Baaghi TV

Tag: خلائی مشن

  • برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو ناکامی کا سامنا ہوا

    برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو ناکامی کا سامنا ہوا

    برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو لانچ کے دوران ناکامی کا سامنا ہوا اور سیٹلائیٹس لے جانے والا راکٹ کہیں گم ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ کے علاقے کورن وال کی اسپیس پورٹ سے اسٹارٹ می اپ خلائی مشن کو کاسمک گرل نامی بوئنگ 747 طیارے سے روانہ کیا گیا آئرلینڈ کے شمالی ساحلی علاقے میں طیارے نے کامیابی سے لانچر ون راکٹ کو ریلیز کیا جس پر 9 سیٹلائیٹس موجود تھے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    مشن کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی ورجین آربٹ کے مطابق راکٹ مطلوبہ بلندی تک پہنچنے میں ناکام رہا اور سیٹلائیٹس سمیت گم ہوگیا یوکے اسپیس ایجنسی کے مطابق گمشدہ راکٹ یا تو جل گیا ہوگا یا شمالی بحر اوقیانوس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہوگا۔

    یو کے اسپیس ایجنسی کے کمرشل اسپیس فلائٹ ڈائریکٹر میٹ آرچر نے بتایا کہ مشن کی ناکامی پر انہیں بہت زیادہ مایوسی ہے مگر پھر بھی انہیں خوشی ہے کہ یورپ میں سیٹلائیٹس لے کر جانے والا پہلا مشن برطانوی سرزمین سے روانہ ہوا،لانچ کا پہلا مرحلہ تو کامیاب رہا مگر دوسرے مرحلے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔
    https://twitter.com/VirginOrbit/status/1612590978942263297?s=20&t=Wrge1ovy7iF12vRJ8FoAlg

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے مگر لانچ کا عمل کامیاب رہا اور ہم نے کافی پیشرفت کی انہوں نے تصدیق کی کہ راکٹ اور سیٹلائیٹس گم ہوگئے ہیں مگر لوگوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

    یہ مشن پاکستانی وقت کے مطابق 10 جنوری کی شب 3 بجے روانہ ہوا تھا جبکہ 4 بجے راکٹ کو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ریلیز کیا گیا۔

    ورجین آربٹ نے پہلے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ لانچر ون کامیابی سے زمین کے مدار میں پہنچ گیا ہے، مگر کچھ دیر بعد ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ کسی مسئلے کے باعث ہم مدار تک پہنچ نہیں پارہےیہ جو سیٹلائٹ لے کر جا رہا تھا وہ چھوڑا نہیں جا سکا اور گم ہو گیا کاسمک گرل، کیریئر 747 جیٹ، بحفاظت اڈے پر واپس آ گیا۔

    یوکے اسپیس ایجنسی کے ڈپٹی سی ای او ایان اینیٹ نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مدار میں پہنچنا اصل میں "کتنا مشکل” ہے – لیکن اگلے 12 مہینوں میں مزید لانچوں کی پیش گوئی کی ہے۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

  • بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    نیویارک: بلیو اوریجن کمپنی کا چاند پر جانے والا خلائی مشن بوسٹر فیلئیرکے سبب حادثے کا شکار ہوگیا-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کےمطابق بلیو اوریجن کےخلائی سیاحت کے منصوبے کی تین کامیاب پروازوں کے بعد خلا نورودوں کے بغیر چوتھی خلائی پرواز روانہ کی، جو کچھ دیر بعد ہی حادثے کا شکار ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق بلیو اوریجن کے خلائی مشن میں کوئی خلا نورد شامل نہیں تھا، بغیر مسافروں والےنیو شیپرڈ راکٹ کولانچنگ کے کچھ دیر بعد ہی بوسٹر فلئیرکا سامناکرنا پڑا تاہم متعارف کرایا جانے والا کریو اسکیپ سسٹم کامیاب رہا، جس کے باعث راکٹ سے منسلک کیپسول بحفاظت زمین کی طرف لوٹ گیا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کمپنی نے جاری بیان میں کہا کہ آج بغیر عملے کی فلائیٹ کو بوسٹر فیلئیر کا سامنا رہا تاہم اسکیپ سسٹم نے توقع کے مطابق کام کیا حادثے میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کریو اسکیپ سسٹم کا مؤثر انداز میں کام کرناکامیابی ہے،بلیو اوریجن کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے خلائی مشن کیلئے کی جانے والی تحقیق میں دنیا بھر کے طالبعلم شریک ہیں۔

