Baaghi TV

Tag: خواتین

  • خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کا عالمی دن،پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا مشن
    تحریر۔۔ناظم الدین
    خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بااختیار بنانے کا مطلب اس کوبہادربنانااوروسیع پیمانے پر اپنی زندگی کوتشکیل دینے کے لئے انتخاب اوراس پر عمل کی آزادی کو آگے بڑھانا ہے یعنی وسائل اور فیصلوں پر کنٹرول ہے۔ ایک بااختیارعورت وہ ہو گی جو پر اعتماد ہو، جو اپنے ماحول کا تنقیدی تجزیہ کرتی ہو اور جو اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں پرکنٹرول رکھتی ہو۔ بااختیار بنانے کا خیال سماجی تعامل کی تمام سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کو آوازدینے میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے صلا حیتوں کی توسیع کے لیے ضروری آلات اور مواد تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ اجزاء ہیں: خواتین میں خود کی قدر کا احساس، انتخاب کرنے اور تعین کرنے کا ان کا حق، مواقع اور وسائل تک رسائی کا ان کا حق، گھر کے اندر اور باہر، اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کااختیار،پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا ان کا حق اور قومی اور بین االقوامی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ سماجی اور اقتصادی ترتیب بنانے کے ل یے سماجی تبدیلی کی سمت کو متاثر کرنے کی ان کی صالحیت۔ عام طور پر، بہت کم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور صنف ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے لیکن اس کی واحد غلط فہمی پوری دنیا میں خواتین کو تاریخ کے آغاز سے ہی چیلنجز اور صنفی عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث سے مدد لیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں جن میں تعلیم، عبادت، آزادی رائے، شریک حیات کے انتخاب، معاشی آزادی اور سماجی کردار کے حقوق شامل ہیں۔قومی ترقی کومردوں اور عورتوں دونوں میں وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51 فیصد ہیں اور خواتین کی فعال شمولیت کے بغیرپاکستان ترقی کی مطلوبہ سطح کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اسے غربت کی لعنت وراثت میں ملی اور اس غربت کا بوجھ خواتین کی آبادی پر بہت زیادہ ڈاال گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت زراعت کے کاموں، گھر کی دیکھ بھال، پانی اٹھانے اور جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ لیکن پیداواری سرگرمیوں میں ان کا کام غیر تسلیم شدہ ہے اور اس وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔اس حوالے سے محمد علی جناح نے فرمایا ” کوئی بھی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پرنہیں چڑھ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین کو گھروں کی چار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کو جس ناگفتہ بہ حالت میں رہنا پڑتا ہے اس کی کہیں بھی ”اجازت نہیں ہے۔عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا، ترقی کے حصول کے لیے اہم ہتھیار ہیں اس لیے خواتین کو مرکزی دھارے میں النا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ایک زیادہ جامع معاشرے کا مشترکہ وژن، جہاں ہر عورت ترقی کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، ان اجتماعی کوششوں کا مرکز ہے۔ آئی پی ایم جی کا قیام 2009 میں پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے پر مثبت تبدیلی کا آغاز کرتی ہے۔ آؤ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں جہاں ہرعورت کی آواز گونجتی ہو، اور اس کے حقوق اور شراکت کی قدر ہو۔ ”IPMG پاکستان کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں حل وضع کرنے کے لیے ایک اختراعی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل ہے۔ ڈیٹا کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم پالیسی کے خلاء کی نشاندہی کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کیلئے حکام کو بااختیار بنانے میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل جسے UN کی مالی مدد حاصل ہے، صنف سے متعلق ڈیٹا کا ایک معتبر اور جامع ذریعہ ہے۔ بہتر ڈیٹا اکٹھا کرنا، تجزیہ کرنا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والے عطیہ دہندگان دونوں کی طرف سے زیادہ باخبر فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الصوبائی وزارتی گروپ کے ایک حصے کے طور پر، ہم تبدیلی کے عمل میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ آئی پی ایم جی ایک فورس کے طور پر کام کرتا ہے، اختراعی حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو بھڑکاتا ہے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف لے جاتا ہے جہاں مساوات اور انصاف سب کے لیے غالب ہو۔نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی) کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ایک پورٹل جو این سی ایس ڈبلیو کی چھتری تلے اقوام متحدہ کی خواتین اور نسٹ کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اسے خواتین سے متعلق اعدادوشمار/معلومات کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے طور پر اس طرح سے منظم اور پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطحوں پر فیصلہ سازوں کے لیے خواتین کی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ تجزیہ اور رپورٹس تیار کرتا ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی قیمتی معلومات، بصیرت اور درپیش چیلنجز کا اشتراک کیا۔

    خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے ورکنگ ویمن کوپرتحفظ ورک اسٹیشنزاورخواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدات کی جس میں ہوم نیٹ پاکستان، سرکاری وغیرسرکاری اداروں،سول سوسائٹی اور وکلائنے شرکت کی۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ اداروں میں منفی رجحانات اور خواتین کو وراثتی جائیداد کی فراہمی میں کوتاہی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے خاتمے اورویمن پراپرٹی رائٹس کی فراہمی کے لیے میڈیا کا رول بھی اہم ہے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔ اسی مناسبت سے غیر فعال ہراسانی کی کمیٹیاں جلد فنکشنل کردی جائیں گی اس حوالے سے صوبے میں واچ کمیٹیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکٹر کی بہتری حکومت کی اولین تر جیحات ہیں۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر دی گئی ہے۔ رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری اور عوام کو سہولت ملی ہے۔ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کی جا رہی ہے۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا رہی ہے۔معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر رہے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہے۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

    محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے پاپولیشن پالیسی کی تشکیل نو کے لئے ڈرافٹ تیارکر لیا ہے۔پالیسی کے تحت فیملی پلاننگ سروسز اور کاؤنسلنگ کی سہولت عوام کی دہلیز پر فراہم ہو گی۔کمیونیکیشن کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ اور اس کے فوائد کے متعلق آگہی اور علم کو یقینی بنایا جائے گا۔نئی پاپولیشن پالیسی 2024-29 کے ویژن میں خوشحال، صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل شامل ہے.تولیدی صحت، بھرپور غذا اور بہتر معیار زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پالیسی میں پاپولیشن گروتھ کی شرح میں کمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کوارڈینیشن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امام اور خطیب حضرت کے ساتھ ساتھ کمیونیٹیز اور لوگوں کو بھی اس سارے عمل حصہ بنایا جائے گا۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب صوبہ بھر میں تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔مواصلات، آگاہی اور علم کے ذریعے ہر شخص کو اس کی دہلیز پر خدمات اور مشاورت کی توسیع کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔نئی پالیسی میں میں ہر خاندان کی منصوبہ بندی اور بہتر پرورش کی سہلیات کو فوکس کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کی زندگی کا معیار، تولیدی صحت کی بہتری کے حصول کے لیے رسائی اور انتخاب فراہم کیا گیا ہے۔صوبہ میں نئی حکومت نے چھوٹے خاندان کی خوشحالی اور سہو لیات کی فراہمی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ورلڈ بنک کا پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے عظیم پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جو عالمی بینک کا پروگرام خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، مانع حمل ادویات کے استعمال اور آبادی میں اضافے کو کم کرنے پر مبنی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات تک مفت رسائی،خدمات میں نگہداشت کا معیار ادارہ جاتی شکل پر مشتمل ہے۔ ورلڈ بنک کا پروگرام کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد،ڈیلیوری سسٹم اوربہتر صحت سے وابستہ سہولیات کی فراہمی ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ پروگرام کلینکل فرنچائزنگ، واؤچر سکیموں، اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے فیملی پلاننگ کونسلنگ جیسی اختراعات کو بڑھا نے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک پروگرام کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پائلٹ کیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صحت کی سہولیات، فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفیئر سے منسلک۔واؤچر ترغیبی اسکیم، سماجی مارکیٹنگ، مرد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مصروفیت، اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کے پلیٹ فارمز کو بڑھا نے میں مدد گار ہو گا۔ ورلڈ بنک پروگرام کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ خدمات فراہم کرنے والوں کے باہمی رابطے کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہ سنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

    پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

    باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

  • خواتین صحافیوں کے لئے حجامہ طریقہ علاج پرخصوصی لیکچر، علاج میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    خواتین صحافیوں کے لئے حجامہ طریقہ علاج پرخصوصی لیکچر، علاج میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    ؒٓلاہور پریس کلب اور نورالفلاح فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں خواتین صحافیوں کیلئے حجامہ طریقہ علاج سے آگاہی بارے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔

    نور الفلاح فاﺅنڈیشن کی سی ای او بشریٰ اظہر نے حجامہ طریقہ علاج کے بارے میں لیکچردیتے ہوئے بتایا کہ حجامہ سنت نبوی ہے جس میں ہر طرح کی بیماری سے شفاءموجود ہے، اس وقت پوری دنیا میں حجامہ کے ذریعے علاج کیا جا رہا ہے جس میں اسے قوی علاج کا درجہ حاصل ہے جبکہ اس قدیم یونانی طریقہ علاج کو امریکہ سمیت دنیا بھر میں نہ صرف پڑھایا جا رہا ہے بلکہ سکھایا بھی جا رہا ہے۔ بشریٰ اظہر نے مزیدبتایاکہ حجامہ ڈپریشن سمیت ہر بیماری کا علاج ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ معالج مریض کی بیماری سے متعلق مکمل طور پر آگاہ ہو اور اس کیلئے کلینکل ٹیسٹ بھی اسی قدر ضروری ہے جس طرح میڈیکل میں، حجامہ ہرگز بھی تکلیف دہ نہیں، اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

    انھوں نے لاہورپریس کلب کے ممبران اور ان کے اہلخانہ کو حجامہ علاج میں 50 فیصد رعایت دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ صحافی معاشرے کا اہم جز ہیں ان کی خدمت کرکے ہمیں خوشی ہوگی ۔اس موقع پر سیکرٹری لاہور پریس کلب زاہد عابد نے حجامہ میڈیکل کیمپ قائم کرنے اور لاہورپریس کلب کے ممبران کو حجامہ علاج میں 50 فیصد رعایت دینے پر نورالفلاح فاﺅنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ کلب کی ممبران خواتین کیلئے اس قسم کے کیمپس بہت فائدہ مند ہیں اور دنیا بھر میں حجامہ کو پذیرائی مل رہی ہے ۔آگاہی لیکچر کے اختتام پر بشریٰ اظہر نے حجامہ کا عملی مظاہرہ بھی کیا ۔

