Baaghi TV

Tag: خلا

  • آج رات 6 خلائی چٹانیں زمین سے قدرے کم فاصلے سے گزریں گی

    آج رات 6 خلائی چٹانیں زمین سے قدرے کم فاصلے سے گزریں گی

    آج رات کم از کم 6 خلائی چٹانیں زمین سے قدرے کم فاصلے سے گزریں گی۔

    باغی ٹی وی : خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹس اسٹڈیز کے مطابق ان میں سب سے بڑی خلائی چٹان کا نام 2007 EB23 ہے جو زمین سے کم و بیش ساڑھے چار لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گی دنیا بھر کی رصد گاہوں نے اِن خلائی چٹانوں پر نظر رکھی ہوئی ہے اگر اِن میں کوئی بھی بھٹکتی ہوئی زمین کی طرف آئی تو اُسے راستے ہی میں تباہ کردیا جائے گا۔

    ماہرین انتہائی طاقتور دور بینوں سے لیس ہوکر اِن خلائی چٹانوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اِن کا بھرپور جائزہ لینے کا یہ سنہرا موقع ہے، اِن خلائی چٹانوں کا حجم 4.7 سے 48 میٹر تک ہے۔ 2024 XL11 نامی خلائی چٹان کم و بیش 10 میٹر کی ہے جو زمین سے 18 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گی۔

    ایک اور خلائی 2024 XZ11 تقریباً 17 سے 38 میٹر تک کے حجم کی ہے اور زمین سے 47 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گی، کم و بیش 21 تا 48 میٹر حجم کی خلائی چٹان 2018 XU3 کم و بیش 64 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گی، ماہرینِ فلکیات زمین کے تحفظ یقینی بنانے کی خاطر خلائی چٹانوں کی مستقل نگرانی کرتے رہتے ہیں، کسی بڑی خلائی چٹان کے زمین سے ٹکرانے کی صورت میں غیر معمولی تباہی ہوسکتی ہے۔

    ماہرین بتاتے ہیں کہ ہزاروں سال قبل زمین سے کئی خلائی چٹانیں ٹکراچکی ہیں ایک بڑی خلائی چٹان روس کے علاقے سائبیریا سے بھی آ ٹکرائی تھی جس کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی واقع ہوئی تھی بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا بھر سے ڈائنوسارز کا خاتمہ بھی زمین سے ایک بڑی خلائی چٹان کے ٹکرانے ہی سے ممکن ہوا تھا۔

  • خلا میں ٹریفک جام کا خطرہ اٹھ کھڑا ہوا،ماہرین پریشان

    خلا میں ٹریفک جام کا خطرہ اٹھ کھڑا ہوا،ماہرین پریشان

    زمین کے نچلے مدار میں ہزاروں مصنوعی سیارے گردش کر رہے ہیں مصنوعی سیاروں کی غیر معمولی تعداد کے باعث وہاں ٹریفک جام ہونے کا خطرہ اٹھ کھڑاہوا ہے اس حوالے سے ماہرین بہت پریشان ہیں۔

    باغی ٹی وی: اکتوبر میں اقوام متحدہ کے ایک پینل نے اس بات پر زور دیا تھا کہ زمین کے نچلے مدار میں گردش کرنے والی تمام اشیا کی مشترکہ ڈیٹا بیس تیار کی جانی چاہیے تاکہ ٹریفک جام کی کیفیت پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جاسکیں۔

    زمین کے نچلے مدار میں اس وقت 14 ہزار سے زیادہ مصنوعی سیارے گردش کر رہے ہیں ان میں سے 3500 غیر فعال ہیں۔ ماضی کی لانچنگز اور تصادم کے نتیجے میں زمین کے مدار میں ملبے کے 12 کروڑ ٹکڑے گھوم رہے ہیں اس حوالے سے صورتِ حال تیزی سے بگڑتی جارہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے جس پینل نے مشترکہ ڈیٹا بیس کی ضرورت پر زور دیا ہے اس میں شریک سربراہ آرتی ہولا مائنی ہیں جو بیرونی خلا سے متعلق اقوامِ متحدہ کے دفتر کی ڈائریکٹر ہیں اُن کا کہنا ہے کہ خلائی ٹریفک کےمعاملات کو درست کرنے کے معاملے میں مزید تساہل کی گنجائش نہیں تمام آپریٹرز کے درمیان معلومات کا تبادلہ کیا جانا چاہیے تاکہ تصادم سے بچا جاسکے۔

    عالمگیر سطح پر رابطوں، نیویگیشن سسٹمز کی عمدہ کارکردگی اور خلائی تحقیق کے لیے زمین کے نچلی مدار کی سلامتی لازم ہے اس مدار میں گھومنے والی چیزوں کی ٹریکنگ اور مینیجنگ کے لیے سینٹرلائزڈ سسٹم تیار کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

    مسئلہ یہ ہے کہ چند ہی ممالک اپنے مصنوعی سیاروں کے بارے میں ڈیٹا مکمل طور پر شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں بہت سے ممالک اپنے مصنوعی سیاروں کے بارے میں ڈیٹا شیئر کرنے سے اس لیے گریزاں ہیں کہ ان کے مصنوعی سیارے انٹیلی جنس کی سرگر میو ں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔

