Baaghi TV

Tag: خطبہ حج

  • اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، خطبہ حج

    اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، خطبہ حج

    مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان والوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور تقویٰ اختیار کرنا چاہئے،مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق رکھنا چاہئے-

    شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ شیطان مسلمانوں کا دشمن ہے اور مسلمانوں کو اس سے دور رہنا چاہئے، مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق رکھنا چاہئے، اگر کوئی اپنے دشمن کو معاف کرے گا تو اللہ اسے اپنا دوست بنالے گا اللہ تعالیٰ نے اسلام کو بطور دین انسانیت کیلئے پسند کیا ہے، اور دین مکمل ہوچکا ہے۔

    امام شیخ ڈاکٹرصالح بن عبد اللہ نے حج کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن اللہ نے امتِ محمد ﷺ پر اپنی نعمتیں مکمل کر دی ہیں اور اسلام کو بطور دین پسند فرمایا ہے۔ انہوں نے عبادات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج اسلام کے بنیادی ارکان ہیں جو ان پر عمل کرتا ہے وہی کامیاب ہے۔

    امام مسجد الحرام نے کہا کہ نیکی برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اسی لئے نیکی کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے ، نماز قائم کرو، یہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک بہترین رابطہ اور سب سے زیادہ درمیان کی نماز کی حفاظت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ایمان والو اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، یا پھر اللہ کی عبادت اس طرح سے کرو کہ جیسے اللہ تمھیں دیکھ رہا ہے،دین اسلام کے تین درجات ہیں اور سب سے بڑا درجہ احسان ہے، والدین سے صلہ رحمی، نرمی اور وعدوں کی تکمیل بھی دین کا حصہ ہے اور حیا ایمان کی شاخ ہے۔

    شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ حج کے دوران اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنا چاہئے، دعائیں کرنی چاہئے اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگنی چاہئیں، اللہ نے فرمایا کہ نیکی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور بری باتوں سے رک جائیں، اے ایمان والو عہد اور وعدے کو پورا کرو، جب بھی بات کرو اچھی بات کرو، اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، اللہ کا شکر گزار بندوں سے وعدہ ہے کہ جتنا شکر کریں گے انہیں زیادہ تعمتوں سے نواز دے گا،اور ایمان والوں کو سچی باتیں کہنی چاہئیں، جھوٹ سے بچنا چاہئے۔

    شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ انسان کو باطنی امراض سے بچنا چاہیے کیونکہ باطنی امراض کی وجہ سے انسان اللہ کا تقرب حاصل نہیں کر پاتا، رمضان کے روزے تم پر فرض کیے گئے جیسے تم سے پچھلی امتوں پر فرض کیے گئے، روزے انسان کو باطنی امراض سے پاک کر دیتے ہیں، پرودگار کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو ، اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بہترین ایمان دے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اے لوگو ،غریبوں یتیموں مساکین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھی طرح برتاؤ کرو اللہ کے بتائے ہوئے دین پر عمل کریں ، اللہ تعالی صبر کرنے والوں کیساتھ ہے، والدین کو ناراض کرنے والا اللہ کو ناراض کرتا ہے، نیک کام کرنے والا اللہ کا محبوب ہے ،اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لا کر اسکی اطاعت کی جائے،منع کر دہ چیزوں سے پرہیز کیا جائے ، دعا مومن کا ہتھیار ہے ، امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے دعائیں کریں، دعا کرنے سے اللہ غموں کو خوشیوں میں بدل دیتا ہے ، اللہ تعالی کی رضا جنت سے بھی بڑی ہے۔

    امام کعبہ نے ایمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایمان زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کا نام ہے نماز، حیا، صدقِ کلام، اور فرائض کی ادائیگی ایمان کا حصہ ہیں اللہ کے گھر کا حج کرنا تم پرفرض کردیا گیا ہے،اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر اور باطن کو جانتا اللہ کی رحمت تم پر پوری ہوگئی ہے،اللہ تعالیٰ تمہاری عبادات کو قبول فرمائے۔