    حجامہ آگاہی لیکچر میں ممبر گورننگ بادی فاطمہ مختار بھٹی، سینئر صحافی سعدیہ صلاح الدین، فرزانہ چوہدری، عطیہ زیدی، عفت علوی، فوزیہ غنی، فوزیہ سلطانہ، مصباح چوہدری، غلام زہرہ، فریحہ شہزاد، ناجیہ آصف اور ثنا اسلم سمیت دیگر نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض سینئر صحافی تمثیلہ چشتی نے ادا کئے۔ سیکرٹری لاہور پریس زاہد عابد نے معزز مہمان کو کلب کی جانب سے گلدستہ پیش کیا

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

  • اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    (چوتھی اپووا خواتین کانفرنس کی مختصر روداد)
    حافظ محمد زاہد‘ سینئر نائب صدر

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اَپووا) ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف میدانِ ادب میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تودوسری طر ف ملک کے طول وعرض اور بیرون ملک میں اس کے ممبران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ادب کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مردوں کی نسبت اس میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال پہلے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپہلی بار’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے پچاس کے قریب منتخب خواتین کو اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر اپووااچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی حلقوں میں اس کانفرنس کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ چند تنظیموں اور این جی اوزنے اپووا کے طریقہ کار کو کاپی کرتے ہوئے خواتین کانفرنس مع ایوارڈ کا انعقاد کیا جو صحیح معنوں میں اپووا کے لیے باعث ِ اعزاز ہے۔ اسی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اپووا انتظامیہ نے سالانہ بنیادوں پر خواتین کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا اور گزشتہ تین سالوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جارہی ہے۔

    اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی‘ بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت ’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہیلتھ ڈاکٹر انعم پری‘معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ‘ معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی‘ ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔

    مقررین کی گفتگو کا نچوڑ اور لب لباب نکات کی صورت میں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
    ٭ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔
    ٭ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔
    ٭ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔
    ٭ کسی بھی مرد کے غیور یعنی غیرت مند ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ عورت کو کس قدر ڈراتے ہیں‘ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عورت کو کس قدر سراہتے ہیں!
    ٭ بعض مقرر خواتین نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستانی معاشرے میں مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو جتنی عزت دی جاتی ہے‘خواتین کے کاموں کی جتنی پذیرائی کی جاتی ہے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے جتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں‘اتنا کسی اور معاشرے میں نہیں دیکھنے کو ملتا۔
    ٭ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی خواتین کو عزت دیتے ہیںاور ایک خاتون کو بہن‘ بیٹی‘ ماں اوربیوی کے بجائے ان کی ذات میں ایک شخصیت اور خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمل گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ شرکاء کانفرنس سےیہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اپووا خواتین کانفرنس‘عورتوں کے حقوق کے لیے توانا آواز ہے ۔آئندہ سالوں میں بھی اپووا یہ ذمہ داری احسن طریقے سے یہ سوچ کر پوری کرتی رہے گی کہ’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!‘‘اور اپووا کا ماننا ہے کہ:
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا!

    خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے
    بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے
    مرد کے غیرت مند ہونے کی دلیل عورت کو ڈرانا نہیں‘سراہنا ہے

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    سیالکوٹ : نوجوانوں میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے میں اَپووا کا کردارمثالی ہے-گورنرپنجاب

  • پیپلز پارٹی خواتین کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود کیلیے ہمیشہ پرعزم رہی،بلاول

    پیپلز پارٹی خواتین کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود کیلیے ہمیشہ پرعزم رہی،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےخواتین کے عالمی دن پر پیغام جاری کیا ہے

    بلاول کی جانب سے سب کو خواتین کے عالمی دن کی مبارک باد دی گئی، بلاول کا کہنا تھا کہ قوم کی حصول منزل کی جدوجہد میں پاکستانی خواتین کے ناقابلِ تسخیر جذبے، ہمت اور غیر متزلزل عزم کو سلام کرتا ہوں،قوم سازی کے عمل میں پاکستانی خواتین کا کردار بے مثال رہا ہے،آج خواتین کا عالمی دن پر ضروری ہے کہ ہم اپنی خواتین کی گرانقدر خدمات کو تسلیم اور حوصل افزائی کریں،میری جماعت خواتین کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود اور خودمختاری کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی ہے،قائد عوام شہید بھٹو نے خواتین کو بااختیار بنانے اور تمام شعبوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لئے بے مثال پالیسیوں کا بنیاد رکھا، قائدِ عوام شہید بھٹو کی سماجی انصاف سے وابستگی ملک میں جامع اور مساوی معاشرے کی بنیاد رکھی،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے خواتین کے حقوق میں تاریخی سنگ میل عبور کیا،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بطور مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم، خواتین کے آگے کھڑی رکاوٹوں کو توڑا،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے صنفی مساوات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا،بی بی شہید کے ادوار میں فرسٹ ویمن بینک اور ویمن پولیس اسٹیشنز کا قیام عمل میں لایا گیا،بی بی شہید کے ادوار میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام اور خواتین کسانوں کو زمین کی الاٹمینٹ جیسے موثر اقدامات اٹھائے گئے،صدر آصف علی زرداری نے اپنے سابقہ دورِ صدارت کے دوران خواتین کی بھبود و ترقی کی لیگیسی کو جاری رکھا،صدر آصف علی زرداری کی قابل ذکر خدمات میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا انقلابی اقدام بھی شامل ہے، صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستانی خواتین کے لیے ایک تحفہ ہے،خواتین کے حق میں قانون سازی اور دیگر اقدامات بھی صدر زرداری کے پاکستانی خواتین کی فلاح و بھبود کے متعلق ان کے عزم کے عکاس ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بطور چیئرمین پی پی پی، میں خواتین کو بااختیار بنانے، ان کے حقوق اور ترقی و بھبود کے حوالے سے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہوں،آئیے آج ہم ان اقدامات پر مسرت کا اظہار کریں جو خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ہم نے اٹھائے ہیں،آئیے آج اُن چیلنجوں کو بھی تسلیم کریں جو تاحال ہمارے سامنے موجود ہیں،آئیے ہم سب مل کر ایک زیادہ جامع اور مساوات پر کھڑے معاشرے کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھیں،ایسا معاشرہ جہاں ہر پاکستانی خاتون کو اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے بااختیار بنایا جائے.

