اسلام آباد : نابینا افراد ہوں یا معذور یا کوئی بھی بیماری یا پرانے سے پرانا جادو لاعلاج سوشل میڈیا پر دم کے ذریعے علاج کرنے کی سوشل میڈیا پر عراق سےتعلق رکھنےوالے ڈاکٹر مالا علی کردستانی کا پاکستان میں بہت چرچا ہے .حال ہی میں ذرائع کے مطابق وہ پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اسد قیصر وفاقی وزیر, سابق وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان, سینیٹر طلحہ محمود سمیت معاون خصوصی وزیر اعظم عمران خان حافظ طاہر محمود اشرفی سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کی.ڈاکٹر مالا علی الکردستانی نے گذشتہ جمعہ اسلام آباد کی معروف مرکزی مسجد شاہ فیصل مسجد میں ادا کی. باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق پاکستان میں بہت افراد ڈاکٹر مالا سے ملنے کے خواہشمند ہیں,بعض افراد نے شبہ ظاہر کیا کہ مالا الکردی معروف اینکر پرسن و صحافی حامد میر کے گھر قیام پذیر ہیں, حامد میر نے ٹوئٹر پر تردید کرتے ہوئے کہا کہ کل سے کئی دوست مجھ سے رابطہ کر رہے ہیں اور ملا علی کردستانی صاحب سے ملاقات کی خواہیش ظاہر کر رہے ہیں کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ میرے فارم ہاؤس پر ٹھہرے ہوئے ہیں میرا کہیں کوئی فارم ہاؤس نہیں ہے میں ان ملا صاحب کو نہ کبھی ملا ہوں نہ ہی جانتا ہوں میرا ان سے کوئی تعلق نہیں.Hamid Mir
دوسری طرف ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بھی مالا الکردستانی سے اظہار لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک روحانی معالج کا بتایا جارہا ہے اور لوگ ہم سے ان سے ملاقات کے لیے رابطہ کررہے ہیں ہمارا اور ہمارے دفتر کا مالا الکردی سے کوئی تعلق نہیں ہے. DC Islamabad
دوسری طرف سوشل میڈیا پر بتایا جارہا ہے کہ مالا الکردی روحانی معالج نہیں بلکہ اس آڑ میں وہ لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں .ذرائع کے مطابق مالاالکردی نے تھانہ آئی نائن کی حدود میں پہنچنا تھا جہاں وہ مقررہ وقت کو دوگھنٹے گذر جانے کے بعد وہاں نہیں پہنچنے, اطلاعات کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ کے اعلان کے بعد مالا پاکستان سے روانہ ہوچکے ہیں. ڈاکٹر مالا الکردستانی
اسلام آباد :ملی یکجہتی کونسل شمالی پنجاب کا تنظیم نو کے حوالے سے اجلاس, ڈاکٹر طارق سلیم صدر, پیر دانش حیدری سینئر نائب صدر, مولانا عبدالرحمان نائب صدر اول, زاہد ہمدانی ڈپٹی سیکرٹری جنرل, انعام الحق اعوان سیکرٹری اطلاعات جبکہ خنیس الرحمان معاون سیکرٹری اطلاعات شمالی پنجاب نامزد, ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس لیاقت بلوچ سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل کی زیر صدارت منعقد ہوا, ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی کابینہ نے مشاورت کیساتھ مولانا عبدالخالق اسدی, سید عارف شیرازی, علامہ حیدری علوی, علامہ نعیم نقوی, قاضی محمد جمیل بابر, مولانا غلام قاسم جعفری کو نائب صدور, ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید نجیب الحسن نقوی, سید زاہد ہمدانی, انجینئر نصراللہ رندھاوا, صاحبزادہ حسیب نظری, مولانا ملک عرفان حسین کو نامزد کیا, جبکہ سیکرٹری اطلاعات انعام الحق اعوان اور خنیس الرحمان, نزاکت بُخاری,یاور علی, شاہد حمید ڈار کو معاونین سیکرٹری اطلاعات نامزد کیا.ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ, سینئر جنرل سیکرٹری سید ثاقب اکبر, قاری محمد یعقوب شیخ, سید عارف حسین واحدی سمیت دیگر نے شرکت کی اور نئے ذمہ داران کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا
اسلام تیزی کے ساتھ پھیل چکا تھا. میرے نبی ﷺ کو ایک بہادر قوی شخص کی ضرورت تھی. آپ اپنے رب سے دعائیں کیا کرتے کہ یا عمرو بن ہشام دے دے یا عمر ابن خطاب دے دے. اسلام سے خار کھانے والے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کایا ایسی پلٹی کہ دار ارقم میں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو خوشخبری سنادی کہ آج آپ کی دعا قبول ہوچکی ہے. عمر آچکا ہے اب ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا. توحید کی آوازیں گونجیں گی.وہی ہوا حالات بدلے عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد حرم جا پہنچے, بیت اللہ میں نماز ادا کی کسی کی جرأت نہ تھی مکہ کے اس جری جوان کا راستہ روک سکے .حضرت صہیب بن سنانؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو اسلام ظاہر ہوگیا ،انہوں نے علانیہ طور پر اسلام کی دعوت دینا شروع کی ۔ہم نے بیت اللہ کا طواف کیااور بیت اللہ میں نماز پڑھی ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں جب سے عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو ہم طاقتور اور مضبوط ہوتے گئے.
تقویٰ کا معیار ایسا تھا صحابی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ تقویٰ کیا ہے ؟.
فرماتے ہیں میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔ہر محاز پر غزوے میں رسول اللہﷺ کے دائیں بازو بن کررہے. غزوہ بدر میں قیدیوں سے متعلق مسئلہ بنا تو اللہ رب العزت نے بھی سیدنا عمر بھی خطاب کی رائے کو ترجیح دی. اللہ نے سلطنت عطاء کی, بائیس لاکھ مربع میل کے حاکم بنے.سخت گو عمر نرم گوشہ اختیار کرگئے .جب خلیفہ کا تعین کیا جارہا تھا مخالفتیں بڑھنے لگیں ,کئی اصحاب کہنے لگے کہ ابو بکر آپ ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر کرکے جارہے ہیں ,آپ نے ساتھیوں کو تسلی دی, وقت نے دیکھا وہ عمر جو سخت گو تو ان کی طبیعت میں نرمی آگئی. خلافت کے بوجھ نے انہیں اپنے اللہ سے مزید قریب کردیا. قحط آجاتا تو جو رعایا کھاتی وہی کھاتے ,ایک دن خادم پنیر لے آیا اس سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ جب سب مدینے والے کھائیں گے اس وقت میں کھاؤں گا.
انصاف میں بھی آپ سے اعلیٰ مثال آج تک کوئی نہ قائم کرسکا.مصر کے حاکم عمرو بن عاص کے بیٹے نے غریب آدمی کو نقصان پہنچایا آپ نے عدالت قائم کی بیٹے کو بھی سزا دی اور حاکم مصر کو بھی سزا سنادی .ماتحت کوئی والی اگر اصراف کرتا تو جاکر پوچھ تاچھ کرتے اور اصلاح کرتے. مال غنیمت سے حاصل ہونے والے مال میں ایک دن ہار لایا گیا اٹھا کر قاصد کو واپس کردیا.
خدا خوفی اتنی تھی کہ کہتے اگر دریا فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو میں جوابدہ ہوں. ایک دفعہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ ،عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، اُحد کاپہاڑ لرزنے لگا توحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک اُحد پر مارتے ہوئے فرمایا: ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔‘‘اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اللّٰھم ارزقني شھادۃ في سبیلک وموتا في بلد حبیبک‘‘ ۔۔۔ ’’اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے شہر میں آئے ۔‘‘
آخری ایامِ حیات میں آپؓ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں، آپؓ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے، اس وقت ایک درّہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور سونے والے کو اپنے درّہ سے جگاتے تھے، مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔ اس روز بھی آپؓ نے ایساہی کیا، نماز ویسے ہی آپؓ نے شروع کی تھی، صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ (فیروز) جو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا، اس نے آپؓ پر تین زخم کاری اس خنجر سے لگائے . وہ شخصیت جس کی غیرت نے حضور نبی اکرم ﷺ کے قدموں کو اس کے محل میں داخل ہونے سے روک دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے محل میں چلا گیا.