    اس موقع پر امام حج نے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کیلئے خصوصی دعائیں بھی کرائیں، امام کعبہ نے فرمایا کہ آپ ایسے مقام پر ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں، اے اللہ ہم تجھ سےمعافی اورفضل مانگتے ہیں اللہ ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطافرمائے-

    امام شیخ ڈاکٹرصالح بن عبد اللہ نے نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ایک ہے، محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز، زکوۃ، رمضان کے روزے رکھنا، حج کرنا اسلام ہے، اللہ جس کو چاہے بخش دے،جس کو چاہے عذاب دے، اللہ نے محمدﷺ کو انسانی کی رہنمائی کے لیے بھیجا، اللہ کے نبی ﷺ کے احکامات پر عمل کرتے رہو، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تابیداری کرنے والے کامیاب ہیں، توحید پر ثابت قدم رہنا ہی اسلام ہے، یاد رکھو، اسلام میں توحید کے بعد سب سے اہم چیز نماز ہے، جس کی نمازیں پوری ہوگئیں وہ کامیاب ہوگیا، نماز حق وباطن میں فرق کرتی ہے۔

    مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ نے مظلوم فلسطینیوں کے لیے خصوصی دعائیں کراتے ہوئے کہا کہ اے اللہ فلسطین کو دشمنوں سے نجات دے، اے اللہ فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، اے اللہ فلسطین کے شہدا کو معاف فرما اور زخمیوں کو شفا دے، اے اللہ اہل فلسطین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے، اے اللہ اہل فلسطین کے دشمن، عورتوں اور بچوں کے قاتلوں کو برباد کردے۔

    امام کعبہ نے مزید کہا کہ اے اللہ اہل فلسطین کو دشمنوں کے شر سے بچا، اے اللہ اہل فلسطین کے معاملات کو اپنے سپرد کرلے، اے اللہ اہل فلسطین کی حفاظت فرما، ان کا خیال رکھ، اللہ کی رضا جنت سے بھی بڑی ہے، اےاللہ اہل فلسطین کو دشمنوں پر غالب فرما۔

    خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی قصر نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں، عرفات میں وقوف کے دوران عازمین تلبیہ پڑھنے، استغفار کرنے اور تسبیح کے ساتھ ساتھ دعاؤں میں مصروف رہے-

  • اے مسلمانو! تفرقے میں مت پڑو، آپس میں جڑے رہنا ضروری ہے، خطبہ حج

    اے مسلمانو! تفرقے میں مت پڑو، آپس میں جڑے رہنا ضروری ہے، خطبہ حج

    شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےتفرقہ ڈالنے سے منع کیا، انسان دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے، اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ‘

    شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں ، تعریف اس ذات کی ، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ,اللہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا ہے ،اللہ کی اطاعت کرو، حدود اللہ کا خیال رکھو،اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے اللہ آپ کو دیکھ رہاہے ،حضورﷺ نے فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کیلئے عمارت کی طرح ہے،جو انسان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا،،انسان اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرے، اللہ کی اطاعت کرو، حدود اللہ کا خیال رکھو، نماز،روزہ ،زکوة اور بیت اللہ کے حج کاحکم اللہ نے دیا ہے ، کوئی آدمی اس دنیا کو اپنا دائمی ٹھکانہ نہ سمجھ لے،ہمیں حکم دیا گیا ہے اختلاف ہو تو قرآن و سنت کی طرف جائیں،پڑوسی کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا چاہیے اے مسلمانو! تفرقے میں مت پڑو، آپس میں جڑے رہنا ضروری ہے،

    شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا اسلام ہے ، اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں ،حضورﷺنے فرمایا کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ، لوگوں کی زبانیں اور رنگوں کا مختلف ہونے میں بہت نشانیاں ہیں ، رسول اللہ ﷺنے حج کے موقع پر خطبہ دیا تھا، رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ تمہارا خدا اور رسول ایک ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ ہر کسی پر ایک دوسرے کی عزت مقدم ہے، قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو، اے ایمان والو، اللہ ایک ہے،اسی کی عبادت تم پر واجب ہے ,قرآن میں اتحاد کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے مسلمان کےلیے باطل سے دور رہنا لازم ہے حاکمیت اور حقیقی حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ آپسی تنازعات کے حل کے لیے اللہ کی کتاب سے رہنمائی حاصل کرو،مل جل کر رہنے میں رحمت اور الگ الگ رہنے میں زحمت ہے شریعت میں حکم ہے جھگڑا کرنے والوں کو سمجھایا جائے،اتفاق پیدا کرنا معاشرے، خاندان اور ہرفرد کی ذمہ داری ہے ،اللہ کے سوا تمام چیزوں کو ہلاک ہوجانا ہے عزیزو اقارب کے ساتھ حسن وسلوک کا رویہ اختیار کرنا ضروری ہے،لوگوں کے لئے آسانیاں فراہم کرو انکے لیے مشکلات پیدا نہ کرو،ایک دوسرے کی جانوں کے دشمن نہ بنیں،اللہ کا حکم ہے تمام مسلمان متحد ہو کر رہیں، شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہرچیز جس سے اتحاد ٹوٹے دور رہنے کا حکم ہے، جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہوگا اور یہی اصل کامیابی ہےِ

    hajj02

  • عازمین حج وقوف عرفہ کے لیے میدان عرفات  روانہ

    عازمین حج وقوف عرفہ کے لیے میدان عرفات روانہ

    مکہ: منی سے عازمینِ حج کے قافلے میدانِ عرفات کی جانب رواں دواں ہیں، عازمین بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے پہنچ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ٹرین پر سوار عازمین کے لیے ٹکٹ کے بینڈ دیئے گئے ہیں، عازمینِ حج آج میدانِ عرفات میں حج کا رکنِ اعظم ادا کریں گے،مسجد نمرہ میں عبادت کے ساتھ ساتھ عرفات کے میدان میں خطبہ حج بھی سنیں گے۔

    لاکھوں عازمین حج نے پیر کو پیدل یا بسوں میں سوار ہو کر مکہ مکرمہ کے قریب منیٰ میں بڑی خیمہ بستی کے شہر میں سالانہ حج کی ادائی کے لیے جمع ہوئے ہیں جہاں سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حج حاضری کے ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔

    خانہ کعبہ کے طواف کی ادائی کے بعد نمازی شدید اور دم گھٹنے والی گرمی میں تقریباً سات کلومیٹر دور منیٰ کی جانب روانہ ہوئے مسجدِ نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جائیں گی، خطبۂ حج کے بعد حجاج کرام غروبِ آفتاب تک وقوفِ عرفہ کریں گے۔

    سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز،منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی …

    پیر کو حجاج کرام نے حضرت محمدﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پورا دن اور رات منیٰ میں گزاری جسے یوم ترویہ کہا جاتا ہے،آج منگل کو میدان عرفات میں حج کے رکن اعظم کی ادائی کے بعد سورج غروب ہوتے ہی زائرین عرفات اور منیٰ کے درمیان واقع مزدلفہ کا رخ کریں گے اور رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے،مزدلفہ میں حجاج کرام مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے حجاج کرام مزدلفہ میں آرام کریں گے اور کنکریاں جمع کریں گےحجاج کرام وقوفِ مزدلفہ کے بعد 10 ذی الحج کو رمیٔ جمرات کریں گے، اور حج کے آخری رکن کی ادائی کے لیے واپس خانہ کعبہ آ کر طواف کریں گے-

    ہم سلمان خان کو قتل کرنےکیلئےکوششیں کرتے رہیں گے،گینگسٹر گولڈی برار

  • خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی کتنی زبانوں میں براہ راست نشر کیا جائے گا؟

    خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی کتنی زبانوں میں براہ راست نشر کیا جائے گا؟

    رواں برس 1444ہجری یوم عرفہ کے روز حج کا خطبہ شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمدبن سعید دیں گے-

