Baaghi TV

Tag: خلا

  • ناسا کے خلائی راکٹ کی روانگی دوسری بار بھی ملتوی

    ناسا کے خلائی راکٹ کی روانگی دوسری بار بھی ملتوی

    فلوریڈا:ناسا کے 30 منزلہ جدید مون راکٹ کی خلائی مشن پر روانگی دوسری بار ملتوی کردی گئی، راکٹ کو خلا میں بھیجے کی پہلی کوشش 30 اگست کو ناکام ہوئی تھی۔

     

    غیرملکی میڈیا کے مطابق راکٹ سے کنٹرولرز ہائیڈروجن لیکج کو روکنے میں ناکام رہے، اب ناسا پیر یا منگل کو اس راکٹ کو دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کرے گا۔

     

     

    اس سے قبل پیر کو ناسا نے انسان کو چاند پر بھجوانے کی تیاری کی لیکن آخری مراحل میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے موخر کرنا پڑا تھا۔

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔

     

     

    اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش 30 اگست کو کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔

     

    اس سے قبل پہلی روانگی ملتوی ہونے پر ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے بتایا تھا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔

     

     

    بل نیلسن نے بتایا تھا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا، ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

     

     

    پہلی کوشش میں خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔

    اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔

  • ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جرمن اخبار”بلڈ: کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چین کےمون مشن کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بیجنگ چاندپرقبضہ کرکے دنیا پراپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے،

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دلیل دی کہ چینی خلائی تحقیق ہر ایک کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ ایک دن بیجنگ مبینہ طور پر چاند پر اترے گا اور کہے گا کہ "اب یہ ہمارا ہے اور تم دور رہو”۔

    ناسا کے سربراہ اور سابق امریکی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ چینی مون مشن "فوجی” ہوں گے، اور یہ کہ بیجنگ اپنے چاند کے اڈے کو دوسرے ممالک کے مصنوعی سیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کرے گا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    جہاں نیلسن نے چاند پر متعدد آلات بھیجنے کے بعد خلائی تحقیق میں چین کی مجموعی پیشرفت کی تعریف کی، اس نے فوری طور پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیشرفت کو کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیکنالوجی بیجنگ نے مبینہ طور پر دوسرے ممالک سے "چوری” کی ہے۔

    ناسا کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کن ممالک کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی دعوے کی پشت پناہی کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ وہ 2025 تک نہ صرف خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 2035 تک وہاں قدم جمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے بھی اسی طرح کے منصوبے ہیں، جن میں قمری اڈے اور زمین کے سیٹلائٹ کے گرد چکر لگانے والا خلائی اسٹیشن دونوں کا قیام شامل ہے۔ مؤخر الذکر کو ایندھن بھرنے اور خلائی جہاز کو مریخ کی طرف بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ناسا کے کراس ہیئرز میں ایک اور منزل ہے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ظاہری طور پر نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین نے فوجی مقاصد کے لیے قمری سٹیشن کے استعمال کی بات کی ہے، حالانکہ بعض امریکی فوجی منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ خلا میں جنگی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

  • خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

    خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا

    واشنگٹن:خلا میں مباشرت :خلائی سائنسدانوں نے بڑا دعویٰ کردیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ آج تک خلا میں کسی انسان نےمباشرت نہیں کی، نہ ہی قلیل کشش ثقل والے ماحول میں مباشرت کے حوالے سے کوئی مطالعاتی تحقیق موجود ہے۔

    کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تواتر سے عام شہری خلا کا سفر کر ہے ہیں، اب ضروری ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر بھی تحقیق کی جائے۔

    انہوں نے عالمی خلائی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ خلا میں جنسی مباشرت اور انسانی تولید کے قواعد طے کئے جائیں، کیونکہ مستقبل میں دوسرے سیاروں پر انسانی بستیاں بسانے کے لیے ضروری ہے کہ قدرت کے اس انتہائی ضروری عمل کو وہاں کے ماحول کی مطابقت کے ساتھ سمجھا جائے۔یہ تحقیق مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں عام لوگوں کی شرکت کے لیے ضروری قرار دی گئی ہے، جن میں ممکنہ طور پر کچھ شادی شدہ جوڑے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ناسا نے خلا میں خلانودوں کے بیچ مباشرت کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا ہوا ہے۔ جو اس تحقیق کی راہ میں دیوار بنا ہوا تھا۔

    ناسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خلا نوردوں کی صحت اور حفاظت ہماری ترجیح ہے، ہمارا ہیومن ریسرچ پروگرام انسان کو خلا میں بھیجنے والی فلائٹس اور اس کے کریو کو لاحق خطرات کو کم کرنے اور انہیں جذباتی طور پر تیار کرنے کے لیے مناسب اقدامات پر مشتمل ہے۔

    اسپیس سیکس اسٹڈی کی شریک مصنف ماریا سینٹاگیڈا کہتی ہیں کہ تاحال یہ غیر واضح ہے کہ خلا میں انسان مباشرت کر بھی پائیں گے یا نہیں، یہ تحقیق خلا میں جنسی عملیات کے حوالے سے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

    ناسا کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی تک انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن پر بیل اور انسانی نطفے کا استعمال کرتے ہوئے کئی جانداروں کے تولیدی عمل کا مطالعہ کیا گیا ہے، جن میں مکھیاں، جیلی فش، مچھلی، مینڈک، مرغی کے انڈے، چوہے شامل ہیں۔

    لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ جانوروں میں تولیدی عمل کا ڈیٹا انسانی تولیدی تحقیق کے لیے ناکافی ہے۔اسی لیے کینیڈین محققیقین نے خلا میں ایک مزید منظم اور وسیع پیمانے پر انسانی جنسیات کے حوالے سے مطالعاتی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا زیرو گریویٹی یا خلا مردانہ عضو خاص کی ایستادگی پر اثر انداز ہوسکتی ہے؟

  • مشہور کھرب پتی موجدنے 30 ہزار سیٹلائٹس بھیجنے کا اعلان کردیا

    مشہور کھرب پتی موجدنے 30 ہزار سیٹلائٹس بھیجنے کا اعلان کردیا

    واشنگٹن: خلامیں جانے والوں کے لیے خوشخبری ،مشہور کھرب پتی موجد اور ٹیکنالوجی کی کئی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ نچلے مدار اور خلا میں 30 ہزار سے زائد سیٹلائٹ بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    کراچی پولیس نے ایک انوکھا شخص گرفتار کرلیا

    ذرائع کےمطابق اس پیشکش پر دنیا بھی حیران ہے کہ اس قدر وسیع پروگرام ،انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں چھوٹے سیٹلائٹس بھیجنے کا کوئی منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات گزشتہ ہفتے اس وقت منظرِ عام پر آئیں جب ایلون کی کمپنی اسپیس ایکس نے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین (آئی ٹی یو) میں ایک درخواست جمع کرائی ہے۔

    یاد رہےکہ دنیا بھر میں آئی ٹی یو میں اقوامِ متحدہ کی ذیلی ایجنسی ہے جو مصنوعی سیارچوں کو خلا میں بھیجنے کے تمام معاملات دیکھتی ہے۔ یہاں دی جانے والی درخواست کے مطابق کمپنی 1500 سیٹلائٹ کے 20 سیٹ مدار میں بھیجے گی تاہم اس کی آئی ٹی یو کے علاوہ دیگر اداروں سے بھی اس کی منظوری لی جائے گی۔

    مولانا فضل الرحمن اورخادم رضوی کے درمیان کیا تعلق ، اہم انکشاف

    قبل ازیں اسپیس ایکس کمپنی پہلے ہی 12 ہزار سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی منظوری لے چکی ہے جن میں سے 60 سیٹلائٹ خلا میں موجود ہیں منصوبے کے تحت یہ سب سیٹلائٹ اسٹار لنک نامی وائرلیس انٹرنیٹ نظام کی تشکیل کریں گے۔

    بھارتی خفیہ ایجنسیاں کشمیری رہنماوں کو غائب کرنے لگیں

    کمپنی کا کہنا ہے کہ ان مصنوعی سیارچوں سے زمینی مشاہدہ بھی ممکن ہوگا ہے۔ ہر سیٹلائٹ کا وزن 330 سے 580 کلوگرام بتایا جاتا ہے اور سب زمین کی بڑی واضح اور صاف تصویر لینے کے اہل ہیں تاہم جن مداروں میں یہ جائیں گے وہاں زمینی فضا کے کچھ اثرات موجود ہیں جو اسے دھکیل کر رگڑ سے جلادیں گے اور یوں ان سے خلائی کچرے یا اسپیس جنک میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