Baaghi TV

Tag: خواجہ سرا

  • "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    "پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” — شہنیلہ بیلگم والا

    کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو اپنی بہن سے شادی کرنی تھی. یہ وہ فعل ہے جس کی اجازت کسی بھی مذہب میں نہیں. بادشاہ نے اپنے مصاحبوں سے مشورہ کیا. ایک شیطان صفت مصاحب نے مشورہ دیا کہ کوئی بھی بڑا دھماکہ فوری طور پر نہیں کیا جاتا. پہلے اس کے لیے زمین نرم کی جاتی ہے. عوام کو پہلے ہلکی پھلکی بے غیرتی کا عادی بنایا جاتا ہے. پھر جب رب کے قانون کے صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل انتہائی معمولی ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہوتا بھی نہیں.

    اس کی مثال آج کل کے دور میں یہ ہے کہ پہلے میڈیا کے زریعے ہمیں مزاح کے نام پہ ایک مرد کو ساڑھی پہنا کر سج سنوار کر بٹھایا گیا ( بیگم نوازش علی). پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ ہر دوسرے ڈرامے میں ایک مرد لہرا کر بل کھاتا ہوا نظر آیا. عوام نے اسے مزاح کا ایک انداز سمجھا. اب اگر روزمرہ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا کرتا نظر آتا ہے تو ہم اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں. پھر پچھلے دنوں ایک مرد جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ( ڈاکٹر)، لیکن کھلے عام سیکس چینج کو اپنا حق مانتا ہے. خود کو عورت کی طرح پیش کرتا ہے اور ہم جنس پرست ہونے پہ فخر کرتا ہے، اسے ایک اسکول میں بطور رول ماڈل مدعو کیا گیا. جس پہ کچھ والدین نے اعتراض کیا. باقی والدین اس کی انگریزی سے مرعوب ہوتے رہے.

    اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگوں کا کیا مقام ہے. یہ مکمل مرد اور عورت اپنی جنس سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ خواجہ سراؤں کی آڑ لے کر پاکستان میں ایک ایسا قانون پاس کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کو اپنا گھناؤنا فعل کرنے کی مکمل آزادی مل جائے.

    کم علمی کے باعث بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں خواجہ سراؤں کے وہی حقوق ہیں جو ایک مرد یا عورت کے ہیں. یہاں تک کہ وراثت میں بھی اگر ایک خواجہ سرا عورت کے نزدیک تر ہے تو ترکے میں عورت کے برابر اور اگر ایک مرد کے نزدیک تر ہے تو مرد کے برابر حصہ ملے گا. یہ باتیں ہم سے چھپائی جاتی ہیں. انسانیت کے نام پہ اپنی فحاشی کی آزادی درکار ہے. یہ قوم لوط کا فعل ہے جس پہ اللہ کا غضب ایسے بھڑکا تھا کہ توبہ کرنے کے لیے تین دن کا وقت بھی نہیں دیا گیا جو اس سے پہلے تمام گمراہ قوموں کو دیا گیا تھا.

    اکتوبر میں اس بل پر پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی. ہم سب کی زمہ داری ہے کہ ہم بھرپور احتجاج کر کے اس بل کو رکوائیں. ہمیں یہ کام ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے اٹھ کر کرنا ہے. یاد رہے کہ اللہ کا عذاب اور غضب صرف ان پہ نہیں آتا جو اس فعل میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ ان پہ بھی آتا ہے جو اس کو قبیح فعل سمجھتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں.

