Baaghi TV

Tag: خط

  • اپوزیشن لیڈر کی تقرری :اسپیکر قومی اسمبلی  نے چیف وہپ  کو چوتھا خط ارسال کردیا

    اپوزیشن لیڈر کی تقرری :اسپیکر قومی اسمبلی نے چیف وہپ کو چوتھا خط ارسال کردیا

    اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کیلئے چیف وہپ عامر ڈوگر کو چوتھا خط ارسال کردیا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے میں متحرک ہو گئے۔ چیف وہپ عامر ڈوگر کو چوتھا خط ارسال کردیاخط میں سابق قائدِ حزبِ اختلاف سے متعلق عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ اس نوعیت کا خط ارسال کیا گیا، اس سے قبل 19 نومبر، 5 دسمبر اور 19 دسمبر 2025 کو بھی خطوط بھجوائے جا چکے ہیں زیرِ سماعت مقدمات کی موجودہ صورتحال سے آگاہی قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ بعض مقدمات میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ خود بھی فریق ہے،مطلوبہ معلومات موصول ہونے کے بعد ہی قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے عمل کو آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔

    بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کرنیوالوں کی فہرست جاری

    وزیر ریلوے کا نابینا قلی اکبر علی جمالی کی وائرل ویڈیو پر نوٹس

    بنگلہ دیش میں کشمیر کی حمایت میں نعرے، آزادیٔ کشمیر کے حق میں مظاہرہ

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

  • 46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا ایک اور یوٹرن: "امریکی مداخلت نامنظور” سے "امریکی عدم مداخلت نامنظور” تک کا حیرت انگیز سفر ،طے کر لیا

    امریکی کانگریس کے 46 اراکین نےعمران خان کی حمایت میں ایک اور خط لکھ دیا،عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا، اس سے قبل 60 اراکین جو بائیڈن انتظامیہ کو خط لکھ چکے ہیں جن میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن اراکین دونوں شامل ہیں۔تحریک انصاف کے چند امریکی حمایتیوں نے ایک بار پھر قومی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ حال ہی میں 46 امریکی کانگریس اراکین نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے، جو مختلف سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ خط میں تحریک انصاف کے لیے امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی گئی ہے، لیکن پاکستان کے اصل مسائل، جیسے کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم، دہشت گردی، یا معاشی مدد کی ضرورت کا کوئی ذکر نہیں۔اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ حمایتی واقعی بااثر ہیں یا کہانی کچھ اور ہے؟

    خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات، خاص طور پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زور دیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تحریک انصاف نے "غلامی نامنظور” کے نعرے کے ساتھ امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کی تھی۔خط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور سفیر کے کردار پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، اور ان کے رویے میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    ماضی میں عمران خان اور تحریک انصاف نے امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں کے خلاف سخت بیانیہ اپنایا تھا۔ لیکن اب یہی جماعت امریکی مداخلت کی کھل کر درخواست کر رہی ہے، جس سے ان کے بیانیے کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنی تھی، تو کشمیری عوام کے حق میں کبھی کوئی خط کیوں نہیں لکھوایا گیا؟کیا تحریک انصاف کے حمایتی صرف اپنی جماعت کے مفاد میں امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہتے ہیں؟کیا تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی واضح مثال نہیں؟

