میہڑ ،باغی ٹی وی (نامہ نگار منظور علی جوئیہ)منشیات کے خلاف سول سوسائٹی کا احتجاج اوردھرنا، پولیس کے خلاف نعرے بازی
تفصیل کے مطابق میہڑ کے نواحی علاقے فریدآباد میں منشیات کی روک تھام کے لئے سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ دھرنا اورپولیس کے خلاف نعرے بازی کی گئی ، سٹی گیٹ فریدآباکے آگے دھرنا دیا گیا مظاہرین نے کہاتھاکہ فریدآباد میں لوٹ مار اور منشیات کا کاروبار پولیس کی سرپرستی میں سرعام چل رہاہے، نشے کے عادی افراد لوٹ مار اور چوریوں میں مصروف ہیں پولیس سرعام منشیات فروشوں سے رشوت لینے میں مصروف ہے جس کے باعث نوجوان نسل تباہی کےدہانے پہنچ گئی ہے.
مظاہرین نے ایس ایس پی دادو اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاہے کیاکہ راشی پولیس آفیسران کےخلاف کارروائی کرکےفریدآباد میں نشے کاکاروباربند کرواکر نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے.دوسری صورت میں پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا.
Tag: خلاف

میہڑ :منشیات کے خلاف سول سوسائٹی کا احتجاج اوردھرنا، پولیس کے خلاف نعرے بازی

جامعہ اشرفیہ لاہور کا عمران خان کے خلاف احتجاج
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے گستاخ رسول سلمان رشدی کی حمایت میں بیان دینے کے خلاف جامعہ اشرفیہ لاہور کے ناظم مولانا حافظ اسعد عبید، مفتی شاہد عبید،مفتی احمد علی،مفتی محمد زکریا، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا مجیب الرحمن انقلابی،مولانا عبداللہ مدنی اور دیگر علماء کی قیادت میں جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ لاہور سے مسلم ٹاؤن موڑ تک ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں اساتذہ اور طلباء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی.
جلوس کے شرکاء سے جامعہ اشرفیہ لاہور کے ناظم مولانا حافظ اسعد عبید، مفتی شاہد عبید اور مولانا علیم الدین شاکر سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضورﷺ کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے، عمران خان نے شاتم رسولﷺ سلمان رشدی کی حمایت میں بیان دے کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح اور گستاخان رسولﷺ کی حوصلہ افزائی کی ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے اس کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا.
انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان نے اپنے دور حکومت میں مغرب کی خوشنودگی کی خاطر آسیہ ملعونہ اور عبدالشکور قادیانی کورہا کر کے بیرون ملک بھیجنے کے بعد اب سلمان رشدی کی حمایت میں بیان دے کر ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی کر دیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں سے معافی مانگتے ہوئے توبہ کریں اورسلمان رشدی کی حمایت میں اپنا بیان فوری واپس لیں۔
علاوہ ازیں جمعیت علمائے پاکستان (سواد اعظم) کے مرکزی صدر پیر سید محمد محفوظ مشہدی نے عمران خان کی فوج، عدلیہ، پولیس پر تنقید اور آئی جی اسلام آباد اور میجسٹریٹ زیباچودھری کو دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے دماغی توازن کھو چکے ہیں، جس تواتر سے وہ اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ بہت جلد عمران خان بانی ایم کیو ایم الطاف حسین جیسے انجام سے دوچار جائیںگے۔