    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

  • کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    کراچی: نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو تیز دھار آلے کے وار سے قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خواجہ سراء کے قتل کی واردات کراچی کے علاقے شیرشاہ میں رونما ہوئی، جہاں نامعلوم افراد نے جناح روڈ پر ایک شخص کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔

    دبئی سے آنیوالا طیارہ سیالکوٹ ایئرپورٹ پرخوفناک حادثے سے بال بال بچ گیا

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور مقتول کی لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا
    پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 45 سالہ ماجد ولد سعید کے نام سے کی گئی ہے جو شیرشاہ جناح روڈ کا رہائشی تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے مقتول کی لاش نیم برہنہ حالت میں ملی تھی، واقعے مختلف پہلوؤں سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب کراچی کے علاقے کورنگی نمبر ایک میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر شہری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لےکر ہسپتال منتقل کر دیا –

    پولیس کا چھاپہ،ڈیرے سے 3 لڑکیوں سمیت 13 ملزمان گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    علاوہ ازیں سیلاب کے باعث سندھ میں مزید 15 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ نوابشاہ میں نالے کا کٹ بند کرنے پر مقامی افراد کے حملے سے اسسٹنٹ کمشنر کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار کلہاڑی کے وار سے جاں بحق ہو گیا۔

    نواب شاہ میں علی رضا موری سیم نالےکا کٹ بند کرنے پر مقامی افراد کا ریونیو اہلکاروں پر حملہ ہوا جس سے اسسٹنٹ کمشنر قاضی احمد کی سکیورٹی پر مامور اہلکار کلہاڑی کے وار سے جاں بحق ہوگیا پولیس نے واقعے میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے مقامی افراد نےعلی رضا موری سیم نالےمیں غیر قانونی کٹ لگایا تھا۔

    دوران پرواز کاک پٹ میں پائلٹ اورمعاون کے درمیان ہاتھا پائی,دونوں معطل

  • خود کو خواجہ سراہ کہنے والے  ڈاکٹر مہبر معز اعوان کے خلاف ماریہ بی بھی آ گئیں میدان میں

    خود کو خواجہ سراہ کہنے والے ڈاکٹر مہبر معز اعوان کے خلاف ماریہ بی بھی آ گئیں میدان میں

    خود کو خواجہ سرا کہنے والے ڈاکٹر مہبر معز اعوان کے خلاف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی آ گئیں ہیں میدان میں انہوں‌نے کر دیا ہے سب کو خبردار اور اپنی انسٹاگرام سٹوری میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر مہبر معز اعوان خواجہ سرا نہیں ہیں انہیں خواجہ سرا کہنا سرار دھوکہ ہے. ہم پوری ہمدردی رکھتے ہیں خواجہ سراہوں سے ان کی عزت کرتے ہیں لیکن یہ ڈاکٹر مہبر معز اعوان خواجہ سرا نہیں‌ہیں. ماریہ بی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ محترم مرد ہیں اور سوشل میڈیا پر خود کو خواجہ سرا کہتے ہیں. ماریہ بی نے زور دیا کہ ہمارے بچون‌کو صنفی مسائل اور فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے.
    کہا جا رہا تھا کہ ڈاکٹر مہبر معز اعوان کو انٹرنیشنل اسکول آف لاہور (آئی ایس ایل) نے اپنے کسی شو میں بطور مہمان بلایا تھا لیکن جب سوشل میڈیا پر اس شخص کے حوالے سے متنازعہ پوسٹیں دیکھیں تو سکول نے انہیں بطور مہمان اپنے سکول کے فنکشن میں بلانے کا فیصلہ واپس لے لیا. ماریہ بی اس پر بھی کافی خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ سکول والوں نے ایک بہترین فیصلہ کیاہے. انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ ہمارے بچوں کے سامنے سپیکر بن کر جائیں گے اگر تو ان پر کیا اثر پڑے گا.یاد رہے کہ ماریہ بی کا فیشن ڈیزائننگ کی دنیا میں ایک نام ہے اور وہ تنازعات میں نہیں‌پڑتیں لیکن اس بار انہوں نے بچوں کی بہتری کے لئے بولنا مناسب سمجھا.

  • خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    گرفتار دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، لاہور میں خواجہ سراء پر تیزاب پھینکنے والے دو ملزمان کا عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، ملزمان کو سخت سکیورٹی میں تھانہ ریس کورس پولیس نے عدالت پیش کیا تھا عدالت نے ملزم حمزہ سلیم اور سہیل جٹ کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیا، عدالت نے تفتشی افسر سے آئندہ ملزمان کی رپورٹ طلب کرلی عدالت نے ملزمان کو 30 جون تک پولیس کے حوالے کردیا

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایک طرف فائرنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں،اب تیزاب گردی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے ہیں فلموں اور ڈراموں سے بگڑے ہوئے نوجوان کسی کے چہرے پر بھی تیزاب پھینکنے کو شاید مذاق سمجھ بیٹھے ہیں جس سے متاثرہ لوگوں کے چہرے اور زندگیاں تاحیات اپاہجگی کا شکار بھی بن جاتی ہیں

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    پولیس میں نوکری کیوں نہیں دی؟ خواجہ سرا عدالت پہنچ گئے

    جنسی خواہش کی تکمیل نہ ہونے پر گھر میں گھس کر خواجہ سراؤں پر گولیاں برسا دی گئیں

    تھانہ ریس کورس کے علاقہ بستی سیدن شاہ میں دبئی پلٹ نوجوان حمزہ عرف ہنی نے پرانی آشنائی کی بنا پر خواجہ سرا ء کنزا کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا جس سے اس کی بائیں آنکھ شدید متاثر ہوگی اور ڈاکٹر کے مطابق کنزا کی آنکھ تاحیات اندھیری بھی رہ سکتی ہے ، حمزہ اور ہنی نامی نوجوان چند روز قبل دبئی سے واپس آیا اور ان دونوں کی دو سال قبل آشنائی ہوئی تھی کنزا اور اس کی منہ بولی ماں اور منہ بولی بہن کومل نے بتایا کہ حمزہ اس کو دبئی سے بھی کالیں کیا کرتا تھا اور اس کے رشتہ داروں سے ملنے اور کوکنگ کے کام سے منع کرتا تھا اور اس بات پر بضد تھا کہ وہ صرف حمزہ کے ساتھ تعلق رکھے جبکہ کنزا کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کا سہارا لینا ضروری تھا جس بناء پر وہ ماڈل ٹاؤن کے علاقہ میں ایک گھر میں کوکنگ کا کام کرتی تھی مزید یہ کہ کنزا کے لواحقین نے بتایا ملزم حمزہ عرف ہنی اور اس کا ایک بھائی جو دبئی میں رہائش پذیر ہے جس کا نام سنی بتایا جاتا ہے کسی قسم کی بھی قانونی کاروائی کرنے پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کا ریکارڈ خواجہ سرا ء کے پاس موجود ہے ۔

    تیزاب گردی کا اندراج مقدمہ تھانہ ریس کورس میں ہو چکا ہے اور متاثرہ کنزا نے سی سی پی او لاہور او ڈی آئی جی لاہور اسے انصاف دلوائیں جانے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی جینے کا حق ہے اور وہ بھی انسان ہی ہیں ان کے لیے بھی قانون میں مساوی حقوق شامل ہیں ۔

    عطاءتارڑ کی متاثرہ خواجہ سرا کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو،

    لاہور میں خواجہ سرا پر نا معلوم افراد تیزاب پھینکنے کے بعد فرار:

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

  • لاہور میں خواجہ سرا پر نا معلوم افراد تیزاب پھینکنے کے بعد فرار،

    لاہور میں خواجہ سرا پر نا معلوم افراد تیزاب پھینکنے کے بعد فرار،

    لاہور میں خواجہ سرا پر نا معلوم افراد تیزاب پھینکنے کے بعد فرار:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں پھر ایک جرم کی واردات سامنے آئی ہے۔ یہ واقعہ لاہور کے دارالحکومت میں پیش آیا ہے۔ لاہور کے دارالحکومت میں ایک خواجہ سرا پر تیزاب پھینک دیا گیا ۔اور یہ تیزاب ایک نا معلوم افراد نے پھینکا تھا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق جب اس سب واقعہ کا علم پولیس والوں کو ہوا تو انہوں نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی۔ماضی میں بھی بہت سے ایسے واقعیات پیش آۓ ہیں۔لیکن حال میں تیزاب پھینکنے کے بہت سے واقعیات پیش آ رہے ہیں۔اور اب یہ واقعہ خواجہ سرا کے ساتھ پیش آیا۔

    پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ خواجہ سرا جن کے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے۔یہ کنزہ گھر کے باہر سڑک پر ہی کھڑی تھی۔کہ اچانک سے ملزم حمزہ نامی شخص آیا اور اس نے اس خواجہ سرا جس کو سڑک پر کھڑی تھی۔اس پر تیزاب پھینک کر چلا گیا۔
    مزید یہ کہ جب اس سب واقعے کے بعد وہاں پر موجود لوگوں نے فوری طور پر اس خواجہ سرا کو ہسپتال منتقل کیا۔اور پولیس کو اس سب سے اگاہ کیا جب پولیس کو اس سب واقعے کا علم ہوا تو پولیس نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی تھی۔جس کی وجہ سے ہمیں اس واقعے کی تفصیل جاننے میں مدد ملی ہے۔

    اس سب واقعے کا ڈی آئی جی سہیل چوہدری نے نوٹس لیتے ہوئے ملزم کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی اور ایس پی سول لائنز سے اس تمام واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

    اس حوالے سے مزید جمان آپریشنز ونگ آغا احتشام کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزم کی شناخت حمزہ سلیم کے نام سے ہوچکی ہے۔ اور اس ملزم کی فوری گرفتاری کےلیے بھی پولیس چھاپے مار رہی ہے ۔جیسے ہی یہ ملزم حمزہ نامی شخص ملے گا تو اس کو فوری طور پر گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس کی تفتیش جاری ہےاور پولیس ملزم حمزہ نامی شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

  • کانز فلم فیسیٹول میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ناقابل یقین ہے: ثروت گیلانی

    کانز فلم فیسیٹول میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ناقابل یقین ہے: ثروت گیلانی

    اداکارہ ثروت گیلانی جو آج کل فرانس میں موجود ہیں وہ وہاں قدیم فلمی میلے کانز میں شرکت کے لئے گئیں تھیں انہوں‌ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدیم فلمی میلے میں نمائش پذیر ہونے والی فلم "،جوائے لینڈ” کو وہاں موجود لوگوں نے اس قدر سراہا کہ کھڑے ہو تالیاں بجائیں۔ اس فیسیٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ناقابل یقین ہے۔پاکستان میں خواتین بدل رہی ہیں، تنگ ڈبوں سے باہر آرہی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم ترقی پسند کہانیاں بھی لکھ سکتے ہیں صرف رومینٹک ہی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین اپنے کمفرٹ ذون سے باہر آرہی ہیں جو کہ بہت ہی خوشی کی بات ہے.

    کانز فلم فیسٹیول میں جس طرح ہماری فلم کو سراہا گیا ہے مجھے اس پہ فخر ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے لوگ بھی یہ فلم دیکھنا چاہیں گےاور سمجھیں گے کہ اس قسم کا سینما اگر پوری دنیا میں مقبول ہے تو پاکستان میں بھی کامیاب اورمقبول ہوسکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس فلم فیسیٹیول میں موجود بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پاکستان خواجہ سراؤں کو امتیازی سلوک کے خلاف قانونی تحفظ فراہم کرنے والے ملکوں میں شامل ہے۔واضح رہے کہ فلم میں خواجہ سرا ڈانسر بیبا کا کردار علینہ خان نے ادا کیا جو خود بھی خواجہ سرا ہیں.