    تحریک انصاف کے حمایتیوں کی یہ پالیسی ان کے اپنے بیانیے سے متصادم ہے۔ "غلامی نامنظور” اور "امریکی مداخلت نامنظور” کے نعروں سے شروع ہونے والا سفر اب "امریکی عدم مداخلت نامنظور” کے مطالبے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف تحریک انصاف کی پالیسیوں کی غیر مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کی سیاسی حکمت عملی پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر آمنہ امان کہتی ہیں کہ امریکی کانگریس کے 46 اراکین کا صدر بائیڈن کو عمران خان کی رہائی کے لیے خط لکھنا غیر ملکی مداخلت کی دعوت دینا ہے۔ اس کے پیچھے صیہونی اور بھارتی لابی کی مشترکہ کوشش واضح طور پر جھلکتی ہے۔ ان میں سے اکثر اراکین جیسا کے بریڈشرمن اسرائیلی لابی اے آئی پی اے سی اور ہاؤس انڈیا کاکس کے ساتھ وابستہ ہیں، جو امریکہ کے اندر مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ عناصر پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ذریعے ایک ایسے رہنما کو اقتدار میں واپس لانے کے خواہاں ہیں جو ان کے مفادات کو پورا کر سکے۔ ان کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لابیز پاکستانی خودمختاری کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی اور جغرافیائی عزائم کو تقویت دینا چاہتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔ہاؤس انڈیا کاکس کا چیئرمین روکھنہ عمران خان کا قریبی دوست ہے جو اس کی رہائی کے لیے کافی سرگرم ہے

    https://twitter.com/Amna__Aman/status/1857760712531062893

    امریکی کانگریس اراکین کا عمران کی رہائی بارے خط،پاکستانی اراکین پارلیمنٹ بھی متحرک

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    جمائما گولڈ اسمتھ کا عمران خان کے بارے بیان،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے ، اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ہے،ارکان کانگریس سےبائیڈن کو خط کس نے لکھوایا اور کیا مقصد ہے سب جانتےہیں ، کیاامریکی ارکان کانگریس نےفلسطین اورکشمیرکی صورتحال پرکبھی خط لکھا؟ امریکا میں لابسٹ کو ہائر کیاگیاہےتاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئےدباؤڈالاجائے، پاکستان میں پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے کروڑوں امریکا میں لابسٹ پرخرچ ہورہےہیں، عالمی لابسٹ کو ہائرکیا جارہا ہےتاکہ پاکستان کے اندرونی معاملےمیں مداخلت کریں،پی ٹی آئی کاایک ہی ایجنڈاہےکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر بانی کو رہا کرائیں، عدم اعتماد کےوقت پی ٹی آئی کہتی تھی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم غلام نہیں ، پی ٹی آئی نے امریکا پرہی اپنی حکومت گرانے کی سازش کاالزام لگایا تھا اور آج پی ٹی آئی لابسٹ کےذریعے اُس ہی امریکی حکومت کوخط لکھوا رہی ہے، امریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے، گولڈ اسمتھ فیملی اسرائیل کی لابسٹ ہے،بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اثاثہ ہے، اسرائیلی جریدوں میں آرٹیکلز ہیں کہ پاکستان میں بانی ہی اسرائیل کو سوٹ کرتا ہے، خط وہ لکھوا رہے ہیں جن کا ایجنڈا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، ڈاکٹر اسرار نے 20، 25سال پہلے ہی بانی پی ٹی آئی سےمتعلق بتا دیاتھا۔ اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے بانی کو رہا کرانے کی کوشش ہورہی ہے، بانی اپنے دور میں سیاسی مخالفین کےخلاف نیب کو استعمال کرتےتھے،اس وقت خط کہاں تھے؟ اگریہ پاکستانی لابسٹ ہوتے تو کیا کشمیرکیلئے کبھی خط نہیں لکھواتے؟ پی ٹی آئی بانی کی رہائی کےون پوائنٹ ایجنڈےکیلئے ہر حد تک جائے گی، بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اسٹرٹیجک اثاثہ ہے، بانی کی رہائی کیلئےپی ٹی آئی کی طرف سے حیران کن چیزیں ابھی مزیدسامنےآئیں گی۔

    امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے،شیری رحمان
    پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے ،ارکان کانگریس کا بائیڈن کو خط حقیقی آزادی کے بیانیے کے تابوت میں ایک اور کیل ہے، کسی بھی دوسرے ملک کے سیاسی و قانونی معاملات میں مداخلت عالمی اصولوں کے خلاف ہے،امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کو جائز سمجھنا خطرناک مثال قائم کرتا ہے،پی ٹی آئی کی امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں، یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں امریکی مداخلت پر بیانیہ بناکرسیاست کرتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے خود اسی طرح کی مداخلت کا سہارا لینا دہرا معیار ہے۔صدر آصف علی زرداری نے 12 سال جیل میں گزارے، انہوں نے کبھی بیرونی لابی فرمز کو ایسی درخواستیں لکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا، ملکی سیاسی جماعتیں مسائل، قانونی جدوجہد کے لیے ملکی اداروں پر ہی اعتماد رکھتی ہیں۔

  • امریکی کانگریس اراکین کا عمران کی رہائی بارے خط،پاکستانی اراکین پارلیمنٹ بھی متحرک

    امریکی کانگریس اراکین کا عمران کی رہائی بارے خط،پاکستانی اراکین پارلیمنٹ بھی متحرک

    امریکی کانگریس کے 62 اراکین کی جانب سے امریکی صدر جو بائیڈن کو عمران خان کی رہائی کے لیے لکھے گئے خط کے جواب میں، پاکستانی پارلیمنٹ کے اراکین بھی متحرک ہو گئے ہیں، پاکستانی پارلیمنٹ کے 160 اراکین نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط ارسال کیا ہے۔

    پاکستانی ارکان پارلیمنٹ نے یہ خط امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے پاکستان کی داخلی صورتحال میں مداخلت پر لکھا۔ خط لکھنے والوں میں طارق فضل چوہدری، نوید قمر، سید مصطفیٰ کمال، آسیہ ناز تنولی، خالد مگسی اور دیگر شامل ہیں۔ اراکین نے وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ وہ بطور پارلیمنٹیرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وزیراعظم کانگریس کے اراکین کو آگاہ کریں کہ پاکستان اس وقت جمہوری چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جنہیں انتہاپسندی کی سیاست نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،عمران خان نے ریاستی اداروں کے خلاف سیاسی تشدد اور مجرمانہ دھمکیوں کا آغاز کیا۔ 9 مئی 2023 کو انہوں نے بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی، اور ہجوم کو پارلیمنٹ، سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت اور ریڈیو پاکستان پر حملے کے لیے اکسایا،عمران خان نے انتشاری سیاست سے ملک کو پہلے بھی مفلوج کیا ہے، خاص طور پر اگست 2014 اور مئی 2022 میں۔ انہوں نے جیل سے بھی اسلام آباد اور لاہور میں انتشار اور تشدد کو بڑھانے کی کوشش کی ہے،عمران خان نے ڈیجیٹل دہشتگردی کے ذریعے سوشل میڈیا کو انتشار اور بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ عمران خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کو دھمکانے کی کوشش کی،عمران خان کی منفی مہم میں امریکا اور برطانیہ میں مقیم بعض منحرف عناصر کا کردار بھی شامل ہے۔ دونوں ممالک کی ریاستیں اپنے شہریوں کے خلاف غیرمعمولی اقدامات کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان علماء کونسل نے بانی پی ٹی آئی کی حمایت میں امریکی نمائندگان کے ممبران کے خط کی بھرپور مذمت کی ہے،پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین،علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کو خط ، پاکستان کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے ، یہ خط پی ٹی آئی کے منافقانہ رویہ اور پالیسی کی دلیل ہے ، پاکستان علما ء کونسل اس خط کو کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے ، امریکی ایوان نمائندگان کے ممبران مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت اور لاکھوں بے گھر افراد پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے،حکومت پاکستان ، عوام ، سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ، مذکورہ بالاخط اوراسکےمندرجات بلاشبہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور خود مختاری کی خلاف ورز ی ہے، مذکورہ بالا خط صرف اور صرف صیہونی طاقتوں کی ایما ء پر لکھا گیا، پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم کا بھرپور جواب دیا جائے گا ،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی لابنگ کی وجہ سے 60 سے زائد امریکی ایوان نمائندگان نےصدر بائیڈن کو خط، لکھا ہے جس میں انہوں نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،امریکی ایوان نمائندگان نے کبھی غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے تو ایک خط نہیں لکھا۔ جبکہ پوری دنیا میں وہ صیہونی جو اسرائیل کے ذریعے فلسطینیوں پر بے دریغ بربریت کر رہے ہیں

