Baaghi TV

Tag: خواتین

  • باہمت خواتین قوم کا سرمایہ ہیں،مریم نواز

    باہمت خواتین قوم کا سرمایہ ہیں،مریم نواز

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سفارتکاری میں تاریخ ساز کردار ادا کرنے والی باہمت خواتین قوم کا سرمایہ ہیں-

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ پنجاب نے نٹرنیشنل ڈے آف ویمن ان ڈپلومیسی پر خواتین سفارتکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیاانہوں نے کہا کہ سفارتکاری میں تاریخ ساز کردار ادا کرنے والی باہمت خواتین قوم کا سرمایہ ہیں، جب خواتین سفارتکاری کی قیادت کرتی ہیں تو یہ ڈپلومیسی امن اور انسانیت کا امتزاج بن جاتی ہے۔

    مریم نواز ٰنے کہا کہ کشمیر، غزہ اور اب ایران میں جنگوں کے دوران بیوہ ہونے والی خواتین کے زخموں پر مرہم رکھنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، بیوہ خواتین کے بچوں کو ہونہار سکالرشپ پروگرام میں بھی ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ وہ تعلیم کے میدان میں پیچھے نہ رہیں، پاکستان کی خواتین محض نمائندہ نہیں، پالیسی ساز اور مؤثر سفارتی قوت ہے۔

    مریم نواز نے سی بی ڈی روٹ 47 کو ھی عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دینے کا اعلان کیا ، کہا کہ روٹ 47 پنجاب کے روشن اور پائیدار مستقبل کی جانب ایک اور نمایاں اقدام ہے، یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ پنجاب میں سمارٹ ترقی کی ایک نئی داستان ہے۔

    مودی سرکار کی سفارتی ناکامی اور گودی میڈیا کا مکروہ چہرہ بے نقاب، روش کمار کا تنقیدی جائزہ

    جنگ بندی کا دائرہ غزہ تک بڑھایا جائے،اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین کا مطالبہ

    نرس کی مبینہ خودکشی،عدالت کا قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم

  • مریم نواز کا غریب دیہی خواتین کو بھینسیں اور گائیں دینے کا فیصلہ

    مریم نواز کا غریب دیہی خواتین کو بھینسیں اور گائیں دینے کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جنوبی پنجاب کے دیہات میں رہنے والی خواتین کے لئے ایک اور بہتر ذریعہ روزگار کا اہتمام کیا ہے-

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی طرف سے غریب اور نادار دیہی خواتین کے لئے بہتر ذریعہ روزگار کا اہتمام کیا گیا ہے، دیہات میں رہنے والی غریب بیوہ خواتین کو بھینسیں اور گائیں دی جائیں گی، جنوبی پنجاب کے 12 اضلاع میں 2 ارب روپے سے 11 ہزاردیہی خواتین کو بھینسیں اور گائیں دی جائیں گی، وزیراعلیٰ مریم نواز کے بے مثال پروگرام کے پہلے مرحلے میں 4870 مویشی دیے جائیں گے۔

    سی ایم پنجاب لائیوسٹاک اثاثہ جات پروگرام کا مقصد دودھ کی پیداوار میں اضافہ اور دیہی خواتین کے لئے گھر بیٹھے روزگار کا اہتمام کرنا ہے، وزیراعلیٰ لائیو اسٹاک اثاثہ جات پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، لیہ اور کوٹ ادو میں دیہی خواتین کو فری مویشی دیے جائیں گے ملتان، خانیوال، لودھراں، وہاڑی، رحیم یار خان اور بہاولپور میں بھی دیہی خواتین کو بہتر ذریعہ معاش کے لئے مفت مویشی دیے جائیں گے، 55 سال تک عمر کی مطلقہ اور بیوہ غریب خو اتین گھر بیٹھے ایپ کے ذریعے بھی اپلائی کر سکتی ہیں۔

    ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    مریم نواز نے کہا کہ دیہی خواتین مفت مویشی حاصل کرنے کے لئے شفاخانہ حیوانات میں وزیراعلیٰ سہولت ڈیسک سے بھی رابطہ کر سکتی ہیں، دیہات اور شہروں میں غربت کا فرق مٹانا، ہمارا عزم ہے، معاشی ترقی دیہات میں رہنے والی بیٹی کا بھی حق ہے، شہروں اور دیہات میں مساوی معاشی مواقع فراہم کر رہے ہیں، عورت شہر میں ہو یا دیہات میں تعلیم، صحت اور روزگار اس کا بنیادی حق ہے۔

