Baaghi TV

Tag: خواتین

  • اوکاڑہ کے قریب بس الٹ گئی۔27 مسافر زخمی

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) اوکاڑہ پاکپتن روڈ پر مسافروں سے بھری بس الٹ گئی جسکی وجہ سے بس میں سوار 27 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 13 مرد،13 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو دیپالپور میں منتقل کردیا گیا۔ بس عارفوالا سے لاہور جارہی تھی اور اوور سپیڈ کی وجہ سے ٹرک سے ٹکرا گئی جس سے بس کا ٹائر برسٹ ہوگیا اور بس الٹ گئی۔ زخمیوں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

  • لڑکیوں کے ذریعے بلیک میلنگ گروہ سرگرم

    لڑکیوں کے ذریعے بلیک میلنگ گروہ سرگرم

    قصور میں لڑکیوں کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کئے جانےکا انکشاف ہوا ہے
    تفصیلات کے مطابق قصور میں لڑکیوں کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے اس مکروہ دھندے میں ملوث گروہ کی لڑکیاں پہلے امیر افراد سے دوستی کرتی ہیں اور پھر بعد میں ان کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے اور پیسے بٹورے جاتے ہیں
    دھندہ کرنے والے خفیہ گروہ کے ڈسے شہری محمد احمد اور محمد حسین نے زبان کھول دی اور گروہ کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی جس پر ایکشن لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پنجاب محمد انعام غنی نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کو خصوصی ہدایات جاری کر دی اور جلد سے جلد پورے گروہ کو گرفتار کرکے کاروائی کرنے کے آرڈر جاری کر دیئے ہیں

  • چند ایسی علامات جن سے ہر خاتون کو خبردار رہنا چاہئے

    چند ایسی علامات جن سے ہر خاتون کو خبردار رہنا چاہئے

    ہمارے جسم کے اندر ہیر وقت متعدد عمل جاری رہتے ہیں جو ہارمونز کنٹرول کرتے ہیں مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ہارمونز کا نظام زیادہ پچیدہ ہوتا ہے اور اس کا انتشار بھی زیادہ ہوتا ہے اگر ہارمونز کا نظام متاثر ہو تو مزاج روپ رویہ اور شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے ہار مونز متا ثر ہونے کی نشانیوں کا خواتین کو علم ہونا ضروری ہے تاکہ اس حوالے سے ڈاکٹر رجوع کر سکیں

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    عام طور پر مسام بند ہو جانے کی وجہ سے کیل مہاسے نمودار ہوتے ہیں لیکن طبی ماہرین کے مطابق کیل مہاسوں کا بے وقت نمودار ہونا ہارمونز کی تبدیلی کا نتیجہ ہے جسا کہ اینڈروجن کی سطح میں کمی کیل مہاسوں کے نکلنے کا باعث بنتی ہے ایسا خواتین کے ساتھ اکثر نوجوانی کے دور میں ہوتا ہے-

    اگر ہارمونز کا نظام متوازن نہ ہو تو جسمانی وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے بھلے آپ صحت بخش غزا کا استعمال کیوں نہ کریں مخصوص ہارمونز کی کمی یا زیادتی جسم میں چربی کی مقدار بڑھانے اور مسلز کے حجم میں کمی کیا باعث بنتی ہے مثلاً ایسٹروجن کولیسٹرول اور انسولین کی مقدار میں اضافہ جسم میں چربی کے اضافے کا باعث بنتی ہے جبکہ تھائی رائیڈز کی سطح میں کمی میٹا بولزم کو سست کر کے جسمانی حجم کو بڑھاتا ہے

    اچانک بہت زیادہ پسینہ بہنا اور متواتر بخار ہارمونز کی گڑ بڑ میں کمی کی بڑی علامات میں سے ایک علامت ہے ہارمونز جو جسم کے درجہ حرارت کو کنٹروک کرتے ہیں ان میں گڑبڑ کی صورت میں اچانک گرمی کا احساس بڑھ جاتا ہے بخار کی کیفیت ہو جاتی ہے اور پسینہ بہنے لگتا ہے

    ویسے تو ہر ایک کو کسی نہ کسی کا تھکاوٹ کا سامنا رہتا ہے اگر کسی خاتون کو مناسب آرام کرنے کے باوجود بھی ہر وقت تھکاوٹ کا احساس ہو تو یہ بھی ہا رمونز میں عدم توازن کی علامت ہو سکتی ہے