    تجارتی ادارے بھی اپنی بنیادی معلومات کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اس حوالے سے ہچکچاہٹ کے باعث مصنوعی سیاروں کا ڈیٹا مکمل طور پر شیئر نہیں کیا جارہا خلا میں مصنوعی سیاروں کے درمیان تصادم ٹالنے کے لیے غیر رسمی طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔

    چند حالیہ واقعات نے لازم کردیا ہے کہ زمین کے نچلے مدار میں تصادم کو ٹالنے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششیں کی جائیں اگست میں چین کا ایک راکٹ زمین کے نچلے مدار میں پھٹ گیا تھا اور اُس ملبے پورے مدار میں بکھر گیا تھاجون میں روس کا ایک ناکارہ مصنوعی سیارہ پھٹ گیا تھاجس کےباعث انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کو ایک گھنٹے تک غیر معمولی احتیاط کےساتھ الگ تھلگ بیٹھنا پڑا تھا۔

    اسپیس ایکس نامی ادارہ ہزاروں اسٹار لنک سیٹلائٹ بھیجنے کی منصوبہ سازی کر رہا ہے جس کے نتیجے میں تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اگلے چند برسوں میں مزید ہزاروں مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیجے جانے کا امکان ہے اس کے نتیجے میں وہاں مزید ٹریفک جام پیدا ہوگا۔

  • ایک اور کامیابی،پاکستان کا کمیونیکیشن سیٹلائٹ  ایم ایم ون  خلا میں روانہ

    ایک اور کامیابی،پاکستان کا کمیونیکیشن سیٹلائٹ ایم ایم ون خلا میں روانہ

    پاکستان کی جانب سے دوسرا کمیونیکیشن سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم 1 خلا میں لانچ کردیا گیا

    سیٹلائیٹ چین کے شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا، سیٹلائٹ کا وزن 5 ٹن ہے جبکہ یہ جدید ترین مواصلاتی آلات سے لیس ہے، ترجمان سپارکو کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے پاکستان کےطول وعرض میں تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جاسکےگی، سیٹلائٹ زمین سے 36000 کلومیٹر کی اونچائی پر خلا میں داخل کیا جائے گا،سیٹلائٹ کو زمین سے خلا تک پہچنے میں چار روز لگ سکتے ہیں، سیٹلائٹ ای کامرس،ای گورننس اورمعاشی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، ایم ایم 1 سیٹلائٹ سپارکو اور چائنیز ایرواسپیس انڈسٹری کے اشتراک سے بنایا گیا ہے،پاک سیٹ ایم ایم 1، 15 برس تک کام کرے گا، پاک سیٹ ایم ایم 1 ٹی وی نشریات، سیلولر فون اور براڈ بینڈ سروس بہتربنانےمیں مدد دے گا،پاک سیٹ ون ایم ایم 1 رواں برس اگست میں سروس دینا شروع کر دے گا، پاک سیٹ ایم ایم 1 کے اے بینڈ 10 گیگابائٹس فی سیکنڈ صلاحیت کا حامل ہے۔

    اس وقت پاکستان کے 2 کمیونیکیشن سیٹلائٹس خلا میں موجود ہیں، پاک سیٹ ون آر 2011میں لانچ کیاگیا تھا، اس کی لائف 15سال تھی جو 2026 میں مکمل ہوگی، پاکستان کا ایک اور ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی خلا میں موجود ہے، پی آر ایس ایس 1، 2018 میں لانچ کیا گیا تھا۔

    مواصلاتی سیٹلائٹ کے مدار میں بھیجے جانے پر وزیراعظم کی قوم کو مبارکباد
    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مواصلاتی سیٹلائٹ کے مدار میں بھیجے جانے پر قوم کو مبارکباد دی ہے،وزیراعظم شہبا ز شریف کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے سائنسدانوں کی اس شاندار کامیابی پر فخر ہے۔ پاک سیٹ ایم ایم ون کے زمین کے مدار میں بھیجے جانے سے ایک عظیم سنگ میل عبور کر لیا گیا۔چین کے لانچنگ سینٹر سے سیٹلائٹ کا خلاء میں بھیجا جانا پاک چین مضبوط شراکت داری کا مظہر ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام جدت اور ٹیکنالوجی کے ثمرات سے استفادہ کر سکیں گے،سیٹلائٹ مواصلاتی نظام میں ایک نئی روح پھونکے گا۔ سیٹلائٹ سے پورے ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جاسکے گی۔

  • ناسا نے خلا میں جانیوالوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ دیدی

    ناسا نے خلا میں جانیوالوں کو درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ دیدی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں جانے کی خواہش رکھنے والے شہریوں کو 2 اپریل تک درخواستیں جمع کرانے کا وقت دیدیا ہے –

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست 10 نئے خلاباز گریجویٹس کی جانب سے ابتدائی دو سال کی تربیت مکمل کرنے کے ساتھ مشروط ہے خلاباز بننے کے لیے درخواست دہندگان کو امریکی شہری ہونا چاہیے جس کے پاس پہلے سے ہی کسی تسلیم شدہ ادارے سے انجینئرنگ، بائیولوجیکل سائنس، فزیکل سائنس، کمپیوٹر سائنس یا ریاضی میں ماسٹر ڈگری اور ڈاکٹریٹ ڈگری ہو جبکہ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ شعبے میں دو سال کا تجربہ بھی ہو۔