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

  • مجھے   اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں کوئی روایتی تقریر کرنے نہیں آئی،جو مسائل دیکھے اور فیس کیے اس پر بات کروں گی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب نے ایک خاتون کو وزیر اعلیٰ منتخب کر کے مثال قائم کی ہے،یہ پاکستان کی ہر ماں، بہن اور بیٹی کی عزت ہے،خواہش ہے میری جگہ آگے کوئی دوسری خاتون بھی وزیر اعلیٰ بنے،خواتین کا ایک دن نہیں ہوتا، 365 دن خواتین کے دن ہوتے ہیں،جو خاتون گھر میں بیٹھی پورے خاندان کو اسپورٹ دیتی ہے وہ گمنام ہیرو ہے،ہمارے نظام میں ابھی بہت سی خرابیاں ہیں،افسوس ہمارے معاشرے میں شکایت کرنے پر پابندیاں خاتوں پر ہی لگتی ہیں،خواتین کے تحفظ کیلئے سیفٹی ایپ بنائی گئی ہے،بچی اپنے گھر اور ماں کی گود سے اعتماد لے کر نکلے گی تو زیادہ طاقتور ہوگی،ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چاہیے کہ خواتین میں اعتماد پیدا کریں،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراسانی سمیت بہت سے معاملات برداشت کرنا پڑتے ہیں،مسلم لیگ (ن) مرد برتری کی ایک سیاسی جماعت رہی ہے،مجھے بھی اپنا آپ منوانے میں 12سال لگ گئے،مجھے بھی ہراسانی سمیت دیگر معاملات نے کندن بنایا ہے،خواتین زندگی کے کسی بھی شعبے میں کارکردگی دکھانا چاہتی ہیں تو ضرور دکھائیں،افسوس زیادتی کے کیس روز کا معمول بن چکے ہیں، ایک خاتون کو اپنے آپ کو ثابت کرنے کیلئے مردوں سے دوگنا کام کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بھی اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی، پابندیاں توڑکرآگے بڑھنے والی خواتین کوسلام پیش کرتی ہوں، مجھے اندازہ ہے خواتیں کن کن مراحل سے گزر کر یہاں پہنچتی ہیں

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے خواتین پولیس آفیسر کو اسٹیج پر بلا کر شاباش دی اور کہا کہ ان خواتین نوجوان پولیس آفیسرز کو دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے۔سی ٹی او لاہور عمارہ سے میری ملاقات میٹنگ میں ہوئی تھی آج بھی وہ یہاں موجود ہیں،