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    اگر کسی خاتون کو اکثر سر درد کی شکایت رہتی ہو تو یہ ایسٹروجن کی سطح میں کمی کی وجہ سے ہو سکتی ہے یہ ایسا ہارمون ہی جو خواتین کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے میٹابولک نظام کو کنٹرول کرتا ہے اس کی مقدار میں بہت زیادہ کمی آدھے سر کے درد اور چڑچڑے پن کا باعث بنتی ہے

    خواتین کے بالوں کا بہت زیادہ گرنا تھائی رائیڈ ،انسولین یا ٹیسٹو سیٹرون کے باعث ہو سکتاہے مردوں میں یہ ہارمونز ان کے جسم کو بھاری کرتا ہے اور بالوں سے بھرتا ہے جبکہ خواتین میں اس کی زیادہ مقدار بہت زیادہ بال گرنے کا باعژ بنتی ہے اکثر گنج پن کی طرف لے جاتی ہے

    بے خوابی ایک خطرنک علامت ہے یہ پروجسٹرون کی انتہائی کم سطح کے باعث ہوتی ہے طبی ماہرین کے مطابق یہ ہارمون نیند کو معمال پر لاتا ہے اور قدرتی طور پر پر سکون رکھتا ہے ایسٹروجن اور پروجسٹرون میں کمی اس وقت آتی ہے جب خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں

    بھوک اور اشتہا کو کنٹرول کرنے میں ہارمونز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ہارمونز میں عدم توازن بھوک کو کنٹرول سے باہر کر دیتا ہے بھوک کو کنٹرول کرنے میں لپنن اور کیرلین اہم کردار ادا کرتے ہیں لپنن بھوک کم کرتا ہے جبکہ گیرلین جسم میں احساس پیداکرتا ہے کہ کب کھانا کھانا ہے

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    نظام ہاضمہ کے مسائل بھی ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے جنم لیتے ہیں مثلاً یسٹراجن کی سطح میں اضافہ آنتوں کے مائیکروفلور پر اثر انداز ہوتا ہے اس ہارمون کی مقدار میں اضافہ معدے کے درد اور جکڑن کا باعث بن سکتی ہے

    ہارمونز کے نظام میں عدم توازن کی ایک بڑی وجہ باتیں بھولنا اور چیزوں پر اپنی توجہ قائم نہ رکھ پانا ہے کورینسول اور ایسٹروجن کی سطح میں کمی اس کا باعث بنتی ہے

  • چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    خوبصورت اور گھنے بال کرنا اب بس ایک خواب ہی نہیں اگر آپ مندرجہ ذیل طریقے استعمال کرتی ہیں تو آپ کے بال بھی گھنے اور لمبے ہو سکتے ہیں.

    بالوں کا کاٹنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کی بہتر نشوونما چاہتے ہیں تویہ اس کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر 4 سے 8 ہفتوں کے دوران بال کٹوانے سے ان کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بالوں کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے جب کہ اس طریقے سے بال مضبوط اور گھنے بھی ہوتے ہیں۔

    نیم گرم تیل سے مالش کرنا:
    کمزور بالوں سے نجات کے لیے سر پر نیم گرم تیل کی مالش بھی انتہائی مفید ہے اس سے نہ صرف نئے بال تیزی سے اگتے ہیں بلکہ انسان گنج پن سے بھی محفوظ رہتا ہے جب کہ بالوں کی خشکی سے محفوظ رہنے کے لئے بھی یہ طریقہ کارگر ہے۔ سر کی مالش کے لیے زیتون اور کھوپرے کا تیل زیادہ مفید ہوتا ہے۔

    بالوں میں انڈے کی زردی لگانا:
    سر میں انڈے کی زردی لگانے سے نہ صرف بال گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے بالوں کی چمک اور خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

    دن میں 50 بار کنگھا کرنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دن میں کم از کم 50 بار کنگھا ضرور کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر میں کنگھا کرنے سے نہ صرف بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ بالوں کا گرنا بھی کم ہوجاتا ہے۔