    واضح رہے کے بلیو اوریجن مشہور آن لائن ویب سائیٹ ایمزون کےمالک جیف بزوز کی ملکیت ہے ۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

  • چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    چاند پرخلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش ہی ناکام ہوگئی

    فلوریڈا:امریکی خلائی سائنسدانوں کی چاند پرپہلے خلائی مشن بھیجنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے ، اس حوالے سے امریکی میڈیا نے خلائی ادارے ناسا کے حوالے سے کچھ معلومات دی ہیں ، جن کے مطابق ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ فنی خرابی کی وجہ سے خلائی مشن روانہ نہیں کیا جاسکا۔

    چاند پر خلائی مشن بھیجنے میں ناکامی کے حوالے سے جو تفصیلات آئی ہیں ان کے مطابق غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا ہے کہ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

     

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نےبتایا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

     

    اس خلائی مشن میں کسی خلا باز کو راکٹ کے ذریعے نہیں بھیجا جارہا ہے تاہم راکٹ میں کچھ ایسی سنسرز( حساس آلات ) نصب ہیں جو ریڈیشن لیول، حرارت اور دیگر تبدیلیوں کو ریکارڈ کریں گے۔

    آرٹیمز ون کے مشن منیجر مائیک سرافن نے بتایا کہ موجودہ ہفتے میں 2 ستمبر کو جمعہ کے روز خلائی مشن کو روانہ کرنے کی دوبارہ کوشش کی جائے گی۔”یہ مشن بہت سارے لوگوں کی بہت سی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ ہے۔ اور اب ہم آرٹیمس نسل ہیں،”

     

    آرٹیمیس 1 نامی چھ ہفتے کی آزمائشی پرواز کا مقصد ایس ایل ایس اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے جو راکٹ کے اوپر بیٹھا ہے۔ یہ کیپسول چاند کے گرد چکر لگائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ جہاز مستقبل قریب میں لوگوں کے لیے محفوظ ہے۔

     

    اگراس بار بھی کسی وجہ سے خلائی مشن کو بھیجنا ممکن نہ ہوا تو 5 ستمبر بروز پیر کو خلائی مشن کو بھیجاجائےگا۔

     

    پیرکو خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔

     

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔

  • اسپیس ایکس نے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    اسپیس ایکس نے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    نیویارک:اسپیس ایکس نے اپنے اسٹار لنک مشن کے تحت مزید 32 سیٹلائیٹس خلا میں بھیج کراپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    اسپیس ایکس کی جانب سے گزشتہ جمعے فیلکن 9 راکٹ کے ذریعے مزید 32 سیٹلائیٹس مشنزمدارمیں بھیجنے کے بعد کمپنی کےچیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ’ سیٹلائیٹ لانچنگ کی ریکارڈ تعداد کے بعد اسیپس ایکس ٹیم کو بہت بہت مبارک باد‘

    اس مشن کے تحت 46 اسٹارلنک سیٹلائیٹس کوزمین کے نچلے میں مدار میں نصب کیا جاچکا ہے۔ اس مشن کوکمپنی کی ریاست کیلی فورنیا کے وینڈین برگ اسپیس فورس بیس میں واقع لانچ سائٹ سے روانہ کیا گیا۔

    دنیا کے کونے کونے مین انٹرنیٹ تک فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسپیس ایکس کے اسٹار لنک منصوبے کے تحت تقریبا 3 ہزارسیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا چکا ہے۔

    اس بابت اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہدف اس سال کے آخر تک 52 مشنزکومدارمیں بھیجنا ہے، جوکہ اس کے سالانہ لانچنگ پروگرام سےتقریبا دوگنا ہے۔ گزشتہ سال اسپیس ایکس نے تمام ترمخالفت کے باوجود 31 مشن سرانجام دیے تھے۔