    قبل ازیں پاکستان کی پہلی خواتین کی سربراہی میں شجر کاری مہم کا آغاز کر دیا گیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے وویمن ڈے پر پودا لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف شیخو پورہ کےدرگئی گل فارسٹ پارک پہنچ گئیں ،سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بھی برگد کا پودا لگایا.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    وویمن ڈے، وویمن سیفٹی ایپ”نیور اگین“ کا افتتاح
    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے وویمن ڈے کے حوالے سے پنجاب کی خواتین کے لئے بڑے اعلانات کئے اورخواتین کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے انٹرنیشنل وویمن سیفٹی ایپ ”نیوراگین“کا افتتاح بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے خواتین پولیس اور دیگر افسروں کو سٹیج پر ساتھ کھڑا کرکے خطاب کیا۔ وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں خواتین کے جاب کوٹہ کو 10سے بڑھا کر 15فیصد کرنے کا اعلان کیا اور ہر محکمے میں خالی آسامیوں پر خواتین کی بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ ورک پلیس پر ڈے کئیر سینٹرز بنانے کے لئے ایک ارب روپے کا فنڈ مختص کیا جائے گا۔ورکنگ وویمن کے لئے ہوسٹلز بنائے جائیں گے۔ خواتین کے لئے پیڈ انٹر ن شپ شروع کی جائے گی۔ آن لائن بزنس کے لئے خواتین کو 50فیصدقرضے دیئے جائیں گے۔ بورڈ آف ریونیو بیٹیوں کے حصہ کا تعین کرکے ورثہ کو جائیداد منتقل کرے گا۔ بہن اور بیٹی کو پراپرٹی گفٹ کرنے پر انتقال فیس نہیں لی جائے گی۔ 3دن میں ورکنگ وویمن کے لئے میٹرنٹی لیو منظور کرنے کا قانون بنایا جائے گا۔ جمنیزیم اور سٹیڈیم میں خواتین کے لئے الگ جگہ اور اوقات کار مقررکیے جائیں گے۔ حکومتی اداروں میں خواتین کے لئے الگ واش رومز اور نماز کے لئے جگہ مختص کی جائے گی۔رائیڈر بالخصوص لڑکیوں کو پنک بائیک د ی جائیں گی اور تحفظ کے لئے قانون سازی ہوگی۔یونیورسٹی فیس واپسی میں خواتین کا تناسب 50سے 70فیصد ہوگا۔ انٹر نیشنل سکالر شپ میں خواتین کا تناسب 50سے 70 فیصد ہوگا۔ پنجاب بھر میں دستکاریوں کے فروغ کے لئے صنعت زار کو بحال کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ پنجاب بھر میں کمسن بچیوں کی گھریلو ملازمت کے سدباب کے لئے سخت قانون سازی کی جائے گی۔ ماں با پ بیٹیوں کو اعتماد،اعتبار اور مواقع دیں۔ بیٹی یا بہن انجینئر یا ڈاکٹر بننا چاہتی ہے تو اسے بننے دیا جائے۔ بیٹی پڑھنا چاہتی ہے یا کھیلنا چاہتی ہے تو اسے آگے آنا کا موقع ملنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ ہونے کا اعزاز دیا ہے۔ وزرت اعلیٰ کا اعزاز صرف میرا نہیں بلکہ ہر ماں،بیٹی اور بہن کا ہے۔ یہ اعزاز ہر اس مردکاہے جو اپنی خواتین کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میر ی خواہش ہے کہ وزرات اعلیٰ پر خاتون کے فائز ہونے کاسلسلہ جاری رہے۔ سیکرٹری وویمن ڈیپارٹمنٹ خواتین کا عالمی دن منانے کے لئے بہترین انتظامات کیے ہیں، آپ کا شکریہ کہ دل کی باتیں خواتین سے کرنے کا موقع دیا۔میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کا صرف 8مارچ دن نہیں ہے بلکہ سال کے 365 دن ہی خواتین کے ہیں، وزیر اعلیٰ آفس سے آتے ہوئے دیکھا کہ میرے آگے تینوں پائلٹ آفیسر خواتین ہیں۔پائلٹ آفیسر، صباء، عروسہ اوراسماء کے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ سی ٹی او لاہور عمارہ اطہرایک ذہین خاتون ہیں۔ سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر ٹریفک کے مسائل حل کے میں بہت فائدہ مند کردار ادا کررہی ہیں۔خواتین ٹریفک وارڈن ہمارے قافلے کو لیڈ کررہی ہیں۔ ایس ایس پی انوش، اے ایس پی سدرہ خان اور شازیہ کو سٹیج پر بلا کر خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گی۔خواتین ہر جگہ پر کمال کا کام کررہی ہیں، مجھے دیکھ کر فخر ہوتا ہے۔سینئر وزیر مریم اورنگزیب،صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری ہماری ایم این ایز اور ایم پی ایز سب قابل فخر انداز میں فرائض سرانجاد دے رہی ہیں۔ ایک خاتون کو اپنا لوہا منوانے کے لئے مرد سے دو گنا زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ مجھے بھی مسلم لیگ ن میں 12سے13سال سخت محنت کرنی پڑی اور ایسے ہی مسائل کا سامنا رہا۔ ہرماں، بہن اور بیٹی کے لئے پیغام ہے کہ عورت ہونا آپ کے خواب میں رکاوٹ نہیں ہوسکتا۔مجھے بہت فخر ہے آپ سب خواتین پر۔ خواتین خصوصاً بچیاں اگر سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں توان کے گھروں والوں کو مکمل ساتھ دینا چاہیے، حکومت معاونت کرے گی۔خواتین میں بہت زیادہ پوٹینشل ہے جسے ملکی ترقی کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ماں باپ اور بھائی، اپنی بیٹوں اور بہنوں کو پر اعتماد بنائیں تاکہ بیٹوں کی طرح بیٹیاں اپنے والدین کا نام روشن کر سکیں۔تقریب میں امریکن قونصل جنرل کرسٹین کے ہاکنز کی خصوصی شرکت کی۔سینئر صوبائی وزیرمریم اورنگزیب، ارکان اسمبلی،آئی جی،حکومت پنجاب اور پولیس کی لیڈی افسران کی بہت تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی.

