Baaghi TV

Tag: خواہش

  • سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے،ملک احمد خان

    سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے،ملک احمد خان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اجلاس میں سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوگی ،

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک سب سے اہم فیصلہ 63-A کا پچیس سیٹوں والا ہے میں اس فیصلے پر معترض ہوں،سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرے لیکن آئین کو لکھے نا، سیاسی جماعتیں سیاسی نظام سے لوگوں کا اعتماد اٹھانا چاہتی ہیں جیسے تحریک انصاف، جیسے تین مہینے قبل دو حکومتوں کو ختم کردیا گیا، آرٹیکل 224 ایسے نہیں پڑھا جانا چاہیے جیسے پڑھا جارہا ہے، اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر اتنا برا کرکے گئے ،چوری کا مال ڈکیتی کے ساتھ بیچ رہے ہیں آپریشنز کا سلسلہ پچھلے چھ سال سے جاری ہے نہ تب ٹھیک تھا نہ اب ٹھیک ہے سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک ادارہ سپریم کورٹ زیادتی کرے بات کرنی چاہیئے ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک لاڈلے کی خواہش کے تابع پورے انتخابی عمل سے لوگوں کا یقین آٹھ جائے اتنا بڑا نقصان نہیں ہونا چاہیئے

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے مذاکرات ناکام ہوئے اور نہ ہی ان میں کوئی ڈیڈ لاک آیا ہے دونوں اطراف سے تجاویز آئی ہیں، معاملات آگے بڑھ رہے ہیں آئندہ منگل کو دوبارہ مذاکرات ہونگے اور بات آگے بڑھے گی

  • پی ٹی آئی کارکنان کی بے ضرر اور معصوم خواہشیں،عمارہ افتخار کا ویڈیو پیغام

    پی ٹی آئی کارکنان کی بے ضرر اور معصوم خواہشیں،عمارہ افتخار کا ویڈیو پیغام

    پی ٹی آئی کارکنان کی بے ضرر اور معصوم خواہشیں،عمارہ افتخار کا ویڈیو پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمارہ افتخار نے پی ٹی آئی کارکنان کی چھوٹی چھوٹی بے ضرر سی خواہشیں ایک ویڈیو میں بیان کی ہیں

    عمارہ افتخار ویڈیو پیغام میں کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے ورکرز کی بنیادی خواہشات شیئر کروں گی، پی ٹی آئی کارکنان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں تاحیات عمران خان کو وزیراعظم بنا دیا جائے، صرف وزیراعظم نہیں بلکہ چیف جسٹس، آرمی چیف،سارے پرائم عہدے عمران خان کوملنے چاہئے ،عمران خان کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ، یہ پی ٹی آئی کے ورکر ملک کے بھلے کے لئے سوچتے ہیں کیونکہ یہ آپکو ضرورت ہے، مجھے ضرورت ہے، ملک کو ضرورت ہے ،عمران خان کو ان عہدوں کی ضرورت نہیں

    عمارہ افتخار مزید کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کارکنان کی دوسری خواہش ہے کہ جب بھی وہ حکومت کریں، زندگی چار دن کی ہوتی ہے، ان کی ساری اپوزیشن جیلوں میں ہونی چاہئے، تا کہ کوئی مخالفت نہ کرے کیونکہ اگر کوئی مخالفت کرے گا تو وہ غداری ہو گی ،ایک اور خواہش پی ٹی آئی سپورٹر کی کہ عمران خان کے جلسوں میں ہزاروں لوگ آن لائن بیٹھ کو دوسروں کی زندگی کو نشانہ بنائیں گے لیکن عمران خان کی زندگی کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    اسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    امپورٹڈ حکمران پارلیمان کی توہین،قوم غدار گٹھ جوڑ کیخلاف کھڑی ہوچکی ہے،عمران خان