    باغی ٹی وی : العربیہ کے مطابق حرمین انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایوان شاہی کی منظوری سے امسال میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمدبن سعید خطبہ حج دیں گے انتظامیہ نے مسجد الحرام کے مبلغ اور احتیاطی امام کے طور پر شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی کومقرر کیا ہے خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی متعدد زبانوں میں براہ راست نشر کیا جاتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق رواں برس خطبہ حج 14 زبانوں میں براہ راست نشر کیا جائے گا۔
    Hajj 2023
    واضح رہے کہ شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد بن سعید سربرآوردہ علما کونسل کے رکن ہیں، شیخ ڈاکٹر یوسف اسلامی یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں، سائنسی کمیٹی برائے تعلیم عامہ سے تعلق رکھنے والی سپوزیم کے چیئرمین اور اور ویژن اور خواہشات کے رکن بھی ہیں،شیخ ڈاکٹر یوسف نے بیچلر کی ڈگری ریاض کے کالج آف فنڈامینٹلز آف ریلیجن سے حاصل کی اور بعد ازاں ماسٹر اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی 2020 میں انہیں سینئرز اسکالرز کی کونسل کا رکن مقرر کرنے کا شاہی حکم جاری کیا گیا تھا۔

    العربیہ کے مطابق سعودی عرب کی عمومی نظامت برائے پاسپورٹس کے مطابق پیر کی رات تک 13 لاکھ 42 ہزار 351 عازمین حج بری، بحری اور فضائی فاصلوں کو عبور کرتے ہوئے مملکت پہنچ گئے ہیں،سعودی عرب میں مناسک حج کا سلسلہ 26 جون سے شروع ہو گا۔ سعودی حکومت کے اندازے کے مطابق رواں سال 26 لاکھ افراد حج کے مناسک ادا کریں گے۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ایس پی اے’ نے ڈائریکٹوریٹ کے جاری اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا کہ ہوائی جہازوں کے ذریعے مملکت پہنچنے والے عازمین حج کی تعداد 12 لاکھ 80 ہزار 240 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زمینی راستوں سے 57 ہزار 463 عازمین سعودی عرب پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ چار ہزار 648 افراد بحری سفر مکمل کر کے سعودی عرب پہنچے ہیں-

  • مسلمان اورغیرمسلم سب سے دھیمے لیجے میں بات کرو، انسانیت کا احترام لازمی ہے،خطبہ حج

    مسلمان اورغیرمسلم سب سے دھیمے لیجے میں بات کرو، انسانیت کا احترام لازمی ہے،خطبہ حج

    ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے خطبہ حج دیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمانوں اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ، وہ یکتا ہے،

    محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نےعرفات کی مسجد النمرۃ میں حج کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اللہ نے فرمایا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراوَ اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو،اللہ نے اپنے اوپر رحم کو لازم کیا،اللہ نے انسانوں کو اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے زمین اور آسمان کو 6 دن میں تخلیق کیا ،اللہ نے فرمایا اپنے نفس کا تزکیہ کرو اور تقویٰ اختیار کرو، اللہ نے رسول اللہﷺ کوآخری نبی بنا کربھیجا،اللہ کی کتاب قرآن مجید دیگر آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے،اللہ نے قرآن میں فرمایا تم پر حج فرض ہے اللہ نے فرمایا اس نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور ان میں سے ہی پیغمبر چنا،اللہ نے فرمایا متقی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے،اللہ نے فرمایا میں نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اللہ کے شکر گزار رہو،بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو نیک کام میں جلدی کرتے ہیں رسول اللہﷺ فرمایا میرے قریب سب سے زیادہ اخلاق والا ہوگا، اللہ کے ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے، انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے،لوگوں پر خون و مال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام کر دی گئی ہیں،ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں،ہر حال میں نماز قائم کرو،آپس میں جھگڑے ختم کرو،اتحاد قائم کرو،اللہ سے ڈرو جو کام نفرت کی طرف لے کر جاتا ہو اس سے دوری مسلمان پر لازم ہے۔ خ

    محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نےعرفات کی مسجد النمرۃ میں حج کا خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہر معاملے میں حکمت سے کام لو،اللہ نے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا،اسلام بھائی چارے اور اخوت کا درس دیتاہے اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کرو، بہترین انسان وہ ہے جو خیر کی راہ پر گامزن ہو،امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے،اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے، اللہ کافرمان ہے جو بندہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے تواس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے،اللہ کے سوا انسان کی مصیبت کوئی دورنہیں کرسکتا،قرآن پاک میں اللہ کافرمان ہے کسی عربی کو عجمی پراور عجمی کو عربی پرکوئی فوقیت نہیں، قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے،اللہ کا فرمان ہے انسان ہو یا جانور،سب سے رحمت کا معاملہ کریں،اللہ نے فرمایا اپنے رب کی ایسے عبادت کرو جیسے اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے اللہ نے فرمایا اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو،اللہ نے قرآن میں فرمایا اس نے انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا رسول اللہﷺ نےفرمایا جنت میں اللہ کے رحم و فضل کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو گا،اللہ نے فرمایا مرد اور عورت میں جو بھی بھلائی کا کام کرے اس کو اجر دیا جائے گا،اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا،اللہ نے فرمایا اپنے گھر والوں کو نیکی کا حکم دو، اچھی تربیت کرو، مسلمان اورغیرمسلم سب سے دھیمے لیجے میں بات کرو، انسانیت کا احترام لازمی ہے،اسلامی اقدار کا تقاضہ ہے کہ جو چیز نفرت پیدا کرے اس سے دور ہوجاؤ خیر کے کام میں مسلمان ایک دوسرے کیساتھ تعاون کریں

  • اس سال خطبہ حج رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل دیں گے

    اس سال خطبہ حج رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل دیں گے

    اس سال میدان عرفات مسجد نمرہ سے حج کا خطبہ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل اور دانشور شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی دیں گے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق ایوان شاہی نے حج کا خطبہ دینے کےلیے رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے نام کی منظوری دی ہے۔

    حج کا خطبہ مسلمانان عالم کے ساتھ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے اسلام کا انسانیت نواز پیغام ہوتا ہے اس حوالے سے ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی عالمی معاشرے کو درپیش مسائل کے اسلامی حل پیغامات کی صورت میں پیش کریں گے۔

    رابطہ عالم اسلامی کی ویب سائٹ کے مطابق شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی 12 اگست 2016 کو سیکریٹری جنرل تعینات کیے گئے تھے وہ اسلامی فقہ کے تقابلی مطالعے میں گریجویشن ہیں۔ وہ آئینی قانون اور جنرل قانون کے مطالعات اور تقابلی عدالتی مطالعات میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی ہیں۔

    اسلامی فقہ اور جدید قانون پر مملکت کے اندر اور باہر اہم علمی و فکری و تحقیقی اداروں میں لیکچرز دیتے رہتے ہیں۔
    رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل سعودی عرب، خصوصاً امریکہ اور یورپی ممالک میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات کا زبانی امتحان لیتے ہیں۔

    ڈاکٹر العیسی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ فقہی، قانونی و فکری اور انسانی حقوق کے موضوعات پر مدلل علمی مقالات، معتبر مجلات میں شائع کرتے رہتے ہیں۔

    ڈاکٹر العیسی عدلیہ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل بننے سے قبل اعلی عدالت کے سربراہ کےعہدے تک پہنچ چکے تھے۔

    متعدد ممالک اور عالمی اداروں و تنظیموں سے ایوارڈز حاصل کیے ہوئے ہیں۔ ملائیشیا وفاقی روس، سینیگال، سری لنکا، مصر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، بلغراد وغیرہ ممالک سے اعزاز حاصل کیے ہوئے ہیں۔ لاہور پاکستان کی مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دیئے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ رابطہ عالم اسلامی عالم اسلام کی ہمہ گیر اور وسیع ترین عوامی تنظیم ہے۔ عالم اسلام کے بائیس ممالک کے ممتاز علما اور داعیانِ دین کا ایک نمائندہ اجلاس 14/ذی الحجہ1381ھ بمطابق 18/مئی 1962ء کو مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا جس میں رابطہ عالم اسلامی کے قیام کی قرارداد منظور کی گئی۔

