Baaghi TV

Tag: خواتین

  • بھارت میں ہر 16منٹ میں ایک خاتون کی عصمت دری  کی جاتی ہے، رپورٹ

    بھارت میں ہر 16منٹ میں ایک خاتون کی عصمت دری کی جاتی ہے، رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت میں ہر 16 منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے جب کہ ہر 30 گھنٹے میں اجتماعی زیادتی کا ایک واقعہ رونما ہوتا ہے، ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔

    باغی ٹی وی : بھارت ہر سال 13 فروری کو خواتین کا قومی دن مناتا ہے لیکن خواتین کو ہر روز ہراساں کیا جاتا ہے، چھیڑاجاتا ہےگرفتارکیا جاتا ہے اور خوف زدہ کیا جاتا ہے اور عصمت دری جیسے سنگین واقعات سمیت زیادہ تر کیسزرپورٹ ہی نہیں ہوتے خواتین کے لیے بھارت دنیا میں بدترین جگہ ہے اور جہاں تک خواتین کے خلاف جرائم کا تعلق ہےتو ہندوتوا آر ایس ایس اوربی جے پی کی زیرقیادت یہ ملک دنیا میں سب سے آگے ہے-

    کشمیر میڈیا سروس میں خواتین کے دن پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا میں خواتین کے لیے بدترین جگہ ہے جہاں ایک گائے کا تو تحفظ ہے لیکن خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں بھارت میں خواتین کو عام طور پر دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے جبکہ اقلیتوں بشمول مسلمان، دلت اور عیسائی خواتین ذہنی طور پر انتہائی ذہنی دباؤ اور ذلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی سب سے زیادہ غیر محفوظ شہروں میں سے ایک ہے۔ یوپی سے لے کر راجستھان اور کیرالہ سے لے کر مدھیہ پردیش تک میں ملک بھر کے مجموعی کیسز میں سے دو تہائی سے زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ کولکتہ میں جنسی زیادتی کے سب سے کم واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے 2020 میں بھارت میں روزانہ 77 جنسی زیادتی کے واقعات کی تصدیق کی ہے جب کہ 2020 میں جنسی زیادتی کے مجموعی 28 ہزار 046 واقعات رونما ہوئے۔ 2019 میں یہ تعداد 32 ہزار، 2018 میں 33 اور 2017 میں 32،559 تھی۔

    بھارت میں مودی سرکار میں جنسی زیادتی کے اتنے کیسز سامنے آئے ہیں کہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کو ریپستان کہا جانے لگا ہے۔

  • خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان نے خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی:ہر سال 12 فروری کو پاکستانی خواتین کاقومی دن منایا جاتا ہے اسی مناسبت سے وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی اور سینیٹر شیری رحمان نے جاری پیغام میں کہا کہ ملک کی تمام باہمت، محنتی اور بہادر خواتین کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں، ملک کی 49 فیصد آبادی عورتوں پر مشتمل ہے-

    وزیر اعلی بلوچستان کے استعفی بارے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

    رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہماری جرات مند عورتیں ہی پاکستان کی دستاویزی اور غیر دستاویزی معیشت کا پہیہ چلاتی ہیں،ہماری عورتیں ملک کا سرمایہ ہی نہیں سہارا بھی ہیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہو یا بی آئی ایس پی ، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی اور انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا-

    شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے ذریعے صوبہ سندھ کی خواتین ترقی کی نئی مثال قائم کر رہی ہیں،ہماری خواتین ایک خود کفیل معاشرے کی بنیاد ڈال رہی ہیں-