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تقریب میں شرکت، سٹالز کا معائنہ،وویمن ڈے بینر پر دستخط،پیغام بھی لکھا
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب میں شرکت کی۔وزیراعلی مریم نواز شریف اپنے آفس سے روانہ ہوئیں تو تین لیڈی وارڈن صباء ،اسماء،عروسہ نے وویمن ڈے کی مناسبت سے پائلٹ کے فرائض سرانجام دئیے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں پہنچنے پر تینوں وارڈن کا شکریہ ادا کیا اور تصویر بنائی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فوڈ اتھارٹی، صنعت زار، قصرہ بہبود،پی آئی ٹی بی اور بینک آف پنجاب کے سٹالز کا معائنہ کیا اور سٹالز پر رکھی اشیاء میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کے سٹالز پر خواتین کے لئے خوراک اور دیگر امور کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دستکاریوں اور ہاتھ سے بنی اشیاء کا معائنہ کیا اور خوبصورت دستکاری سے مزین اجرک نما سوٹ خود ادائیگی کرکے خریدا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو بینک آف پنجاب کے سٹالز پر سکوٹی سکیم سے آگاہ کیا گیا۔ بینک آف پنجاب نے خواتین کے لئے مخصوص ناز اکاؤنٹ ہولڈرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے تین سکوٹی مفت دیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف پنجاب سمال انڈسٹری کارپوریشن کے سٹال پر بھی گئیں اور ٹیوٹا کے سٹال پر سلائی کڑھائی اور پینٹنگ کرنے والی طالبات سے بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بینر پر دستخط کیے اور اپنا پیغام لکھاکہ ہر میدان میں نام روشن کرنے والی خواتین پر مجھے فخر ہے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری، ارکان اسمبلی، چیف سیکرٹری اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

  • خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    لاہور ٹریفک پولیس کا وویمن ڈے پر تمام خواتین کو سلام،

    سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر کا کہنا ہے کہ اسلام خواتین کے حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردار ہے، خواتین کی عزت و تکریم کا تحفظ، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، ویمن ڈے کا مقصد انکی صلاحیتوں کا اقرار، اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں مزید مستحکم کرنا ہے، زندگی کے کسی بھی شعبے میں خواتین کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، پنجاب پولیس میں خواتین آفیسرز اہم ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، ٹریفک پولیس میں خواتین کی بڑی تعداد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے ہوئے ہے،  لیڈی وارڈنز ایجوکیشن، ٹکٹنگ، لائسنسنگ دفاتر میں انتہائی احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، بحثیت معاشرہ ہمیں عورت کو اس کے حقوق دلانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا،اچھا لب و لہجہ، نرم مزاجی اور خوش گفتاری لیڈی وارڈنز کی پہچان ہے، لیڈی وارڈنز نہ صرف سٹرکوں بلکہ دفاتر ہائے میں وارڈنز کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کئے ہوئیں ہیں،  میگا ایوٹ، مذہبی تہوار، کرکٹ میچ یا پھر روڈ سیفٹی کامعاملہ، لیڈی وارڈنز ہرطرف شہریوں کی خدمت کرتے ہوئے نظر آتی ہیں،

    سی ٹی او لاہور عمارہ اطہر کا کہنا تھا کہ لیڈی وارڈنز کی فلاح و بہبود کے حوالے سے مثالی اقدامات کئے گئے ہیں، لیڈی وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں، آئیے آج ہم خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے عزم کی تجدید کریں،

    سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ کا خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
    یپٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ لاہورپولیس میں خدمات انجام دینے والی خواتین محکمے کا فخر ہیں -ان خواتین نے قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ امن عامہ کے قیام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیاہے،یہ بات انہوں نے خواتین کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کہی۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس کے مختلف ونگز میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔سی سی پی او نے کہا کہ لاہور پولیس میں ڈیوٹی انجام دینے والے خواتین نے شبانہ روز محنت اور لگن سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد اور ہراسگی کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کے قانونی حقوق کے تحفظ کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی سیفٹی کیلئے”نیور اگین“ ایپ متعارف کروائی جا رہی ہے۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ وویمن سیفٹی ایپ،ہیلپ لائن 1242اوراینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل کے ذریعے خواتین کا موثر تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
    پاکستان کی بہادر خواتین کو آج خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، ایسے میں‌ ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم کررہی ہیں، ایف سی بیٹل اسکول میں یہ بہادر بلوچ بہنیں، بہترین ٹریننگ حاصل کر رہی ہیں تاکہ دشمنوں کوزوردار جواب دیا جا سکے،روزانہ کی بنیاد پر ان خواتین سولجرز کو فٹنس کے لیے سخت سے سخت ٹریننگ کروائی جاتی ہے جو ان کی پیشہ ورانہ تربیت کا ایک اہم حصہ ہے، کھیل کا میدان ہویاجنگ کامیدان، بلوچ قوم کی ان بہادر بیٹیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گی،یہ پاکستان کی بیٹیاں اپنے بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاتے ہوئے ملک کی حفاظت میں ساتھ ساتھ ہیں۔ پاکستان کی ان بیٹیوں کی ہمت ،بہادری اورہماری بلوچ بہنوں کا جذبہ دیکھ کر یقیناً ہم سب کے سر فخر سے بلند ہو گئے ہیں