    جمعیت علما اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات

    عمارہ افتخار کا ویڈیو پیغام میں مزید کہنا تھا کہ ایک اور خواہش،پی ٹی آئی کے سپورٹر اور عمران خان نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں انہوں نے دن رات کوشش کی، لیکن ہماری قسمت ہی ایسی ہے کہ کوئی ادارہ بات ماننے کو تیار نہیں اگر عمران خان کے پاس ہی سارے عہدے ہوتے تو نیا پاکستان بن جاتا تھا، اب پی ٹی آئی والوں نے مایوس کیا ،نیا پاکستان تو بن نہیں سکا، واپس پرانا پاکستان میں آ گئے، اب وہ ایک چھوٹی سی خواہش اور رکھتے ہیں کہ آزاد پاکستان چاہئے، اگر آپ ان چھوٹی چھوٹی بے ضرر سی خواہشات کو پورا کر دیں گے تو اس میں آپکا کیا جائے گا

  • حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    "جیے بھٹو”، "اک واری فیر شیر”، "25 لاکھ علماء کا وارث”، "انتہا درجے کی بوٹ پالشی”، "لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان عرف مغالطہ پاکستان پر قرآن و حدیث سے بڑھ کر ایمان” اور "سانہو کی سے تہانو کی” سطحی اور نیچ نعرے وہ گھٹیا افعال اور افکار ہیں جن سے ہماری مجموعی اور عمومی ذہنیت اور دماغی استعداد کار کا انداز کرنا بالکل مشکل اور ناممکن نہیں۔

    ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر منحصر لوگ ہیں جن کا انحصار ہمیشہ دوسروں پر رہا ہے, کبھی ہم میں سے کسی کو یہ خیال نہیں ستاتا کہ میں بھی انسان ہوں اور اللہ نے مجھے بھی دماغ دے کر پیدا کیا ہے سو میں کیونکر مسلسل ایک سوراخ سے بار بار ڈسا جاؤں؟

    ایسی قومیں ترقی نہیں تنزلی کی منزلیں بہت جلد اور تیز رفتار سے طے کرتی ہیں۔

    ہم اتنے پکے پیر مقلد اور مکلف ہیں اپنے بیچ موجود طاقتور افراد اور اداروں کے کہ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں جس کا نہ کوئی سرا ہے نہ ہی حد۔

    خود سے تحقیق اور تفتیش کا نہ ہم میں یارا ہے اور نہ ہی کوئی خاص شوق کہ ہم جان پائیں کہ آخر ہم کن نظریات اور افکار کی پیروی میں تباہی کی طرف گامزن ہیں۔

    ہماری محبتوں کی طرح ہماری نفرتیں بھی سیانی ہیں کہ یہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا فرق ہمارے کہے بنا کرلیتی ہیں۔

    پاکستان کو اللہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے ورنہ ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی خود اس کو تباہ کرنے کی۔

    آج ہمیں قرضوں کی دلدل نظر آرہی ہے, ہمارا معاشی دیوالیہ نظرآرہا ہے, ہمارے موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور بیوقوفی یا سیدھے لفظوں میں عوام دشمنی نظر آرہی ہے پر ہمیں پہلے خبر ہونے کے باوجود سابقہ کسی بھی حکمران خواہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری کی کوئی برائی بھی برائی نہیں لگی۔

    ہم نے ہمیشہ لاڈلی اولاد کی طرح اپنے اپنے من پسند حکمرانوں کی لوٹ مار اور غلط فیصلوں کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر دفاع بھی کیا اور آج جب بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے تب بھی ہمارے اندر سے ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی محبت جانے کا نام نہیں لے رہی۔

    واللہ آج جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو سمجھ پاتا ہوں کہ جب جب اللہ نے بت پرستی اور شرک کا قلع قمع کرنے کو نبی معبوث کیئے تو انہیں شدید ردعمل اور تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور کیونکر بت پرست امتوں کو بت پرستی گناہ نہیں لگی اور کیونکر وہ بت پرستی سے دستبردار نہیں ہوئے؟