    واضح رہے کہ 12 فروری 1983 کو لاہور ہائیکورٹ کے سامنے خواتین، وکلا، اساتذہ، ادیب، شعرا اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے ضیا الحق کے نافذ کر دہ مار شل لا کے خلاف جلوس نکالا۔ یہ احتجاجی جلوس اس وقت پاکستان میں لگی ہوئی جبری پابندیوں، حدود آرڈیننس اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین مثلاً قانون شہادت کے خلاف نکالا گیا۔ اس پُر امن مظاہرے پر پنجاب پولیس اور خفیہ اہلکاروں نے بھرپور تشدد کیا اور نہتے عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ خواتین کو متحد ہونے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کر سکیں۔

    سندھ اسمبلی میں نجی طور پر سود کے کاروبار کیخلاف بل پیش کردیا گیا

    عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ویمن ایکشن فورم نے قانون شہادت میں ترمیم کے خلاف 12 فروری 1983 کو جلوس نکالنے کا اعلان کیا۔ لاہور کی عورتوں نے پنجاب اسمبلی کے مقابل فری میسن بلڈنگ کے سامنے جمع ہونا تھا۔ یہاں سے انہیں چند سو گز کے فاصلے پر لاہور ہائی کورٹ جا کر چیف جسٹس کو ایک یاد داشت پیش کرنا تھی۔ اس مظاہرے پر حکومتی اہلکاروں کی طرف سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ عوامی شاعر حبیب جالب بھی ان کےساتھ تھے، جنہوں نے اس موقع پر خواتین کےلیے ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ پولیس نے ان خواتین پر لاٹھی چارج کر دیا، حبیب جالب کا سر پھٹ گیا۔ تقریباً پچاس خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب اس واقعہ کی یاد میں ہر سال 12 فروری کو پاکستانی عورتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    پاکستان پہلا ملک ہے جس نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ وزیر…

  • خواتین آزادی مانگتی ہیں کیونکہ وہ ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں،شازیہ مری

    خواتین آزادی مانگتی ہیں کیونکہ وہ ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں،شازیہ مری

    وفاقی وزیر شازیہ مری نے گوگل کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے سیمینار میں شرکت کر کے خوشی ہوئی جہاں خواتین کو بھی قابل بنایا جا رہا یے، ملک میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے آگاہی ضروری ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ اس انقلاب کی ضرورت پاکستان کو ہے ،دو مرتبہ جزل الیکشن لڑا اور جیت کر واپس آئی،آصف زرداری کا فوں آیا کہ سیٹ خالی ہے میں نے کہا میں الیکشن لڑوں گی،1 ماہ بعد اسمبلی دوبارہ واپس آئی اور وہاں سے جیتی جہاں سے پیپلز پارٹی کبھی نہیں جیتی تھی ،22 اگست 2013 کو سندھ آزاد ہوا،سندھ میں ایک انقلاب برپا ہوا جس نے پورے ضلعے کی عوام کو حقیقی ووٹ کا حق دیا،گوگل کے شکرگزار ہیں جس نے پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے،میں نے اپنے گاؤں میں گدھے گاڑی میں بھی سواری کی ہے،اگر ایک والد اہنی بیٹیوں کی بہتر تربیت کرے ایک عورت کبھی بھی پیچھے نہیں رہ سکتی پاکستان کی خواتین میں سب سے زیادہ ٹیلنٹ ہے،ہم خواتین پریشانیوں، تکلیفوں کے باوجود ہم آگے بڑھنا جانتے ہیں پاکستان کی خواتین بہت تکلیفوں سے گزرتی ہیں،میرے والد صاحب کی خواہش ہوتی تھی کہ میرے بچے میرے پاس رہیں،

     انسانی حقوق کے متعلق ہمارا عزم غیر متزلزل ہے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ سینیٹر فاروق حامد نائیک نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن کمیشن کے ممبران کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دہشتگردی ہے 

