Baaghi TV

Tag: خصوصی کمیٹی

  • پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کرلیا

    پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کرلیا

    آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا

    اجلاس کی صدارت پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کی،ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، ق لیگ کے نمائندے اجلاس میں شریک ہیں،تحریکِ انصاف، جے یو آئی، مجلس وحدت مسلمین کے نمائندے ابھی تک اجلاس میں نہیں پہنچے،سینیٹر عرفان صدیقی راجہ پرویز اشرف اور شیری رحمان اجلاس میں شریک ہیں،وفاقی وزیر رانا تنویر، سید امین الحق ، سینیٹر انوشہ رحمان بھی اجلاس موجود ہیں،چوہدری سالک حسین ، اعجاز الحق خالد حسین مگسی اور شاہدہ اختر علی بھی اجلاس میں شریک ہیں

    پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ متفقہ طور پر منظور کر لیا، آئین پاکستان کی 26 شقوں میں تبدیلی کی جائے گی،اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مسودے کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے،کامیابی کے بعد 3ماہ میں اورسیز پاکستانیوں کو دوسرے ملک کی شہریت چھوڑنا ہو گی ،خصوصی کمیٹی کی جانب سے منظور کیے گئے مسودے کی منظوری کابینہ دے گی،سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق مجھے علم نہیں،

    جب تک قومی اسمبلی و سینیٹ میں مسودہ پیش نہیں ہوتا کوئی مسودہ حتمی نہیں ہوگا ،فاروق ستار
    ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نےخصوصی کمیٹی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تمام جماعتوں نے مسودے پر اتفاق کیا، آج جو ڈرافٹ فائنل ہوا یہی حتمی ہے،سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کا حق دیا جائے یہ ہماری تجویز ہے، اس تجویز پر بیشتر ارکان نے اتفاق کیا ،تقریباً مسودہ پر اتفاق رائے ہوگیا ہے،کل کا جو ڈرافٹ ہے وہ قابل قبول ہے، تحریک انصاف نکات پر مخالفت نہیں کرہی ہے،تحریک انصاف سیاسی بنیادوں پر اپنی پالیسی کے مطابق مخالفت کررہی ہے، جب تک قومی اسمبلی و سینیٹ میں مسودہ پیش نہیں ہوتا کوئی مسودہ حتمی نہیں ہوگا ،لیکن یہ مسودہ قبل از پیشگی انتہائی فائنل مسودہ ہے، فاروق ستار

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے پارلیمانی خصوصی کمیٹی اجلاس سے قبل میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسی ترمیم کی مہم کے لیے بی بی پاکستان آئی تھیں،بلاول بھٹو جو بھی فیصلے کریں گے وہ حتمی ہوں گے، انشاء اللّٰہ آئینی ترمیم ہو جائے گی، جلد بازی اچھی نہیں ہوتی، ہر کام آرام سے ہی کرنا چاہیے،یہ وہ ترمیم ہے جس کے لیے آج کے دن ہمارے 177 ورکرز شہید ہوئے تھے، ہم اس قربانی کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے،ہم نے کل بھی کھل کر پارلیمنٹ میں حالیہ واقعات کی مذمت کی، آج بھی پوری پارلیمانی پارٹی نے اغواء اور گرفتاریوں کی مذمت کی، ہمیں اور پارلیمنٹ کو اپنے فیصلے کھل کر کرنے کی بھرپور اجازت ہونی چاہیے، امید ہے آج پی ٹی آئی والے اپنا مسودہ ہمیں دے دیں گے۔

    مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی سربراہی ایک سید زادہ کر رہا ہے۔انکے تجربے اور سیاسی بصیرت پر اعتماد ہے،سادات کا تصوف دور تک جاتا ہے،خصوصی کمیٹی کی آج دسویں میٹنگ ہے، شاہ صاحب پھونک ماریں گے اور معاملات ٹھیک ہو جائیں گے،صحافی نے عرفان صدیقی سے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے رات جو پھونک ماری ہے اس کا کوئی اثر ہوا ، جس پر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ مولانا صاحب سے پوچھیں، میں اس میٹنگ میں نہیں تھا