    اسرائیل کو کئی بار بتایا کہ ایران کے جوہری ہتھیار کے حصول کا کوئی ثبوت نہیں، پیوٹن

  • پنجاب میں  خواتین کے قتل، زیادتی، اغوا ور تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ

    پنجاب میں خواتین کے قتل، زیادتی، اغوا ور تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ

    لاہور: پنجاب میں خواتین کے قتل، زیادتی، اغوا اور تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے،سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے رپورٹ جا ری کر دی-

    سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنوری تا دسمبر 2024 کے دورا ن پنجاب میں خواتین پر ہونے والے 4 سنگین جرائم ، جنسی زیادتی، غیرت کے نام پر قتل، اغوا اور گھریلو تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن نظامِ انصاف کی ناکامی نے متاثرہ خواتین کو انصاف سے دور رکھا۔

    رپورٹ کی تیاری کے لیے ایس ایس ڈی او نے رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے تحت دستیاب ڈیٹا اکٹھا کیا اور اسے اضلاع کی آبادی کے تناسب سے کرائم ریٹ کے فارمولے کے ذریعے تجزیہ کیا۔

    پنجاب اور کے پی کے بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کے خلاف بڑی کاروائی، دو ہلاک، متعدد زخمی

    رپورٹ کے مطابق لاہور میں جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ 532 واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد فیصل آباد میں 340 اور قصور میں 271 واقعات ریکارڈ کیے گئے اس کے باوجود سزا کا تناسب انتہائی کم رہا، لاہور میں صرف 2 اور قصور میں 6 ملزمان کو ہی مجرم قرار دیا گیا،آبادی کے لحاظ سے قصور میں فی لاکھ 25.5 اور پاکپتن میں 25 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ چھوٹے اور دیہی اضلاع میں خواتین کو خطرات لاحق ہیں۔

    غیرت کے نام پر قتل کے جرائم میں فیصل آباد سرِ فہرست رہا جہاں 31 واقعات پیش آئے، جب کہ راجن پور اور سرگودھا میں 15-15 کیسز رپورٹ ہوئے افسوسناک امر یہ ہے کہ ان تمام مقدمات میں کسی کو سزا نہیں دی گئی، تاہم فی صد آبادی کے حساب سے راجن پور میں 2.9 اور خوشاب میں 2.5 فی صد کے تناسب نے اس رجحان کی شدت کو اجاگر کیا۔

    معروف اداکارہ شوبز چھوڑ کر ویٹریس بن گئیں

    اغوا کے حوالے سے لاہور میں 4,510 کیسز رپورٹ ہوئے، مگر صرف 5 ملزمان کو سزا ہوئی۔ فیصل آباد میں 1,610، قصور میں 1,230، شیخوپورہ میں 1,111 اور ملتان میں 970 شکایات درج ہوئیں، لیکن کسی کو بھی عدالتوں سے سزا نہیں ہوئی،آبادی کے تناسب سے لاہور کا کرائم ریٹ فی لاکھ 128.2، قصور 115.8 اور شیخوپورہ 103.6 رہا۔

    گھریلو تشدد کے کیسز میں گجرانوالہ میں سب سے زیادہ 561 شکایات موصول ہوئیں، جب کہ ساہیوال میں 68 اور لاہور میں 56 مقدما ت درج ہوئے ان تمام واقعات میں بھی سزاؤں کا تناسب صفر رہا اور فی لاکھ آبادی کے لحاظ سے گجرانوالہ میں 34.8 اور چنیوٹ میں 11 کے اعداد و شمار نے اس نوعیت کے جرائم کی سنگینی کو واضح کر دیا۔

    بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بیانیہ بے نقاب

    ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیّد کوثر عباس نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے رپورٹنگ کے نظام کو بہتر بنایا ہے مگر عدالتوں میں کیسز کا مؤثر تعاقب نہ ہونے کے باعث سزائیں نا ہونے کے برابر ہیں، پولیس کے پاس وہ واقعات بھی پہنچتے ہی نہیں جو متاثرین رپورٹ نہیں کرا پاتے یا روک دیئے جاتے ہیں اور اس لیے عدالتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات ناگزیر ہیں تاکہ خواتین بروقت ویمن سیفٹی ایپ اور ورچوئل پولیس اسٹیشن کے ذریعے اپنے کیس درج کرا سکیں۔