    درخواست گزار کی قابلیتوں کا جائزہ ناسا کا ایسٹروناٹ سلیکشن بورڈ لے گا جو ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر میں انتہائی قابل درخواست دہندگان کے گروپ کو پہلے انٹرویو کے مرحلے کیلئے بلائے گا، بعدازاں اس گروپ میں سے بھی باصلاحیت ترین نصف کو انٹرویو کے دوسرے دور کے لیے چنا جائے گا، پھر اگر درخواست دہندگان انٹرویو کے دوسرے مرحلے کو بھی پاس کرلیتے ہیں تو وہ خلابازی کی بنیادی مہارتوں جیسے کہ اسپیس اسٹیشن کے نظام اور آپریشنز، T-38 جیٹ طیارے کو اڑانے، روبوٹکس اور خلا میں چہل قدمی کی ٹریننگ کیلئے واپس جانسن اسپیس سینٹر میں جا کر تربیت حاصل کریں گے۔

    ناسا کے مطابق اس کا مقصد انہیں مستقبل میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن، چاند یا کمرشل اسپیس فلائیٹ کے لیے اہل بنانا ہے،جہاں تک مریخ کے مشن کا تعلق ہے، تو وہ 2030 کی دہائی میں ہی کسی وقت ممکن ہوسکے گا۔

  • ایلون مسک کی کمپنی کا تیارکردہ راکٹ رواں ہفتے پہلی بار خلا میں جائے گا

    ایلون مسک کی کمپنی کا تیارکردہ راکٹ رواں ہفتے پہلی بار خلا میں جائے گا

    ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا تیار کردہ انسانی تاریخ کا سب سے طاقتور خلائی راکٹ ایک بار پھر زمین کے مدار کی جانب پرواز کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے تیار کردہ اسٹار شپ راکٹ کی 17 نومبر کو رواں سال کے دوران اولین پرواز کے لیے یہ دوسری کوشش ہوگی اس سے قبل 20 اپریل کو اسٹار شپ راکٹ اڑان بھرنے کے 4 منٹ بعد دھماکے سے پھٹ گیا تھا،جس کے بعد امریکی ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اسپیس ایکس کو اسٹار شپ کے مزید تجربات سے روک دیا تھا۔

    تاہم اب ایلون مسک نے بتایا کہ اسٹار شپ کو 17 نومبر کو لانچ کیا جائے گا زمین کی مدار کی جانب سے بھیجی جانے والی آزمائشی پرواز کے دوران اسٹار شپ کے بوسٹر کو لانچ کے 3 منٹ بعد الگ ہوکر خلیج میکسیکو میں گرنا ہوگا اس کے بعد یہ راکٹ سطح سے 150 میل کی بلندی پر زمین کے گرد خلا میں چکر لگا کر ریاست ہوائی کے ساحل پر اترے گا اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو اسٹار شپ کا یہ سفر ڈیڑھ گھنٹے کا ہوگا۔

    غیر ملکی کوچز کی تبدیلی کا امکان،بابراعظم کی کپتانی بھی خطرے میں

    اسٹار شپ راکٹ 120 میٹر لمبا ہے جس کا وزن 50 لاکھ کلوگرام ہے اور آزمائشی پرواز میں کوئی انسان موجود نہیں ہوگا اسٹار شپ کو بار بار استعمال کرنا ممکن ہوگا اور یہ بنیادی طور پر 2 حصوں پر مشتمل ہے ایک سپر ہیوی بوسٹر ہے، جو ایسا بڑا راکٹ ہے جس میں 33 انجن موجود ہے جبکہ دوسرا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ ہے جو بوسٹر کے اوپر موجود ہے جو اس سے الگ ہو جاتا ہے،امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی اسپیس ایکس سے اربوں ڈالرز کے معاہدے کیے ہیں تاکہ اسٹار شپ کے ذریعے انسانوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح پر پہنچایا جاسکے۔

    عبدالرزاق کوایشوریا رائے کے بارے میں ریمارکس پر شدید تنقید کا سامنا

  • سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

    سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

    متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل کرنے کے بعد زمین کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: سلطان النیادی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 184 دنوں تک قیام کے بعد متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق اتوار کو سہ پہر تین بج کر پانچ منٹ پر مدار سے روانہ ہوئے اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول پر سلطان النیادی کے دھماکے کی براہ راست کوریج میں اس لمحے کی عکاسی کی گئی جب انھوں نے آخری الوداعی تقریب میں شرکت کی۔

    خلا میں اپنے آخری دن، النیادی نے کیپسول کا دروازہ بند ہونے سے پہلے خلائی اسٹیشن پر اپنے دوستوں کو الوداع کہا وہ اسپیس ایکس سوٹ پہنے ہوئے نظرآئے انھوں نے کچھ حتمی جانچ کی اور وہ ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ناسا کے مشن کنٹرول اسٹیشن سے حتمی منظوری کا انتظار کر رہے تھے۔