    ہمارے بیچ بھی بت پرستی نے جڑیں بہت گہری کرلی ہیں۔

    ہم نے شخصیات کے بت سجا لیے ہیں, نظریات کے بت سجا لیے ہیں, اداروں کے بت سجا لیے ہیں, افکار کے بت سجا لیے ہیں, ذاتیات کے بت سجا لیے ہیں, آزادی نام کی دیوی کے بت سجا لیے ہیں, بغاوت کے بت سجا لیے ہیں, دولت کے بت سجا لیے ہیں, شہرت کے بت سجا لیے ہیں, علم و عمل اور الفاظ کے بت سجا لیے ہیں, اور تو اور حق اور سچ کے بت بھی سجا لیے ہیں, غرض ہر وہ چیز؟ انسان، واقعہ، جگہ اور نظریہ ہماری بتوں کی لسٹ میں موجود ہے جس سے ہم متاثر ہوسکیں اور جن پر انحصار کرکے ہم زندہ رہنے کا بے ڈھنگا مقصد طے کرسکیں۔

    بت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ انہیں ایک تو بتوں میں خدا اور ناخدا دونوں نظر آتے اور دوم انہیں کسی صورت اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ بت پرست ہیں۔

    آج ذرا ن لیگ والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پیپلز پارٹی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پی ٹی آئی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جمعیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جماعت اسلامی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فنڈا مینٹلز کا حال ملاحظہ کرلو, لبرلز کا حال ملاحظہ کرلو, ڈیموکریٹکس کا حال ملاحظہ کرلو, سینٹرکس کا حال ملاحظہ کرلو, صحافیوں کا حال ملاحظہ کرلو, ایکٹیوسٹس کا حال ملاحظہ کرلو, بوٹ پالشیوں کا حال ملاحظہ کرلو, فرقہ بازوں کا حال ملاحظہ کرلو, عصبیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, ملحدوں کا حال ملاحظہ کرلو, میں حق سچ کہتا اور لکھتا رہوں گا چاہے میری جان چلی جائے کہنے والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فیمنسٹس کا حال ملاحظہ کرلو اور دانشوروں کا حال ملاحظہ کرلو۔

    کون ہے ان مذکورہ اور وغیرہ وغیرہ میں جو کسی نا کسی بت کا پجاری اور اس بت کے مندر کا پروہت نہیں؟

    اب جب ان میں کوئی اللہ کا بندہ کوئی اللہ کا ولی اٹھ کر احساس دلاتا ہے, ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے یہ بتا کر کہ تمہارا مسئلہ بھوک, مہنگائی اور بیروزگاری مطلب روٹی, کپڑا اور مکان نہیں بلکہ بت پرستی ہے جو تم میں وطن پرستی, شخصیت پرستی, نظریہ پرستی اور انجمن پرستی وغیرہ کی شکل میں موجود ہے تو اسے لٹھ لیکر سب مارنے پر تل جاتے ہیں اور جہاں تک زور چلتا ہے کردار کشی اور گالیوں کے تیرو تفنگ کے ساتھ اس پر ہر وقت حملہ آور رہتے ہیں۔

    یہ جو سب افرا تفری اور تباہی و پریشانی کے ساز بج رہے ہمارے گردو نواح میں انہیں اب برداشت کرو کہ پوجا کا لازمی جزو ہے بے ہنگھم اور سر دردی والی موسیقی۔

    حق اور سچ کا صرف ایک ہی میعار ہوتا ہے اور وہ ہے خالص پن اور مضبوط دلائل, لہذا اپنے ذاتی میعارات سے دستبرداری اختیار کرو اور بت پرستی چھوڑ کر حق کی طرف چلے آؤ۔

    اذانِ حق ہر دور میں دی جاتی رہی ہے خواہ دور کوئی بھی ہو لہذا اپنے اپنے صنم کدے مسمار کرکے حق و سچ کے قبلے کی طرف منہ کرو اور حق و سچ کی پہچان یہی ہے کہ وہ تاثیر میں ٹھنڈے جبکہ ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں۔

    جی ہاں جن جن بتوں کی ہم پوجا کررہے ان کی بدولت ہم بت پرست ہی ہوئے کہ یہ بت بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اور خود کو کسی نقصان سے بچا نہیں سکتے لہذا ان کی پوجا سوائے ہمارے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کہ اور کچھ نہیں کررہی۔

    آئیے سوچنا اور تحقیق کرنا شروع کیجیے اور کڑوے سے کڑوے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت کیجیے تاکہ ہم پر نادیدہ بتوں کی پوجا کی بدولت جو نادیدہ و دیدہ عذاب مسلط ہیں ان سے چھٹکارہ مل سکے۔