    پاکستانی خواتین دفاع وطن کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ شاندار خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ خواتین نہ صرف مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں بلکہ وہ قیادت اور فیصلہ سازی میں بھی برابر کی شریک ہیں،پاکستان آرمی میں پہلے خواتین صرف طِب کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ آج خواتین کور آف سگنلز، الیکٹریکل اینڈ مکینکل انجیئرنگ، آرڈیننس، آرمی سروسزکور،میڈیکل کور، ایجوکیشن برانچ، ایڈمن اینڈ سروسز، پبلک ریلیشنز، لابرانچز کے علاوہ بحریہ اور پاک فضائیہ کے مختلف شعبوں بشمول جی ڈی پائلٹ کے اپنی کارکردگی کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر اس کی ایک زندہ مثال ہیں جو اسلامی دُنیا کی پہلی خاتون سرجن جنرل بنیں۔ میجر سلمیٰ ممتاز کو 1971  کی جنگ میں خدمات کے جذبے پر فلورنس نائٹ اینگل کے اعزاز سے نوازا گیا۔

    فلائیٹ لیفٹینٹ عائشہ فاروق پہلی پاکستانی خاتون فائٹر پائلٹ تھیں۔ فلائینگ آفیسر مریم مختیار شہید کو فرض شناسی کے اعزاز میں تمغہ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس وقت پاکستانی خواتین اقوامِ متحدہ چھتری تلے امن مشن کا حصہ ہیں۔

    عالمی امن کے لئے شاندار خدمات پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی Women Peace Keepersکی خدمات کو انتہائی متاثر کُن اور قابلِ تقلید قرار دیا۔ 2020ء میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستانی خواتین کے15رکنی امن دستے کو بہترین کارکردگی پر تمغوں سے نوازا۔

    اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ آف پولیس، سیدہ شہر بانو نقوی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فروری2024 کو لاہور کے اچھرہ بازار کے مشتعل ہجوم سے ایک خاتون کو بحفاظت نکالا۔

    پاکستانی خواتین نے قوم کی عزت اور وقار میں اضافے کے لیے بے پناہ خدمات سر انجام دی ہیں۔ یونیفارم میں خواتین نے اپنی صلاحیتیں منوائی ہیں، یونیفارم میں خواتین نے قوم اور انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ، خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا،جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے آسیہ اسماعیل ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں صدر مملکت، وزارت صحت اور قانون کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جنسی زیادتی کی شکار خواتین کے حاملہ ہونے پر ان کے تحفظ کیلئے کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے، اسقاط حمل کا قانون ایسے کیسز میں متاثرہ خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتا، اینٹی ابورشن قانون محض ذہنی بیمار خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے، امریکہ، برطانیہ، انڈیا سمیت دیگر ممالک میں پرو چوائس اپنے اپنے سماجی ماحول کے مطابق بنائے گئے ہیں، پاکستان میں آئین بھی پروچوائس کے معاملے پر خاموش ، ملکی آبادی کا 55 فیصد حصہ خواتین بنیادی حق سے محروم ہے،تعزیر میں اسقاط حمل کو جرم کی تعریف سے رفع کیا جائے،خواتین کو پرو چوائس کا حق بنیادی حق دیا جائے،

    امریکی عدالت نے اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی

    سپریم کورٹ کی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت

    امریکا کی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کو غیر قانونی قرار دے دیا

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،عدالت نے لڑکے اور لڑکی کو کیا طلب

    خواتین کو ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کا کیس، درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

  • قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    پنجاب کے ضلع قصور میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی، ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں درندہ صفت شخص نے نہ صرف خواتین کو عزتوں کو پامال کیا بلکہ انکا مال بھی بٹور گیا اور نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    مقدمہ تھانہ کھڈیاں میں اے ایس آئی کی مدعیت میں درج کیا گیا، درج مقدمہ میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ایک برہنہ ویڈیو وائرل ہوئی جو محمد یوسف ولد شوکت علی کی تھی،وہ نامعلوم عورت کے ساتھ برہنہ حالت میں بدکاری کر رہا تھا،سوشل میڈیا پر اپلوڈ ویڈیو قبضے میں لی گئی،دریافت کرنےپر پتہ چلا ویڈیو میں بدکاری کرنے والا شخص محمد یوسف ہی ہے اور وہ اکیلا نہیں بلکہ اور لوگ بھی اسکے ساتھ ملے ہوئے ہیں،ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    واقعہ کا ڈی پی او طارق عزیز سندھو نے نوٹس لے لیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو ہنی ٹریپ کر کے بلیک میل کرنے والا کھڈیاں خاص کا شخص لاکھوں ہڑپ کر گیا۔ملزم محمد یوسف خواتین کو ہنی ٹریپ کرکے گھر بلوا کر ان کی عزت لوٹتا، اس دوران انکی ویڈیوز بھی بناتا، پھر ان ویڈیو سے خواتین کو بلیک میل کرتا تھا، خواتین سے زیادتی کے بعد یوسف خفیہ طور پر ان کی ویڈیوز بھی بناتا رہا،پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم کا موبائل فرانزک کے لئے لاہور بھیج دیا گیا ہے اور مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے

    عبدالقوی باز نہ آئے، ایک اور نازیبا ویڈیو وائرل

    عمران ،بشریٰ بی بی غیر شرعی نکاح کیس ، عدالتی فیصلہ درست ہے، مفتی قوی

    اپنی ہی بیوی کو نازیبا ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دینے والاپہنچا جیل

    ویڈیو لیک ہونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ڈیٹا ریکوری کا طریقہ

    حریم شاہ ویڈیوز لیک کیس میں حریم شاہ کی پرانی دوست صندل خٹک کو گرفتار 

    صندل خٹک نے میڈیا کو بتایا کہ حریم نے مجھ سے اپنی بہن کی شادی کیلئے پیسے ادھار لئے تھے،

    حریم شاہ نے کہا ہے کہ میری پرائیویٹ وڈیوز میری سہیلوں نے وائرل کی ہیں

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک ہوئی ہے، ویڈیو وائرل ہو چکی ہے،

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    ویڈیو لیک کلب میں اب تک کون کون ہوا شامل؟ کن اہم شخصیات کی "ویڈیوز ہوئیں "لیک”

  • خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    قومی ادارہ براے وقار نسواں ( این سی ایس ڈبلیو) اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے نیشنل لائبریری میں قومی خواتین کانفرنس کا اہتمام کیا۔

    تقریب سے خطاب میں پی پی اے ایف کے سربراہ نادر گل بڑیچ نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ خواتین کی ترقی کا اثر انفرادی نہیں اجتماعی ہوتا ہے، ایک خاتون کا ترقی یافتہ ہونا خاندان اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ خواتین کو مالی وسائل تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، اثاثوں اور بلاسود قرضوں کی فراہمی اور تکنیکی اور مالیاتی تربیت کے ذریعے، PPAF غربت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کا حصول پائیدار ترقی کے دیگر تمام اہداف سے جڑا ہوا ہے، جیسے کہ گڈ گورننس، انسانی حقوق، ماحولیاتی پائیداری، غربت میں کمی، سبز ماحول اور پرامن معاشروں کی تشکیل۔ فیصلہ سازی کے حلقوں میں خواتین کی ترقی کے سفر کی رکاوٹوں کو ہمیں دور کرنا ہے۔ آج کی تقریب میں قومی ترقی میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیے جانے کے لیے مختلف کالجز کی بچیاں مستحکم خواتین کے عالمی یوم خواتین کی تھیم کے مطابق مقابلوں کا حصہ بن رہی ہیں، ہمارا آج یہاں اکٹھے ہونا ہماری خواتین پر ہمارے بھروسے اور ان کی صلاحیتوں اور برابری کی سطح پر حقوق کی فراہمی پر ہمارے بھروسے کا عکاس ہے۔ آج حکومتی نمائندگان، بین الاقوامی معززین، ترقیاتی شعبے، سول سوسائٹی کی تنظیموں، نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کی ممتاز شخصیات اس ایک چھت تلے ایک مشن اور روشن کل کی سوچ کے ساتھ موجود ہیں، ہمیں یقین ہے خواتین کی شمولیت کے بنا پاکستان کو درپیش معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم چیلنجز پر گرفت پانا ممکن نہیں۔ مختلف شعبہ ہاے زندگی میں نمایاں قردار ادا کرنے والی خواتین کو ایوارڈز دیے جانے کا مقصد ملک کی دیگر با ہمت اور با صلاحیت خواتین کو محنت کی جانب راغب کرنے کی ایک کوشش اور ان خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں قومی بیانیے ‘پیغام پاکستان’ اور ‘دختران پاکستان’ پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو اتحاد، امن، سماجی ہم آہنگی اور خواتین کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے اقدامات کو فروغ دیتے ہیں۔

    تقریب کی مہمان خصوصی چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو نیلوفر بختیار نے خطاب میں کہا کہ اس تقریب کا مقصد خوشحال اور روشن پاکستان کی جانب بڑھنے کے لیے خواتین کے نمایاں قردار کی اہمیت کو عیاں کرنا ہے۔ خواتین کو تعلیم صحت روزگار کے برابری کی سطح پر مواقع فراہم کیے بنا ترقی کے سفر میں کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن نہیں۔ ہمیں پاکستان کی خواتین کو با اختیار بنانا ہے اس کے لیے انکی صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا۔ ہمیں نئی نسل کو اپنے عزائم کو بنا کسی خوف سے آگے بڑھانے اور پاکستان کے معاشی اور سماجی تانے بانے میں اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے باصلاحیت اور با ہمت بنانا ہے۔ ہم آج یہاں موجود ہیں یہ ایک ایسے مستقبل کی نوید ہے کہ جہاں خواتین نہ صرف موجود ہیں بلکہ قومی ترقی اور خوشحالی کی داستان میں رہنما ہیں۔

    تقریب سے سابقہ انسپکٹر جزل پولیس حیلینہ اقبال سعید، ڈاکٹر امینہ حسن، ڈاکٹر صائمہ افضال اور ڈاکٹر بختاور خالد نے اپنے خطاب میں مختلف شعبوں میں چیلنجز پر کامیابی سے قابو پانے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی خواتین کے ہمراہ خطاب میں اپنی کامیابی کے سفر کی داستان گوئی کی اور شرکا جس میں جڑواں شہروں کے کالجز کی طالبات اور خواتین کی اکثریت موجود تھی انہیں ذاتی، خاندان اور معاشرے کے روشن مستقبل کے لیے اپنی کاوشوں کو مسلسل نکھارتے رہنے اور سفر کی مشکلات سے نہ گھبرانے کے رہنما اصولوں کو اپناے رکھنے کی ترغیب دی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے کالجز کی طالبات کو خواتین کو بااختیار بنائے جانے کے موضوع پر فنی مقابلوں کا حصہ بننے اور پہلی، دوسری، تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انعامات سے نوازا گیا۔