    ایس ایس ڈی او کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز شاہد خان جتوئی نے بتایا کہ اغوا کے پیچھے انسانی اسمگلنگ، جبری تبدیلی مذہب، تاوان اور زیادتی جیسے سنگین جرائم چھپے ہیں جن کے لیے فوری ریاستی مداخلت درکار ہے رپورٹ میں شامل نقشہ جات اور ضلعی اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ کئی چھوٹے اضلاع بڑے شہروں سے کہیں زیادہ متاثر ہیں۔

    ہالی وڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے اپنی گرل فرینڈ سے شادی کرلی

  • خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والی رسم غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار

    خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والی رسم غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار

    خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والی رسم غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی: وفاقی شرعی عدالت نے چادر و پرچی رسم کو غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دیا ہے،یہ فیصلہ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس اقبال حمید الرحمٰن کی سربراہی میں فل کورٹ نے دیا جس میں جسٹس خادم ایم شیخ، جسٹس ڈاکٹر محمد انور اور جسٹس امیر محمد بھی شامل تھے۔

    وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چادر اور پرچی کی رسم کے تحت خواتین کو وراثتی حق سے محروم کیا جاتا تھا، ایسی روایات اسلامی احکامات کے خلاف ہیں، چادر اور پرچی جیسی روایات قرآن و سنت میں خواتین کو دیے حقوق کے خلاف ہیں خواتین کو سماجی دباؤ کے تحت وراثتی جائیداد سے محروم کرنا اسلامی احکامات اور قوانین کے خلاف ہے۔

    وفاقی شرعی عدالت نے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیکشن 498 کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا اور فیصلے میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور فراہمی کے قوانین کے بارے میں آگاہی اور مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔

    یورپ کے بعد برطانیہ میں بھی پاکستانی ایئرلائنز بحال کرنے کی منظوری کی امید

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ بنوں میں چادر اور پرچی نامی روایات پر عمل ہوتا ہے، خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق ایسے رسم و رواج نہ رائج ہیں نہ ان کی کوئی اہمیت ہے، چادر اور پرچی کے نام پر خواتین کو وراثت سے محروم کیا جاتا ہے، اسلام سے قبل زمانۂ جہالت میں خواتین کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔

    جب نعمان اعجاز نے شوٹنگ کے دوران رعید عالم کو تھپڑ مارا

  • ایران میں بے حجاب خواتین کی تلاش کیلئے ڈرونز اور ایپس کا استعمال

    ایران میں بے حجاب خواتین کی تلاش کیلئے ڈرونز اور ایپس کا استعمال

    ایران نے خواتین پر حجاب کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھاتے ہوئے ڈرونز اور ایپس کا سہارا لے لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں ایران کی ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی انحصار کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس سے خواتین کے رویے کو نگرانی اور کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ایران نے خواتین پر حجاب کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے اقدامات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان خواتین پر نظر رکھنا اور انہیں سزا دینا شروع کر دیا ہے جو اس سخت لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔کریک ڈاؤن کے مرکزی حصے میں ”نازر“ نامی موبائل ایپلیکیشن ہے، جو حکومت کی حمایت یافتہ ایک ایسا ٹول ہے جس کے ذریعے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواتین کی حجاب قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    یہ ایپ صارفین کو اہم معلومات جیسے گاڑی کی نمبر پلیٹ، مقام اور وقت اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جسے آن لائن گاڑیوں کو ”فلیگ“ کرنے اور حکام کو مطلع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایپ گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کو ٹیکسٹ پیغام بھیجتی ہے، جس میں خلاف ورزی کی اطلاع دی جاتی ہے اور انہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے وارننگ کو نظرانداز کیا تو ان کی گاڑی ضبط کر لی جائے گی۔یہ مداخلت کرنے والی نگرانی کا نظام ایمبولینسوں، ٹیکسیوں اور عوامی نقل و حمل میں خواتین کو ہدف بنانے کے لیے بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس سے ان کی آزادی اور خود مختاری مزید متاثر ہو رہی ہے۔