    اسپیس ایکس اس مقصد کے لیے دوبارہ استعمال کے قابل فیلکن 9 راکٹ استعمال کرتا ہے جوکہ 15 مرتبہ پروازکی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یاد رہے کہ اسپیس ایکس نے اپنے خلائی پروگرام پرکی جانے والی تمام ترتنقید کے باجود نئے سال کے پہلے ہفتے میں ہی مزید اسٹارلنک سیٹلائٹ کومدارمیں بھیج دیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں: ایلو ن مسک کی برین چپ اور دماغ کے آپریشن کے درمیان کیا تعلق ہے؟

    اسپیس ایکس نے 49 سیٹلائٹس پر مشتمل 35 ویں بیچ کوفلیکن 9 راکٹ کے ذریعے فلوریڈ کے کینیڈی خلائی مرکزسے روانہ کیا تھا۔

    جب کہ ایک میزجتنی جسامت رکھنے والے ان سیٹلائٹس کی پروازکے 1 گھنٹے 20 منٹ بعد آن بورڈ ڈیپلائمنٹ (صف بندی) کردی گئی تھی۔

    اسٹارلنک اسپیس ایکس کا ہزاروں سیٹلائٹس پرمشتمل ایسا جھرمٹ ہے جس کا مقصد دنیا بھرخصوصا انٹرنیٹ سے محروم علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

    اسپیس ایکس، اسٹارلنک منصوبے کے بانی ایلون مسک کا کہنا ہے کہ نیکسٹ جنریشن اسٹارلنک پراجیکٹ کے تحت زمین کے نچلے مدارمیں تقریبا 42 ہزاراسٹار لنک سیٹلائٹس بھیجیں جائیں گے۔

    چین نے اپنے مستقل خلائی اسٹیشن کے لیے دوسرے موڈیول کو لانچ کردیا جو کہ سال کے آخر تک اس کے خلائی مشن کی تکمیل کے لیے درکار تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی خبر کے مطابق سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے 23 ٹن وزنی وینٹیئن نامی (اگلے جہانوں کی تلاش) لیبارٹری موڈیول کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجکر 22 منٹ پر ہینان کے جنوبی جزیرے وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے چین کے سب سے طاقتور راکٹ لانگ مارچ 5 بی پر لانچ ہوتے لائیو دکھایا۔

    خلائی ایجنسی کے عملے نے لائیو فیڈ پر کنٹرول روم سے لانچ کا مشاہدہ کیا اور جب وینٹیئن لانچ کیے جانے کے تقریباً 10 منٹ بعد راکٹ سے الگ ہوا تو عملے نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجائیں۔

    سی سی ٹی وی نے لانچ کے کچھ دیر بعد رپورٹ کیا کہ لانچنگ مکمل طور پر کامیاب رہی۔چین نے ٹائے آنہی موڈیول کے ساتھ خلائی اسٹیشن کی تعمیر اپریل 2021 میں شروع کی تھی۔

    وینٹیئن لیب ماڈیول، 17.9 میٹر (59 فٹ) لمبا وہ جگہ ہو گی جہاں خلاباز سائنسی تجربات کر سکیں گے جب کہ اس کے ساتھ دوسرا مینگٹیئن (اگلے جہانوں کا خواب) نامی لیب ماڈیول کو بھی لانچ کیا جانا ہے-

    وینٹیئن میں ایئر لاک کیبن موجود ہے جو کہ خلائی اسٹیشن کے مکمل ہونے پر بغیر گاڑیوں کی سرگرمیوں کے لیے مرکزی ایگزٹ انٹری پوائنٹ ہوگا۔

    یہ اسٹیشن پر عملے کی موجودگی کے دوران خلابازوں کے لیے قلیل مدتی رہائش گاہ کے طور پر بھی کام کرے گا، اس اسٹیشن کو صرف 3 خلابازوں کی طویل مدتی رہائش کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔عالمی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے پانچویں حصے کی تعمیر کی تکمیل چینی عوام کے لیے باعث فخر ہے۔

    خلائی اسٹیشن پر شینزو 14 مشن کے کمانڈر چن ڈونگ کے ہمراہ ان کی ٹیم کے 2 افراد موجود ہیں، وہ شینزو 15 کے عملے کی آمد کے ساتھ دسمبر میں زمین پر واپس آئیں گے۔