    جی 20 اجلاس میں چینی صدرکےشرکت نہ کرنے پرمجھے بہت مایوسی ہوئی،جوبائیڈن

    سلطان النیادی امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلاباز اسٹیفن بووین اور ووڈی ہوبرگ اور روسی خلاباز آندرے فیدیف کے ہمراہ پیر کی صبح 8 بج کر 7 منٹ پر فلوریڈا کے ساحل پر اُتریں گے انھوں نے اپنے پیغام میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے روانہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اپنی روانگی سے چند گھنٹے قبل، النیادی نے آخری بار سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ خلا، یہ الوداع نہیں ہے۔ میں آپ سے پھرملوں گا، چاہے وہ آئی ایس ایس کے لیے نیا مشن ہو یا کسی دور کی منزل کے لیے سفر، میں اپنے خوابوں کو کامیابیوں میں بدلنے کے لیے اپنے پیارے ملک کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب کے اعتماد اور محبت کا ممنون ہوں ہماری محفوظ واپسی کی خواہش ہے، ہم جلد ہی ملیں گے،جمعہ کے روز النیادی نے خلا سے زمین کی آخری جھلک کی ایک ویڈیو شیئرکی تھی اور لکھا تھا کہ یہ خوب صورت نظارہ ہمیشہ میرے ذہن پر نقش رہے گا-

    سویڈن حکومت کوقرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات کی وجہ سےلاکھوں ڈالرکا نقصان


    متحدہ عرب امارات کے خلاباز نے مدار میں مجموعی طور پر186 دن گزارے اور ایک خلائی واک مکمل کی، جس کا مجموعی دورانیہ سات گھنٹے اور ایک منٹ تھا۔آئی ایس ایس پر طویل ترین عرب خلائی مشن مکمل کرنےکےساتھ ساتھ، النیادی نے مئی میں سعودی خلابازوں علی القرنی اور ریانہ برناوی کے ساتھ بھی آٹھ دن تک کام کیا تھا،النیادی اپنے ملک سے خلا میں پرواز کرنے والے دوسرے شخص ہیں اور طویل مدت کے لیے خلائی اسٹیشن ٹیم کے حصے کے طور پر امریکی سرزمین سے روانہ ہونے والے پہلے شخص ہیں۔ انھوں نے مدار میں گردش کرنے والی چوکی پر 200 سے زیادہ تجربات کیے۔

    جمعہ کو متحدہ عرب امارات بھر میں الیکٹرانک بل بورڈز پر النیادی کے وطن لوٹنے کی الٹی گنتی دکھائی گئی جس پر لکھا تھا کہ محفوظ سفر، سلطان، توقع ہے کہ امریکا میں طبی معائنے کے بعد وطن واپسی پر اماراتی شہری کا ہیرو کی طرح استقبال کیا جائے گا۔

    جی 20 اجلاس میں چینی صدرکےشرکت نہ کرنے پرمجھے بہت مایوسی ہوئی،جوبائیڈن

    ناسا کی جانب سے براہ راست نشر کی جانے والی الوداعی تقریب میں سلطان النیادی کوخلا میں اپنے وقت پرغورکرتے ہوئے دیکھا گیا انھوں نے کہا کہ اس تاریخی مشن کو پورا کرنے میں ہماری مدد کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ۔ ایک حیرت انگیز وقت، چھ ماہ، یہ واقعی جلد گزرتے محسوس ہوا۔ہم یہاں ایک خاندان کی طرح کام کرتے تھے، آئی ایس ایس پر چھ ماہ کی سائنسی تحقیق ناقابل یقین تھی-

    ان کے تجربات میں خلا میں انسانی خلیات کی نشوونما کا جائزہ، مائکرو گریویٹی میں آتش گیر مواد کو کنٹرول کرنا، دل، دماغ اور کارٹیلیج افعال پر ٹشو چپ کی تحقیق، نیند کے معیار کا مطالعہ کرنا جس کا مقصد خلابازوں کے لیے توسیعی خلائی مشنوں کے دوران میں نیند کے معیار اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے تھراپی کی تیاری میں مدد کرنا اور انسانی دل پر مائیکرو گریویٹی کے اثرات شامل ہیں،اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے آئی ایس ایس پر دیکھ بھال کے کام بھی کیے ہیں۔

    جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

  • خلاباز سلطان النیادی 6 ماہ خلائی مشن کے بعد واپس آرہے

    خلاباز سلطان النیادی 6 ماہ خلائی مشن کے بعد واپس آرہے

    متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی خلا میں چھے ماہ رہنے کے بعد کامیاب تاریخی مشن کے بعد زمین پرلوٹنے کی تیاری کررہے اور جبکہ اب تک کسی عرب خلانورد کا طویل خلائی سفر ہے۔وہ خلائی واک کرنے والے متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے پہلے عرب ہیں۔انھوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر سعودی خلابازوں علی القرنی اور ریانہ برناوی کا استقبال کیا تھا جبکہ دوستمبر کو النیادی آئی ایس ایس سے روانہ ہوں گے، جہاں وہ 3 مارچ سے کام کر رہے ہیں۔ اس طرح ان کا وطن واپسی کے لیے 24 گھنٹے کا سفر شروع ہوگا۔ انھوں نے اپنے مشن کے دوران میں کئی ریکارڈ توڑ اور زمین پر زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اہم تجربات کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں عرب میڈیا کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اماراتی خلاباز ناسا کے خلاباز اسٹیفن بووین،ووڈی ہوبرگ اور روسی خلاباز آندرے فیدیف کے ساتھ اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول پر اتوار کو امریکا کے شہر فلوریڈا کے ساحل پر اتریں گے جبکہ متحدہ عرب امارات کے خلائی پروگرام کے سربراہ اور محمد بن راشد خلائی مرکز کے ڈائریکٹر جنرل سلیم المری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ سلطان اور کریو 6 اب زمین پر واپس آنے کی تیاری کررہے ہیں اور ہم ان کا استقبال کرنے کوتیار ہیں۔