    سوچیے گا ضرور۔

  • خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    اپنے بے ربط اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے کونسا معرکہ سر کرنا ہے تم نے؟؟
    یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری ہیں جو لکھتے ہیں اس میں تمھارے الفاظ کسی پہ کیا اثر انداز ہوں گے؟؟

    آخر تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ہر وقت کہاں کا غم، کہاں کی سوچ یہ دنیا اس کے لوگ جن کے لیے تمھارا دل تڑپتا ہے یہ تمھیں کچھ نہی سمجھتے۔ تمھاری باتیں ان کے لیے بے معنی ہیں !!! تم لب کھولو یہ سن بھی لیں تو چند دن میں دوبارہ اپنی دنیا میں لوٹ جائیں گے۔ یہ دنیا بڑی مزے کی چیز ہے پیاری چند لمحوں میں انسان کا دل لبھا لیتی ہے !! کبھی کبھار تو بہت بڑے ایمان اور تقوی والے لوگ اس کے آگے اپنا سب ہار دیتے ہیں — یہ نگاہ کو ایسا خیرہ کرتی ہے کہ یہاں رب کے کہے گئے کلمات لوگوں کے دلوں پر اثر کرنا چھوڑ دیتے ہیں —
    اور تمھیں لگتا ہے کہ تم نے آواز دی اور دنیا پلٹ آئی۔ لب کھولے اور ہدایت کی روشنیاں بٹ گئیں ؟؟؟؟؟ تم نے کہا اور تمھاری قوم نے صدیوں کے اختلاف بھلا کر حق کے جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کا عزم کر لیا؟ یہ سوچیں نظریات اور حق گویائی بہت مہنگی چیز ہے۔ یہ بدلے میں جانوں کی قربانیاں مانگتی ہے۔ چھوڑ دو !!
    اس چیز کے لیے تڑپنا کہ ماضی میں بغداد کے گلی کوچوں میں تمھاری قوم نے اجتماعی زندگی پر انفرادی موت کو ترجیح کیوں دی تھی —
    چھوڑ دو یہ سوچنا کہ تمھاری قوم کو برسوں سے مذہبی فرقہ پرستی کے نام پر جو زہر پلایا جا رہا ہے اس نے اس مسلم امت کے کتنے نوجوانوں کو نگل لیا چھوڑ دو یہ پریشانیاں اور رونے۔ مجھے سنو میں تمھارا مخلص دوست — میری مانوں ضمیر کا گلا دبا دو بے حس بن جاؤ اور جینا شروع کرو یقین مانو مزے کی دنیا تمھاری منتظر ہے!!

    یعنی میرے دوست تم یہ کہنا چاہتے ہو غلامی کی زندگی اپنا لوں میں ؟؟ شعور کا گلا دبا دوں اور اس دنیا کے دھوکے میں مگن ہو جاؤں اور میری قوم ؟؟؟

    اپنی قوم کو بھول جاؤں صرف اس لیے کہ وہ بہت کم سنتے ہیں !!!
    مجھے علم ہے میرے بے ترتیب الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں یہ بھی علم ہے کہ یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری موجود ہیں لیکن کروڑوں دنیا پرستوں کے مقابلے میں بہت کم !!!!

    حق گویائی اگر جرم ہے تو کیا اس جرم کے ڈر سے انسان عقیدہ چھوڑ دے ؟ نظریات بیچ دے غلامی قبول کر کے طاغوت کے آگے سر جھکا دے؟
    نظریات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی میرے دوست گردنیں سولی پر چڑھ جاتی ہیں نظریات نہیں بکتے !!!!

    ہر وہ شخص جو غلامی کی زندگی کو ترک کر کے خوداری کی موت کو ترجیح دیتا ہے اس کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ اپنی قوم کو غفلت کی نیند سے جگانے میں کامیاب ہو جائے!!
    سو میرے دوست مجھے بہکانا چھوڑو مجھے لگے رہنے دو اس بات کا غم نہ کرو کہ قافلہ کتنا کم ہے — انقلاب انسانوں کی بہتات سے نہیں برپا ہوتے انقلاب نظریات پر ڈٹ جانے سے برپا ہوا کرتے ہیں۔