وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغان مہاجرین پاکستان کے دیئے گئے تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع کے بدلے ’زہریلی تنقید‘ کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وہ نہ صرف ناشکرے ہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں جنہوں نے انہیں تحفظ اور بامعنی زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے، اگر یہ سچ ہے تو اسے (راشد خان) کہیں اور پناہ لینی چاہیے لاکھوں لوگوں نے پچھلی نصف صدی میں ہمیں بیوقوف بنایا، وقت آگیا ہے کہ سب گھر واپس جائیں،طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان جنت بن گیا ہے، جہاں فرشتے حکمرانی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر دفاع کا بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک صارف ثنا یوسفزئی نے بذریعہ ٹویٹ اطلاع دی کہ افغان کرکٹر راشد خان اور ان کا خاندان سیکیورٹی خدشات کے باعث پشاور میں مقیم ہے-
دبئی میں میزائل کے ملبے سے 2 پاکستانیوں کی ہلاکت پروزیراعظم کا اظہار افسوس
قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو کہا تھا کہ آپ ہمارے مہمان رہے، آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک مہمانداری کی، سوویت یونین کے خلاف ہم نے مل کے جنگ لڑی، ہم آپ کی آپس کی لڑائیں ختم کراتے رہے، مکہ میں صلح کراتے رہے، صلہ کیا ملا ؟ آپ نے ہمارے قاتلوں کو پناہ دی، آپ کا اور ہمارا ایک ہی ہدف تھا اور یہ ہدف آپ کو اور ہمیں امریکہ نے دیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اب آ جائیں 9/11 کے بعد ہمُ نیٹو کے سہولت کا ر ضرور تھے مگر ہم پہ امریکہ کا الزام رہا کہ ہم حقانی نیٹ ورک کے سہولت کار ہیں ان کی اعانت کرتے ہیں، ہم سے آپکا پتہ پوچھا جاتا تھا، کچھ یاد ہے آپکو، ہم پہ آپکی سہولت کاری کا الزام سچ تھا یا جھوٹ آپ ہی دنیا کو بتا دیں، ان دونو ں نورا کشتیوں کے درمیان 1979سے 9/11 تک امریکہ نے ہمیں اور آپ کو لفٹ کرانا بند کردی، آپ سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، ہم نے آپ کے بزرگوں سے لے کر تین نسلوں کی مہان نوازی کی ہے۔
پاک افغان سرحد پرفتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، ایک دہشت گرد ہلاک
صلہ کیا ملا آپ ہمارے قاتلوں کو پناہ دیں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو سینے سے لگائیں، ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بنیں، میں کابل گیا آپ سے ملاقات ہوئی تھی، ایک درخواست کی تھی ہمارے دشمنوں کے حلیف نہ بنے اعانت نہ کریں، آپ نے رقم ما نگی ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر ضمانت کوئی نہیں تھی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جس نسبت سے آپ کو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے، اس نام کی ہی لاج رکھیں، ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے، آپ اپنے گھر راضی رہیں ہم اپنے گھر راضی رہیں، ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں، لیکن ان کے ساتھ مل کر ھمارے ساتھ دشمن کا کردار نہ ادا کر یں، اپنی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،ہماری روایت، ثقافت اور دین سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی ہو اس کی خیر مانگتے ہیں۔ اللہ اکبر ۔۔۔۔پاکستان زندہ باد