    شازیہ مری اپنے والد کا ذکر کرتے ہویے آبدیدہ ہو گئی،کہا میرے پاس جو کچھ ہے اپنے والد کی تربیت کی وجہ سے ہے، میڈیا سمیت سب کو دیہاتی علاقوں کا دورہ لازمی کرنا چاہیے ،جس سطح پر یہ کام کر رہے ہیں اسی سطح پر آگاہی کی بھی ضرورت ہے،عورت کو آپ ایمپاور نہیں کر سکتے وہ ایمپاور ہے،ہماری گروتھ 33 فیصد سے بڑھائی جا سکتی ہے،خواتین کے کردار سے ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا،خواتین کو برابر ہے کے حقوق ملیں گے تو وہ کردار ادا کر سکیں گی ،خواتین آزادی مانگتی ہیں کیونکہ وہ ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں،کامیاب ملک کے لیے مردوں اور خواتین کی پڑھائی سب سے زیادہ ضروری ہے،

  • کراچی میں خواتین کے لیے مخصوص پنک پیپلز بس سروس چلانے کا فیصلہ

    کراچی میں خواتین کے لیے مخصوص پنک پیپلز بس سروس چلانے کا فیصلہ

    کراچی میں خواتین کے لیے مخصوص پنک پیپلز بس سروس چلانے کا فیصلہ

    پنک پیپلز بس سروس کا آغاز خصوصاً ملازمت پیشہ خواتین کے سفری مسائل کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے فیصلہ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت صحت کے باعث ان کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ یکم فروری سے پنک پیپلز بس سروس کا آغاز کیا جائے گا ،پنک پیپلز بس سروس کے پہلے روٹ کے لیے ماڈل کالونی ، شاہراہِ فیصل ، تا ٹاور روٹ کا انتخاب کیا گیا ہے ، پنک بس سروس دفتری اوقات میں صبح اور شام کے اوقات میں ہر 20 منٹس کے بعد چلے گی،دفتری اوقات کے بعد معمول کے اوقات میں ہر ایک گھنٹے کے بعد پنک بس سروس چلے گی ، کراچی میں نارنجی، سرخ اور سفید کے بعد خواتین کے لیے اب (گلابی) پنک بس سروس کا آغاز کرنے جا رہے ہیں ،پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی طرف تیزی سے گامزن ہے ،

    اجلاس میں سکھر، لاڑکانہ، حيدرآباد میں پیپلز بس سروس کے آپریشنز اور کراچی میں روٹ 4، 5, 6 اور 7 کے آغاز کا بھی جائزہ لیا گیا صوبائی وزیر نے سکھر میں 29 جنوري کو پیپلز بس سروس کا آغاز کرنے کی ہدایت کر دی، صوبائي وزيرنے ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو کراچی میں پیپلز بس سروس کے بقیہ روٹس کا دورہ کرنے اور سڑکوں کی بہتری کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی، شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی کے روٹ 4، 5, 6 اور 7 پر جلد از جلد بسیں چلانی ہیں ، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر ہو ،اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ عبدالحلیم شیخ ، ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی زبیر چنہ ، آپریشن منیجر این آر ٹی سی عبدالشکور نے شرکت کی

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    سندھ کی جیلوں میں افغانی بچوں کی تصاویر، شرجیل میمن نے حقیقت بتا دی

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    طالبان حکومت کا خواتین دکانداروں کو دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند کرنے کا حکم

    افغانستان میں طالبان حکومت نے بیوٹی پارلرز اور خواتین دکا ن داروں کو دکانیں بند کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے افغانستان میں صوبہ بغلان کے شہر پل خمری میں خواتین کو بیوٹی سیلون بند کرنے کے لیے 10 روز کی مہلت دی ہےتجارتی مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کے کام کرنے پربھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے صوبہ بلخ کے شہر مزار شریف کی مارکیٹ میں خواتین دکانداروں کو دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ خواتین مرد ایک ساتھ کام کررہے ہیں، اس لیے دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔

    خواتین دکانداروں نے حکام سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دکانوں سے ہی وہ گزر بسر کر رہی اور خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    افغان حکومت نے لڑکیوں کوپرائمری تک تعلیم جاری رکھنےکی اجازت دے دی