مکہ کا ایک جاہ و حشمت کا مالک ,شیریں کلام, شرم وحیا کا پیکر اور مالدار نوجوان تھا. نہ اس نے کبھی گیت گایا تھا نہ کبھی اس کی تمنا کی تھی, ایک دن اپنے دوست یار صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملے.آپ نے دین کی دعوت پیش کی فوری لبیک کہا اور سابقین اولین کی فہرست میں داخل ہوگئے. یہ تھے تیسرے خلیفہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ, اسلام قبول کرتے ہیں اللہ نے بڑے بڑے انعامات سے نوازنا شروع کردیا. میرے نبی پیارے حبیبﷺ داماد بنا لیا. اپنی لاڈلی رقیہ کو سیدنا عثمان کے عقد میں سونپ دیا. اور نبیﷺ بھی کیسے سسر ثابت ہوتے ہیں, ایک دن اپنی بیٹی کو ملنے بیٹی کی طرف گئے کیا دیکھتے ہیں بیٹی اپنے شوہر سیدنا عثمان رضی اللہ کا سر دھلا رہی ہے تو آپ سے یہ نظر دیکھ کر رہا نا گیا اور بیٹی سے فرمانے لگے بیٹی ابو عبداللہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو,یقینا وہ میرے صحابی ہیں,اخلاق میں مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں. سیدہ رقیہ جب اس دنیا سے رخصت ہوگئیں تو آپ نے اپنی دوسری بیٹی سیدہ ام کلثوم بھی عثمان رضی اللہ کے عقد میں دے دی. آپ کو اس نسبت سے ذوالنورین کہا جانے لگا. میرے حبیب نے فرمایا کہ میری سو بیٹیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ کے نکاح میں دیتا رہتا.
ہجرت کا وقت آیا تو آقا علیہ السلام کے حکم پر اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر حبشہ کی طرف ہجرت کرلی اور اللہ نے قرآن اتار دیا فرمایا وَالَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا فِى اللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُـبَوِّئَنَّـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَـرُ ۚ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (41)اور جنہوں نے اللہ کے واسطے گھر چھوڑا اس کے بعد جبکہ ان پر ظلم کیا گیا تھا تو البتہ ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے، اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے، کاش یہ لوگ سمجھ جاتے.
حضرت عثمان رضی اللہ شرم و حیا کے پیکر تھے. امام مسلمؒ اور امام بخاری ؒ نے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو حضور اکرمﷺ اپنا لباس درست فرمالیتے اور فرماتے تھے کہ میں اس (عثمان غنی) سے کس طرح حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں .
بیعت رضوان کا موقع آیا. نبی ﷺ نے پیارے صحابی کو سفیر بنا کر مکہ بھیج دیا. دوسری طرف خبر مشہور ہوگئی کہ سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے.نبی ﷺ نے فرمایا کہ کون ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کیلئے میرے ہاتھ پر بیعت کریگا، اس وقت تقریباً چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کیلئے حضور اکرمﷺ کے ہاتھ مبارک پر ’’موت کی بیعت‘‘ کی اس موقعہ پر نبیﷺ نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیتے ہوئے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ ’’بیعت‘‘ عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان اور ’’بیعت شجرہ‘‘ ہے۔ یہاں بھی میرے رب ان نفوس قدسیہ کا تذکرہ قرآن میں کردیا جنہوں نے اس بیعت میں حصہ لیا. تبوک کے باری آئی نبی ﷺ موت جہاد کے لیے فنڈ کا اعلان کردیا کہ کون خوش نصیب ہے جو جہاد کے راستے میں اپنا مال پیش کرے گا. اس موقع پر سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ ، ستر گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں جنگ تبوک کیلئے اللہ کے راستہ میں دیں حضور اقدس ؐ منبر مبارک سے نیچے تشریف لائے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت سے اس قدر خوش تھے کہ آپ ﷺ اپنے دست مبارک سے اشرفیوں کو الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ’’ماضّر عثمان ما عمل بعد ہذا الیوم‘‘ آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی کام اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا.