    ”نازر“ ایپ کے علاوہ ایرانی حکام نے تہران اور جنوبی ایران میں عوامی مقامات کی نگرانی کے لیے فضائی ڈرونز بھی تعینات کیے ہیں تاکہ حجاب کی پابندی کو نافذ کیا جا سکے۔تہران کی امیرکبیر یونیورسٹی کے داخلی دروازے پر چہرے کی شناخت کا سافٹ ویئر بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ خواتین طالبات کی نگرانی اور ان کے سخت لباس کے ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ نے ایران کے نظامی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سخت مذمت کی ہے، خاص طور پر اس کے اختلاف رائے کو دبانے اور خواتین و لڑکیوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔رپورٹ میں ایران کے لازمی حجاب قانون کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر احتجاج ہوئے اور سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    امریکی ریاستوں میں طوفان سےتباہی، 16 افراد ہلاک
    امریکی پابندیاں،سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    کراچی میں ہوٹل سے خاتون کی برہنہ لاش برآمد،قاتل شوہر فرار

    ویرات کوہلی کا ٹی20 سے ریٹائرمنٹ واپس لینے کا اشارہ

  • خواتین کے بغیر ملک کی ترقی نا ممکن ہے،مریم اورنگزیب

    خواتین کے بغیر ملک کی ترقی نا ممکن ہے،مریم اورنگزیب

    لاہور: پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ خواتین کے بغیر ملک کی ترقی نا ممکن ہے-

    باغی ٹی وی :خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری بیان میں انہوں نےکہا کہ آج پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے، خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوا رہی ہیں190 ملین پاؤنڈ کیس وہ گڑھا ہے جو بانی پی ٹی آئی نے کسی اور کیلئے کھودا اور خود گرگئے-

    انہوں نے کہا کہ ان مردوں کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں، جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد کی، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ پنجاب میں خواتین کی ترقی کی مثال وزیراعلیٰ مریم نواز خود ہیں، پنجاب میں ترقی ہورہی ہے، مریم نواز پنجاب کو ترقی دے رہی ہےخواتین اچھے معاشرے کو تشکیل دیتی ہیں، خوا تین کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، انہیں ہرشعبے میں کام کرنا چاہیے آئی ٹی کے شعبہ میں خواتین کا اہم کردار ہے، پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں، پنجاب کے ہرضلع میں کیئر سینٹر بن رہا ہے۔

    ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، تین خوارجی ہلاک

    وزیراعظم کے مہنگائی کم کرنے کے دعوے قوم کے ساتھ مذاق ہیں،حافظ نعیم

    کل سے ملک کے مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی

  • ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    ہر میدان میں کامیاب اور باہمت،بلوچ خواتین،اک مثال

    بلوچ خواتین نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا فخر ہیں کیونکہ انہوں نے ہر میدان میں خود کو منوایا ہے۔ ان خواتین نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی خواتین کو مردوں کی طرح قابل بنانے کا ماحول فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ بلوچ خواتین نے اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے مختلف میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

    اے ایس پی پری گل ترین: ایک مثالی رہنما
    پشین سے تعلق رکھنے والی اے ایس پی پری گل ترین ایک سی ایس پی آفیسر ہیں جنہوں نے 2020 میں اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ اس وقت وہ کوئٹہ میں خواتین اور نوجوانوں کے سہولت کاری مرکز کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی محنت اور عزم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ خواتین کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں ہیں۔

    جسٹس طاہرہ صفدر: بلوچستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس
    جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس تھیں، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ ان کی کامیابی نے بلوچستان اور پاکستان بھر میں خواتین کے حقوق اور ان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

    بتول اسدی: بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر
    بتول اسدی بلوچستان کی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر (AC) کوئٹہ تھیں۔ انہوں نے سرکاری انتظامیہ میں اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی، جو بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    سائرہ بتول: بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ
    بلوچ خواتین مسلح افواج میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سائرہ بتول بلوچستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ ہیں، جنہوں نے پاک فضائیہ میں اپنی محنت اور لگن کے ساتھ نئی تاریخ رقم کی ہے۔

    ذکیہ جمالی: پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر
    ذکیہ جمالی نے پاکستان کی پہلی خاتون کمیشنڈ نیول آفیسر کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے بحریہ میں اپنے کام کے ذریعے خواتین کی مضبوط موجودگی کو ثابت کیا۔