    رابطہ عالم اسلامی کے قیام کا مقصد دعوت دین اور اسلامی عقائد و تعلیمات کی تشریح اور ان کے بارہ میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات یا معاندین اسلام کے اعتراضات کو بہتر طریقہ سے زائل کرنا ہے اور اس عالمی پیمانہ کی تنظیم کے توسط سے مسلمانانِ عالم کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے اور ان کے تعلیمی و ثقافتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کا کا راستہ ہموار کیا گیا۔ رابطہ عالم اسلامی کسی بھی نوع کے تشدد اور دہشت سے لاتعلق ہو کرعالمی تہذیبوں کے افراد سے مکالمہ و گفتگو کا طریقہ کار اختیار کرتا ہے۔

    کبار علما دین اور داعیان اسلام کی مجلس اعلیٰ جو عالم اسلام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔

    مجلس تاسیسی، یہ رابطہ علام اسلامی کی تجاویز کو روبہ عمل لانے کے لیے امین عام کے لیے رہنما خطوط متعین کرتی ہے۔ اس مجلس کے ارکان کی تعداد ساٹھ ہوتی ہے جو عالم اسلام کی نمایاں شخصیات ہوتی ہیں۔ ان کا انتخاب مجلس تاسیسی میں ہی عمل میں آتا ہے اور کسی بھی ملک سے صرف دو ممبر ہی نامزد کیے جاسکتے ہیں۔

    مجلس اعلیٰ عالمی برائے مساجد۔ عالمی پیمانہ پر مساجد کی تعمیر و نگرانی اور ان کی آبادی کے لیے فکرمندی، ائمہ، خطباء وغیرہ کی تربیت، اوقاف کا تحفظ وغیرہ جیسے امور و مسائل دیکھتی ہے اور اس کے عالمی پیمانہ پر چالیس ارکان نامزد کیے جاتے ہیں۔

    بنیادی طور پر عالم اسلام کے کبارعلماء اور داعیانِ دین کی مجلس ہی رابطہ عالم اسلامی کی مجلس حاکمہ ہے جس کے اب تک چار اجلاس ہائے عام ہوچکے ہیں۔

    پہلا اجلاس عام1381ھ مطابق 1962ء جس میں رابطہ عالم اسلامی کی تجویز منظور ہوئی، دوسرا اجلاس عام 1384ھ مطابق 1965ء جس میں اتحاد اسلام کی اہمیت و ضرورت اور خارجی افکار و نظریات سے اجتناب کی تجاویز منظور کی گئیں۔

    تیسرا اجلاس عام 1408ھ مطابق 1987ء، اس اجلاس کی اہم قراردادوں میں حرمین شریفین کی عظمت، اشہرحرم اور شعائر حج کی تقدیس اور مسلم حکمرانوں کا شعائر اللہ سے خاص تعلق وغیرہ تھیں جبکہ چوتھا اجلاس عام 1423ھ مطابق 2002ء، اس اجلاس کی اہم تجاویز وحدت امت، دعوت الی اللہ، میثاق مکہ اور قضیہ فلسطین وغیرہ منظور ہوئیں۔

    رابطہ عالم اسلامی کا صدر دفتر اولِ روز سے مکہ مکرمہ میں ہے اور اس کے موجودہ سیکریٹری جنرل اور دانشور شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی ہیں رابطہ عالم اسلامی کا امین عام اپنےمعاون امناء کے توسط سےرابطہ کی تمام کارگزاریوں کا اصل نگراں ہوتا ہے۔ وہ مجلس تاسیسی کے متعین کردہ خطوط و ہدایات کی روشنی میں تمام شعبوں کے عملی کاموں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