    دوسری جانب پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی ایکس پر کہتے ہیں کہ گرفتاری سے پہلے امریکہ کی مداخلت کی مذمت کرنا لیڈر کو مقبول بناتا ہے۔ مریدوں کی محبت کا یہ عالم ہے کہ گرفتاری کے بعد مرشد کی رہائی کے لئے امریکہ ہی سے رجوع کرتے ہیں بلکہ اس کو منانے کے لیے زر کثیر کا نذرانہ بھی ہیش کرتے ہیں۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    جمائما گولڈ اسمتھ کا عمران خان کے بارے بیان،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • عافیہ صدیقی کی سزا معافی،رہائی کیلئے وزیراعظم نے امریکی صدر کو لکھا خط

    عافیہ صدیقی کی سزا معافی،رہائی کیلئے وزیراعظم نے امریکی صدر کو لکھا خط

    امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالہ سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا معافی کے لئے امریکی صدر جوبائیڈن کو خط لکھا ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کی درخواست پر سماعت کی،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے عمران شفیق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عافیہ صدیقی کی سزا معافی کیلئے امریکی صدر کو خط لکھا ہے

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، تو وہیں چند روز قبل عافیہ موومنٹ کے وفد نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی سربراہی میں نائب وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی، ملاقات میں نائب وزیراعظم نے وفاقی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی موجودگی میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خط کے ذریعے امریکی حکومت سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ اس یقین دہانی کی بنیاد پر عافیہ موومنٹ نے 22 ستمبر کو ڈی چوک پر ہونے احتجاجی دھرنے کو موخر کر دیا تھا،

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی چابی اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے پاس ہے،مشتاق احمد

    عافیہ کی جان خطرے میں،حکومت واپسی کے اقدامات کرے،ڈاکٹر فوزیہ

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے مگر ابھی تک کوئی بھی حکومت عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہیں لا سکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ

    عافیہ صدیقی کیلئے رحم کی اپیل کرتے ہوئے حکومت اتنا ڈر کیوں رہی ہے؟ عدالت

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

  • جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم ،توہین عدالت کیس کی سماعت ملتوی

    جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم ،توہین عدالت کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی ،جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل کو گزشتہ سماعت کا حکم پڑھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ گزشتہ سماعت کا حکم پڑھیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں ؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےاسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہا کہ جسٹس بابر ستار اور انکی فیملی کے خلاف مہم چلانے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی اے نے انکوائری رجسٹرڈ کر لی ہے چھ ملزمان کو ایف آئی اے نے نوٹسز جاری کر دئیے ، دو نے انکوائری جوائن کی ایک انکوائری میں آیا ہے دوسرے نے اپنا جواب بھیجا ہے ، ایف آئی اے نے جن کو نوٹس کئے ان میں ایک صحافی بھی ہیں ،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں اِن سوشل میڈیا کمپنیز کے دفاتر نہیں ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل نے عدالت میں کہا کہ نہیں، ان کمپنیز کو کہنے کے باوجود انہوں نے پاکستان میں دفاتر نہیں بنائے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہماری حکومت کی طرف سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے؟ سائبر سیکیورٹی قوانین کے حوالے سے اُن کی اپنی پالیسیز ہیں، کیا پاکستان کی طرف سے اُن کمپنیز سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے؟ اِن کمپنیز کے ساتھ مشاورت کر کے قوانین بنائیں گے تو وہ یہاں دفاتر بنا لیں گے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ اس سب کے پیچھے کون ہے مگر ان تک کوئی پہنچ نہیں سکتا آگے چلیں،

    وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا ہے جسٹس بابر ستار توہین عدالت کیس کے تناظر میں لکھے جانے والے خط پر ایکس نے جواب دے دیا ہے انہوں نے ہائیکورٹ کو جواب نہیں دیا بلکہ کہا ہے امریکی ایمبیسی سے رابطہ کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے دفتر خارجہ کے ذریعے امریکی ایمبیسی سے رابطے کرنے کی ہدایت کر دی،

    جسٹس بابر ستار کے خلاف چلائے جانے والے ہیش ٹیگز کب اور کن اکاؤنٹس سے شروع ہوئے،فیس بک ، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر 45 اکاؤنٹس نے مہم چلائی،رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی گئی،ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ جسٹس بابر ستار کے خلاف پہلا ٹرینڈ Will Babar Sattar Resign کشمیر کے خواجہ محمد یسین نے شروع کیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو حیران کُن ہے کہ کشمیر کی نیلم ویلی میں بیٹھے ایک شخص کو اچانک جسٹس بابر ستار سے متعلق پتہ چلا اور اُس نے لکھنا شروع کر دیا،

    جسٹس بابر ستار کی فیملی کے پرسنل ڈیٹا تک کس نے رسائی کی؟ایف آئی اے نے مزید تین ہفتے مانگ لیے

    جسٹس بابر ستار کی ذاتی معلومات لیک کرنے پر ایکس انتظامیہ کو خط

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • ججز کی تعیناتی، میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط

    ججز کی تعیناتی، میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی تعیناتیوں کا معاملہ ، جوڈیشل کمیشن ممبران کو خط،7جون کے اجلاس کے میٹنگ منٹس پبلک کرنے کیلئے سربراہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کو خط لکھ دیا گیا

    میاں دائود ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو خط ارسال کر دیا،خط کی کاپی سنیئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ سمیت تمام ممبران جوڈیشل کمیشن کو بھجوائی گئی ہے. خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے 7 جون کو تین ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش کی ہے،جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کیلئے آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس کی تعیناتی کی تجویز بھی زیر غور آئی ہے، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی وجہ سے عوام الناس میں ابہام اور ہیجان پیدا ہو چکا ہے،جوڈیشل کمیشن کی تجویز کی وجہ سے پنجاب کا پورا نظام عدل ایک ہیجان میں مبتلا ہے، یہ ہیجان صرف اس وجہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری نہیں کئے گئے،یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی کیا کارروائی ہوئی؟ ججز کی نامزدگی کیسے ہوئی؟ بتایا جائے کہ جوڈیشل کمیشن میں کیا نئے اصول پنائے گئے جو ماضی میں آئوٹ آف ٹرن ججز کی تعیناتیوں کیلئے نہیں اپنائے گئے تھے،آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مجوزہ تعیناتی آئین کے کس آرٹیکل، کونسے قانون کے تحت کی جا رہی ہے؟بادی النظرمیں آئوٹ آف ٹرن چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تعیناتی ادارے کی تباہی کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہوگی، اگر جوڈیشل کمیشن نے غلط فیصلہ کرنا ہی ہے تو غلط فیصلے کو اچھا کر کے کر لیا جائے جیسے ماضی میں کیا گیا، جوڈیشل کمیشن کے پاس مجوزہ غلط فیصلے کو اچھا کر کے کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ ججز کی فہرست میں بہترین آپشنز موجود ہیں، مجوزہ غلط فیصلے کو اچھا کر کے کرنے سے کم از کم آئندہ چار سال عدلیہ میں اصلاحات کے پروگرام میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ہوگی،ماضی میں عدلیہ بالخصوص لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ تجربات سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، سپریم کورٹ مختاراحمد علی کیس میں سپریم کورٹ کی بابت معلومات کو بھی مفاد عامہ کے تحت آئینی حق قرار دے چکی ہے،آئین کے آرٹیکل 19اے، معلومات تک رسائی کے قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں میٹنگ منٹس پبلک کئے جائیں،جوڈیشل کمیشن اگر اجلاس کے میٹنگ منٹس جاری نہیں کرتا تو سپریم کورٹ سے آئینی درخواست میں رجوع کرینگے،

