Baaghi TV

Tag: خودکشی

  • اوکاڑہ میں خاتون نے دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) چک 11 ون آر میں شاہین بی بی نے گھریلو جھگڑے کیوجہ سے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ اسکا جسم جل جانے پر لاہور ریفر کیا گیا جہاں اسکی جناح ہسپتال میں موت واقع ہوگئی۔

  • نہم کلاس کی طالبہ کی خودکشی

    نہم کلاس کی طالبہ کی خودکشی

    ایبٹ آباد
    تھانہ ڈونگا گلی کی حدود میں نہم جماعت کی طالبہ نے گھریلو حالات سے تنگ آ کر خود کشی کر لی
    تفصیلات کے مطابق تھانہ ڈونگا گلی کی حدود میں باگن گاٶں میں جماعت نہم کی طالبہ حفصہ دختر گل فراز نے گھریلو وجوہات کی بنا پر خودکشی کر لی
    پولیس نے جاۓ وقوعہ پر پہنچ کر نعش کو ورثاء کے حوالے کر دیا ہے اور تفتیش کی جارہی ہے کہ طالبہ نے خود کشی کیوں کی
    یاد رھے کرونا کی وجہ سے عوام گھروں میں 2 ماہ سے مجبوری کی زندگی گزار رہے ہیں اور فاقوں پر ھیں ایسی ہی کیفیت اس طالبہ کے گھرانے کی ہے

  • اوکاڑہ، بیوی کو منانے میں ناکامی شوہر نے خود کو آگ لگا لی۔حالت تشویشناک

    اوکاڑہ، بیوی کو منانے میں ناکامی شوہر نے خود کو آگ لگا لی۔حالت تشویشناک

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) ناراض بیوی کو منانے میں ناکامی کا سامنا کرنے پر خاوند نے تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا لی۔ نول پلاٹ کے رہائشی صدی احمد کی بیوی کئی دنوں سے ناراض ہوکر میکے رہ رہی تھی۔ صدی احمد نے منانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ دلبرداشتہ ہوکر خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔ ریسکیو 1122 نے تشویشناک حالت کی بنا پر ڈی ایچ کیو اوکاڑہ ریفر کردیا ہے۔ مضروب چار بچوں کا باپ ہے۔

  • اوکاڑہ میں عورت نے خودکشی کرلی

    اوکاڑہ میں عورت نے خودکشی کرلی

    ضلع اوکاڑہ (علی حسین) 31 فورایل میں صفیہ نامی خاتون نے خودکشی کرلی۔ گھریلو حالات سے دلبرداشتہ تھی۔ زہریلی گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

  • محبت کی شادی کا انجام ، خاوند سے ناراض بیوی نے خودکشی کرلی

    محبت کی شادی کا انجام ، خاوند سے ناراض بیوی نے خودکشی کرلی

    لاہور : پسند کی شادی سے پہلے زندگی بھر ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی خاتون نے گھریلو جھگڑے سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کر لی۔ ورثا کا پوسٹمارٹم کروانے سے انکار کردیا،

    پولیس حکام کے مطابق کوٹ لکھپت کی سونیا نے کچھ عرصہ قبل ارشد نامی شخص سے پسند کی شادی کی مگر گھریلو ناچاکی سے دلبرداشتہ ہو کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ کوٹ لکھپت شبنم کالونی کے رہائشی سونیا کے خاوند ارشد کا کہنا تھا کہ اس نے پہلی بیوی کو طلاق دے کر سونیا سے شادی کی تھی۔

    دوسری طرف سونیا کے بھائی کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات بھی سونیا کے ساتھ اس کے خاوند ارشد کا جھگڑا ہوا جس کی وجہ سے سونیا نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ جب دروازہ توڑا گیا تو سامنے سونیا کی لاش پنکھے سے لٹک رہی تھی۔

  • دنیا میں روزانہ 21600 افراد خودکشی کررہے ہیں،کس وجہ سے کررہے ہیں رپورٹ نے کھلبلی مچادی

    دنیا میں روزانہ 21600 افراد خودکشی کررہے ہیں،کس وجہ سے کررہے ہیں رپورٹ نے کھلبلی مچادی

    واشنگٹن : جنگ نہیں ، غربت ، ذہنی تناو، اور عدم برداشت کی وجہ سے دنیا میں روزانہ 21600 افراد اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیل کرخودکشی کرلیتے ہیں، اور اگر شرح سیکنڈوں میں بانٹ دی جائے تو ہر 40 سیکنڈ میں ایک فرد خودکشی کرلیتا ہے ، عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتنے لوگ جنگوں میں نہیں مارے جارہے جتنےخودکشی میں‌ مرتے ہیں۔

    یہ اعداد وشمار انسدادِ خودکشی کے عالمی دن کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ پھانسی پر لٹک جانا، زہر کھانا اور بندوق کا استعمال خودکشی کرنے کے سب سے عام طریقے ہیں۔ یادرہے کہ ہر سال 10 ستمبر کو خودکشی کے حوالے سے یہ دن منایا جاتا ہے.

    دوسری طرف اس قدر خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابوپانے کے لیے عالمی ادارے نے دنیا بھر میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خودکشی کی روک تھام کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کریں اور لوگوں کو ذہنی تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیں۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سالانہ اوسطاً 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔

    زیادہ خودکشی کس طریقے سے کی جاتی ہے اس کے بارے میں‌رپورٹ میں زور دیا گیا کہ کیڑے مار ادویات پر پابندی کے ذریعے لوگوں کی زہر تک رسائی کم کرکے خودکشیوں کی شرح کو 70 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔اس کےعلاوہ بھی خودکشی کے طریقے ہیں لیکن غریب ممالک میں خودکشی کا یہی طریقہ زیادہ معروف ہے

    عالمی ادارے کی اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خودکشی 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور 15 سے 19 سال کی لڑکیوں میں جذباتی مسائل کے باعث خودکشی کرنا دوسری بڑی وجہ ہے۔اس عمر کے لڑکوں میں خودکشی سے اموات، ٹریفک حادثات اور باہمی جھگڑوں کے بعد تیسری بڑی وجہ ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے تجاویزدیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں خودکشی کے مسئلے کی روک تھام ممکن ہے، بس حکومتوں کو اس حوالے سے حکمت عملیوں کو مرتب کرنا چاہیے اور انہیں نیشنل ہیلتھ اور تعلیمی پروگراموں میں شامل کرنا چاہیے۔