    جسمانی صحت کے اثرات:
    خون کی کمی یا جسمانی طور پر کمزور شخص کے بال کبھی بھی صحت مند توانا اور گھنے و سیاہ نہیں ہوں گے اس لیے صحت کی طرف توجہ ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں غذا میں موسمی پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

  • چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    گھر ہو یا آفس۔۔۔۔ گرمی کی شدت سے ہوئیں سب خواتین پریشان۔۔۔ چہرے کی نرم و نازک جلد اس گرمی سے کشش کھو بیٹھی۔۔۔ تو پریشان مت ہوں آئیے گھر پر ماسک تیارکیجئیے اور چہرے کی نازک جلد کو گرمی کے اثرات سے بچائیے۔۔۔۔
    گھر میں بنائے جانے والے ماسک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھریلو ماسک ہر طرح‌کے کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں. گھریلو ماسک پھلوں ، سبزیوں، انڈوں‌ سے تیار کئے جاتے ہیں. اس قسم کے ماسک کیلشئیم سے بھرپور اور جلد کےلئیے موزوں‌ہوتے ہیں. گرمیوں‌میں‌چہرے کو ٹھنڈک پہچانے اور جلد کو نرم و ملائم بنانے کے لئے زبردست نسخہ درج ذیل ہے.
    اجزاء
    چھوٹی الائچی ایک چائے کا چمچ
    بادام کاپیسٹ ایک چائے کا چمچ
    کافور ایک چائے کا چمچ
    ملتانی مٹی ایک چائے کا چمچ
    پودینا ایک چائے کا چمچ

    طریقہ
    ان تمام اجزاء کو پیس کر کسی پیالی میں ڈال لیں اور اس میں حسب ضرورت عرق گلاب یا پانی شامل کریں اور اس کا پیسٹ تیار کریں۔اب اسے چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ لگا کر چہرہ دھو لیں۔ایک دن کے وقفے سے لگائیں۔دو دفعہ کے استعمال سے ہی آپ کی جلد نرم و ملائم اور خوبصورت ہو جائے گی. ان شاء اللہ

    اس ماسک کا کولنگ ایفیکٹ چہرے کی جلد کو گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے. اس میں شامل بادام چہرے کی جلد کو شادابى دیتا ہے۔

    گھریلو ماسک استعمال کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی جلد کی نوعیت کیا ہے.یہ ماسک پسینے سے نجات اور ایکنی کے لئے بھی بہت اچھاہے لیکن ڈرائے سکن کی حامل خواتین استعمال نہ کریں۔ (more…)