انہیں کراچی کے دہشتگرد کی سیاسی موت کو یاد رکھنا چاہیے ،جس کی کال پر بھی شہر بند ہوجاتے تھے ۔لوگ اس کی لندن سے ٹیلی فونک بکواسات سنتے تھے۔ پھر اس نے قومی اداروں کے خلاف تقریریں شروع کیں تو عدالت نے اس کی تقریروں پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، جو اب تک جاری ہے۔ اب پیمرا نے عمران خان کی لائیوتقریروںپر پابندی لگا کر اچھا اقدام کیا ہے۔ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایسے شخص کو لائیو چلانے کا مطلب اپنی اقدار اور اپنے اداروں کی بے توقیری کی اجازت دینے کے مترادف ہوگا۔ جس شخص کو سیاست میں شائستگی کا احساس نہ ہو اور اداروں کو متنازعہ بنا کر پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے تو ایسے شخص کی گفتگو کو میڈیا پر چلانا ملکی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی اظہار رائے کا مطلب ذمہ داری کے ساتھ منسلک ہے۔اداروں کی توہین اور کسی کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے میڈیا کو استعمال کرنے کی اجازت نہیںدی جاسکتی ۔ کیونکہ میڈیا قومی پلیٹ فارم ہے جو ملک کو متحد رکھنے کے لئے استعمال ہونا چاہیے ، نہ کہ اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے اور قوم میں تفریق پیدا کرنے کے لیے۔
جے یو پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی اداروں میں پھوٹ ڈلوانے کی سازش سے لا تعلقی کرنے کے بعد غداری کے ملزم کی حمایت میں ریلی نکالنے کا مطلب ہے کہ عمران خان اداروں کو دباو ¿ میں لا کر مرضی کے فیصلے لینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پتہ ہے کہ شہباز گل تو مہرہ ہے۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈے کا تعلق بنی گالہ کے مکین سے ہے۔

پنجاب بھر میں قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری، محمد گوہر نفیس
اینٹی کرپشن کی سربراہی میں محکمہ مال اور پولیس کا قبضہ مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا۔
ڈی جی خان سے کروڑوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال زرعی سرکاری اراضی جس میں ایک ہزار کنال زمین شامل تھی غیر وانونی قابضین سے واگزار کرالی۔ واگزار کرائی گئی زمین کی مالیت آٹھ کروڑ ستاون لاکھ روپے ہے۔
محمد گوہر نفیس نے محکمہ مال کو تاوان کی وصولی یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کاشف رفیق کی سربراہی میں محکمہ محکمہ مال اور پولیس کی بھاری نفری نے آپریشن میں حصہ لیا۔ پنجاب بھر میں قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری ہیں۔
اشتہاری ملزمان کے خلاف خصوصی مہم جاری!
لاہور: سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی کی ہدایت پر اقبال ٹاؤن ڈویژن کا منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ہوا۔
گزشتہ ہفتہ کی کاروائیوں کے دوران 129 ملزمان گرفتار ہو گئے۔ اشتہاری ملزمان کے خلاف خصوصی مہم کے دوران 14 اشتہاری ملزمان گرفتار۔سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث 04 ڈکیت گینگز کے 09 ارکان گرفتار ہویے ۔ملزمان کے قبضہ سے 02 لاکھ15 ہزار روپے کا مال مسروقہ برآمدکیا گیا۔ناجائز اسلحہ کے خلاف کاروائیوں میں 14ملزمان گرفتار ہو گئے.گرفتار ملزمان سے14پسٹلز اور درجنوں گولیاں برآمد۔منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 25 ملزمان گرفتار ہو گئے.ملزمان سے 10کلوگرام سےزای چرس، 101 لٹر شراب برآمد کی گئی.قمار بازوں کے خلاف کاروائی 29 ملزمان گرفتار۔قمار بازوں کے قبضہ سے داؤ پر لگی 01 لاکھ 11 ہزار روپے سے زاید کی نقدی برآمد.پتنگ بازوں کے خلاف کاروائی 24 ملزمان گرفتار درجنوں پتنگیں و ڈور برآمد ۔ہوائی فائرنگ۔پرائس کنٹرول ۔شیشہ سموکنگ اور ون ویلنگ پر 06 ملزمان گرفتار ہو گئے۔گداگری ایکٹ۔ گٹکا۔اور کرایہ داریایکٹ ۔ساؤنڈ سسٹم کی خلاف ورزی پر 08ملزم گرفتار کئے گئے۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاامتیاز بھر پور کارروائیاں جاری ہیں۔
ٹائر بلاسٹرز کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی!!!