  • ایران نے اپنے شہریوں کوخلائی خدمات فراہم کرنے کا اعلان کردیا

    ایران نے اپنے شہریوں کوخلائی خدمات فراہم کرنے کا اعلان کردیا

    تہران :ایران نے اپنے شہریوں کوخلائی خدمات فراہم کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نے کہا کہ میرا مُلک نجی شعبے کی مدد سے عوام کو خلائی خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نے کہا کہ ایران ایک نیا خلائی پروگرام تیار کر رہا ہے جو نجی شعبے کے لیے عوام کو خلائی سے متعلق خدمات فراہم کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ 10 سالہ پروگرام تقریباً تیار ہے جس کا مقصد ایران کے نجی شعبے کو شامل کرنا ہے۔

    افغان طالبان نے خراب کوالٹی کے تیل کے 12 ایرانی ٹینکرزواپس بھیج دیئے

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نےکہا، "ہمارے پاس ایک بڑا کام ہے، جو کہ نجی شعبے کو ملک میں خلائی خدمات اور ٹیکنالوجی کی پیشکش کرنے کے لیے ایک مناسب مارکیٹ بنا کر اس میں قدم رکھنے کے لیے ضروری حالات فراہم کرنا ہے۔””نئے پروگرام میں، کچھ نئے اداروں کو، خاص طور پر نجی شعبے میں، سیٹلائٹ بنانے کے لیے تعاون کیا جائے گا۔ روایتی اداکاروں کو اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ نئے سیٹلائٹ تیار کرنے اور بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    یونانی آئل ٹینکرپرایرانی نیوی کا قبضہ: یونان نے اسے بحری قزاقی قرار دیا

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نےکہا کہ روایتی سیٹلائٹ ڈویلپرز، جو بنیادی طور پر حکومت کی ملکیت ہیں، اور نجی کمپنیاں "اعلیٰ قیمت کی معیاری مصنوعات” بنانے کے لیے افواج میں شامل ہو سکتی ہیں۔نئے خلائی منصوبے کے تحت جدید ترین سیٹلائٹس بشمول کمیونیکیشن سیٹلائٹس، مصنوعی اپرچر ریڈار (SAR) سیٹلائٹس، اور CanSats کے ساتھ ساتھ گھریلو سیٹلائٹ لانچرز کو نجی کمپنیوں کی مدد سے ڈیزائن اور بنایا جائے گا۔

    خلائی سربراہ نے کہا کہ ان کی ایجنسی زراعت اور قدرتی آفات کے انتظام سمیت مختلف شعبوں میں خلائی خدمات کا استعمال کرنے کے لیے آخری صارف کے طور پر لوگوں کے لیے پلیٹ فارم تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔سلاریح نے کہا، "اس وقت ایسی ایپلی کیشنز کے ساتھ 10 سسٹمز ہیں جو فعال ہیں یا ترقی کے مراحل میں ہیں، اور ہم ان میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”

    "ہم نے 10 سال کے عرصے میں حکومت اور کاروبار کے استعمال کے لیے تقریباً 30 مزید سسٹمز آن لائن لانے کا تخمینہ لگایا ہے۔”

    ایران میں ایف 7 لڑاکا طیارہ گرکر تباہ،2 پائلٹ ہلاک

    ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریح نے یہ بھی کہا کہ ایرانی خلائی ایجنسی جنوب مشرقی بندرگاہی شہر چابہار میں دوسرا سیٹلائٹ لانچ سینٹر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چابہار نیشنل لانچ سائٹ کو بین الاقوامی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ نیا سیٹلائٹ لانچ اسٹیشن ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    یاد رہے کہ ایران نے اپنا پہلا سیٹلائٹ امید 2009 خلا میں چھوڑا تھا اور اس کا رسد سیٹلائٹ 2011 میں مدار میں بھیجا گیا تھا۔2012 میں، ایران نے اپنا تیسرا مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹ، نوید (خوشخبری) کو کامیابی کے ساتھ مدار میں رکھا۔اپریل 2020 میں، ایران نے اپنے پہلے فوجی سیٹلائٹ کو مدار میں کامیاب لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ اور مارچ 2022 میں، اس نے اپنا دوسرا فوجی سیٹلائٹ خلا میں اڑا دیا۔

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