پیارے حبیبﷺ اپنے اس عظیم صحابی کے لئے بہت دعائیں فرمایا کرتے تھے. راتوں کو جاگ دعا میں فرمایا کرتے تھے ! اے اللہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔کبھی اپنے صحابی سے فرماتے اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تیرے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں جو تجھ سے ہوچکے یا قیامت تک ہونگے۔
نبی ﷺ اس دنیا سے چلے گئے, ابو بکر رضی اللہ کا دور آیا وہ بھی چلے گئے پھر عمر فاروق رضی اللہ کا دور آیا آپ کو شہید کردیا گیا. مجلس شوریٰ نے نام پیش کئے سیدنا عثمان کے نام قرعہ نکل آیا شرم و حیا کا پیکر میرے نبی ﷺ کا داماد آج خلافت منصبی پر فائز ہوچکا تھا. بہت سی فتوحات کی, اسلامی بیڑا پہلا ترتیب دیا, بہت سی اصلاحات کیں. آخری ایام تھے ظالم یہودی النسل عبداللہ بن سبا آپ کے خلاف متحرک ہوگیا. آپ کی کردار کشی کی. آپ کے خلاف صحابہ کو بھڑکایا.ذوالحجہ کے مہینہ میں اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کیلئے مکہ شریف چلے گئے تھے۔ سازشیوں کو موقع مل گیا اور آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ کئی دنوں تک آپ رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنے نبی کے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا.میرے نبی ﷺ کی بھی اپنے صحابی سے خواب میں ملاقات ہوئی فرمایا «يا عثمان، أفطر عندنا»
’’عثمان! افطاری ہمارے ساتھ کرنا‘‘..
12 ذوالحجہ کے دن میرے حبیب کے پیارے صحابی سیدنا عثمان کو خوارج نے گھر میں گھس کر حالت روزہ میں عین اس وقت شہید کردیا جب آپ قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے. باتیں تو بہت ہیں لکھنے بیٹھیں تو قلم ہی رک نا پائے .اختصار کے ساتھ اپنے قلم کا حق ادا کرنا ضروری سمجھتا تھا. اللہ ہمیں جنتوں میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملوا دے آمین
بیٹھے بیٹھے فیصلہ ہوا آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دیکھ کر آئیں کیا چل رہا ہے, چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے ہم روانہ ہوئے, ہماری پہلی منزل میر پور تھی. میر پور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی جلسہ تھا. میر پور چیک پوسٹ کراس کی تو الگ ہی منظر تھا ہر طرف سیاسی پارٹیوں کے پرچم, بینرز آویزاں تھے. یہاں ایک نئی جماعت کا پرچم بھی آویزاں تھا,یہ کشمیر کے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی جماعت جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا پرچم تھا. ہم نے اپنے اس سفر میں اس جماعت کے امیدواروں سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی. ہماری پہلی منزل میرپور حلقہ ایل اے 3 تھی جہاں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار چوہدری شبیر چیچی سے ملاقات کرنا تھی. چوہدری شبیر چیچی کے پاس پہنچے ان سے ہم نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی وہ پرعزم نظر آرہے تھے. چوہدری شبیر چیچی بتانے لگے پہلے وہ مسلم کانفرنس کے ساتھ تھے لیکن اس بار انہوں نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیں جو ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے لیے صف اول میں نظر آتے ہیں. چوہدری شبیر چیچی کہنے لگےان کا مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ سے ہے, وہ پاکستان کے کچھ سیاستدانوں سے بہت نالاں تھے کہ یہ لوگ باہر سے آکر ہمیں دو ٹکے کا کہتے ہیں ,کہنے لگے میں تو اپنے حلقہ کی عوام سے کہتا ہوں ہم کشمیر کے مقامی لوگ ہیں, کشمیر کی مقامی جماعت ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں.اس موقع پر ان سے میرپور کے حوالے سے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی .
اسی دوران ہمیں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے حلقہ ایل اے 4 کھڑی شریف کے امیدوار چوہدری خالد حسین آرائیں کی طرف چلنا تھا, موومنٹ کے میڈیا کوآرڈینیٹر انیس الرحمان باغی بھی ہمارے ساتھ تھے. میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر منگلا کے علاقے میں ہم داخل ہوئے تو بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات چوہدری خالد حسین کے آویزاں تھے .چوہدری خالد حسین ہمارے انتظارمیں تھے لیکن ہم تاخیر سے ان کی طرف پہنچے وہ نکل چکے تھے اور اب ہم ان کے انتظار میں وہاں موجود تھے. کچھ دیر بعد چوہدری خالد حسین کندھے پر سفید رومال رکھے داخل ہوئے اور ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا. چوہدری خالد حسین کو ہم نے نہایت پرجوش پایا وہ بھی اپنے علاقے اور کھڑی شریف کی عوام سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے. ہمیں یہ بھی کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی طرف سے انہیں دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی. چوہدری خالد حسین کہنے لگے کہ اب وہ وقت نہیں رہا ٹوٹی نلکے کی سیاست کی جائے, اب ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں, عوام کے اور بھی بہت سے مطالبات ہیں میں اگر کامیاب نہ بھی ہوسکا تو میرے دروازے کھڑی شریف کی عوام کے لیے کھلے ہیں. میرپور میں سیاسی حوالے سے ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا تو زیادہ تر لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں. ن لیگ کے انتخابی جلسہ کے حوالے سے ہمیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوٹلہ ارب علی خان سے ایم این اے عابدرضا کوٹلہ نے پانچ سو افراد کو اپنے ساتھ لا کر مریم نواز کا جلسہ کامیاب کروایا لیکن عوامی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مظبوط نہیں .قائد اعظم سٹیڈیم میں بھی پنڈال سج چکا تھا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی خطاب کرنا تھا .ہم میرپور سے نکلے اور اگلی منزل ہماری کوٹلی تھی. کوٹلی ہم دھنواں سے تتہ پانی کے علاقے میں پہنچے یہاں مسلم کانفرنس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی اور یہاں تحریک لبیک کے بینرز اور پرچم بھی ہمیں دیکھنے کو ملے, یہاں ہم جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار سانول آکاش کے بارے نجی چینل پر ایک رپورٹ دیکھ چکے تھے, انہوں نے تتہ پانی شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا, سانول آکاش ایڈووکیٹ کے بارے بتایا گیا وہ دھنواں کے علاقے میں کچے مکان میں رہتے ہیں, موٹر سائیکل پر کمپین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا کوئی بنک بیلنس نہیں,JK یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوارسانول آکاش امیدوار راج محل کے ساتھسانول آکاش ایڈووکیٹ بتانے لگے انہوں اسی تتہ پانی سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور آج اسی تتہ پانی میں وہ اپنا انتخابی جلسہ کرکے فخر محسوس کررہے ہیں. تتہ پانی کے بارے سن رکھا تھا کہ یہاں ایک چشمہ ہے وہاں پانی شدید گرم ہوتا ہے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہم قریب ہی چشمے پر پہنچے .چشمے کا پانی واقعی نہایت گرم تھا. یہاں سے ہم واپسی کی رات لی اور رات کے ایک بجے ہم واپس اسلام آباد اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے .
کورونا وباء موت تعلیمی نظام کو شدید متاثر کردیا. امتحانی نظام تو بالکل ہی مفلوج ہوکر رہ گیا. 2020 میں تو طلبہ کو پروموشن دے دی گئی لیکن موجودہ سال میں بھی طلبہ بضد ہیں کہ امتحانات نہ لئے جائیں. آل پاکستان سٹوڈنٹ محاذ نے مطالبہ رکھا تھا ’امتحانات کینسل کرکے ہمیں اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے.راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں احتجاج ہوئے. اس دوران ٹویٹر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا. طلبہ رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا گیا. وزیر تعلیم شفقت محمود کے اعلان کے بعد کہ 10 جولائی کو ہر حال میں امتحانات ہوں گے, طلبہ میں غم و غصہ کی لہر میں اضافہ ہوگیا. طلبہ نے دوبارہ احتجاج کی کال دی, اس دوران پولیس کی بھی سیکیورٹی سخت تھی ,پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کا پہلے سے پلان ترتیب دے دیا تھا. اس دن بھی طلبہ ملک کے مختلف حصوں سے اسلام آباد پہنچے, طلبہ کو گرفتار کیا گیا. طالبات بھی احتجاج کا حصہ بنیں. جن کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ ہمیں نا صحیح پڑھایا گیا ہے یہاں تک کہ ہمیں پڑھانے والوں کو زوم تک چلانا نہیں آتا تھا اس لئے یا تو وقت دیا جائے یا تو امتحانات منسوخ کئے جائیں لیکن اس احتجاج سے بھی طلبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا. اور تو اور دو دن سے انٹر کے امتحانات بھی جاری ہیں. مزمل شفیق طلبہ رہنماء ہیں اور ان دنوں ہونے والی سرگرمیوں میں کافی ایکٹو رہے. مزمل شفیق ہمارے دوست بھی ہیں اور ایک ہی صحافتی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں, میرا مزمل شفیق سے تعلق بھی اسی تنظیم کے ذریعے بنا. مزمل شفیق امتحانات کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ راولپنڈی بورڈ کے زیر نگرانی قائم کردہ سنٹرز میں نہ تو طلباء کا Temperatureچیک کیا گیا نہ ہی Sanitizerلگایا جاتا اور امتحانی حال میں ہوا کے ناکافی وسائل کی وجہ سے طلباء پریشان۔
آج بھی مسلم ہائی اسکول میں ایک طالب علم کی حالت خراب ریسکیو 1122 نے اسپتال منتقل کیا۔اور یہ صرف راولپنڈی ہی نہیں دیگر شہروں کے سنٹرز سے بھی اطلاعات موصول ہوئیں. مزمل شفیق نے بتایا کہ ہماری وزیر تعلیم شفقت محمود سے بھی میٹنگ ہوئی ہے. انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی, شفقت محمود صاحب نے کہا کہ طلباء کے تمام مسائل پر تفصیلی جائزہ لیا گیا تاہم کوئی اور پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے امتحانات لینا مجبوری ہے,مزمل بتلاتے ہیں کہ میں نے درخواست کی کہ نصاب نا مکمل ہونے کے باوجود مشکل امتحانات بنانا نا انصافی ہے۔براہ کرم آپ احکامات جاری کریں کہ پیپر چیکنگ میں نرمی برتی جائے تا کہ طلباء امتحانات میں کامیاب ہو سکیں۔دیگر یہ بھی درخواست کی کہ یونیورسٹیز کے میرٹ کو کم کیا جائے تاکہ طلباء با آسانی داخلہ لے سکیں۔آخر میں سپلیمنٹری امتحانات کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جس پر نظرثانی کی جائے گی.
یاد رہے طلبہ کی حوالے سے اپوزیشن نے بھی آواز اٹھائی اور اس مسئلے کو اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا لیکن وفاقی حکومت امتحانات لینے پر بضد رہی اور اس وقت انٹر کے امتحانات جاری ہیں, یہی امید رکھتے ہیں کہ مولا کریم طلبہ کی مدد فرمائے, آمین