    شازیہ سرور: بلوچستان کی بہادر خاتون پولیس افسر
    پی ایس پی افسر شازیہ سرور جو لیہ پنجاب میں ڈی پی او رہ چکی ہیں، ایک مضبوط بلوچ خاتون ہیں جن کا تعلق بولان سے ہے۔ شازیہ سرور نے اپنی بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا، اور مچھ حملے میں بی ایل اے کا نشانہ بنی تھیں۔

    دوسری طرف، بلوچ خواتین کا استحصال کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں۔ ان گروپوں میں شری بلوچ، سمیہ قلندرانی، محل بلوچ، گنجتون اور دہشت گردوں کے ہمدرد جیسے نائلہ قادری اور ماہ رنگ بلوچ شامل ہیں۔ یہ گروہ بلوچ خواتین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہیں اور انہیں آسان ہدف بناتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر، مہروش بلوچ (خودکش بمبار شری بلوچ کی بیٹی) BLA کی تحویل میں ہے۔بلوچ خواتین دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ فروری 2023 میں، محل بلوچ کو خودکش جیکٹ لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ لیفورسمنٹ ایجنسیز کے شبہات سے بچا جا سکے۔ان تمام چیلنجز کے باوجود، بلوچ خواتین ترقی، تعلیم اور خود مختاری کی راہ پر گامزن ہیں۔ منفی عناصر انہیں گمراہ نہیں کر سکتے، اور یہ خواتین اپنی کامیابی کے سفر میں ثابت قدم ہیں۔

    بلوچ خواتین نے ہر میدان میں اپنی محنت، عزم اور ہمت کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان کا سفر ایک روشن مثال ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔

    خواتین کا عالمی دن، صبا قمر دیہی خواتین کے پاس پہنچ گئیں

  • خواتین کو آگے لانا  پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    خواتین کو آگے لانا پوری قوم کے مفاد میں ہے،صدر مملکت

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ خواتین کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، معیشت اور قیادت میں آگے لانا نہ صرف ایک اخلاقی ضرورت ہے بلکہ یہ پوری قوم کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور اس عزم کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنا قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ایسا معاشرہ جو خواتین کو مساوی حقوق دیتا ہے، وہ زیادہ خوشحال اور پُرامن ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ آج کا دن خواتین کی استقامت، محنت اور کردار کو تسلیم کرنے کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر خاتون کو مساوی حقوق اور مواقع تک رسائی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں اور ہیلپ لائنز کا قیام شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، اور معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کے لیے حکومتی پالیسیوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آئینی دفعات اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے پرُعزم ہے، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ آج کے دن ہر خاتون کو بااختیار بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    آصف علی زرداری کا یہ پیغام ایک واضح عزم کی علامت ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کو مزید مستحکم کیا جائے گا، تاکہ وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔

    اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ ہر عورت کی آواز سنی جائے، اس کی قدر کی جائے اور اسے احترام دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو اب بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جیسے کہ تشدد اور امتیازی سلوک، جن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، معاشی آزادی دینا اور کاروباری شعبے میں ان کے لیے مساوی اجرت فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔

  • حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    حکومت نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صنفی مساوات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع تک یکساں رسائی فراہم کر کے ہی انہیں بااختیار بنایا جا سکتا ہے،خواتین کے حقوق کو یقینی بنانا ہمارا مشن اور غیر متزلزل عزم ہے۔ 

    انہوں نے یہ بات ہفتہ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر یہاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین بشمول کابینہ اراکین ، قانون سازوں، عہدیداروں، کاروباری شخصیات اور کارکنان نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام وزارت انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں نے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے کیا تھا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر قومی کمیشن برائے حیثیت نسواں اور اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کی تیار کردہ دارالحکومت کیلئے صنفی مساوات کے حوالہ سے پہلی رپورٹ بھی لانچ کی جو تعلیم، صحت، گورننس، سیاسی نمائندگی اور انصاف جیسے اہم شعبوں میں چیلنجوں کی نشاندہی اور ان کے حل کی سفارش کرتی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت قومی معیشت میں کردار ادا کرنے والے پروگراموں میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی اقدام کے لیے صوبوں کے ساتھ اشتراک کار کرے گی۔انہوں نے ورکنگ ویمنز انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ کام کرنے والی خواتین کی مدد کی جا سکے اور انہیں عصری چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کو ملازمت کے شعبوں میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے اور مردوں کے مساوی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں مواقع کی فراہمی سے ہماری پچاس فیصد خواتین کی آبادی کو ایک مفید افرادی قوت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے ملازمت کرنے والی خواتین کی سہولت کے لیے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسلام آباد میں سرکاری اور نجی محکموں میں ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں سہولیات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

