت ہوئے تھے کورنیل ٹری رِنگ لیبارٹری کے محقق تھامس اربن اور ان کے ساتھی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈیرون ڈیوک نے ان نقوش کی نشاندہی چلتی گاڑی میں کی تھامس اربن نے حال ہی میں نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز نیشنل پارک میں قدیم انسانوں کے قدموں کے نقوش کا مطالعہ کیا ہے۔

    امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جب میں نے چلتی گاڑی سے ان نقوش کی نشاندہی کی تب مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ انسانوں کے پیروں کے نشان ہیں تاہم، مجھے یہ علم تھا کہ یہ پیروں کے نشانات ہیں کیوںکہ یہ یکساں فاصلے پر متبادل ترتیب کے ساتھ تھے۔

    ایئر فورس کے بیان کے مطابق محققین کی ٹیم کے مدد سے اربن نے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار سے پرنٹ ریکارڈ کرنے کے لیے تکنیک کا تعین کیا جس کے بعد مشاہدہ کیے گئے نشانات سے زیادہ نشانات سامنے آئے۔

    بیان میں تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جس طرح وائٹ سینڈز میں نمی کی موجودگی میں نشانات دِکھتے تھے، یہاں بھی ہم نے ریڈار کی مدد سے کئی ناقابلِ دید نقوش کی نشاندہی کی سب ملا کر ٹیم نے بچوں سے لے کر بڑوں تک 88 نقوشِ پا دریافت کیے سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق قدموں کے یہ نشانات 12 ہزار سال پرانے ہیں۔

    اٹلی : خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد

  • چین: خشک سالی کے شکار دریا سے 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد

    چین: خشک سالی کے شکار دریا سے 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد

    چین میں خشک سالی کے باعث دریائے یانگزی میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث 6 سو سال پرانے مجمسے برآمد ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین میں جنوب مغربی شہر چونگ چنگ کے قریب خشک سالی کے شکار دریائے یانگزی میں ظاہر ہونے والے ایک جزیرے پر موجود ایک بڑے پتھرپر بنےتین مجسمے برآمد ہوئے ہیں-

    سخت گرمی: جاپانی عوام پالتو جانوروں کو پنکھوں والے لباس پہنانے لگے

    رپورٹ کے مطابق ان تین مجسموں میں مرکزمیں گوتم بدھ کا مجسمہ جبکہ دونوں اطراف میں موجود مجسمے بدھ بھکشو خیال کیے جاتے ہیں۔

    یہ تینوں مجسمے فوئیلیانگ نامی جزیرے کی چٹان کے سب سے اونچے حصے پر پائے گئےماہرین کا خیال ہے کہ یانگزی سے دریافت ہونے والے یہ مجسمے 600 سال قبل منگ اور چنگ خاندانوں کے دور حکمرانی کے دوران بنائے گئے ہوں گے۔

    سرکاری پیشین گوئیوں کے مطابق، یانگزیطاس میں جولائی سے اب تک معمول سے تقریباً 45 فیصد کم بارش ہوئی ہے، اور زیادہ درجہ حرارت کم از کم ایک اور ہفتے تک برقرار رہنے کا امکان ہے چونگ کنگ میں 34 کاؤنٹیوں کے 66 دریا سوکھ گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ رواں برس یورپ میں بھی خشک سالی، سخت گرمی اور بارشوں کی کمی کے باعث یورپ کے دریاؤں میں بھی سطح آب میں کمی آنے کے بعد کافی نایاب اور قدیم چیزیں ظاہر ہوئی ہیں۔

    اسپین میں ماہرین آثارقدیمہ نے ایک قبل ازتاریخ دورکا پھترسے بنا ہوا سرکل دریافت کیا تھا جسے "Spanish Stonehenge” کا نام دیا گیا جبکہ یورپ کےدریائےڈینیوب میں خشک سالی کےبعد مختلف مقامات سے دوسری جنگ عظیم کے دوران تباہ ہونے والے جرمنی کے 20 بحری جنگی جہاز بھی دریافت ہوئے ہیں۔

    اٹلی : خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد

    جبکہ حال ہی میں اٹلی میں قحط سالی سے خشک ہونے والے دریا سے دوسری جنگ عظیم کا بم برآمد ہوا تھا بی بی سی کے مطابق 450 کلوگرام (1,000lb) کا یہ بم 26 جولائی کو اٹلی کے شمال میں ایک گاؤں بورگو ورگیلو کے قریب ماہی گیروں کو دریائے پو کے کنارے سے ملا تھا اٹلی کی 70 سال کی بدترین خشک سالی میں 650 کلومیٹر (400 میل) دریا کے بڑے حصے سوکھ گئے ہیں۔

    فوج کے اہلکار کرنل مارکو ناسی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ یہ بم ماہی گیروں کو پو دریا کے کنارے سے ملا تھا کیا کیونکہ قحط سالی کے باعث دریا میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی آئی ہے فوجی ماہرین نے اس بم کو وہاں سے منتقل کرکے ایک جگہ کنٹرول دھماکا کیا –

    اس بم کو ڈی فیوز کرکے کنٹرول دھماکا کرنا آسان کام نہیں تھا بم کو دوسری جگہ پہنچانے سے قبل وہاں اردگرد کی آبادیوں سے 3 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، فضائی حدود کو بند کردیا گیا جبکہ ریلوے لائن اور شاہراؤں کو بھی بند کیا گیا۔