    وزیراعظم ،بلاول کی مولانا کے در پر حاضری،مولانا نے کھری کھری سنا دیں

    نمبر گیم پوری،پی ٹی آئی اراکین اغوا،کیا عمران خان رہا ہوں گے؟

    قومی اسمبلی اجلاس، ایوان میں بلاول کی عمر ایوب، بیرسٹر گوہر سے ملاقات

    آئینی ترمیم کیلئے سینیٹرز کو ہراساں،معاملہ سینیٹ پہنچ گیا،خاتون رکن رو پڑی

    پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر،قومی اسمبلی میں سوال،عطا تارڑ کا جواب

    آئینی ترمیم میں ہزارہ صوبہ شامل کیا جائے،خیبر پختونخوا کا نیا نام قبول نہیں،سردار یوسف

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    نواز شریف سے بھارتی صحافیوں کے وفد کی ملاقات

    آئینی ترمیم ،حکومت تیار،کل سینیٹ میں پیش کی جائے گی

  • آئینی ترامیم،خصوصی کمیٹی اجلاس،پی ٹی آئی نے مسودہ پیش نہ کیا

    آئینی ترامیم،خصوصی کمیٹی اجلاس،پی ٹی آئی نے مسودہ پیش نہ کیا

    آئینی ترامیم،پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا

    اجلاس میں آئینی ترامیم پر 6 جماعتوں کے مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے،پارلیمانی خصوصی کمیٹی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، شیری رحمان اور اے این پی کے ایمل ولی شریک ہیں،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب بھی اجلاس میں موجود ہیں، خصوصی کمیٹی اجلاس میں پی ٹی آئی نے ابھی تک اپنا مسودہ پیش نہیں کیا، حکومتی، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، اے این پی، ایم کیو ایم کا مسودہ پیش کیاجا چکا ہے

    خصوصی کمیٹی اجلاس کے بعد عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں،صرف ایک پھونک مارنے کی دیر ہےجوکمیٹی نے مارنی ہے،آج کمیٹی میں ساری جماعتوں کی نمائندگی تھی،مسودے کے لیے انتظار کریں، عنقریب معاملات حل ہوں گے،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے آج مسودہ پیش نہیں کیا،پی پی اور جے یو آئی کا ڈرافٹ مکمل ہوچکا ہے،ایک دو دن کی بات ہے خود دیکھ لیجئیے گا،،آئینی مسودے کی تیاری کے لیے بہت محنت ہوئی ہے،

    خصوصی پارلیمانی کمیٹی اجلاس،آئینی عدالت پرن لیگ، پیپلز پارٹی کا یوٹرن،آئینی بینچ کی تشکیل پر اتفاق
    خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس 26ویں آئینی ترمیم پر بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آئینی عدالتوں کے قیام سے پیچھے ہٹ گئیں،حکومتی اتحادی جماعتیں اور جے یو آئی میں آئینی بنچ کی تشکیل پر اتفاق ہوگیا ہے.آئینی عدالت کے معاملے پر 26ویں آئینی ترمیم کو ڈراپ کردیا گیا ۔حکومت اور جے یو آئی کے مشترکہ مسودہ پر پی ٹی آئی سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے،مولانا فضل الرحمان حتمی مسودہ پی ٹی آئی قیادت کیساتھ شیئر کرینگے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی سے روانہ ہو گئے، کہا جو بات مولانا فضل الرحمان اور بلاول نے رات کی ہے.وہ آپ کے سامنے ہے آج بہت اچھی خبریں آ ئیں گی.پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ختم اجلاس کل دوبارہ جمعہ نماز کے بعد ہو گا.

    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کمیٹی اجلاس سے روانہ ہو گئے ، عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں نے کمیٹی کے سامنے آج حقائق رکھے ہیں ،زین قریشی کی اہلیہ کو اغواء کیا گیا تھا، داؤد شاہ اور کئی ایم این ایز اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی اغواء کر رکھا ہے، میرے گھر بھی ریڈ ہوا ہے، ان کو بتایا یہ جے یو آئی کے ممبران کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں،اعظم نذیر تارڑ سے پوچھا ہے کیا یہ حکومت ہے اور جمہوریت ہے، اے این پی نے خیبر پختون خوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم پیش کی جو بالکل نہیں ہونی چاہیے، پی ٹی آئی کی ٹیم اندر بیٹھی ہوئی ہے وہ مسودے پر بات کر رہی ہے،ے یو آئی نے اب تک حکومتی مسودے پر آمادگی ظاہر نہیں کی وہ ہمارے ساتھ ہیں.