    وزیر اعظم نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کام اور خاندانوں میں توازن پیدا کرنے کی جدوجہد میں پیشہ ورانہ کیریئر چھوڑ دیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہنر مند انسانی وسائل کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین کے اس طبقہ کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی مہارت کے حامل اسپتالوں، بینکوں اور دیگر پیشوں میں شامل ہوں تاکہ قومی معیشت میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی ان ممتاز خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے منظر نامے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر تحریک پاکستان کی سرکردہ خواتین محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان، پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیربھٹو،آمریت کے خلاف مزاحمت کرنے والی مثالی شخصیات بیگم نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نواز ، سماجی کارکنان بلقیس ایدھی اور ڈاکٹر روتھ فائو ، قانون دان عاصمہ جہانگیر ، ملک کی کم عمر ترین آئی ٹی ماہر ارفع کریم، سابق سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز، لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ بیٹیاں خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک قابل ذکر علامت ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں اپنی شناخت بنائی۔شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے ابتدائی دور حکومت میں خواتین کی خودمختاری لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ذکر کیا جن میں خواتین کے لیے پنجاب کے پہلے انسداد تشدد مراکز کا قیام، سرکاری محکموں کے بورڈز میں خواتین کے کوٹہ میں اضافہ، طالبات کے لیے وظیفے میں اضافہ اور 90 ہزار بچیوں کو سکولوں میں داخل کر کے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق وزارتوں اور محکموں کو خواتین کی شمولیت کی حامل پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ سال ٹاسک دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کامیابی کے ساتھ محکمانہ بورڈز میں خواتین کی نمائندگی کے زیادہ تناسب کا باعث بنا۔

    اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے کہا کہ اقوام متحدہ صنفی ایکشن پلان سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف 2030 کے حصول کے لیے پاکستان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کو خواتین کے مخصوص حوالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی صنفی برابری کی رپورٹ کا اجراء ان چیلنجوں کی نشاندہی کرنے میں اہم ہے جن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    صنفی مین اسٹریمنگ کی خصوصی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں اور محکموں میں خواتین کی نمائندگی 33 فیصد کے ہدف سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نمائندگی موثر حکمرانی اور بہتر پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔

    چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو ام لیلیٰ اظہر نے پاکستان کی صنفی مساوات کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین متعدد شعبوں میں رکاوٹیں عبور کر رہی ہیں۔انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کے طور پر خصوصی طور پر خواتین مسافروں کے لیے پنک بسوں کے اجراء اور ’ویمن آن وہیلز‘ پروجیکٹ پر روشنی ڈالی جس نے خواتین کو آسان اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے سہولت فراہم کی۔

    اس موقع پر چیئرمین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) عاکف سعید نے کہا کہ وزیراعظم کے خواتین کو بااختیار بنانے کے پیکیج کے تحت ایس ای سی پی کو ان پرائیویٹ کمپنیوں کو نامزد کرنے کا کام سونپا گیا جنہوں نے اپنے کام کی جگہ پر فیملی فرینڈلی پالیسیاں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں کام کرنے کے محفوظ ماحول کو فروغ دینے میں رول ماڈل کے طور پر کام کریں گی۔

    وزیراعظم نے 10 بہترین نجی کمپنیوں کو فیملی فرینڈلی ایوارڈز دیئے جن میں الفا بیٹا کور سلوشنز، ارفع کریم ٹیکنالوجی انکیوبیٹر، ایوی ایشن ایم آر او، بلنک کیپٹل، فنورکس گلوبل، گفٹ ایجوکیشنل، کِسٹ پے، لائبہ انٹرپرائزز، لیڈیز فنڈ انرجی، اور لی اینڈ فنگ پاکستان شامل تھیں۔یہ ایوارڈز ایک آن لائن سروے اور اسکورنگ میٹرکس پر مبنی تھے جو ایس ای سی پی نے یو این ویمن اور پاکستان بزنس کونسل کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ 2024 میں شروع کیے گئے سروے میں 230 سے ​​زائد کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے 10 کو شفاف عمل کے ذریعے شارٹ لسٹ کیا گیا۔