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے جو شخص اسلامی معاشرے کا فرد بن جاتا ہے وہ ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو معاشرتی لحاظ سے جامعیت رکھتا ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس کی تشکیل نے عورت کو پستیوں سے نکال کر آسمان کا ستارا بنا دیا اس معاشرے نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو پاکیزگی اور عزت سے مالا مال ہے اسلامی معاشرے سے پہلے جہالت کے معاشرے میں دیکھا جاۓ تو ہر قسم کے بے حیائی اور فحش کام کرنے کے لیے عورت کا انتخاب ہوتا تھا اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جاۓ تو کسی معاشرے کے مرد کو اس کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے لوگ عورت کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اسلامی معاشرے میں بھی خواتین کو ہی ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے لنڈے کے دیسی لبرلز نے عورتوں میں فحاشی اور عریانی کو رواج دیا۔ ان لبرلز نے خواہ وہ کسی کمپنی کی کمرشل ہو یا فیشن کے نام ہو مسلمان با حیاء عورتوں کے پردے اور ایمان کا جنازہ نکال دیا ہے یہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے ایجنٹوں نے میرے وطن عزیز میں بے حیائی اور عریانی پھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کافر اور ملحدوں کی شدید خواہش ہے کہ میرے وطن عزیز کو عزت اور شرم حیاء والی سوچ سے خالی کر دیں اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا پھیل جانا اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دینا ہے۔ فحاشی اور عریانی تو غیر مسلم کا شعار تھا لیکن افسوس یہ اسلامی معاشرے میں پھیل گیا۔ کبھی اے اسلامی معاشرے کی پاک بیٹیو جو تم پردے سے آزادی چاہتی ہو سوچا ہے کہ تم کس پاک نبیﷺ کی امت کی بیٹیاں ہو جس نے ایک یہودی عورت کی چادر چھن جانے سے پوری قوم یہود کو جنگ کے لیے للکارا تھا۔
    کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ماضی میں دیکھیے جہاں انہوں نے عورت کو پردے کا پابند کیا جہاں ان عورتوں نے احکام الہی کو مانا ہے وہاں ان عورتوں نے وہ کام کر کھایا ہے جو اج کی مسلمان عورت پردے سے آزادی کی بات کرتی ہے پردے کے بےغیر بھی شاید نہ کر سکے۔ اصل میں پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ وہ باعزت مواقع فراہم کرتا ہے کہ تم پردہ کر کے پہچانی جاؤ گی اور تکلیف نہ دی جاؤ گی بلکہ آرام سے اپنا کام کرو گی۔ نبی پاکﷺ کے دور میں عورتوں نے وہ کام کر دکھایا جو آج کے لبرلز کےمنہ پر طمانچہ ہے کہ پردہ داغ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں قیمتی چیز ہے۔ صحابیاتؓ نے جس جوش سے خدمت جہاد کی ہے آج کے دور میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ غزوہ احد میں جب کافروں نے عام حملہ کر دیا تو ام عمارہ سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے کندھے پہ گہرے زخم کھائے لیکن ابن قیمہ کو نبی پاکﷺ کے پاس نہیں جانے دیا غزوہ خندق میں حضرت صفیہؓ کی بہادری اور تدبیر نے یہودیوں کو حملہ نہیں کرنے دیا غزوہ حنین میں ام سلیمؓ کا خنجر لے کر نکلنا بہت مشہور ہے جنگ یرموک میں اسماء بنت ابوبکرؓ جویریہؓ ہندؓ خولہؓ نے بڑی بہادری سے قبرص کی بحری جنگ میں قبرص کی فتح میں ام حرام بنت ملحانؓ اس میں شامل تھیں اس علاوہ زحمیوں کی مرہم پٹی کرنا شہداء کی لاشوں کو اٹھانا جنگی مجاھدین کے لیے کھانا بنانا جیسی خدمات قابل حیرت ہیں۔ یرموک میں جب مسلمان ہٹنے لگے تو ہند ؓاور خولہؓ نے اشعار پڑھہ کر غیرت دلائی صحابیاتؓ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتی تھیں حضرت شفاء بنت عبداللہؓ بہت بڑی صاحب الراۓ تھیں حضرت عمرؓ نے کئی بار بازار کا انتظام ان کے سپرد کیا تھا عورت کے پاس اتنا سیاسی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قیدی کو پناہ دے سکتی تھی اسلامی علوم میں خواتین بہت ماہر تھیں حضرت عائشہؓ ام ورقہؓ اور ام سلمہؓ نے پورا قرآن پاک حفظ کیا تھا ام سعد ؓدرس قرآن دیتی تھی حضرت عائشہؓ بہت ساری احادیث کی روای ہیں فقہ میں ان کے فتاویٰ بہت مشہور ہیں۔ اسلامی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی خواتین ماہر تھں ام سلمہؓ علم الااسرار سے پوری واقفیت رکھتی تھیں خطابت میں اسماء بنت یزیدؓ بہت مشہور تھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں اسماء بنت عمیسؓ ماہر تھیں طب اور جراحی میں اسلمتہ ؓام مطاعؓ ام کبشہؓ حمنہ بنت جحشؓ ام سلیمؓ ام عطیہؓ کو مہارت حاصل تھی شاعری میں خنساءؓ ہندؓ خولہؓ ام ایمنؓ عاتکہؓ بنت زیدؓ بہت ماہر تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سی انصار عورتیں کاشتکاری اور کپڑا بننے کا کام کرتی تھیں بہت سی عورتیں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں شفاء بنت عبداللہ ؓ نے دور جاہلت میں ہی پڑھائی لکھائی جان لی تھی۔ حضرت حفصہؓ اور بنت عقبہؓ ام کلشومؓ بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ پڑھنا جانتی تھی اس کے علاوہ خواتین تجارت بھی کرتی تھیں حضرت خدیجہؓ بہت بڑی تاجر تھیں۔ خولاءؓ اور ملکیہؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں بنو امیہ میں رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ خاتون تھی عباسی دور میں پردے کا عام رواج تھا تو عورتوں نے اس دور میں بھی بہت سی خدمات سر انجام دی ملکہ خزان ملکہ زبیدہ ملکہ بوران امور حکومت میں دلچسپی لیتی تھیں خلیفہ منصور کے عہد میں دو اسلامی شہزادیوں ام عیسی اور لبانہ نے بزنطیوں کے خلاف جہاد کیا تھا ہارون کے عہد میں کئی عورتیں سپہ سالار مقرر ہوئی تھیں خلیفہ مقتدر کی والدہ عدالت عالیہ میں اپیلوں کی سماعت کرتی تھی اور غیر ملکی سفیروں سے امور مملکت پر تبادلہ خیال کر تی تھی عباسی دور کی عورتیں بہت علم پرور تھیں وہ مردوں کے دوش بدوش علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں ملکہ زبیدہ ایک بلند پایہ شاعرہ تھی ایک خاتون شیخہ ادب اور تاریخ پر لیکچر دیتی تھی ایک خاتون زینب بہت بڑی قانون دان تھی درس گاہوں میں قانون کی تعلیم دیتی تھی صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک ترک عورت درس حدیث دیتی تھی ان عورتوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم ان لبرل عورتوں کو کس طرح ان خرافات سے سمجھا سکتے یہ تو اس طرح ہے جس طرح کوڑے کے ڈھیر پورے ملک میں ہوں ان کی صفائی کے لیے چند لوگ تو نہیں درکار ہو سکتے نہ اس کام کے لیے لاکھوں لوگ درکار ہوں گے اسی طرح ان لنڈے کے لبرلز کو سمجھانے کے لیے ایسے کئی لوگ چاہئیں جن کی اپنی زندگی ایسی خرافات سے پاک ہو۔

  • منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    منزل ڈھونڈ لے گی ہمیں ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    عائشہ ایک بہت ہی بااخلاق اور بہت سی خصوصیات کی حامل چھوٹی سی بچی تھی۔ ان کا گھرانہ کافی بڑا تھا اور تمام کزنز ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
    گھرانہ تو اسلامی تھا لیکن پردے کی طرف دھیان نہیں تھا پردے کو عام سی چیز سمجھا جاتا اور یہ تصور ذہن میں ڈالا جاتا کہ ان کزنوں سے کیسا پردہ…؟؟؟
    عائشہ بھی انہی سوچوں کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی ننھی سی عمر میں آسمان کو چھو لینے اور تتلیوں کو پکڑنے کی امنگوں سے اپنے شب و روز گزارتے ہوئے آہستہ آہستہ بچپن کی دہلیز کو پار کر رہی تھی۔
    عائشہ جب کالج جانا شروع ہوئی تب جانے کیوں وہ بے چین رہنے لگی ۔اسے لگتا تھا کچھ کمی سی ہے اس کی زندگی میں ۔
    اسے عجیب سا احساس گھیرے رکھتا تھا جیسے زندگی میں کچھ غلط ہو ۔بہت سے سوالات تھے جو اس کے ذہن میں آتے رہتے تھے لیکن وہ ان کا جواب نہیں جانتی تھی سو وہ مزید بے چین ہو جاتی ۔
    پھر اس نے اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے
    اسلامی تعلیمات کی مختلف کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا ۔
    وہ جیسے جیسے دین کو پڑھتی چلی گئی جیسے اسے اپنے ہر سوال کا جواب ملتا چلا گیا اس کی بےچینی کی وجہ سمجھ میں آتی چلی گئی وہ اس کمی کو سمجھنے لگی جو اسے مسلسل محسوس ہوتی تھی اور اسے بے چین رکھتی تھی ۔
    دین اسلام تو جیسے ٹھنڈی چھاؤں تھا اس کے احکامات تو جیسے اسی کو اپنی پناہ میں لینا چاہتے تھے ۔
    سو وہ احکامات کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کرتی۔
    گھریلو ماحول دیکھ کر اسکے جذبات کچھ ماند پڑ نے لگتے لیکن وہ ہر وقت دین کی تعلیمات کی جستجو میں رہتی ۔
    گھر میں سبھی کزنز کا آنا جانا تھا اور کوئی روک ٹوک نہیں تھی اتنی عمر ہو جانے کے باوجود کزنز کے ساتھ ہنسی مزاح اور کھیل کود چلتا رہتا لیکن عائشہ اب ان سب خرافات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ چھوڑ دے لیکن اس کے لیے یہ سب ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔ عائشہ کی کالج کی ایک سہیلی نے شرعی پردہ کرنا شروع کردیا۔ عائشہ اس سے بہت متاثر ہوئی اور دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اب وہ بھی پردہ شروع کرے گی۔ جب عائشہ نے پردہ شروع کیا تو الٹا اس کے کردار پر بہت سے سوال اٹھے اور بہت سی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
    سبھی کہتے کہ پردہ اپنے انھیں کزنز سے کر رہی ہو جن کے ساتھ کھیل کود کر بڑی ہوئی ہو انہوں نے تو دیکھا ہوا ہے ان سے پردہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا لیکن عائشہ اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے پردے پر ڈٹی رہی اور ہر طرح کی تلخیاں اور نفرتیں برداشت کرتی رہی۔
    شروع شروع میں سب کو لگتا تھا کہ عائشہ نے غلط قدم اٹھایا ہے لیکن جلد ہی عائشہ کی ثابت قدمی اور دلائل نے سب کو احساس دلادیا کہ جس معاشرے میں پردہ نہیں کیا جاتا وہ معاشرہ کیسے گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ ایسے ایسے گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے کہ جن کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔
    عائشہ کو دیکھ کر اور پردے کی رحمتیں دیکھتے ہوۓ عائشہ کی بہنوں اور کزنوں نے بھی پردہ شروع کردیا جو کہ ان کے والدین کی عائشہ کو دیکھ کر خواہش بن چکا تھا کہ ان کی بیٹیاں بھی پردہ کریں۔
    اور آج الحمدللہ عائشہ کو پردہ شروع کیے بہت سے سال گزر چکے ہیں اور پردے کی وجہ سے اس کی زندگی بہت مطمئن اور پر سکون ہے۔ اسے سسرال میں بھی کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا سب لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خواہش مند ہوتے ہیں کہ انکی اولاد بھی عائشہ کی طرح باعمل بن جاۓ۔

    جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے

    یہ ایک عائشہ کی آب بیتی ہے اور ایسی بہت سی لڑکیاں معاشرے میں نظر آتی ہیں جو عائشہ جیسا بنتی ہیں لیکن اس کے برعکس جو اسلامی تعلیمات سے دور رہتی ہیں اور پردے اور گھر کی چار دیواری کو قید خانہ اور داغ سمجھتی ہیں بہت سے مرد ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔
    آج کل ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ کزنز کے ایک دوسرے کے ساتھ غلط اور برے مراسم یہاں تک کہ چچی کی اپنے شوہر کے بھتیجوں کے ساتھ اور ممانی کی بھی اپنے شوہر کے بھانجوں کے ساتھ دوستیاں اور غلط مرسم۔ اور جب یہ معاملات ان کے شوہروں پر عیاں ہوتے ہیں تو بہت سی لڑائیاں اور جھگڑے جنم لیتے ہیں خاندان تباہ ہوجاتے ہیں چھوٹے چھوٹے معصوم بچے یتیم ہوجاتے ہیں اس طرح ایک ہنستے بستے گھرانے میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔

    اسی بے پردگی کی وجہ سے بعض اوقات غلط فہمی کی بنا پر بہت سی عورتوں کو طلاق دلوا دی جاتی ہے اور اس کو ذلیل و رسوا کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔
    جب عورتیں دین سے دوری اختیار کر کے شیطان کے پسندیدہ راستے پر چلیں گی تو دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہی انکا مقدر بنے گی اور آخرت میں بھی رب کی نافرمان اور خسارہ پانے والوں میں شامل ہوں گی۔
    رب کی تمام تر رحمتوں سے دور ہوجاۓ گی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
    اسلام عورتوں کو شیطان صفت لوگوں سے بچنے کے لئے ہی پردے کا حکم دیتا ہے۔
    آج اگر عورتیں اسلامی تعلیمات کو اپنے اوپر لاگو کرتی ہیں اور پردے کا اہتمام کرتی ہیں تو ان کی آنے والی نسلیں بھی برائیوں سے بچ جائیں گی اور معاشرہ اسلام اور امن و امان کا گہوارہ بن جاۓ گا۔
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ سب کو دین کی صحیح معنوں میں سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