    جبکہ سلطان النیادی اپنے ملک سے خلا میں پرواز کرنے والے دوسرے شخص ہیں اور طویل مدت کے لیے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی ٹیم کے حصے کے طور پر امریکی سرزمین سے روانہ ہونے والے پہلے شخص ہیں۔انھوں نے مدار میں گردش کرنے والی چوکی پر 200 سے زیادہ تجربات کیے ہیں اور اپریل میں وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب خلاباز بن گئے تھے، جس کے لیے انھوں نے جانسن اسپیس سنٹر، ہیوسٹن میں ناسا کی نیوٹرل بویئنسی لیبارٹری (این بی ایل) میں 55 گھنٹے سے زیادہ کی تربیت حاصل کی تھی۔ سات گھنٹے تک جاری رہنے والی اپنی اسپیس واک کے دوران میں النیادی نے آئی ایس ایس پر پاور چینلز کی تجدید کا کام کیا۔

    العربیہ اردو کے مطابق اس وقت بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے النیادی نے کہا تھا کہ’’میں نے ایسا محسوس نہیں کیا کیونکہ میں واقعی مشن پر توجہ مرکوز کر رہا تھا اور یہ بہت اچھا احساس تھا، صرف یہ دیکھ کر کہ آپ خلائی سوٹ میں تیر رہے ہیں‘‘۔ان سے قبل 2019 میں آئی ایس ایس پر پہلے اماراتی خلانورد ہزاع المنصوری نے قدم رکھا تھا اور ان سے بھی پہلے 1985 میں سعودی عرب کے شہزادہ سلطان بن سلمان خلا میں جانے والے پہلے عرب تھے جبکہ سلطان النیادی نے خلا میں سیکڑوں تجربات کیے ہیں۔ان میں خلا میں انسانی خلیات کی نشوونما، مائکرو گریویٹی میں آتش گیر مواد کو کنٹرول کرنا، دل، دماغ اور کارٹیلیج افعال پر ٹشو چپ کی تحقیق، نیند کے معیار کا مطالعہ کرنا جس کا مقصد خلابازوں کے لیے توسیعی خلائی مشنوں کے دوران میں نیند کے معیار اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے تھراپی کی تیاری میں مدد کرنا اور انسانی دل پر مائیکرو گریویٹی کے اثرات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے آئی ایس ایس پر دیکھ بھال کے کام بھی کیے ہیں۔

    مئی میں سعودی عرب نے تاریخ رقم کی جب اس نے کامیابی کے ساتھ اپنے دو شہریوں کو آئی ایس ایس میں بھیجا ، جو قریباً چار دہائیوں میں خلا میں قدم رکھنے والے مملکت کے پہلا شہری تھے جبکہ النیادی آئی ایس ایس پرریانہ برناوی اور علی القرنی کا ذاتی طور پر استقبال کرنے کے لیے موجود تھے جہاں تین عرب خلابازوں نے آٹھ دن تک شانہ بشانہ کام کیا۔ اس مشن نے مملکت کو پہلا ملک بنا دیا جو آئی ایس ایس کی سرکاری شراکت داری کا حصہ نہیں تھا جس میں ایک ہی وقت میں دو خلاباز موجود تھے۔ یہ پہلا موقع ہے جب دو عرب ممالک کے خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ملاقات کی تھی۔

    علاوہ ازیں اپنے مشن کے دوران میں ریانہ برناوی اور القرنی نے بھی متعدد تجربات کیے ہیں۔ ان میں کینسر کی پیشین گوئی اور روک تھام کے بارے میں تحقیق اور چاند اور مریخ پر مستقبل میں انسانی بستیوں میں مصنوعی بارش پیدا کرنے کے بارے میں ایک مطالعہ شامل ہے. پر اپنے وقت کے دوران میں سلطان النیادی نے انسانی مدافعتی خلیات کی تحقیق کے لیے برناوی کے ساتھ مل کر کام کیا جبکہ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انکشاف کیا کہ خلا میں اپنے وقت کے دوران النیادی نے متعدد بار زمین کے گرد چکر لگائے اور ہر روز 16 طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کا مشاہدہ کیا، جس پر انھوں نے آئی ایس ایس پر اپنی روزمرہ کی زندگی کو شیئر کرنے کے لیے خلا سے سیکڑوں بار پوسٹ کیا ہے۔

    تاہم ان کی پوسٹوں میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر، برطانیہ، فرانس، لبنان، لیبیا، تُونس، جبل الطارق، عراق، پورے براعظم ایشیا، بھارت، جاپان، پاکستان، سنگاپور، مصر، اسپین، شام، برازیل، آسٹریلیا، اٹلی، اسرائیل، ترکیہ، یمن، کویت، اردن، عمان اور مراکش سمیت دنیا بھر کے ممالک کی حیرت انگیز تصاویر شامل تھی اور آئی ایس ایس پر اپنے چھے ماہ کے سفر میں انھوں نے سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ، پیرس میں ایفل ٹاور، ہمالیہ، مصر کی نہر سویز، برازیل میں ایمیزون کے برساتی جنگلات، یوٹاہ کی گریٹ سالٹ لیک اور دبئی کے انسانی ساختہ مشہور جزیرے پام جمیرہ جیسی عالمی شہرت یافتہ عمارتوں کی تصاویر حاصل کیں۔