  • خیبرپختونخوا اسمبلی میں  خواجہ سراؤں کی مالی معاونت کا بل پیش

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواجہ سراؤں کی مالی معاونت کا بل پیش

    پشاور: صوبائی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا خواجہ سرا ویلفئیر انڈونمنٹ فنڈ بِل 2022 اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مجوزہ بل میں کہا گیا کہ مالی مشکلات سے دو چار خیبرپختونخوا کے خواجہ سراؤں کے لیے انڈونمنٹ فنڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بل میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ فنڈز کے ذریعے حکومت خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود،مالی معاونت اور روزگار فراہم کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ خواجہ سراؤں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرضے بھی دیئے جائیں گے۔

    بل کے تحت 6 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کا مقصد خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود سے متعلق فیصلوں کی تعمیل کو یقینی بنانا ہوگا جس میں بالخصوص خواجہ سراؤں کی معاشی ضروریات بھی شامل ہیں۔

    مجوزہ بل میں کیا گیا کہ حکومت کا مقصد خواجہ سراؤں کو مالی لحاظ سے مستحکم بنانا اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا وہ پہلا صوبہ ہے جہاں خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس جیسے اہم اور بنیادی دستاویز جاری کیے گئے تھے-

    پاکستان کی حکومت نے مئی سنہ 2018 میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انھیں شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ بنوانے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ گھر یا عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کی ممانعت، تعلیم، خصوصی طبی سہولیات، زبردستی بھیک منگوانے پر پابندی اور جیلوں میں الگ بیرک میں رکھنے کا کہا گیا تھا۔

    اس قانون کے تحت خواجہ سراؤں کو اپنی مرضی سے قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ریکارڈ میں اپنی جنس کی تبدیلی کا اختیار بھی دیا گیا تھا تاہم مذکورہ قانون میں جنس کےتبدیلی کی شق پرنہ صرف ملک میں مذہبی جماعتوں نے اعتراضات اُٹھائے بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس کو اسلام کے منافی قرار دیاموجودہ وقت میں یہ کیس وفاقی شریعت عدالت میں زیر سماعت ہے جس کے وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

    خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی پالیسی مرتب کرنے کے لیے سنہ 2015 میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے کی 47 صفحات پر مشتمل پالیسی 2021 کے مجوزہ مسودے میں صحت، تعلیم، معاشی، سماجی و معاشرتی تحفظ اور سیاسی عمل میں بلاامتیاز حصہ لینے کی بات کی گئی۔

    حکومتی پالیسی کا مسودہ چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اسلامی و تاریخی پس منظر، کل آبادی معلوم کرنا، شناخت، متعلقہ ادارے کے ساتھ رجسٹریشن، رہائش، تشدد سے بچاؤ اور مفت صحت اور تعلیم کی بلا امتیاز سہولت فراہم کرنے کے ساتھ قانونی مسائل کے حل میں مفت مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

    اس مجوزہ پالیسی میں خواجہ سراؤں کو ہنر سکھانے، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے لیے بلاسود قرضے، سرکاری نوکریوں میں دو فیصد کوٹہ، بیمار اور بزرگ خواجہ سراؤں کو اشیائے خوردو نوش کی فراہمی کے ساتھ ماہانہ نقد وظائف شامل ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سراؤں کو ووٹ کے استعمال اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی دیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت انھیں سیاسی اور سماجی اُمور کے لیے دفتر قائم کرنے کی اجازت شامل ہے۔

  • عمران اشرف کی فلم ’’دم مستم‘‘ کے خلاف خواجہ سرا عدالت پہنچ گئے

    عمران اشرف کی فلم ’’دم مستم‘‘ کے خلاف خواجہ سرا عدالت پہنچ گئے

    معروف پاکستانی اداکار عمران اشرف اوراداکارہ امر خان کی فلم ’’دم مستم‘‘ ریلیز سے قبل قانونی چارہ جوئی کا شکار ہو گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فلم ’’دم مستم‘‘ میں شامل متنازعہ ڈائیلاگ کے معاملہ پر خواجہ سراؤں نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے خواجہ سرا زانایا چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔

    سچن ٹنڈولکرکی بیٹی بالی ووڈ میں ڈیبیو کیلئے تیار

    بیرسٹر احمد پنسوتا نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا فلم سے خواجہ سراؤں کے خلاف ڈائیلاگز کو حذف کیا جائے ان ڈائیلاگز سے خواجہ سراؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں-

    درخواست گزار نے کہا کہ فلم ’’دم مستم‘‘ میں خواجہ سراؤں کے خلاف ڈائیلاگز اور مکالمے بولے گئے ہیں اور ان ڈائیلاگز کی وجہ سے خواجہ سراؤں کے خلاف ہزرہ سرائی کی گئی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں –

    واضح رہے کہ فلم ’’دم مستم‘‘ کو عیدالفطر پر سینماؤں میں ریلیز کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    کویت نے پاکستان مخالف مواد پر بنی بھارتی فلم پر پابندی عائد کر دی

    قبل ازیں معروف اداکار عمران اشرف نے کہا تھا کہ میری عید پر نمائش کیلئے پیش کی جانے والی فلم ”دمستے“دیکھنے سے قابل ہوگی۔اس فلم میں میرے مقابل امر خان ہیروئن ہیں۔

    عمران اشرف نے کہا تھا کہ ہم برائیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دنیا میں ترقی یافتہ قوموں کی وجہ ان کے شہریوں کا احساس ذمہ داری ہے، وہ رات گئے اہلکار نہ ہونے کے باوجود بھی ٹریفک قوانین کی پابندی کرتےہیں اوران ممالک میں جرم کرنے پربلا امتیاز قانونی کارروائی کی جاتی ہے ان ترقی یافتہ ممالک میں پروٹوکول کا کوئی تصور موجود نہیں اور اسی وجہ سے ان ممالک کے شہری بھی اپنی حکومتوں سے خوش نظر آتے ہیں۔

    عمران اشرف نے کہا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے لئے تمام لوگوں کو اپنا اپنا کردار کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ حکومت کو احساس ذمہ داری کا شعور اجاگر کرنے کے لئے میڈیا پر آگاہی مہم کا آغاز بھی کرنا چاہیے معاشرے کی اصلاح کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہو گا،جب ہم اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے پوری کریں گے تو معاشرے میں خود بخود سدھار آتا جائے گا۔

    مایا علی اور عثمان خالد بٹ نے شادی اور دو بچوں کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

  • خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی زندگیاں غیر محفوظ،ایک مہینے میں چار قتل

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی زندگیاں غیر محفوظ،ایک مہینے میں چار قتل

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی زندگیاں غیر محفوظ،ایک مہینے میں چار قتل

    مردان میں ایک اور خواجہ سرا قتل۔ ایک ہی مہینے میں خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کا یہ چوتھا واقعہ ہے، جس کے نتیجے میں چار قتل،اور چھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    اس ضمن میں پہلا واقعہ مانسہرہ میں 13 مارچ، دوسرا واقعہ مردان میں 17مارچ، تیسرا واقعہ 18 مارچ اور چوتھا واقعہ مردان میں پیش آیا ہے جہاں خواجہ سرا کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے،مردان میوزیم کے قریب خواجہ سراؤں کی گاڑی پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی،فائرنگ کے نتیجہ میں خواجہ سراء کوکونٹ جانبحق دوسرا زخمی ہو گیا،اطلاعات کے مطابق خواجہ سراء محفل موسیقی سے واپس آرہے تھے۔