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بجٹ دستاویز 2024-25 پر دستخط کر دئیے

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں، چئیر مین ایف بی آر

    وفاقی بجٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

    بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس میں کتنا اضافہ ہوا؟

    ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم

  • برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے،سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

    برطانیہ بھی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے،سپریم کورٹ کا برطانوی ہائی کمشنر کو خط

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے، خط رجسٹرارسپریم کورٹ کی جانب سے لکھا گیا ہے، رجسٹرار کا کہنا ہے کہ خط چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے حکم پر بھیجا گیا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جمہویت اور کھلے معاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کا ازالہ کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے برطانیہ بھی غلطیوں کا ازالہ کرے،خط میں 1953 میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور بالفور اعلامیہ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے.

    سپریم کورٹ رجسٹرار نے خط پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر جین میریٹ کے نام بھجوایا، خط میں کہا گیا ہے کہ عاصم جہانگیر کانفرنس میں آپ کی پرجوش تقریر میں جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے،پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا، لیکن انتخابات اس لئے بر وقت نہیں ہو سکے تھے کیوں کہ صدر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان متفق نہیں تھے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کس کو ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دنوں میں حل کر دیا، اور 8 فروری 2024 کو پورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل، پاکستان میں الیکشن لڑنے کے خواہشمند بہت سے لوگوں کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں ایماندار اور قابل اعتماد (‘صادق’ اور ‘امین’) نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، ایک بڑے سات رکنی بنچ نے پہلے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعہ نافذ کردہ قانون (انتخابات ایکٹ، 2017) وقتاً فوقتاً انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد آمریت کو روکنے کے لئے اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اس جمہوری اصول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرواتی تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہوگی۔ ایک سیاسی جماعت (جس نے خود اس قانون میں ووٹ دیا تھا) نے لازمی انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون نے کیا کہا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقیدبلاجواز تھی۔

    خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوامی اہمیت کے مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے کیونکہ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشر کرنے کی اجازت دی. جس کے بعد پاکستانی عوام سپریم کورٹ کی کاروائی کو مکمل طور پر دیکھ سکتی ہے تا کہ عوام کو بھی مقدمات کی شفافیت اور فیصلوں بارے علم ہو،نٹرا پارٹی انتخابات اور پارٹی نشانات کے بارے میں فیصلہ بھی براہ راست نشر کیا گیا تھا

    خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بات خوش آئند تھی کہ آپ نے بارہا ‘اوپن سوسائٹیز’ کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ متحرک جمہوریتوں کے لیے ضروری ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ سپریم کورٹ نے معلومات کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اسے خود پر بھی لاگو کیا ہے۔ اس کے فیصلے کی کاپی ساتھ منسلک ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ ماضی کی پرتشدد غیر جمہوری غلطیوں پر قائم رہنا موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ آئیے سچائی کو اپنائیں،کیا 1953 میں محمد مصدق کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا، ایرانی تیل پر قبضہ کرنا، سات دہائیوں سے زیادہ چھپنے کے بعد ظاہر نہیں ہونا چاہیے؟ کیا یہ مجرم اور مظلوم کے لیے بہتر نہیں ہوگا؟ کیا یہ اعتماد، ممکنہ طور پر دوستی اور امن کو جنم نہیں دے گا؟جسے اس نے ‘یہودی صیہونی خواہشات’ کے طور پر بیان کیا ہے، برطانوی حکومت نے 2 نومبر 1917 کو اپنے شہری کو خط لکھا جس میں ایک آباد کار نوآبادیاتی ریاست کے قیام کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس فیصلے کو علاقے کے لوگوں نے جو اس سے متاثر ہوئے اور نہ ہی آپ کے لوگوں نے ووٹ دیا، برطانوی حکومت نے یکطرفہ طور پر اس کا فیصلہ کیا۔ بالفور اعلامیہ وہ بنیاد بن گیا جس پر ایک نسلی ریاست قائم ہوئی۔ جو لوگ ہمیشہ وہاں رہتے تھے اس نسلی ریاست سے نکال دیئے گئے۔ان پر وحشیانہ تشدد ہوا اور کئی مارے گئے،معذو ر ہوئے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے خط میں مزید کہا گیا کہ آئیے ہم آبادکاروں کی نسلی برتری کے دہانے سے پیچھے ہٹیں ۔ ہم سب اٹھ کھڑے ہوں اور برابری، امن اور انسانیت کے لیے شمار کیے جائیں۔آئیے ایماندار بنیں اور کھلے پن کے جذبے کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کریں، سپریم کورٹ کی جانب سے جاری خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو تسلیم کیا ہے، ان کا تفصیل سے ازالہ کیا ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں کہ ان کا اعادہ نہ ہو۔ چونکہ کنگ چارلس تھری کی حکومت نے کھلے معاشروں اور جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں پر تنقید کی پیشکش کی ہے، اس لیے باہمی تعاون قابل قبول ہوگا۔