    ڈیرہ غازی خان، پولیس چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام

    اے این پی رہنما متوکل خان روڈ حادثے میں جاں بحق

  • جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان کے سب سے بڑے خواتین کے جیل میں بزرگ خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ جیل کی راہداریوں میں چلتی ہیں، کچھ خواتین واکر کا استعمال کرتی ہیں۔ یہاں کے ملازمین ان کی نہانے، کھانے، چلنے اور دوا لینے میں مدد کرتے ہیں۔لیکن یہ کوئی بزرگوں کا کیئر ہوم نہیں ہے، یہ جاپان کی سب سے بڑی خواتین کی جیل ہے۔ جیل میں موجود خواتین کی تعداد جاپان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس میں تنہائی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جسے گارڈز کے مطابق بعض بزرگ خواتین اتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیل میں رہنا پسند کرتی ہیں۔

    توشیگی خواتین کی جیل کے ایک افسر تاکا یوشی شیرا ناگا نے سی این این کو بتایا، "کچھ قیدی خواتین یہ کہتی ہیں کہ وہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہنا چاہتی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو 20,000 یا 30,000 ین (130 سے 190 ڈالر) ماہانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔” یہ بیان ستمبر میں سامنے آیا،سی این این نے توشیگی جیل کی گلابی دیواروں اور پرسکون راہداریوں میں آکیو سے ملاقات کی، جو 81 سال کی ایک قیدی ہیں۔ آکیو کھانے کی چوری کے جرم میں قید ہیں اور وہ جیل کی زندگی کو زیادہ محفوظ اور مستحکم سمجھتی ہیں۔آکیو کے مطابق، "اس جیل میں بہت اچھے لوگ ہیں، شاید یہ زندگی میرے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔”

    یہاں کی خواتین جیل میں رہ کر کارخانوں میں کام کرتی ہیں، لیکن یہ کچھ کے لیے ایک مناسب ماحول ہے جہاں انہیں باقاعدہ کھانا، مفت صحت کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی دیکھ بھال ملتی ہے، وہ ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کا ساتھ بھی پاتی ہیں جنہوں نے بیرون جیل میں ان سے تعلق توڑا ہوا ہے۔

    یوریکو، جو 51 سال کی ایک قیدی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے پچھلے 25 سالوں میں پانچ بار منشیات کے الزام میں جیل کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق جیل میں آنے والی خواتین کی عمریں بڑھتی جا رہی ہیں، اور بعض لوگ پیسوں کی کمی کے باعث دوبارہ جیل میں آنا چاہتے ہیں۔بزرگ خواتین اکثر اپنے خاندان سے علیحدگی اور غربت کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ آکیو نے اپنے بارے میں بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کی مالی حالت بہتر ہوتی، تو وہ کبھی بھی چوری نہ کرتیں۔ آکیو کا بیٹا جو ان کے ساتھ رہتا تھا، ان سے کہتا تھا، "میں چاہتا ہوں کہ تم چلی جاؤ۔”

    2022 میں جاپان میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی جیلوں کی نوعیت کو بھی بدل رہی ہے۔ جیل میں اب ان بزرگ قیدیوں کی دیکھ بھال اور ضروریات کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔مقامی حکومتیں اور وزارت انصاف اب ان بزرگ قیدیوں کی رہنمائی اور مدد کے لیے مختلف پروگرامز شروع کر رہی ہیں تاکہ ان کو جیل سے باہر بہتر زندگی گزارنے کے لیے سپورٹ فراہم کی جا سکے۔اس کے باوجود جاپان میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور کم ہوتی پیدائشوں کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ بزرگوں کے لیے مزید سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ جرائم کا ارتکاب نہ کریں۔ایسی صورتحال میں، توشیگی جیل میں قیدیوں کے درمیان ایک دوسرا خاندان اور معاونت کا ماحول نظر آتا ہے، جہاں ایک دوسرے کی مدد اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر