Baaghi TV

Tag: خلائی مخلوق

  • مریخ کی سطح پر برف کے اندر خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے،تحقیق

    مریخ کی سطح پر برف کے اندر خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے،تحقیق

    محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ مریخ کی سطح پر برف کے اندر ایسی خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے، جسے خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ان نتائج پر مشتمل ’مریخ پر برف اور برف میں فوٹوسنتھیسس کی صلاحیت‘ کے عنوان سے مضمون نیچر کے جرنل ’کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرمنٹ‘ میں شائع ہوا۔

    محققین کے مطابق مریخ کے زیر زمین موجود برف میں ممکنہ طور پر مائیکروبیئل حیات موجود ہوسکتی ہے مریخ پر بڑے پیمانے پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کے برسنے کی وجہ سے اس کی سطح پر زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہےلیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ برف کی ایک موٹی پرت کسی بھی شے کو شعاعوں سے تحفظ فراہم کر سکتی ہےاس کے لیے زندگی کو ایک ایسی جگہ پر ہونا ہوگا جہاں اس کی گہرائی اس کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچائے، ساتھ ہی یہ ایسی اتھلی جگہ ہو جہاں ضیائی تالیف (فوٹوسنتھیسس) کے لیے مناسب روشنی پہنچے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    نئی تحقیق میں محققین نے مریخ پر ملنے والی دھول اور برف کی قسم کو دیکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سیارے پر ایسی جگہ کا وجود ممکن ہے یا نہیں، مطالعے میں معلوم ہوا کہ اگر برف پر بہت زیادہ دھول نہیں ہو تو ایسی صورت میں 5 سے 38 سینٹی میٹر نیچے ایسا خطہ ہو سکتا ہے جہاں زندگی باقی رہ سکے، اگر برف صاف ہو تو وہ مسکن (2.15 سے 3.14 میٹر گہرا) مزید بڑا ہو سکتا ہےبرف کے اندر موجود دھول کبھی کبھار برف کو پگھلا بھی دے گی، جس سے اتنی مقدار میں مائع پانی ملے گا جو فوٹوسنتھیسس کے لیے ضروری ہو گا اور اس طرح زندگی کو زندہ رہنے میں مدد دے گا۔

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا دعویٰ نہیں کرتی کہ برف والے علاقوں میں واقعی زندگی موجود ہے لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مریخ پر زندگی کی تلاش میں یہ علاقے اہم جگہ بننے چاہیئے کیونکہ یہاں زندگی ملنے کے امکانات سب سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

  • امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    واشنگٹن: امریکی فضائیہ کے سابق انٹیلی جنس افسر ڈیوڈ گرش نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس خلائی طشتریاں اور خلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق سابق امریکی افسر نے مذکورہ بیان واشنگٹن میں ایوان کی نگرانی کرنےوالی کمیٹی کے سامنے حلف لیتے ہوئے کہا تھا ان کو اظہارِ خیال کرنے کا موقع اس دعوے کے بعد دیا گیا، جب انہوں نے جون میں کہا تھا کہ امریکی حکومت نے اپنے پاس خلائی طشتری کو پناہ دے رکھی ہے۔


    ان سے سوال کیا کہ امریکی حکومت کے پاس تباہ ہونے والی خلائی طشتریوں کے پائلٹ موجود ہیں؟ سابق امریکی افسر نے جواب دیا کہ جائرہ لینے سے معلوم ہوا کہ حیاتیاتی اعتبارسے وہ غیر انسانی تھے، اس کی تشخیص ان افراد نے کی، جو اس کا علم رکھتے ہیں۔

    روس ایران کی مدد سے ڈرون فیکٹری تیار کر رہا ہے،امریکا

    سابق امریکی انٹیلی جنس افسر نے 2023 تک امریکی محکمہ دفاع کے ایک خٖفیہ ادارے کےتحت کیے جانے والے ایک تجزیے کی قیادت کی تھی ڈیوڈ گرش نے جون میں الزام عائد کیا تھا کہ حکومت امریکی کانگریس سے خلائی مخلوق کے ثبوت چھپا رہی ہے لیکن اس انکشاف کے بعد ریپبلکن کی زیرقیادت نگرانی کمیٹی نے ان دعوؤں کی تحقیقات شروع کردیں۔

    کمیٹی میں ڈیوڈ گرش نے قانون سازوں کو بتایا کہ حکومت نے ایک غیرانسانی حیات کو برآمد کیا ہے لیکن انہوں نے اس کو خود نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی کسی خلائی طشتری کو دیکھا ہے،سماعت نے شدید عالمی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا، اور قیاس آرائیاں اور دعوے فراہم کیے کہ امریکہ اجنبی زندگی اور ٹیکنالوجی کے شواہد چھپا رہا ہے – جس میں شکوک و شبہات کی بڑی مقدار شامل ہے۔

    ایف بی آر نے قومی ائیرلائن کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے

    گرش نے 2022 میں ایک سیٹی بلوئر کی شکایت درج کروائی۔ اس نے کہا کہ حکومت میں ان کے کردار میں ان پر اس بات کی تحقیقات کا الزام عائد کیا گیا تھا کہ فوج، دفاع اور دیگر ایجنسیاں ایلین اور ایلین کرافٹ کے بارے میں کیا جانتی ہیں، لیکن الزام لگایا گیا کہ انہیں خفیہ سرکاری UFO پروگراموں تک رسائی سے روکا گیا تھا بدھ کو بات کرتے ہوئے، گرش نے کہا کہ انہیں اپنےالزامات کےنتیجے میں "انتہائی وحشیانہ” جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    یہ دعوے اعلی سطح کے انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ وسیع انٹرویو پر مُبنی ہیں امریکی حکومت نے ایک ”کثیر دہائی“ پروگرام کا انعقاد کیا جس نے تباہ ہونے والی خلائی طشتریوں کو جمع کیا ہے۔ امریکی حکومت نے ثبوت چھپانے کے گرش کے دعووں کی تردید کی ہے-

    کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی ،خود اپنے دل کو سمجھنا بھی …

    محکمہ دفاع کے ترجمان نے دی گارڈین کو بتایا کہ تفتیش کاروں نے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابل تصدیق معلومات دریافت نہیں کی ہیں خلائی مخلوق کو قبضے رکھنے یا ریورس انجینئرنگ سے متعلق کوئی پروگرام ماضی میں موجود تھا یا فی الحال موجود ہے۔

  • خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    نیو جرسی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے ایک نئے پروگرام کے تحت 24 مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کرلی ہیں –

    باغی ٹی وی :امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق ناسا نے جن 24 مذہبی رہنماؤں کی خدمات حاصل کیں ان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیشوا بھی شامل ہیں جب خلائی ایجنسیاں زمین سے باہر رہنے کے قابل سیاروں اور اجنبی زندگی کی تلاش کے لیے نئی دوربینیں، روور اور تحقیقات شروع کر رہی ہیں، ایک برطانوی پادری ناسا کی یہ سمجھنے میں مدد کر رہا ہے کہ کس طرح ماورائے زمین کی دریافت کائنات کو دیکھنے کے انداز کو بدل دے گی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ریو ڈاکٹر اینڈریو ڈیوسن، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پادری اور ماہر الہیات، آکسفورڈ سے بائیو کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کے ڈگری ہولڈر، ان 24 ماہرینِ الہیات میں شامل ہیں جنہوں نے پرنسٹن میں سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری (CTI) میں ناسا کے زیر اہتمام پروگرام میں حصہ لیا۔ امریکہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ دنیا کے بڑے مذاہب اس خبر پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے کہ ہمارے علاوہ اور ہمارے جیسی اور بھی مخلوق ہے-

    رپورٹ کے مطابق قریباً ایک سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا مقصد خلائی مخلوق سے رابطے کی صورت میں مذہبی نقطہ نگاہ کو جاننا، سمجھنا، اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ترین ردِعمل کا تعین کرنا ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    کائنات میں زمین جیسے سیاروں کے علاوہ وہاں پر انسان جیسی ذہین اور ترقی یافتہ مخلوق ملنے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن اب تک ایسی کسی ’خلائی مخلوق‘ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

    ہوسکتا ہے کہ آنے والے ہزاروں سال تک ہمیں خلائی مخلوق کا کوئی سراغ نہ ملے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران ہمیں اپنے جیسی کسی ذہین خلائی مخلوق کا پیغام موصول ہوجائے۔

    ایسی صورت میں ایک پوری نوعِ انسانی کی حیثیت سے ہمارا جامع ترین جواب کیا ہونا چاہیے جو ہماری علمی سطح کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد کا اظہار بھی کرے؟ اس منصوبے کا مقصد یہی تعین کرنا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    سال بھر جاری رہنے والے اس پروگرام کو ’فلکی حیاتیات کے سماجی مضمرات‘ کا عنوان دیا گیا ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی کے ’مرکز برائے مذہبی تحقیق‘ (سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری) یا مختصراً ’سی ٹی آئی‘ میں منعقد کیا جارہا ہے۔

    امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں اس پروگرام کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد سے یہ چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ شاید ناسا نے خلائی مخلوق دریافت کرلی ہے یا اس کا رابطہ کسی ذہین خلائی مخلوق سے ہوگیا ہے تاہم اس بارے میں اب تک ناسا کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…