    برطانوی ہائی کمیشن کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ یہ خط چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات پر لکھا گیا ہے، جو آپ اور آپ کے ملک کے عوام کے لیے کھلے پن اور جمہوریت کے لیے اپنی تڑپ اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

  • سلمان خان کے ہاتھ سےاپنے مداحوں کے نام لکھا گیا  خط وائرل

    سلمان خان کے ہاتھ سےاپنے مداحوں کے نام لکھا گیا خط وائرل

    ممبئی: سوشل میڈیا پر بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے ہاتھ سے لکھا گیا خط وائرل ہورہا ہے جوکہ اُنہوں نے اپنی فلم ‘میں نے پیار کیا’ کی ریلیز کے چار ماہ بعد اپنے مداحوں کے نام لکھا تھا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان نے خط میں مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا تھا کہ سب سے پہلے تو مجھے قبول کرنے اور میرے پُرستار ہونے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، میں پوری محنت اور لگن سے کام کررہا ہوں، میں اپنی ساری توجہ اپنے کام پر مرکوز کررہا ہوں۔

    اداکار نے لکھا تھا کہ میں اگلی فلموں کے لیے بہترین اسکرپٹ کا انتخاب کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اب میں جو کچھ بھی کروں گا تو اس کا موازنہ میری فلم "میں نے پیار کیا” سے کیا جائے گا، لہٰذا آپ جب بھی میری نئی فلم سے متعلق کوئی اعلان سُنیں تو یقین رکھیں کہ یہ ایک اچھی فلم ہوگی۔

    مفتی مبشر احمد ربانی لوگوں کے دلوں میں رہتے اور دلوں میں بستے تھے ،حافظ …

    اُنہوں نے لکھا تھا کہ میں آپ سے پیار کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ مجھ سے محبت کرتے رہیں گے کیونکہ جس دن آپ مجھ سے محبت کرنا چھوڑ دیں گے اور آپ میری فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں گے تو اُس دن میرے کیریئر کا اختتام ہوگا، آپ لوگوں کی وجہ سے ہی ہم اسٹار بنتے ہیں، آپ میری ذاتی زندگی کے بارے میں سب کچھ ہی جانتے ہیں، اسی لیے میرے پاس اس حوالے سے کہنے کے لیے بہت کچھ نہیں ہے، میں صرف ایک بات جانتا ہوں کہ آپ نے مجھے قبول کر لیا ہے۔

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    واضح رہے کہ 1988 میں پہلی فلم ’بیوی ہو تو ایسی‘ میں اداکارہ ریکھا کے چھوٹے بہنوئی کا کردار کرنے والے سلمان خان کو بالی ووڈ پر راج کرتے ہوئے 36 برس ہونے والے ہیں، اپنی دوسری فلم ” میں نے پیار کیا” میں سلمان خان نے مرکزی کردار نبھایا اور خوب شہرت سمیٹی تھی، اس سُپر ہٹ فلم میں بھاگیہ شری، موہنیش بہل، آلوک ناتھ اور ریما لاگو نے بھی اداکاری کی تھی۔