    عرب میڈیا نے لکھا کہ النیادی نے کئی ایک عالمی مظاہر کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ان میں خلیج عرب پر ایک ٹراپیکل طوفان کی تشکیل، ترکیہ اور یونان میں جنگلات کی آگ اور فلپائن میں فعال آتش فشاں شامل ہیں، آئی ایس ایس پر اپنے اہم مشن کے ساتھ ساتھ ، النیادی نے مدار میں گردش کرنے والے خلائی اسٹیشن پر اپنے ڈاؤن ٹائم کی تصاویر بھی شیئر کیں ، جس میں خلا سے اماراتی شہد کھانا ، جیوجیتسو کی مشق کرنا ، صفر گریویٹی فٹنس معمولات کرنا ، اپنے عملہ کے ساتھیوں کے ساتھ گیمز کھیلنا ، کامکس پڑھنا ، یوگا اور یہاں تک کہ مئی میں خلا میں کیک کے ساتھ اپنی سالگرہ منانا شامل ہے۔

    النیادی نے ‘اے کال فرام اسپیس’ نامی مہم کے ایک حصے کے طور پر متعدد لائیو کالز کے ذریعے اپنے آبائی ملک کے مکینوں اور طالب علموں کے ساتھ مشغول ہونے کے لیے خلا میں وقت گزارہ اور انھوں نے ساتوں امارات کے اسکولی بچّوں کو خلا کی کہانیوں اور کائنات کے عجائبات کے بارے میں آگاہ کیا۔کم سن طالب علموں نے اماراتی خلاباز سے آئی ایس ایس پر زندگی کے بارے میں سوالات پوچھے جس سے خلا کے شوقین افراد کی ایک پوری نئی نسل کے عزائم کو تقویت ملی جبکہ سلطان النیادی نے متحدہ عرب امارات سے خلائی مشن کے لیے روانہ ہوتے وقت اپنی ایک علامت ساتھ رکھی ہے اور یہ رنگا برنگا اور بھرا ہوا کھلونا سہیل تھا۔ سہیل ستارے کینوپس کا عربی نام ہے۔

    علاوہ ازیں محمد بن راشد خلائی مرکز سے تعلق رکھنے والے سعید العمادی نے اگلی نسل میں خلائی اور ایس ٹی ای ایم مضامین (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کارٹون کردار تیار کیا تھا۔ آئی ایس ایس پر شیئر کی جانے والی متعدد ویڈیوز اور پیغامات میں النیادی کا بھرا ہوا کھلونا ان کے ساتھ رہا ہے جبکہ النیادی کے خلائی مشن کو متحدہ عرب امارات کے رہ نماؤں کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا کہ میں سلطان النیادی کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے اہم مشن کا آغاز کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کی متاثر کن کامیابی متحدہ عرب امارات کے لیے بڑے فخر کا باعث ہے اور ہماری قوم کے سفر اور ہمارے عوام کے عزائم میں ایک اور سنگ میل ہے۔

    علاوہ ازیں آئی ایس ایس پر اترنے کے صرف چار دن بعد انھوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے خلا سے فون پر بات چیت کی جبکہ اس ویڈیو کال میں شیخ محمد نے سلطان النیادی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا: میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ متحدہ عرب امارات اور عرب دنیا کے نوجوان آپ کو ایک مثال کے طور پر لے رہے ہیں اور آپ کے لیے نیک خواہشات کااظہار کررہے ہیں، شیخ محمد بن راشد کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھے ماہ کے مشن پر جانے والے پہلے عرب خلاباز سلطان النیادی نے ہمارے نوجوانوں کے لیے نئے دروازے کھولے، ہماری نسلوں کی امنگوں کو بلند کیا اور ہمارے روشن مستقبل کے کی نمائندگی کی ہے۔

    جبکہ النیادی کا مشن متحدہ عرب امارات کے لیے خلا سے متعلق تازہ ترین سنگ میل ہے۔معیشت کو فروغ دینے اور عالمی خلائی رہ نما بننے کی اپنی جاری کوششوں میں ،امارات نے اپنے 10 سالہ منصوبے کے حصے کے طور پر خلائی شعبے میں قریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے علاوہ ازیں ایک اہم سنگ میل 2020 میں ہوپ (امید) خلائی جہاز کا مریخ پر کامیاب لانچ تھا۔ متحدہ عرب امارات فروری 2021 میں مریخ کے مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل ہونے والا پہلا عرب اوردنیا کا دوسرا ملک بن گیا جب اس کا امیدِ تحقیق خلائی جہاز سرخ سیارے پر پہنچا تھا۔

    جبکہ عرب میڈٰا نے لکھا کہ یواے ای 10 نئے خلائی جہاز تیار کررہا ہے۔ اس کے علاوہ 20 سے زیادہ مدار سیٹلائٹس کا مالک ہے اور 80 سے زیادہ بین الاقوامی،اُبھرتی ہوئی خلائی کمپنیوں، اداروں اور تنصیبات اور خلائی سائنس کے پانچ تحقیقی مراکز کا گھر ہے، اس کے اقدامات میں قومی خلائی حکمت عملی 2030 شامل ہے ، جس کا مقصد قومی معیشت میں خلائی شعبے کی شراکت کو بہتر بنانا ہے ، اور امارات کا خلائی پروگرام سائنسی اور انسانی تلاش کے مشنوں کے لیے خلابازوں کی ایک قومی ٹیم تیار کررہا ہے۔

    تاہم علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات نے مئی میں نظام شمسی کے مرکزی سیارچے کی بیلٹ کی تلاش کے لیے ایک خلائی جہاز بھیجنے کے منصوبوں کی بھی نقاب کشائی کی تھی۔ امارات مشن برائے ایسٹرائیڈ بیلٹ نامی اس منصوبے کا مقصد آنے والے برسوں میں ایک خلائی جہاز تیار کرنا اور پھر اسے 2028 میں مختلف سیارچوں کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کرنا ہے جبکہ سلطان النیادی اوران کے عملہ کے ساتھیوں سے کنٹرول حاصل کرنے کے لیے خلانوردوں کا ایک نیا سیٹ آئی ایس ایس پر اترا ہے۔ کریو 7 – میں امریکا، جاپان اور ڈنمارک کے خلاباز شامل ہیں۔ وہ گذشتہ اتوارکو مدار میں اترے تھے۔ کریو 7 زمین پر انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے نئی سائنسی تحقیق کرے گا اور زمین کے نچلے مدار سے باہر انسانی تلاش کے لیے تیار ہوگا۔اس کے تجربات میں خلائی اسٹیشن کے بیرونی حصے سے مائکروبیل نمونے جمع کرنا، مختلف خلائی پروازوں کے دورانیے پر انسانی ردعمل کا پہلا مطالعہ اور خلائی مشن کے دوران میں خلابازوں کی نیند کے جسمانی پہلوؤں کی تحقیقات شامل ہیں اور زمین پراُترنے کے بعد،سلطان النیادی کے ابتدائی دن امریکا میں طبی معائنے کے لیے وقف ہوں گے، جس کے بعد وہ متحدہ عرب امارات لوٹیں گے، کچھ عرصے کے بعد وہ مشن کی مزید ڈی بریفنگ کے لیے امریکا واپس جائیں گے، متحدہ عرب امارات میں مقیم ہونے کے بعد وہ ملک گیر روڈ شوز میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس میں وہ عوام بالخصوص طلبہ کے ساتھ اپنے قیمتی تجربات شیئر کریں گے۔

  • ورجن گیلیکٹک نے اپنی پہلی خلائی سیاحتی پرواز کا اعلان کر دیا

    ورجن گیلیکٹک نے اپنی پہلی خلائی سیاحتی پرواز کا اعلان کر دیا

    کیلیفورنیا: خلائی سیاحت کی کمپنی ورجن گیلیکٹک نے اپنی پہلی خلائی سیاحتی پرواز کا اعلان کر دیا۔ کمپنی کے مطابق یہ پرواز 10 اگست تک روانہ ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: یہ فرم امریکہ میں قائم ان چند خلائی کمپنیوں میں شامل ہے، جس میں جیف بیزوس کی بلیو اوریجن اور ایلون مسک کی اسپیس ایکس شامل ہیں، تاکہ تجارتی خلائی آپریشنز اور خلائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے،برطانوی ارب پتی رچرڈ برانسن کے ذریعہ قائم کردہ کمپنی کے حصص بیل سے پہلے ٹریڈنگ میں تقریبا 3 فیصد بڑھ گئے، اس سال اب تک 11 فیصد اضافے کے بعد۔

    کمپنی نے کہا کہ عملے، پائلٹوں اور 10 اگست کو شروع ہونے والے مشن کے لیے فلائٹ مینی فیسٹ کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    گیلیکٹک 02 نامی اس مشن میں تین مسافر شامل ہوں گے جنہوں نے اس سفر کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالرز یا ساڑھے چار لاکھ ڈالرزکی رقم ادا کی ہے۔ تاہم، خلائی جہاز میں جانے والے عملے کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے،یہ مسافر ’وی ایم ایس اِیو‘ نامی طیارے سے کے نیچے جڑے ایک راکٹ پلین ’یونیٹی‘ میں سوار ہوں گے طیارہ ان کو خلاء کی جانب لے کر جائے گا اور45 ہزار فِٹ کی بلندی پر پہنچنے کے بعد یہ راکٹ پلین طیارے سے علیحدگی اختیار کر لے گا کمپنی کے مطابق عملے اور مسافروں سمیت پرواز کے متعلق معلومات بتائی جائیں گی اور لانچ کو لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

    اس سے قبل کمپنی کے پہلے مشن گیلیکٹک 01 میں تین ممبران پر مشتمل عملہ مختصر سی سب آربیٹل پرواز کر چکا ہے۔ 90 منٹ کے دورانیے والے اس مشن نے نیو میکسیکو میں قائم اسپیس پورٹ امیریکا سے پرواز بھری تھی۔ اگست میں متوقع پرواز بھی اس ہی اسپیس پورٹ سے لانچ کی جائے گی۔

    یونیٹی نام والا راکٹ پلین جڑا ہوگا اِیو طیارہ یونیٹی کو زمین کی سطح سے اوپر لے کر چھوڑ دے گا۔ بعد ازاں یونیٹی کے انجن چلیں گے اور خلاء میں پہنچ کر بند ہوجائیں گے۔