    اس سے قبل طالبان لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر، پارکس میں خواتین کے جانےپربھی پابندی لگا چکے ہیں طالبان حکومت کو خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندیاں عائد کرنے پرعالمی برادری کی سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ روز طالبان حکومت نے لڑکیوں کو پانچویں جماعت تک تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی ہے –

  • سعودی عرب میں پہلی بارخواتین  تیز رفتار حرمین ایکسپریس چلانے لگیں

    سعودی عرب میں پہلی بارخواتین تیز رفتار حرمین ایکسپریس چلانے لگیں

    سعودی عرب میں پہلی بارخواتین تیز رفتار حرمین ایکسپریس چلانے لگیں۔

    باغی ٹی وی : ملک کی تاریخ میں خواتین کی جانب سے دنیا کی تیزرفتار ٹرینوں میں شامل ’ حرمین ایکسپریس‘ چلانے کا یہ پہلا موقع ہے۔سعودی عرب ریلویز (سار) نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ویڈیو جاری کی جس میں خواتین ڈرائیورز کو دکھایا گیا۔

    سار کی جانب سے جاری ویڈیو کے کیپشن میں بتایا گیا کہ 32 سعودی خواتین نے حرمین ایکسپریس چلانے کی تربیت مکمل کی ہے۔


    ایک سعودی خاتون ڈرائیور سارا الشہری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت 32 خواتین کو دنیا کی تیز رفتار ٹرینوں میں شامل حرمین ایکسپریس چلانے کا موقع دیا جارہا ہے جو ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔

    نورا ہشام نامی خاتون ڈرائیور نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جسے ہمارے کاندھوں پر سونپا گیا ہے جو مسافر عمرہ یا حج کی ادائیگی کے لیے آئیں گے، انہیں بحفاظت پہنچانا ہمارا فر ض ہوگا۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کیتھولک چرچ کےسابق پوپ بینیڈکٹ کی موت پراظہارافسوس

    سعودی خاتون ڈرائیورشجن المرسی نے کہا کہ’ ٹرین چلانے کی ٹریننگ لینے والے پہلے گروپ میں شمولیت بڑے فخر کی بات ہے۔ میں ایکسپریس ٹرین چلا کر وطن عزیز کی خدمت کروں گی-

    بشائرالغامدی نے بتایا کہ’حرمین ایکسپریس چلانے کی فرضی ٹریننگ اس انداز سے دی گئی جس طرح ہم حقیقی انداز میں ٹرین چلا رہے ہوں-

    ٹرین ڈرائیوراور ٹرینر مھند شاکر ملاح نے کہا کہ حرمین ایکسپریس چلانے کی ٹریننگ دیتے وقت انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ امن و سلامتی کے معیار کی پابندی کی جائے۔ ہراسٹیشن تک ٹرین کسی تاخیراورحادثے کے بغیر پہنچےٹریننگ دیتے ہوئے ان تمام باتوں کا پورا خیال رکھا جاتا ہے-

    خیال رہے کہ حرمین ایکسپریس کو مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ چلایا جاتا ہے۔