    خیبرپختونخواہ کے خواجہ سراؤں کے ساتھ پچھلے دس دنوں میں انتہائی افسوس ناک واقعات رونما ہو چکے ہیں جس میں چار خواجہ سرا بے دردی سے قتل جبکہ 6 خواجہ سرا گولیوں سے شدید زخمی ہوئے ہیں،پہلا واقعہ پشاور میں خواجہ سرا حسینہ کو گولی مار کر زخمی کیا گیا لیکن ابھی تک اس کا ملزم گرفتار نہ ہوسکا دوسرا واقعہ مانسہرہ میں 5 خواجہ سراؤں کو گھر میں گولیاں مار کر زخمی کیا گیا جس میں ایک خواجہ سرا سمیر کی موت ہوگئی تیسرا واقعہ مردان میں خواجہ سرا کے گھر میں گولیاں چلائی گئیں جس میں خواجہ سرا چاند قتل ہو ئی اور خواجہ سرا زمرد زیر علاج ہے جبکہ ملزم بھی ابھی تک گرفتار نہ ہو سکا

    چوتھا واقعہ پشاور کے مشہور بازار قصہ خوانی میں دن دیہاڑے خواجہ سرا مانو کو گولیوں سے مار کر قتل کر دیا گیا،خواجہ سرا کمیونٹی کا کہنا ہے کہ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس واقعے میں بھی ملزم گرفتار نہ ہوسکا خیبر پختونخواہ حکومت ابھی تک تمام مجرموں کو پکڑنے میں کامیاب نہی ہوئی اس سلسلے میں خیبر پختونخوا خواجہ سرا کمیونٹی کی طرف سے اپنی حق کے لیے بروز پیر 28 مارچ کو دن بارہ بجے پریس کلب میں پریس کانفرنس اور کانفرنس کے بعد پرامن مظاہرہ کیا جائے گا

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گی

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    پنجاب کے شہر میں دو خواجہ سراؤں کو گھر میں گھس کر گولیاں مار دی گئیں

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    پولیس میں نوکری کیوں نہیں دی؟ خواجہ سرا عدالت پہنچ گئے

    جنسی خواہش کی تکمیل نہ ہونے پر گھر میں گھس کر خواجہ سراؤں پر گولیاں برسا دی گئیں

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

  • 17 سالہ طالبہ کی خودکشی:خواجہ سرا کو اغوا کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    17 سالہ طالبہ کی خودکشی:خواجہ سرا کو اغوا کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    قاہرہ :پشاور:: 17 سالہ طالبہ کی خودکشی:خواجہ سرا کو اغوا کرنے والے 5 ملزمان گرفتار،اطلاعات ہیں‌ کہ مصر میں آن لائن ہراساں کرنے پر 17 سالہ طالبہ نے خودکشی کر کے زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ اس جرم میں عدالت نے نوجوان کو قید کی سزا سنا دی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 سالہ طالبہ نے گزشتہ سال 23 دسمبر کو زہر پی کر خودکشی کر لی تھی کیوں کہ اس کی تصاویر کو آن لائن شیئر کیا گیا تھا۔

    مصر کی عدالت نے ہراساں اور خودکشی کے جرم میں 16 سالہ نوجوان کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ ملزم کو ہراساں کرنے کے جرم میں دو سال اور اجازت کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    طالبہ کی خودکشی کے بعد مجرم کی گرفتاری کے مطالبے نے زور پکڑا تھا جس کے بعد پولیس نے اسے رواں سال جنوری میں گرفتار کیا اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ کیس میں نامزد دیگر ملزمان کے خلاف مئی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق مجرم نے طالبہ کو دوستی کرنے کے لیے بلیک میل کیا اور انکار کرنے پر اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں جنہیں اس کے دوستوں اور والدین نے دیکھا۔

    پشاور میں تھانہ چمکنی پولیس نے کارروائی کی ہے جس کے نیتجے میں خواجہ سرا کو اغواء کرنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سراء ارسلان عرف شیزا کو فنکشن سے واپسی پر اغواء کیا گیا، اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کی گئی، ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا۔

    پولیس نے کہا کہ اغواء کاروں کی گاڑی کو غز چوک کے قریب روک کر مغوی کو بازیاب کروایا گیا، گرفتار ملزمان کا تعلق تاروجبہ، ارمڑ اور اندرون شہر کے علاقے سے ہے۔