    ناسا کی پرسرویرینس نامی روورنےمریخ پرنامیاتی مرکب دریافت کرلیا

  • آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ ٹرافی کی خلا میں رونمائی،ویڈیو

    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ ٹرافی کی خلا میں رونمائی،ویڈیو

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے رواں برس اکتوبر میں شیڈول آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 کی ٹرافی کی رونمائی کے لیے منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے اسے خلا میں بھیج دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ جے شاہ نے ٹویٹر پر ورلڈ کپ ٹرافی کی خلا میں لانچ اور پھر واپسی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی ورلڈکپ 2023 کی ٹرافی کی دنیا سے باہر خلا میں رونمائی کی گئی، کسی بھی اسپورٹس ایونٹ کی پہلی آفیشل ٹرافی ہے جسے خلا میں بھیجا گیا کرکٹ کا کھیل کسی بھی دوسرے اسپورٹس سے زیادہ بھارتی قوم کو متحدہ رکھتا ہے۔

    ایشین ہاکی چیمپئینز ٹرافی 3 اگست کو بھارت میں ہو گی

    خصوصی طور پر تیار کیے گئے غبارے کے ذریعے ٹرافی کو سطح زمین سے ایک لاکھ 20 ہزار فٹ کی بلند پر ارضی مدار سے تقریباً باہر بھیجا گیا، جہاں پر درجہ حرارت منفی 65 ڈگڑی سینٹی گریڈ تھا، ٹرافی کا 99 اعشاریہ 5 فیصد حصہ زمین کے مدار سے باہر تیرتا رہا، مدار میں پہنچنے کے بعد ورلڈ کپ ٹرافی نےزمین کی جانب سفر شروع کیا اور یہ سیدھی احمد آباد کے نریندرمودی اسٹیڈیم میں جا اتری ارضی مدار تک پہنچنے اور پھر واپسی کے سفر کے لمحات کو غبارے پر نصب جدید اور طاقت ور کیمروں نے قید کیا آئندہ چند ماہ کے دوران ورلڈ کپ ٹرافی 18 ممالک کا سفر کرے گی۔

    بلوچستان ہائیکورٹ نے پی سی بی چیئرمین کیلئے الیکشنز روک دیئے

    ٹرافی کی لانچ پر آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو جیف الرڈائس نے کہا کہ ورلڈ کپ ٹرافی کا ٹور اس اہم ترین ورلڈ ٹورنامنٹ کی جانب سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو آئی سی سی کا اب تک سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا۔

    واضح رہے کہ ایک روزہ ورلڈ کپ کا 13 واں ایڈیشن رواں سال بھارت میں5 اکتوبر تا 19 نومبر کھیلا جائے گا جس میں 10 ممالک کی ٹیمیں حصہ لیں گی ورلڈ کپ کےشیڈول کا اعلان کل یعنی 27 جون کو کیا جائے گا آئی سی سی ورلڈ کپ ٹرافی 31 جولائی سے 4 اگست تک پاکستان کا دورہ کرے گی-

    قومی کوہ پیما ساجد سدپارہ کا ایک اور کارنامہ

  • اماراتی خلاباز نے خلا سےمسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی ویڈیو شیئر کردی

    اماراتی خلاباز نے خلا سےمسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی ویڈیو شیئر کردی

    متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے سعودی عرب کی مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی ویڈیو شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی: اماراتی خلاباز سلطان النیادی اس وقت بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن میں ناسا کے 6 ماہ طویل مشن پر موجود ہیں اور وہیں سے وہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے باقاعدہ اپ ڈیٹس شیئر کر تے رہتے ہیں۔

    رمضان کی27 ویں شب،مسجدالحرام کےاطراف کی سڑکیں نمازیوں سے بھر گئیں،ویڈیو

    پیر کو رمضان کی27 ویں شب کے موقع پر سلطان النیادی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر خلا سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کے مناظر شیئر کیے سلطان النیادی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خلا سے نیچے زمین پر دکھنے والے اندھیرے میں بظاہر مسجدالحرام اور مسجد نبوی ﷺ روشن دکھائی دے رہی ہیں۔


    سلطان النیادی نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ ‘بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ان بابرکت راتوں پر سعودی شاہ سلمان کے بچوں کے لیے تحفہ ‘۔

    سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم


    واضح رہے کہ سلطان النیادی 28 اپریل کو ناسا کے فلائٹ انجنیئر اسٹیفن باؤن کے ہمراہ ساڑھے 6 گھنٹے طویل ’اسپیس واک‘ کا حصہ ہوں گےجس کےبعد وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والےپہلے عرب خلا بازکا اعزازحاصل کرلیں گے سلطان النیادی نے ناسا کے خلا میں مائیکرو گریوٹی میں انسانی خلیےکی نشونما پر تجربات کیلئے بھیجے گئے مشن کے ہمراہ 2 مارچ کو کینیڈی اسپیس اسٹیشن سے خلا کا سفر شروع کیا تھا –

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    یو اے ای کے خلاباز احمد النیادی کو اسپیس واک کیلئے ناسا کی جانب سے جونسن اسپیس سینٹر کی نیوٹرل بویانسی لیبارٹری میں 55 گھنٹے کی تربیت بھی دی گئی تھی۔