    طیارے کی پرواز ٹائم ٹریول کرتےہوئے2023 سے واپس 2022 میں چلی گئی

  • خواتین اولاد نہ ہونے پر تعویز گنڈوں کی بجائے میڈیکل چیک اپ کو ترجیح دیں

    خواتین اولاد نہ ہونے پر تعویز گنڈوں کی بجائے میڈیکل چیک اپ کو ترجیح دیں

    جنرل ہسپتال میں خواتین کی صحت اور اُنکی خود انحصاری پر سیمینار کا انعقاد

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سال نو 2023کو خواتین کے حقوق اور خود انحصاری کے طور پر منانے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین معاشرتی ترقی اور ملکی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنی صحت کے مسائل سے آگاہی حاصل کر سکیں بلکہ انہیں علاج معالجے اور ہیلتھ کئیر کے یکساں مواقع میسر آئیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال میں خوداتین کی صحت اور اُن کی خود انحصاری کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطا ب کرتے ہوئے کیا جس میں پروفیسر فہیم افضل،ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق ، ڈاکٹر مہوش الیاس اور ڈاکٹر رضوانہ طارق نے بھی اظہار خیال کیا۔سیمینار میں نوجوان ڈاکٹرز سمیت ڈاکٹر محمد صفدر، ڈاکٹر محمد مقصود اور ڈاکٹر عبدالعزیز بھی موجود تھے۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین بہت سے مسائل اور بیماریوں کے بارے میں کسی کو بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں جس سے گائناکالوجی سے متعلق اُن کے امراض میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو ان کی صحت کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امراض نسواں کے علاج کے متعلق خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی جائے تاکہ وہ معالجین سے بروقت طبی مشورہ حاصل کر کے علاج کروا سکیں۔ڈاکٹر لیلیٰ شفیق و دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ حیض اور دوران حمل خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کو مناسب آگاہی اور معلومات نہ ہونے کے باعث ذہنی، جسمانی اورمعاشرتی مشکلات پیش آتے ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ مائیں سن بلوغت کے وقت اپنی بیٹیوں کو بنیادی معلومات اور ضروری مسائل سے آگاہ کیا کریں تاکہ انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ با اعتماد طریقے سے اپنی عملی زندگی میں قدم رکھ سکیں۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ خواتین اولاد نہ ہونے کی صورت میں اپنا میڈیکل چیک اپ کروانے کی بجائے تعویز گنڈوں کا سہارا لیتی ہیں جبکہ انہیں کسی اچھے ماہر امراض نسواں کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹرس، اووری میں غدود اور سسٹ بننا ایک عام سے بیماری بن چکا ہے جوخواتین میں نہ صرف بے قاعدگی کا باعث بنتا ہے بلکہ اولاد نہ ہونے کا ایک بڑا سبب بھی ہے تاہم خواتین کو اس کے لئے نیم حکیم کی بجائے کسی ماہر گائناکالوجسٹ سے مشورہ کر کے علاج کروانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹرز،گائناکالوجسٹ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آگاہی کے اجتماعات منعقد کر کے نوجوان لڑکیوں کا شعور اجاگر کریں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی صحت کا خود خیال رکھ سکیں۔ سیمینار کے اختتام پر سوالد و جواب کا بھی سیشن ہوا اور شرکاء نے جنرل ہسپتال میں اس اہم اور حساس موضوع پر سیمینار کے انعقاد کے سراہا۔

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

  • پنجاب وومن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء کےخلاف تمام درخواستیں خارج

    پنجاب وومن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء کےخلاف تمام درخواستیں خارج

    اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب وومن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء کے اسلا م کے خلاف ہونے سے متعلق تمام درخواستیں خارج کردیں۔قائم مقام چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 14 نومبر کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان ، سیف اللہ گوندل ایڈووکیٹ ، ڈاکٹراسلم خاکی و دیگر فریقین کی جانب سے دائر کی گئی پانچوں درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

    عدالت نے 45 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پنجاب میں خواتین کو تشدد سے بچانے کیلئے بنایاگیا قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے، وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اسلام عورتوں کے تحفظ اور بھلائی کا حکم دیتا ہے اور ہر قسم کے تشدد سے منع کرتا ہے۔
    فاضل بنچ نے فیصلے میں خطبہ حجتہ الوداع کے متعلقہ حصے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تلقین کی ہے اور ہر قسم کے تشدد سے منع کیا ہے۔

    عدالت نے مزید قرار دیا کہ اسوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسوہ سے یہ بات واضح ہے کہ اپنے خاندان کی عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔

    شرعی عدالت نے مزید قرار دیا کہ اسلام بیوی، بہن، بیٹی یا ماں پر کسی قسم کے گھریلو تشدد کو جائز قرار نہیں دیتا۔ اسلام وہ مذہب ہے جس نے عورت کو سب سے پہلے حقوق دیئے اور تحفظ عطا کیا ، اسلام میں کسی قسم کے گھریلو تشدد کی گنجائش نہیں۔ لہذا ایک اسلامی ریاست کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواتین کے خلاف ہر قسم کے گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کرے۔

    عدالت نے فیصلے میں قراردیا ہے کہ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد ایک ظالمانہ رویہ ہے جس کی اسلام میں کسی طور گنجائش نہیں ہے۔ ہم پر نبیِ رحمتﷺ کے احکامات کی پابندی لازم ہے اور اس ضمن میں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے رہنما اصول متعین کرتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اہلِ خانہ اور خصوصاً اپنی خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم نبیِ رحمت ﷺنے فرمایا ہے۔احادیث مبارکہ اور قرآن و سنت کے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرہ میں گھریلو تشدد کے تدارک کے لئے یہ قانون ایک مثبت اقدام ہے۔ جو اس ضمن میں اسلامی اصولوں کے تحت حکومت کی طرف سے نہی عن المنکر کے لئے اٹھائے گئے اقدام میں آتا ہے۔یاد رہے کہ پنجاب ویمن ایکٹ کو اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا کہ متعلقہ قانون خلافِ اسلام ہے اور بنیادی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

  • چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ — سیدرا صدف

    چندی گڑھ یونیورسٹی پنجاب (انڈیا) میں سانحہ پیش آیا ہے۔ایک طلبا نے مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے کہنے پر یونیورسٹی فیلوز کے ساٹھ سے زائد ایم ایس ایس تب بنائے جب وہ نہا رہی تھیں۔۔۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ لڑکیوں میں سے کچھ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعہ تو قبول کیا ہے لیکن خود کشی کے کسی کیس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔معاملے کی تحقیقات البتہ جاری ہیں۔۔۔انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک لڑکی نے ہی دوسری لڑکیوں کی پرائیوسی پیسوں کے عوض بیچ دی۔۔

    سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں کچھ لڑکیاں بےہوش نظر آ رہی ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق قریب آٹھ لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔۔ہو سکتا ہے کہ خودکشی نہ ہو ذہنی دباؤ کے باعث لڑکیاں بےہوش ہو رہی ہوں۔۔۔لیکن اصل معاملہ ہی ذہنی دباؤ اور خوف ہے۔۔۔

    پاکستان ہو یا بھارت ابھی تک جنسی جرائم میں خواتین وکٹم ہونے کے باوجود معاشرے کی سپورٹ نہیں حقارت برداشت کرتی ہیں۔۔۔آہستہ آہستہ معاشرہ بدل رہا ہے لیکن ابھی بھی منزل بہت دور ہے۔۔۔

    چونکہ جنسی جرائم واضح اکثریت کے ساتھ خواتین کے خلاف ہوتے ہیں تو انکو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس میں آپکا کوئی قصور نہیں ہے۔۔آپکی عزت کو کچھ نہیں ہوا بلکہ عزت اسکی خراب ہوئی جس نے جرم کیا ہے۔۔۔

    معاشرے میں مجموعی طور پر جنسی جرائم سے متاثرہ افراد کے حق میں سوچ پیدا ہونے سے انکے سروائیو کرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

    عامر خان ایک ریپ وکٹم خاتون سے گفتگو کر رہے تھے کہ زندگی کی طرف واپس کیسے آئیں۔۔ان خاتون نے بہت خوبصورت جواب دیا جو کچھ ردوبدل کے ساتھ کوٹ کر رپی ہوں۔۔

    "میری عزت میری شلوار میں نہیں تھی جو چلی گئی۔۔ عزت اسکی گئی جس نے جرم کیا۔۔۔میری عزت کیوں جاتی۔۔۔”

  • پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

    وجہ؟

    اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

    اس میں قصور کس کا تھا؟

    اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔

    لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔

    میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔

    اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔

    اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