    عمران سے ملاقات نہیں ہو گی تو مسودہ شیئر نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر
    پارلیمانی خصوصی کمیٹی اجلاس سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں نہیں دیکھا کہ حکومت اس طریقے سے اپوزیشن کے اراکین کو اغوا کر کے قانون سازی کرے،اگر یہی طریقہ کار رکھنا ہے تو یہ ترامیم انکو مبارک ہو،ہم خصوصی کمیٹی میں اپنا ڈرافٹ اس وقت شئیر کریں گے جب ہماری عمران خان سے ملاقات ہوگی،ہماری آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہو گی، عدلیہ پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ کو محکوم نہ بنائیں، عدلیہ کو آزاد رکھیں،

    عمر ایوب نے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بات کرنا قبل از وقت ہے، مولانا فضل الرحمٰن آئیں گے تو بات ہو گی، اس وقت پی ٹی آئی والوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ہمارے لوگوں کو نقد رقم کی آفر ہو رہی ہیں۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج اچھی اور مثبت خبروں کا دن ہے، توقع ہے کہ آج یہ کام ہو جائے گا۔

    سینیٹر شیری رحمان نے خصوصی کمیٹی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی کمیٹی روز کام کر رہی ہے،پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ جمیعت علمائے اسلام ف کے مسودے کے ساتھ ہم آہنگی ہو ،سوائے پی ٹی آئی کے سب نے مسودے جمع کروائے ہیں،

    آئینی ترامیم، خصوصی کمیٹی اجلاس،عمر ایوب کی حکومتی اراکین سے تلخ کلامی

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    آئینی ترامیم، حکومتی مسودہ سامنے آ گیا، خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج پھر

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • آئینی ترامیم، خصوصی کمیٹی اجلاس،عمر ایوب کی حکومتی اراکین سے تلخ کلامی

    آئینی ترامیم، خصوصی کمیٹی اجلاس،عمر ایوب کی حکومتی اراکین سے تلخ کلامی

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کی زیر صدارت 26 ویں آئینی ترامیم کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے

    خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی طرف سے بیرسٹر گوہر، علی ظفر، عمر ایوب شریک ہیں ، اسد قیصر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں، اجلاس میں فاروق ستار، امین الحق، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان، اعجاز الحق، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور عرفان صدیقی سمیت دیگر سیاسی شخصیات شریک ہیں، آج کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان اور بلاول زرداری شریک نہیں ہوئے.

    خصوصی کمیٹی اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بعض معاملات پر شدید اختلاف سامنے آئے ہیں،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی حکومتی ارکان کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی ہے،عمر ایوب نے اپنے اراکین کی گرفتاریوں کا معاملہ اٹھایا جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ اجلاس آئینی ترمیم کےلیے ہے گرفتاری کی بات بعد میں کرلیں ۔پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے ارکان نے تحریک انصاف کے 15 اکتوبر کو احتجاج کے اعلان پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ کیسے ہوسکتا ہے ایک طرف ترمیم کے لیے اتفاق رائے پیداکریں اور دوسری طرف انتشاری سیاست،جس پر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ احتجاج کرناہمارا آئینی حق ہے، حکومت نے فسطائیت کی انتہاکردی ہے اور ہمارے کارکنوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے، پی ٹی آئی کسی منفی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔

    آئینی ترامیم، خصوصی کمیٹی نے اتفاق رائے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی
    خورشید شاہ کی زیرصدارت مجوزہ آئینی ترامیم کے معاملے پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے،خصوصی کمیٹی نے اتفاق رائے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی، ذیلی کمیٹی کا اجلاس کسی بھی وقت طلب کیا جا سکے گا، ذیلی کمیٹی میں دعوت کے ذریعے کوئی بھی رکن شامل ہو سکے گا،