سٹی ٹریفک پولیس پشاور چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت کا ون ویز پوائنٹس اور ٹائر بلاسٹرز کا جائزہ لینے کیلئے مختلف سیکٹرز نے دورہ کیا۔
ٹائر بلاسٹرز کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لانے کی مختلف سیکٹرز کے دوروں کے موقع پر حکام کو ہدایت دی گئی۔
چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے شہر میں مختلف مقامات پر ون ویز پوائنٹس اور ٹائر بلاسٹرز کا جائزہ لینے کے لئے مختلف سیکٹرز کا دورہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان نے گزشتہ روز شہر میں ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لئے شہر کے مختلف ون ویز پوائنٹس کا دورہ کیا اور دورے کے دوران پوائنٹس پر موجود اہلکاروں سے ملے اور ٹریفک کی روانی کا جائزہ لیا اور انہیں بغیر کسی تعطل کے ٹریفک روانی یقینی بنانے کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔ اسی طرح چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ٹائر بلاسٹرز کا بھی جائزہ لیا اور ٹریفک حکام کو ہدایت کی کہ وہ مختلف اوقات میں ٹائر بلاسٹرز کی دیکھ بھال کریں تاکہ اس کو شہریوں یا ٹریفک میں خلل ڈالنے والوں کی طرف سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے اور ٹریفک کی روانی بلا تعطل جاری رہے۔ انہوں نے ٹریفک حکام کو ہدایت کی کہ ٹائر بلاسٹرز کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم مزید تیز کریں، خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی ۔
آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے ویڈیو لنک کانفرنس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کاجائزہ لیا۔
رواں سال کے دوران صوبے میں 1600سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے گئے۔7773مشتبہ افراد کو گرفتارکرکے 2134عدد اسلحہ اور 53773عدد ایمونیشن برآمد کئے گئے۔ مختلف مقدمات میں مطلوب 1470 مجرمان اشتہاری گرفتار کئے گئے۔
پولیس ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کریں۔ فورس کے جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں۔آئی جی پیانسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف اپنی جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں لائیں۔
یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور سے صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کے ساتھ ایک ویڈیولنک کانفرنس کرتے ہوئے جاری کیں۔ ریجنل پولیس افسروں نے اپنے اپنے ریجن میں جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف کی گئیں کاروائیوں اور پولیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور اہلکاروں کے فلاح و بہبود کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے باری باری تفصیلی بریفنگ دی۔ ویڈیو کانفرنس میں آئی جی پی کو بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 1600سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کئے گئے جن میں 7773مشتبہ افراد اور 1470 مجرمان اشتہاری کو گرفتار کرکے ا ن سے 2134 عدد مختلف اقسام کے ہتھیار، 53773 عدد ایمونیشن برآمد کئے گئے۔
اس دوران پشاور میں 209آپریشنز کئے گئے جس میں 1671مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جن کے قبضے سے 208عدد ہتھیار اور 2909عدد مختلف بور کے کارتوس برآمد کئے گئے۔جبکہ مردان ریجن میں 217آپریشنز میں 1218مشتبہ افراد سے 810عدد ہتھیار اور 11776عدد کارتوس برآمد ہوئے۔ اسی طرح کوہاٹ ریجن میں 262آپریشنزمیں 1566مشتبہ افرادسے 451عدد ہتھیار ، 19725عدد کارتوس اور بنوں ریجن میں 276آپریشنز میں 814مشتبہ افراد سے 167عدد ہتھیاراور 3090 عدد کارتوس، ڈی آئی خان ریجن میں 87آپریشنز میں 143مشتبہ افراد سے 104عدد ہتھیار اور 1188عدد کارتوس، ملاکنڈریجن میں 419آپریشنز میں 1327مشتبہ افراد سے 100عدد ہتھیار اور 1556عدد کارتوس، ہزارہ ریجن میں 130آپریشنز میں 440 مشتبہ افراد سے 294عدد ہتھیار اور 13529عدد کارتوس برآمد کئے گئے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مجرمان اشتہاری کی گرفتاریاں یقینی بنائیں۔ انہیں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر موثر عوامی پولیسنگ کو یقینی بنانے، موٹر وے پولیس کے ساتھ مل کر موٹر وے اور دیگر شاہراہوں پر پولیس کی گشت کو بڑھانے اور تنازعات کے حل کی کونسلوں کو مزید فعال بنا کر ان کے ذریعے زیر التوا تنازعات کا جلد از جلد تصفیہ کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے پورے صوبے میں پولیس تھانوں، پولیس چیک پوسٹوں اور دیگر ضروری عمارات میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا عمل فوری مکمل کرکے رپورٹ سنٹرل پولیس آفس پشاور کو بھیجوانے کی بھی ہدایت کی۔ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ملازمت کے دوران فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو پولیس فورس میں بھرتی کرنے کا عمل فوراً مکمل کرنے اور حاضر سروس ملازمین کی فلاح وبہبود کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں اور ماتحتان کے مشکلات سے آگاہی حاصل کرکے ان کو حل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس فورس کو اپنا آئینی اور قانونی کردار پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہئے اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگا کر صوبے کو امن کا گہورہ بنائیں۔
جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، ملزمان سے خاصی بھاری رقم برآمد
انویسٹی گیشن پولیس سٹی ڈویژن/کریک ڈاؤن
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال خان کی ہدایات پر سٹی ڈویژن پولیس کارواں ماہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن۔
قتل کی واردات میں ملوث تمام 9ملزمان کو گرفتار کر کے چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا، اقدام قتل کے 9مقدمات میں ملوث 30ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، ڈکیتی، رابری اور چوری کی 139وارداتوں میں ملوث225ملزمان کو گرفتارکیا گیا، ریپ اور بدفعلی کے مقدمات میں ملوث 6ملزمان کو گرفتار کیا گیا، اغواء کے 34مقدمات میں ملوث ملزمان کوگرفتار کے چالان کیا گیا،
دیگر872 مقدمات میں ملوث 1578ملزمان کو گرفتار کیا گیا، 17گینگز کے 39ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کے خلاف245مقدمات ٹریس ہوئے۔ مختلف مقدمات میں لاہور پولیس کو مطلوب119اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا،
رواں ماہ گرفتار ملزمان سے تقریباًایک کروڑ روپے مالیت کا مالِ مسروقہ برآمد کیا گیا،ذوہیب نصراللہ رانجھا۔مجموعی طور پر 1061مقدمات کو حل کر کے 2495ملزمان کو گرفتار کیا گیا،جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال خان۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کی طرف سے ملزمان کی گرفتاری پرسٹی ڈویژن پولیس ٹیمز کو شاباش.
جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے سترہ رکنی قومی اسکواڈ برقرار
راولپنڈی، 3 فروری 2021ء: قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹرز نے جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے سترہ رکنی قومی ٹیسٹ اسکواڈکا اعلان کردیاہے۔ کراچی ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ 17 رکنی اسکواڈ کوہی دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے برقرار رکھا گیا ہے۔
دونوں ٹیموں کے مابین دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آخری میچ 4 فروری سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں شروع ہوگا۔قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اب ہیڈ کوچ کی مشاورت سے میچ کے لیے پلیئنگ الیون کا انتخاب کریں گے۔
سترہ کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ:
اوپنرز: عابد علی (سینٹرل پنجاب) اور عمران بٹ (بلوچستان)
مڈل آرڈر بیٹسمین: اظہر علی (سینٹرل پنجاب) ، بابر اعظم (کپتان، سینٹرل پنجاب) ، فواد عالم (سندھ) اور سعود شکیل (سندھ)
آلراؤنڈرز: فہیم اشرف (سنٹرل پنجاب) اور محمد نواز (ناردرن)
وکٹ کیپرز: محمد رضوان (نائب کپتان، خیبر پختونخوا) اور سرفراز احمد (سندھ)
اسپنرز۔ نعمان علی (ناردرن) ، ساجد خان (خیبر پختونخوا) اور یاسر شاہ (بلوچستان)
فاسٹ باؤلرز: حارث رؤف (ناردرن) ، حسن علی (سینٹرل پنجاب) ، شاہین شاہ آفریدی (خیبر پختونخوا) اور تابش خان (سندھ)۔