  • دنیا خشک سالی کا شکارہوگئی: اٹلی میں پانی کا سنگین بحران

    دنیا خشک سالی کا شکارہوگئی: اٹلی میں پانی کا سنگین بحران

    اٹلی :دنیا کوخشک سالی کا سامنا ہے یہ خشک سالی ان ملکوں میں بھی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جہاں کبھی پانی کے کم ہونے کا تصور بھی نہیں تھا ، دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں کہیں بارشیں بہت زیادہ یا کم اور موسم میں نمایاں فرق آیا ہے جس کے سبب کچھ علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے تو دوسری جانب خشک سالی کا مسئلہ درپیش ہے۔

    عالمی اداروں نے خبردارکیا ہے کہ دنیا بھرمیں موسمیاتی تبدیلیوں نے گہرے اثرات چھوڑے ہیں‌، ادھر اس حوالے سے غیرمعمولی طور پر گرم موسم، موسمیاتی تبدیلیوں نے اٹلی کے شمالی حصے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جہاں 70سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    شمالی اٹلی میں انتہائی کم بارشوں کے سبب 5 علاقے بری طرح خشک سالی کا شکار ہوگئے، حکومت کی جانب سے آرائشی فواروں کو بند، گاڑیاں دھونے اور پودوں کو غیرضروری پانی نہ دینے کی ہدایات کی گئی ہے۔

    اٹلی کے شمال میں واقع امیلیا، روماگرا، فریوللی ونیزیا، لومبرڈی، پیڈمونٹ، وینٹو ودیگر علاقوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، خشک سالی سے نمٹنے کے لئے حکومت کی جانب سے 36 ملین یورو کے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی ملک اٹلی کو ستر برس میں سب سے زیادہ موجودہ وقت میں قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس خشک سالی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اٹلی کی30 فیصد سے زائد زرعی پیداوار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ کچھ روزقبل شدید موسمی تبدیلیوں کے باعث اٹلی کے انتہائی شمال میں ایلپس پہاڑی سلسلے میں گلیشیئر ٹوٹ گیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

  • صحرا بندی اورخشک سالی سےنمٹنےکاعالمی دن:17جون کوپاکستان سمیت دنیابھرمیں منایاجائےگا

    صحرا بندی اورخشک سالی سےنمٹنےکاعالمی دن:17جون کوپاکستان سمیت دنیابھرمیں منایاجائےگا

    لاہور:صحراوں اورخشک سالیوں میں اضافے پرقابوپانے کے حوالے سے عالمی برادری کی کوششوں کوایک دن کے طورپرمتعارف کروانے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہرسال کی طرح اس سال بھی صحرا بندی اور خشک سالی سے نمٹنے کا عالمی دن 17 جون (جمعہ) کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائے گا تاکہ صحرا بندی کے عمل کو روکا جا سکے اور بین الاقوامی ماحولیاتی ایجنڈے پر خشک زمین کے مسئلے کی نمائش کو مضبوط کیا جا سکے۔

    مختلف ممالک جیسے کہ آسٹریلیا، الجزائر، کینیڈا، چین، گھانا اور امریکہ میں افراد اور تنظیموں نے حالیہ برسوں میں اس دن میں شرکت کی ہے۔ بہت سے واقعات صحرائی اور خشک سالی سے متعلق مسائل سے نمٹنے میں مدد کے لیے تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

    فعال سرگرمیوں میں تعلیمی اداروں اور عام لوگوں میں بیداری پیدا کرنے والے مواد کی تقسیم، جیسے کیلنڈر، فیکٹ شیٹ، پوسٹر اور پوسٹ کارڈ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس دن میں تعلیمی کیس اسٹڈیز، فورمز یا خشک سالی اور صحرا بندی، معاشرے پر اس کے اثرات اور اس مسئلے کو کم کرنے کے طریقے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

    تاہم، صحرائی اور خشک سالی کے خلاف لڑنے کی کوشش صرف اس دن نہیں ہوتی۔ بہت سے ممالک اس مسئلے کو فعال طور پر حل کرنے اور حل تلاش کرنے کے لیے ایک مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ریاستوں کو عالمی دن منانے کے لیے اس بات پرقائل کیا گیا تھا تاکہ صحرا بندی اور خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کے بارے میں بیداری کو فروغ دیا جا سکے، اور صحرا بندی سے نمٹنے کے کنونشن کے نفاذ کے لیے کوششوں کو عملی جامعہ پہنایا جاسکے۔

    یہ وجہ ہے اس دن سے اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کامبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن (UNCCD) کی ملکی پارٹیاں، غیر سرکاری تنظیمیں اور دیگر دلچسپی رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز ہر سال 17 جون کو دنیا بھر میں اس مخصوص دن کو آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے ساتھ مناتے ہیں۔

  • بھارتی شہر بدترین خشک سالی کا شکار

    بھارتی شہر بدترین خشک سالی کا شکار

    چنئی: بھارت کے جنوبی شہر چنئی کے لاکھوں رہائشی گھروں پانی کی قلت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، ٹرک اور ٹرینیں عوام تک پانی تو پہنچاتے ہیں لیکن پانی کی مقدار محدود جبکہ قیمت مہنگی ہے
    تفصیلات کے مطابق بھارت کی ایک ائرو سپیس کمپنی نے سیٹلائٹ فوٹیج جاری کی ہے جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ چنائی شہر کا سارا رقبہ سبزے سے خالی اور خشکسالی سے بھرپور ہے اور اس کی وجہ پانی کے زخیروں کا کم یا حتم ہونا ہے