    پیپلز پارٹی قومی سلامتی پالیسی پر بھی اتفاق رائے پیدا کرتی ہے،شیری رحمان
    پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہے، قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی آئینی عدالت کو ترجیح سمجھا،یہ آئینی ترمیم عدالت پر حملہ ہر گز نہیں ہے،
    ججز کی تعیناتی پر مختلف ممالک میں مختلف طریقہ کار ہیں، کہیں ایسا نہیں کہ سنیارٹی کی بنیاد پر ججز تعینات ہوں، سنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیوں سے ڈیم فنڈز ہی بنے ہیں، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے آئینی ترمیمی ڈرافٹ جمع کرایا ہے، اتفاق رائے پیدا کرنا پاکستان پیپلز پارٹی کی خصوصیت ہے، پیپلز پارٹی قومی سلامتی پالیسی پر بھی اتفاق رائے پیدا کرتی ہے،سیاست میں باہمی مفادات کی بنیاد پر بات ہوتی ہے، کوئی چیز پرفیکٹ نہیں ہوتی، آئینی ترمیم بھی پرفیکٹ نہیں ہو گی، آئینی ترمیم میں شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے

    آئینی ترامیم، حکومتی ڈرافٹ مل گیا، عمران خان سے مشاورت کریں گے، بیرسٹر گوہر
    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جے یو آئی اور حکومتی ڈرافٹ کی کاپی مل گئی ہے، ڈرافٹ پر غور کریں گے ،اگلا اجلاس 17اکتوبر کو بلانے کا کہاہے،بانی پی ٹی آئی سے بھی اس ضمن میں مشاورت کریں گے، ہم کمیٹی اجلاس میں کوئی مسودہ نہیں لے کر آئے

    آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے پہلے یا بعد میں ہو سکتی ہے،وزیر قانون
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ،200 آئینی کیسز تو ہیں، اور بہت سارے مقدمات ہیں، آئینی مقدمات بھی ہیں دیانتداری سے یہ بتا دیں، پانامہ سے شروع کر دیں، بھٹو کی پھانسی کو بھول جائیں، بشیر بوٹے اور گامے کو زیادہ وقت ملا ہے سپریم کورٹ میں یا سیاسی مقدمات کو،آج کمیٹی میں ڈرافٹ پر بات ہوئی، تین دن کا وقفہ ہے، لیگل کام کرنے والے لوگ منگل کو اب ملیں گے اور بیٹھ کر چیزوں کو فائنل کریں گے،آئینی ترمیم 25 اکتوبر سے پہلے یا بعد میں ہو سکتی ہے، دو مہینے بعد یا دو دن بعد بھی ہوسکتی ہے، ہماری تیاریاں ہیں، ایک ماہ سے کام کر رہے ہیں،میں نے وکلا کی تقریب میں ساڑھے تین گھنٹے تک سوالوں کے جواب دیئے تھے، جو بنیادی چیزیں ہیں وہ آئینی عدالت کا قیام، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو ہیں، چار پانچ آئٹم ہیں جن پر بات ہو رہی ہے، آئندہ تین چار دنوں‌میں ہم رابطے میں رہیں گے، چیف جسٹس پاکستان کا نوٹفکیشن کسی بھی وقت ہو جائے گا، وزارت قانون میں 24 اکتوبر کی تاریخ ہے، پچھلی بار جلدی نوٹفکیشن ہو گیا تھا، اس وقت یہ کہا رہا تھا کہ اسمبلیاں تحلیل کر کے الیکشن کی طرف جایا جائے، اسلیے جلدی ہو گیا تھا،الیکشن کی تاریخ طے ہو گئی تھی لیکن پھر عمران خان نہ مانے، ان دنوں نوٹفکیشن ہوا تھا، نوٹفکیشن ریٹائرمنٹ سے دو دن پہلے ہوتا ہے، آرمی چیف کی تقرری کا نوٹفکیشن دو دن پہلے ہوا تھا، ہم نے بارہا کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن بننے سے پہلے سب تقرری گورنر جنرل، کسی زمانے میں صدر، کسی زمانے میں مارشل لا ایڈمنسریٹر بھی کرتے رہے ہیں، امریکہ، انگلینڈ میں ججز کی تعیناتی کون کرتا ہے؟ انکے انٹرویو ہوتے ہیں، بھارت میں کئی جگہوں پر پارلیمنٹ میں ووٹ بھی ہوتا ہے، ہمیں بار نے یہ تجویز دی کہ چیف جسٹس کی تقرری کے لئے پارلیمنٹری کمیٹی ہو،

    اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی کا حق ہے وہ کس سے بات کرنا چاہتے ہیں، جے یو آئی نے ہمیں تو آئینی ترمیمی مسودہ پر تحفظات کا ابھی تک نہیں کہا، جب وہ کہیں گے تو دیکھیں گے۔

    پی ٹی آئی حکومت میں ہوتی تو وہ بھی اسی قسم کی آئینی ترمیم لاتی، فاروق ستار
    اجلاس سے قبل ایم کیو ایم کے رکن فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کسی اصول پر نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی بنیاد پر ہو رہی ہے، ایم کیو ایم نے اب تک آئینی ترمیم کا مسودہ ہی نہیں دیکھا ہے،ہ جو آئینی اصلاحات لائی جا رہی ہیں وہ سیاسی ضرورتوں کو دیکھ کر لائی جا رہی ہیں، اگر پی ٹی آئی حکومت میں ہوتی تو وہ بھی اسی قسم کی آئینی ترمیم لاتی، پی ٹی آئی بھی اصولی طور پر آئینی عدالت اور ججوں کی تقرری میں پارلیمان کا کردار بڑھانے پر متفق ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اجلاس میں پیپلز پارٹی نے اپنا مسودہ پیش کیا جس میں وفاق اور صوبوں میں آئینی عدالتوں کے قیام اور ججز کے تقرر کے لیے آئینی کمیشن بنانے کی تجویزدی دی گئی جب کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی بار کونسلوں کی تجاویز کمیٹی میں پیش کی تھیں،اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان، بیرسٹر گوہر ،بلاول نے میڈیا سے بھی الگ الگ بات چیت کی تھی

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    آئینی ترامیم، اپوزیشن بھی تجویز دے،اللہ بہتر کرے گا،وفاقی وزیر قانون

    آئینی ترامیم، حکومتی مسودہ سامنے آ گیا، خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج پھر

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی سفارشات کے تحت سرکاری ملازمین کی بحالی اور مستقل کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں بحال اور مستقل ہونے والے سرکاری ملازمین کو بڑا دھچکہ لگ گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام وزارتوں اور محکموں کو خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ای او بی آئی ، سی ڈی اے، اوور سیز پاکستان فاؤنڈیشن خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کریں، پاکستان اسٹیل ملز، ایف آئی اے بھی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کریں ، اگر کمیٹی کی ملازمین کی بحالی کی سفارشات پر عمل ہوا ہے تو محکمے ان احکامات کو ختم کریں ،

    خصوصی کمیٹی کی سفارشات کیخلاف درخواستوں گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کر لی گئی،کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے افسران کیخلاف تادیبی کاروائی غیر قانونی قراردے دی گئی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت اسپیشل کمیٹی اپنے مقرر کردہ اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتی، وفاقی حکومت نے بھی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کو سپورٹ نہیں کیا، اسپیشل کمیٹی کی سفارشات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،کمیٹی کا پارلیمنٹ کو سفارشات بھیجنے کا مینڈیٹ تھا ، کمیٹی نے براہ راست اداروں کو ہدایات بھیجنا شروع کردی تھیں ،کمیٹی نے ای او بی آئی کو عدالتی فیصلے سے برطرف ہونے والے 358 ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا ،ان تمام اقدامات سے تاثر دیا گیا کہ کمیٹی قانون سے بالا تر اور آئینی مینڈیٹ سے باہر ہے، خصوصی کمیٹی کے کام سے تاثر تھا کہ وہ اداروں میں اختیارت کی تقسیم کی اسکیم کیخلاف کام کررہی ہے، ایف آئی اے افسران کو کریمنل پروسیڈنگ کے لیے شوکاز نوٹس جاری کئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، عدالت کو بتایا گیا کہ رولز میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ کمیٹی حکومتی اداروں کو بلا کر احکامات جاری کرے،

    پاکستان اسٹیل ملز ، ای او بی آئی و دیگر نے خصوصی کمیٹی کی ملازمین کے حوالے سے سفارشات کو چیلنج کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا ،خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایت کی تھی ،کمیٹی نے چیئرمین ای او بی آئی ، وزارتِ تعلیمات و دیگر کیخلاف سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے پر کارروائی کی ہدایت کی تھی ،قادر خان مندوخیل خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی کمیٹی کے چیئرمین تھے