    سائفر کیس،سزا کیخلاف اپیل پر سماعت بدھ تک ملتوی

  • سپریم کورٹ کے ججز کو بھی دھمکی آمیز خط ملنے کا انکشاف

    سپریم کورٹ کے ججز کو بھی دھمکی آمیز خط ملنے کا انکشاف

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ بھی سپریم کورٹ کے دیگر تین ججز کو خطوط موصول ہوئے ہیں،جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس امین الدین خان کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے چار ججز کو دھمکی آمیز خطوط یکم اپریل کو موصول ہوئے،چاروں خطوط میں پاؤڈر اور خطرے کے نشان والی تصویر بھی بنی ہوئی ہے ،سپریم کورٹ کے چاروں ججز کو موصول خطوط کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیئے گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خط کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کو بھی دھمکی آمیز خط موصول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران ججز کو موصول دھمکی آمیز خطوط کے معاملہ پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز شہزاد بخاری عدالت کے طلب کر نے پر عدالت میں پیش ہوئے، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سی ٹی ڈی ہمایوں حمزہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ ابھی تک کسی کے پاس آئی جی کا چارج نہیں ہے، اس لیے اسلام آباد پولیس کے تمام آپریشنز میں دیکھ رہا ہوں، کیمیائی معائنے کے لیے نمونے بھجوا دیے ہیں، تین سے چار دن میں رپورٹ آ جائے گی،

    عدالت نے ڈی آئی جی سے استفسار کیا کہ کہاں سے خطوط پوسٹ کیے گئے تھے، ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ اسٹیمپ نہیں پڑہی جارہی ہیں، آج لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اسی نام سے خطوط ملے ہیں،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ انہیں ہر صورت ریشما کو ڈھونڈنا چاہیے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی اسٹیمپ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، کیا تمام خطوط ایک ہی ڈاک خانے سے آئے ہیں؟ڈی آئی جی پولیس نے عدالت میں کہا کہ ججز کو ملنے والے خطوط پر اسٹیمپ مدھم ہے تا ہم راولپنڈی کی اسٹیمپ پڑھی جاری ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ دونوں افسران نے خطوط کے لفافے دیکھے ہیں؟ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے عدالت میں کہا کہ بظاہر راولپنڈی جنرل پوسٹ آفس لگ رہا ہے، جی پی او میں پوسٹ نہیں ہوا کسی لیٹر باکس میں ڈالا گیا ہے، ہم اس لیٹر باکس کی سی سی ٹی وی اور ایریا کی معلومات لے رہے ہیں، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے مقدمہ درج کیا، اب تک کی پیشرفت کیا ہے؟ ڈی آئی جی نے عدالت میں کہا کہ ہم نے نمونے لیب کو بھیجوا دیے ہیں اور ڈائریکٹر سے میری بات بھی ہو گئی ہے، دوران سماعت پولیس حکام نے عدالت میں انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھی خطوط ملے ہیں،ڈی آئی جی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 4 ججز کو بھی اسی طرح کے خطوط ملے ہیں

    واضح رہے کہ منگل 2 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 8 ججز کو موصول ہونے والے مشکوک خطوط میں سے دو کے اندر مشکوک پاؤڈر تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا ہے،عدالتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کویہ خط ایک خاتون ریشم زوجہ وقار حسین نامی خاتون نے بھیجے تھے، دو ججوں کے اسٹاف نےخطوط کھولے تو ان میں پاؤڈر تھا،خط میں ڈرانے دھما کے کے لیے مشکوک نشان بھی موجود تھا۔عدالتی ذرائع نے بتایاکہ اسٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر سفوف تھا اور خط کھولنے کے بعد آنکھوں میں جلن شروع ہو گئی، متاثرہ اہلکار نے فوری طور پر سینیٹائزر استعمال کیا اور منہ ہاتھ دھویا، خط میں موجود متن پر لفظ anthrax لکھا تھا۔

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول